.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

عید میلاد النبی کے منکرین سے چند گزارشات۔۔۔

کیا وقت آ گیا ہے کہ اُمت مسلمہ کی تقسیم کے پیمانے نہ صرف بدلتے جا رہے ہیں۔ بلکہ وجہ بے وجہ ان پیمانوں میں اضافہ ہوتا جا رھا ہے۔ اس تقسیم کا ذمہ دار ایک خاص سوچ کے حامل افراد ہیں ۔ کچھ بیرونی ممالک کی ایڈ اور ہمارے ملک کے خاص طبقہ کے مولویوں کی وجہ سےایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مجھے یہ پوسٹ لکھنے کی ضرورت اس لئیے پڑی کہ ہر سال ۱۲ ربع الاول کے دن پاکستان اور انڈیا کے مسلمان آج کے دن کی مناسبت سے تین گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو فرقے کہنا ہی مناسب ہو گا کیونکہ عام طور پہ لوگ ایک دوسرے کے سکول آف تھاٹ کیلئے مخالف رویہ ہی رکھتے ہیں۔

 پہلی قسم آن لوگوں  کی ہے جو رسول اللہ کے ولادت کے دن کو یا کسی بھی دن کو خصوصی طور پر منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔ عام طور پہ اس مسلک کے لوگ اکژ دینی قوانین میں سختی اور بعض اوقات انتہائی سختی کے قاعل ہیں۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہیں کنفیوزڈ یا غیر جا نبدار لوگ کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ جس بھی کمپنی میں ہوں اُن کے ہی ساتھ مل جاتے ہیں اور حق بات کو جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ یہ لوگ عام طور پہ یہ بات مان لیتے ہیں کے رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم کی پیدائش اور وصال کا دن ایک ہی ہے {جبکہ یہ ایک اختلافی مسلہ ہے} اس لئیے اس دن کو منانے یا نہ منانے کے سلسلہ میں کنفیوز ہی رھتے ہیں۔

تیسری قسم کے لوگ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس دن کو یہاں تک کے عید کا درجہ دیتے ہیں۔ اور اس دن محفل میلاد کی مجالس کرنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

پہلی اور تیسری قسم کے مسمان اس معملہ میں ایک دوسرے سے انتہائی اختالاف رکھتے ہیں۔ پہلی قسم کے افراد ایک طرف تو دین میں کسی نئے اضافہ کے بارے میں اتنے سینسٹیو ہیں کی ان میں سے بعض افراد کی دینی انٹرپریٹیشن میں نماز میں دُعا کے لئے ہاتھ کا اُٹھانہ بھی بدعت ہے، عید کے دن عید ملنا بھی بدعت ہے۔ کسی دن کو منانا بھی بدعت ہے۔ کچھ لوگوں کی ایک اور عجیب سوچ ہے کہ سال میں آخر ایک ہی دن کوئی عمل کیوں اپنایا جاتا ہے۔ وہ کچھ بھی سوچیں دین میں اس معملہ میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ ابھی تو اس دنیا کے ختم ہونے کے انتظار تک دیکھتے ہیں کے دین کا کیا حال ہونا ہے۔فی الحال لگتا تو یہی ہے کہ صرف انٹرپریٹیشنز رہ جانی ہے، دین اور اس کی حقیقی فہم یعنی معرفت تو کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر مسلک کی ایک دوسرے سے مخالف انٹرپرٹیشنز کی وجہ سے اللہ جانے اصل دین کا کیا حال ہو گا۔ شکر ہے کہ ہمارے اختیار کی بھی حدیں مقرر ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کے اگر کسی مسلکی اختلاف کی وجہ سے آپ کسی دوسرے مسلک کو بدعتی کہتے ہیں تو کیا ایسا کرنا خود ایک بدعت نہیں ہے؟ کیا کسی کو بدعتی کہنے کا عمل رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے کیا؟ جب کے رسول اللہ سے زیادہ بہتر کون یہ جان سکتا ہے کہ امت مسلمہ میں کتنی تقسیم ہو گی ۔ اگر کوئی سادہ لوح انسان ایسا سمجھتا کہ امت میں اختلاف نہیں ھو گا تو یہ اس کی کم علمی ہی ہے۔اس کے با وجود کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم لوگوں کے دلوں میں موجود شک یا عقیدہ کے ناقص حالات کو جانتے تھے لیکن پھر بھی اُن کے کفر و شر و شرک کو عوام کے سامنے بیان نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ ہر انسان کی عزت نفس کا خیال کرنے والے تھے۔ مولوی حضرات چند ایسے واقعات کو بیان کرتے ہیں جس میں نبی صل اللہ علیہ و آل وسلم نے کسی کے بارے میں سب کے سامنے کچھ بُرا کہا ہو۔  لیکن اکثر مولوی حضرات ان واقعات کوپورے دین پہ جنریلایز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک بڑا فساد جنم لیتا ہے اور وہ امت مسلمہ میں سخت اختلاف کو ہوا دیتے ہیں۔

