.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

عید میلاد النبی کے منکرین سے چند گزارشات۔۔۔

کیا وقت آ گیا ہے کہ اُمت مسلمہ کی تقسیم کے پیمانے نہ صرف بدلتے جا رہے ہیں۔ بلکہ وجہ بے وجہ ان پیمانوں میں اضافہ ہوتا جا رھا ہے۔ اس تقسیم کا ذمہ دار ایک خاص سوچ کے حامل افراد ہیں ۔ کچھ بیرونی ممالک کی ایڈ اور ہمارے ملک کے خاص طبقہ کے مولویوں کی وجہ سےایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مجھے یہ پوسٹ لکھنے کی ضرورت اس لئیے پڑی کہ ہر سال ۱۲ ربع الاول کے دن پاکستان اور انڈیا کے مسلمان آج کے دن کی مناسبت سے تین گروہوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو فرقے کہنا ہی مناسب ہو گا کیونکہ عام طور پہ لوگ ایک دوسرے کے سکول آف تھاٹ کیلئے مخالف رویہ ہی رکھتے ہیں۔

 پہلی قسم آن لوگوں  کی ہے جو رسول اللہ کے ولادت کے دن کو یا کسی بھی دن کو خصوصی طور پر منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔ عام طور پہ اس مسلک کے لوگ اکژ دینی قوانین میں سختی اور بعض اوقات انتہائی سختی کے قاعل ہیں۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہیں کنفیوزڈ یا غیر جا نبدار لوگ کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ جس بھی کمپنی میں ہوں اُن کے ہی ساتھ مل جاتے ہیں اور حق بات کو جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ یہ لوگ عام طور پہ یہ بات مان لیتے ہیں کے رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم کی پیدائش اور وصال کا دن ایک ہی ہے {جبکہ یہ ایک اختلافی مسلہ ہے} اس لئیے اس دن کو منانے یا نہ منانے کے سلسلہ میں کنفیوز ہی رھتے ہیں۔

تیسری قسم کے لوگ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس دن کو یہاں تک کے عید کا درجہ دیتے ہیں۔ اور اس دن محفل میلاد کی مجالس کرنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

پہلی اور تیسری قسم کے مسمان اس معملہ میں ایک دوسرے سے انتہائی اختالاف رکھتے ہیں۔ پہلی قسم کے افراد ایک طرف تو دین میں کسی نئے اضافہ کے بارے میں اتنے سینسٹیو ہیں کی ان میں سے بعض افراد کی دینی انٹرپریٹیشن میں نماز میں دُعا کے لئے ہاتھ کا اُٹھانہ بھی بدعت ہے، عید کے دن عید ملنا بھی بدعت ہے۔ کسی دن کو منانا بھی بدعت ہے۔ کچھ لوگوں کی ایک اور عجیب سوچ ہے کہ سال میں آخر ایک ہی دن کوئی عمل کیوں اپنایا جاتا ہے۔ وہ کچھ بھی سوچیں دین میں اس معملہ میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ ابھی تو اس دنیا کے ختم ہونے کے انتظار تک دیکھتے ہیں کے دین کا کیا حال ہونا ہے۔فی الحال لگتا تو یہی ہے کہ صرف انٹرپریٹیشنز رہ جانی ہے، دین اور اس کی حقیقی فہم یعنی معرفت تو کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر مسلک کی ایک دوسرے سے مخالف انٹرپرٹیشنز کی وجہ سے اللہ جانے اصل دین کا کیا حال ہو گا۔ شکر ہے کہ ہمارے اختیار کی بھی حدیں مقرر ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کے اگر کسی مسلکی اختلاف کی وجہ سے آپ کسی دوسرے مسلک کو بدعتی کہتے ہیں تو کیا ایسا کرنا خود ایک بدعت نہیں ہے؟ کیا کسی کو بدعتی کہنے کا عمل رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے کیا؟ جب کے رسول اللہ سے زیادہ بہتر کون یہ جان سکتا ہے کہ امت مسلمہ میں کتنی تقسیم ہو گی ۔ اگر کوئی سادہ لوح انسان ایسا سمجھتا کہ امت میں اختلاف نہیں ھو گا تو یہ اس کی کم علمی ہی ہے۔اس کے با وجود کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم لوگوں کے دلوں میں موجود شک یا عقیدہ کے ناقص حالات کو جانتے تھے لیکن پھر بھی اُن کے کفر و شر و شرک کو عوام کے سامنے بیان نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ ہر انسان کی عزت نفس کا خیال کرنے والے تھے۔ مولوی حضرات چند ایسے واقعات کو بیان کرتے ہیں جس میں نبی صل اللہ علیہ و آل وسلم نے کسی کے بارے میں سب کے سامنے کچھ بُرا کہا ہو۔  لیکن اکثر مولوی حضرات ان واقعات کوپورے دین پہ جنریلایز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک بڑا فساد جنم لیتا ہے اور وہ امت مسلمہ میں سخت اختلاف کو ہوا دیتے ہیں۔

  

میں یہ بتاتا چلوں کے میں قانون بدعت کا منکر نیہں ہوں۔ ہاں میں اس قانوں کے اطلاق میں انتہاِئی احتیاط کا قا عل ہوں۔ کیا آپ کا کسی پر زبردستی بدعت کا فتوی دھر دینا اسلام کے بنیادی قوانین کے خلاف تو نہیں جا رہا؟ آپ کا طرز عمل کہیں آمت میں فساد کا سبب تو نہیں بن رہا؟ کیا آپ قرآن کے اس فیصلے کو نہیں جانتے کہ "فساد قتل سے بڑا گناہ ہے"؟ کیا آپ یہ نہیں جانتے ہیں کے دین میں فرقہ بازی سے منع فرمایا گیا ہے؟ کیا دین میں کسی شخص کے کفر و شرک کی سزا، عدل کے تقاضے پورے کئے بغیر دی جا سکتی ہے؟  اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ اسلام کے ایک قانون کے اطلاق کی خاطر اسلام کے زیادہ بڑے اور اہم قوانین یعنی عدل، امن، فرقہ واریت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کریں۔ سارے جھگڑے علم کے ہیں جو کہ شیطان کے پاس بھی بہت تھا، میرے سمیت لوگوں میں کمی صرف معرفت کی ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ سورہ المائدہ (٨)

 

بعض لوگوں کا یہ خیال ہو گا کے میری باتیں تو خود فرقہ واریت پیدا کرنے والی ہیں۔ تو ایسے سادہ لوگوں کو اس سوال کا جواب میں کسی اور پوسٹ میں دوں گا۔ کیونکہ آج یہ میرا پوانٹ آف ڈسکشن نہیں ہے اور بات مزید لمبی ہو جائے گی۔

جیو اور جینے دو کا اصول جیو نیوز کا دیا ہوا نہیں ہے۔ یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے۔اگر آپ عید میلاد النبی کے قاعل ہیں تو بیشک منائیں، ساری دنیا تک جب رسول اللہ کا نامِ نامی پہنچے گا تو پیغام بھی پہنج جائے گا۔ اس بات کی پرواہ نہ کریں کے کسی کو کتنا بھی اختلاف ہو۔ آپ کے خلوص اور نیّت کو ان انسانوں نے نہیں اللہ نے دیکھنا ہے اور صرف اللہ ہی صحح اور غلط کو جاننے میں کمال رکھتا ہے۔ میرا علم تو اتنا ہی ہے کہ اللہ کوہمارے اعمال میں تعداد سے زیادہ خلوص پسند ہے۔ لیکن عید منانے میں کسی کی دل اعزاری مت کریں، جو اس کو عید نہیں مانتا اس سے جھگڑا مت کریں، اس کو ٹانٹ نہ کریں۔ ایسے اعمال سے بھی گریز کریں جو دین کی حدود سے تجاوز کرنے والے ہوں۔ ورنہ آپ لوگ بھی رسول اللہ کے محب کے بجائے فسادی کہلائیں گے۔ اسلام کی بنیاد میں ہی سلامتی ہے، اگر کوئی اس سلامتی کے اصول کے خلاف گیا تو وہی فساد برپا کرنے والا ہے۔

 