  

میں یہ بتاتا چلوں کے میں قانون بدعت کا منکر نیہں ہوں۔ ہاں میں اس قانوں کے اطلاق میں انتہاِئی احتیاط کا قا عل ہوں۔ کیا آپ کا کسی پر زبردستی بدعت کا فتوی دھر دینا اسلام کے بنیادی قوانین کے خلاف تو نہیں جا رہا؟ آپ کا طرز عمل کہیں آمت میں فساد کا سبب تو نہیں بن رہا؟ کیا آپ قرآن کے اس فیصلے کو نہیں جانتے کہ "فساد قتل سے بڑا گناہ ہے"؟ کیا آپ یہ نہیں جانتے ہیں کے دین میں فرقہ بازی سے منع فرمایا گیا ہے؟ کیا دین میں کسی شخص کے کفر و شرک کی سزا، عدل کے تقاضے پورے کئے بغیر دی جا سکتی ہے؟  اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ اسلام کے ایک قانون کے اطلاق کی خاطر اسلام کے زیادہ بڑے اور اہم قوانین یعنی عدل، امن، فرقہ واریت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کریں۔ سارے جھگڑے علم کے ہیں جو کہ شیطان کے پاس بھی بہت تھا، میرے سمیت لوگوں میں کمی صرف معرفت کی ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ سورہ المائدہ (٨)

 

بعض لوگوں کا یہ خیال ہو گا کے میری باتیں تو خود فرقہ واریت پیدا کرنے والی ہیں۔ تو ایسے سادہ لوگوں کو اس سوال کا جواب میں کسی اور پوسٹ میں دوں گا۔ کیونکہ آج یہ میرا پوانٹ آف ڈسکشن نہیں ہے اور بات مزید لمبی ہو جائے گی۔

جیو اور جینے دو کا اصول جیو نیوز کا دیا ہوا نہیں ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے۔اگر آپ عید میلاد النبی کے قاعل ہیں تو بیشک منائیں، ساری دنیا تک جب رسول اللہ کا نامِ نامی پہنچے گا تو پیغام بھی پہنج جائے گا۔ اس بات کی پرواہ نہ کریں کے کسی کو کتنا بھی اختلاف ہو۔ آپ کے خلوص اور نیّت کو ان انسانوں نے نہیں اللہ نے دیکھنا ہے اور صرف اللہ ہی صحح اور غلط کو جاننے میں کمال رکھتا ہے۔ میرا علم تو اتنا ہی ہے کہ اللہ کوہمارے اعمال میں تعداد سے زیادہ خلوص پسند ہے۔ لیکن عید منانے میں کسی کی دل اعزاری مت کریں، جو اس کو عید نہیں مانتا اس سے جھگڑا مت کریں، اس کو ٹانٹ نہ کریں۔ ایسے اعمال سے بھی گریز کریں جو دین کی حدود سے تجاوز کرنے والے ہوں۔ ورنہ آپ لوگ بھی رسول اللہ کے محب کے بجائے فسادی کہلائیں گے۔ اسلام کی بنیاد میں ہی سلامتی ہے، اگر کوئی اس سلامتی کے اصول کے خلاف گیا تو وہی فساد برپا کرنے والا ہے۔

 