اگر آپ عید میلاد النبی صل اللہ علیہ و آل وسلم کے قاعل نہیں تو نہ سہی کم از کم کسی کی نیّت پہ اپنی ججمنٹ اپنے پاس ہی رکھیں۔ آپ کو ہر گز یہ حق نہیں کے کسی کو مشرک یا بدعتی بولیں۔ اگر وہ اپنا مال کسی غریب انسان پہ خرچ کرنے کے بجائے سجاوٹ پہ کر رھے ہیں تو اس عمل میں کیا برائی ہے، چلو کم درجہ کا عمل ہی سہی، اُسکی محبت  اور خلوص کا قبول تو اللہ و رسول نے کرنا ہے، آپ کیوں اُسکی جزا و سزا کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں؟ کیا معلوم کہ وہ دوسرے انسانوں کا بھی حق ادا کرتا ہو۔ آپ کسی کو ڈنڈا مار کے اعلی درجہ کی نیکی کیسے کروا سکتے ہیں؟ نیکی تو توفیق سے حاصل ہوتی ہے، اگر آپ کو کسی کے طریقہ پہ اعتراض ہے، توآپ اُسکی توفیقات میں اضافے کی دعا کر دیں۔

اگر رسول کے نام پہ آپ ان کے جلوس کو ویلکم کر دیں گے یا پھر اپنے عقیدہ کو تھوڑی دیر کے لئے تالہ لگا کر اُن کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تو یقین مانیں آپ کے اس عمل کو اللہ و رسول انشاء اللہ پسند فرمائیں گے کیونکہ آپکی نیّت ایک سچے دین کی خاطر ایک اُمتی کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہے۔ کسی مسلمان کسی امتی کو خوشی دینے کے اجر کا اندازہ ہے آپ کو؟ اگر آپ ایسے لوگوں کا ساتھ دینے کو گناہ سمجھتے ہیں تو میں آپکی ہدایت کی دعاء ہی کر سکتا ہے،پھر میں یہ دعاء زیادہ کروں گا کہ اللہ ہم سب لوگوں کو ایک دوسرے کے شر سے بچائے۔۔۔۔۔آمین۔

 

احادیث ایک جنرل گائیڈ لائین ہیں دوستوں، ان میں عوام اور خواص کے حساب سے عمل کے فرق بھی ہیں۔ احادیث کی انٹرپریٹیشنز کہ معملہ میں انتہائی سختی اختیار نہ کریں کے دوسرے کے حقوق ہی غصب کر ڈالیں اور عدل کے بنیادی اصول کو ہی فراموش نہ کر دین، لوگوں کی سمجھ میں فرق ہونے کی وجہ سے ہی دین میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے کہ خدا نہ کرے کوئی من چلا کہیں اسلام کو ہی آوٹ دیٹڈ مذہب قرار نہ دے دے۔ میرا ہمیشہ سے یہی ایمان رھا ہے کہ اسلام کبھی آوٹ ڈیٹ نہیں ہو سکتا، اسلام ہمیشہ ہی لبرل  اور بیلنسڈ مذہب رھا ہے۔  

 

کچھ لوگوں کو ایسا لگ ریا ہو گا کے یہ پوسٹ کافی بائیسڈ ہے اوریہ کسی خاص سکول آف تھاٹ کو زیادہ ٹارگٹ کررہی ہے۔ اور اُنکو ہی ذیادہ بات سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  جی آپ درست سمجھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ اختلافی باتوں کو ہوا دیتے ہیں وہی فساد کی زیادہ وجہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے دو بچے آپس میں لڑ رہے ہوں تو آپ انصاف کے تحت ایسے بچے کو ہی زیادہ سمجھائیں گے جو ذیادہ لڑنے اور اختلاف کرنے والہ ہو گا۔ میری نظر میں تو ایسے لوگوں کو ہی اس پوسٹ کو سمجھنے کی ذیادہ ضرورت ہے۔


میری طرف سے تمام امت رسول کو ماننے والوں کو جشن عید میلاد النبی مبارک ہو۔ اللہ پاک ہم سب کو رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل و سلم کی یاد منانے اور خاص طور پہ اُن کی تعلیمات پہ عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔۔۔آمین۔

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 426

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

عید میلاد سے منکریت کے بارے  چند اعتراضات کے جوابات

سوال: رسول اﷲﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے محققین میں زبردست اختلاف پایا جاتا ہے یعنی حضور ﷺ کی تاریخ ولادت بارہ ربیع الاول ہے ہی نہیں؟

حضرت جابر رضی اﷲ عنہ اور ابن عباس رضی اﷲ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضور سید عالمﷺ عام الفیل روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور اسی روز آپﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسی روز معراج ہوئی اور اسی روز ہجرت کی اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔ (بحوالہ: سیرت ابن کثیر جلد اول صفحہ نمبر 199)