اگر آپ عید میلاد النبی صل اللہ علیہ و آل وسلم کے قاعل نہیں تو نہ سہی کم از کم کسی کی نیّت پہ اپنی ججمنٹ اپنے پاس ہی رکھیں۔ آپ کو ہر گز یہ حق نہیں کے کسی کو مشرک یا بدعتی بولیں۔ اگر وہ اپنا مال کسی غریب انسان پہ خرچ کرنے کے بجائے سجاوٹ پہ کر رھے ہیں تو اس عمل میں کیا برائی ہے، چلو کم درجہ کا عمل ہی سہی، اُسکی محبت  اور خلوص کا قبول تو اللہ و رسول نے کرنا ہے، آپ کیوں اُسکی جزا و سزا کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں؟ کیا معلوم کہ وہ دوسرے انسانوں کا بھی حق ادا کرتا ہو۔ آپ کسی کو ڈنڈا مار کے اعلی درجہ کی نیکی کیسے کروا سکتے ہیں؟ نیکی تو توفیق سے حاصل ہوتی ہے، اگر آپ کو کسی کے طریقہ پہ اعتراض ہے، توآپ اُسکی توفیقات میں اضافے کی دعا کر دیں۔

اگر رسول کے نام پہ آپ ان کے جلوس کو ویلکم کر دیں گے یا پھر اپنے عقیدہ کو تھوڑی دیر کے لئے تالہ لگا کر اُن کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تو یقین مانیں آپ کے اس عمل کو اللہ و رسول انشاء اللہ پسند فرمائیں گے کیونکہ آپکی نیّت ایک سچے دین کی خاطر ایک اُمتی کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہے۔ کسی مسلمان کسی امتی کو خوشی دینے کے اجر کا اندازہ ہے آپ کو؟ اگر آپ ایسے لوگوں کا ساتھ دینے کو گناہ سمجھتے ہیں تو میں آپکی ہدایت کی دعاء ہی کر سکتا ہے،پھر میں یہ دعاء زیادہ کروں گا کہ اللہ ہم سب لوگوں کو ایک دوسرے کے شر سے بچائے۔۔۔۔۔آمین۔

 

احادیث ایک جنرل گائیڈ لائین ہیں دوستوں، ان میں عوام اور خواص کے حساب سے عمل کے فرق بھی ہیں۔ احادیث کی انٹرپریٹیشنز کہ معملہ میں انتہائی سختی اختیار نہ کریں کے دوسرے کے حقوق ہی غصب کر ڈالیں اور عدل کے بنیادی اصول کو ہی فراموش نہ کر دین، لوگوں کی سمجھ میں فرق ہونے کی وجہ سے ہی دین میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے کہ خدا نہ کرے کوئی من چلا کہیں اسلام کو ہی آوٹ دیٹڈ مذہب قرار نہ دے دے۔ میرا ہمیشہ سے یہی ایمان رھا ہے کہ اسلام کبھی آوٹ ڈیٹ نہیں ہو سکتا، اسلام ہمیشہ ہی لبرل  اور بیلنسڈ مذہب رھا ہے۔  

 

کچھ لوگوں کو ایسا لگ ریا ہو گا کے یہ پوسٹ کافی بائیسڈ ہے اوریہ کسی خاص سکول آف تھاٹ کو زیادہ ٹارگٹ کررہی ہے۔ اور اُنکو ہی ذیادہ بات سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  جی آپ درست سمجھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ اختلافی باتوں کو ہوا دیتے ہیں وہی فساد کی زیادہ وجہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے دو بچے آپس میں لڑ رہے ہوں تو آپ انصاف کے تحت ایسے بچے کو ہی زیادہ سمجھائیں گے جو ذیادہ لڑنے اور اختلاف کرنے والہ ہو گا۔ میری نظر میں تو ایسے لوگوں کو ہی اس پوسٹ کو سمجھنے کی ذیادہ ضرورت ہے۔


میری طرف سے تمام امت رسول کو ماننے والوں کو جشن عید میلاد النبی مبارک ہو۔ اللہ پاک ہم سب کو رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل و سلم کی یاد منانے اور خاص طور پہ اُن کی تعلیمات پہ عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔۔۔آمین۔

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 433

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

right

exactly

#Burried,

No Words, No Daleel.

Eid Milad un Nabi mubarik.

Khair Mubarak, nice discussion. 

Assalam O Alaikum 

Image result for eid milad un nabi

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

اَمَّابَعْدُ:

عید میلاد سعید مبارک ہو

ہم کے خیال میں میلاد کے معاملہ میں  اختلاف کی وجہ  اس کے مروجہ اطلاق ہے جو کہ دین سے متعلق نہیں محض برصغیر کے شعائر ہیں یہ عقائد اہلسنت نہیں۔اگر یہ جلوس محرمات، بدعات اور منکرات سے پاک ہوں تو زیادہ سے زیادہ استحباب اور استحسان کے درجے میں قرار دئیے جا سکتے ہیں.. رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دن کا اکرام انہی شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مجالس میں نظر آتے ہیں.. اس سے ہٹ کر کسی غیرشرعی امر کا ارتکاب دعوئ عشق و محبتِ رسول کے خلاف ہے.. رسول اللہ کا فرمان مبارک ہے، "تم میں سے کوئی اس وقت تک ( کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسکی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائے."

مفتی منیب الرحمن کا فتوی اس سلسلے میض سامنے آیا ہے کہ جب

محافلِ میلاد کے نام پر مقدس محافل کی آڑ میں بڑے بڑے کاروبار کیے جا رہے ہوں.. بعض مقامات پر نعت خوانوں اور شعلہ بیان مقررین (جنکی اکثریت موضوع روایات کا سہارا لیتی ہے) کی ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں میں بکنگ ہو رہی ہو.. گانے کی دُھن پر بنائی گئی موسیقی اور آلاتِ موسیقی کیساتھ نعت پڑھنا، پڑھوانا اور سننا سب ناجائز ہے..!
جب گمراہی اس حد تک پہنچ جائے تو علمائے کرام کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر شدت کیساتھ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے

میلاد مصفطفٰی ﷺ  کو تمام ادبی تقاضے ملخوظ خاطر لاتے ہوئے منانا ہی  مستجب اور باعث ثواب ہے بلاشبہ اس دن کے تقدس میں کوئی دو رائے نہیں اس لیے اس کا اخترام واجب مطلق ہے اس کو بڑی وضع داری کے ساتھ منانا چاہیے۔ اور ہم صاحب پوسٹ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جس کا جو عقیدہ ہو وہ اس کے ساتھ  چلے اور دوسرے کے عقیدے مین دست درازی نہ کرے کیونکہ یہی ہمارے نبی پاک ﷺ کا شعار تھا اور ہم کو ان کی سنت پر ہی چلنا چاہیے۔

par saroosh ma'am me to confuse hi ho jati hon smjh hi ni ati kis ki bat ko sahi kis ki bat ko ghalt bolon :x 

hamry han to bs simple si ghar pe hi koi khairat kr lety hy baki to kuch ni hota idhar :x han wo yaha ik wo kia kehty unhy koi barailvi hoty hy i think wo log sb sy chanda ikhta kr k khairat kr lety hy hum b paisy dy dety hy par shirkat ni krty abbo :x log kehty yeh khairat khana b na jaiz or shirkat krna b :x 

wo kio kehty hy hun Saroosh ma'am ???

چندا

بات لمبی ہو جائے گی  اصل مدعا یہ ہے کہ سادہ اور مہذب  طریقے سے نذرانہ عقیدات پیش کیا جائے

ورنہ دلائل سے ہم ثابت بھی کر دیں کہ یہ سب احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس میں نمود نمائش  کا پہلو نہیں ہونا چاہیے لیکن حضور ﷺ کی شایان شان ہونا چاہیے۔ جہاں تک بات خیرات کھانے کی ہے تو وہ صرف سادات کو منع ہے ہم سب پر جائز منقول ہے اور کیا ایسے عمل میں جس میں حضور ﷺ کی شان کا بیان کیا  جا رہا ہو وہاں شرکت ناجائز ہو سکتی؟ ایسے تو یہ بھی کہا جا سکتا کہ تبلیغ کے نام پر اجتماع کس کو مسلمان کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں جبکہ یہاں سب مسلمان ہی ہیں۔ ایسی باتیں کمزور عقائد کے حامل متعصب لوگ کرتے۔ جو کہ مذہب سے واقف بھی نہیں ہوتے کم علم مولویوں کی اختراع ہے یہ سب۔ کبھی ان کے بڑے عا لموں کو دیکھا کسی نے ایسے موضوعات پر ایسے بے دریغ بات کرتے ہوئے؟ وہ بھی اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہ معاملے نازک ہوتے ادب کے تقاضے ذرا بھی مجروح ہوں حد نافذ ہو جاتی اس لے حد ادب یہی ہے کہ اخترام حتی الو سع کیا جائے دوسرون پر ان کے عقائد پر انگلی نہ اٹھاہی جائے، یہی بہترین طریق ہے اور مسلم کی نشانی۔   

Okay Ma'am Thanks alot

بارہ ربیع الاول والے دن ہزاروں سو کالڈ عاشقان رسول کے ایک جتھے نے دلمیال گاوں میں ایک احمدی عبادت گاہ پہ دھاوہ بول دیا، عبادت گاہ کے ایک حصّے کو آگ لگا دی گئی، دو افراد کی ہلاقت ہوئی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ایف سی اور پولیس نے عبادت گاہ پہ قبضہ کی کوشش نا کام بنا دی ۔ چند جاہل علماء کی وجہ سے ایک امن و سلامتی والے مذہب کی پوری دنیا میں بد نامی ہوئی۔ کیا ایسے ہی ہوتے ہیں عاشقان رسول؟ کیا غیر مسلموں کو جینے کا کوئی حق نہیں؟ کیا اسلام کو کسی دوسرے مذہب کا خوف ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو یہ مولوی دوسرے مذاہب اور مسالک سے خوف زدہ کیوں نظر آتے ہیں؟ پھر یہ لوگ کہتے ہیں کے مسلمانوں کو ہی دہشت گرد کیوں بولا جاتا ہے۔ اپنے کرتوت نظر نہیں آتے ان کو، ان کا بس نہیں چلتا کے اس واقعہ کو بھی یہود و نصارا کی سازش قرار دے دیں۔ اپنے سر سے زمہ داری آتارنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔

دن کوئی بھی ہو، ہم سب کے لئے یہی بہتر ہے کے اپنے آپ کو پہتر کرنے کی کوشش کریں، دوسروں کی تبلیغ بعد میں کریں۔ لوگوں کواس دن تسبیح کرنے کی تبلیغ کرنے والے حضرات عام طور پہ خود بھی اس پہ عمل نہیں کرتے۔ چلو آپ اتنے با عمل ہیں تو ایک صلات تسبیح کی محفل ہی برپا کر دیں کہ اجتماعی عبادت کا ثواب انفرادی عبادت سے بے انتہا زیادہ ہے۔ لیکن دوسروں کو تبلیغ کرنا زیادہ آسان جو ہے، کیونکہ اس میں خود کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ یہ مت بھولیں تبلیغ کے لیئے پہترین عمل یہ ہے کہ ان لوگوں میں تبلیغ کی جائے جو آپ کی "رعیّت" میں آتے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کے اوپر آپ کا اختیار ہے۔ یا جو لوگ آپ کی نصیحت سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اگر کسی ایسے کو تبلیغ کریں گے جو آپ کے سکول آف تھاٹ سے متفق نہیں تو ایسی تبلیغ صرف فساد ہے۔ انٹرنیٹ پہ بغض اور مسلک کی بنیاد پہ تبلیغ کرنا زیادہ بڑا فساد پیدا کرتا ہے۔ شام کی جنگ انٹرنیٹ جہاد سے ہی شروع ہوئی تھی۔

جو بات اکثر بد نصیب علماء اور خاص طور پہ عوام نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ "نا مکمل علم فساد پیدا کرتا ہے" اگرآپ لوگ ایک ہی فریق کی داستان کو علم سمجھ پیٹھیں گےتو فساد تو ہو گا۔ ایسے لوگ جو ایک مسلک کی مخالفت پہ مبنی علم کی بنیاد پہ اختلاف پیدا کرتے ہیں، یہی لوگ اپنی کم علمی میں فساد کا سبب بنتے ہیں۔

 

وما علینا ال البلاغ۔۔۔۔

 

RSS

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Latest Activity

Member of The Month

1. ٹمبکٹو

---, Pakistan

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service