دیوبندی فرقے کے پیشوا مفتی محمد شفیع نے اپنی کتاب سیرت الانبیا ء میں میلاد کی تاریخ بارہ ربیع الاول تحریر کی۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  جن کو اشرف علی تھانوی صاحب اپنا بزرگ لکھتے ہیں نے اپنی کتاب سیرۃ الرسول ؐین ولادت بارہ ربیع الا ول تحریر کی۔

سوال

قرآن مجید سے جشن ولادت منانے کے دلائل

اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اپنے رب کی نعمت کے خوب چرچے کرو‘‘ (سورۂ تکاثر، پارہ 30 رکوع 18)

جو نعمت سب سے بڑی ہے اس کا پرچار کریں۔ اسی پر خوشاں منائیں تاکہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوسکے۔ سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟ آیئے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں ترجمہ ’’اﷲ کا بڑا احسان ہوا مومنوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے‘‘ (سورۂ آل عمران آیت 164)اللہ نے اپنی کسی نعمت کو اھسان نہیں بولا سوا حضور ﷺ  کی نعمت کے ۔

احادیث مبارکہ سے جشن منانے کے دلائل

اپنی آمد کا جشن تو خود آقاﷺ نے منایا ہے۔ تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں؟ چنانچہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’یارسول اﷲﷺ آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟‘‘ آپﷺ نے جواب دیا ’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘ (صحیح مسلم شریف جلد 1ص 7، مشکوٰۃ شریف ص 179)

حضورﷺ کی تشریف آوری کی بشارت سنانے پر ثویبہ کو جس وقت ابولہب نے آزاد کیا تھا اسی وقت اس کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے

پس حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی منانا خرچ کرنا باعث ثواب ہے۔

سوال: جشن ولادت کو ’’عید‘‘ کیوں کہتے ہو۔ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسری عیدالاضحی، یہ تیسری عید، عید میلاد النبی کہاں سے آگئی؟

مواہب لدنیہ امام احمد بن محمد بن ابی بکر الخطیب قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کتاب پانچ سو برس پرانی ہے۔ اس کی شرح ’’زرقانی‘‘ آٹھ ضخیم جلدوں میں علامہ ابو عبداﷲ محمد زرقانی نے لکھی جو اہل علم میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ 1338 ہجری میں جن علمائے دیوبند نے اس کتاب پر تعریفی تقاریظ لکھیں۔اس کتاب کے صفحہ 75 پر امام قسطلانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت ﷺ کی ولادت کے مبارک مہینہ کی راتوں کو ’’عیدین‘‘ اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لادوا بیماری، آپ کے مولد شریف کے سبب ہے۔ معتبر کتاب سے مطلوبہ لفظ ’’عید‘‘ ملاحظہ فرمالیا۔ اگر امام قسطلانی کی تحریر سے اتفاق نہیں تو مذکورہ علمائے دیوبند کو ملامت کیجئے جنہوں نے اس کتاب کو بہترین اور اس کے ترجمہ کو بہت بڑی نیکی لکھا ہے۔

سوال: صحابہ کرام علیہم الرضوان جو آپﷺ سے مثالی اور بے لوث محبت کرتے تھے۔ آپﷺ کے وصال کے بعد کبھی جشن عید میلاد النبی منایا؟

جواب: جی ہاں! صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی حضور پرنورﷺ کا میلاد منایا اور سرور کونینﷺ کے سامنے منعقد کیا۔ میرے رسولﷺ نے منع کرنے کے بجائے خوشی کا اظہار فرمایا۔

جلیل القدر صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ بارگاہ رسالتﷺ میں قصیدہ پڑھ کر جشن ولادت منایا کرتے تھے۔

حدیث: سرکارﷺ خود حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کے لئے منبر رکھا کرتے تھے تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر سرکارﷺ کی تعریف میں فخریہ اشعارپڑھیں۔ سرکارﷺ حضرت حسان رضی اﷲ عنہ کے فرماتے اﷲ تعالیٰ روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے (بحوالہ: بخاری شریف جلد اول صفحہ نمبر 65)

 

حدیث: حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ میں سرکارﷺ کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی اﷲ عنہ کے گھر گیا۔ وہ اپنی اولاد کوحضورﷺ کی ولادت کے واقعات سکھلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج کا دن ہے۔ سرکارﷺ نے اس وقت فرمایا اﷲ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے رحمت کا دروازہ کھول دیا اور سب فرشتے تم لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کررہے ہیں جو شخص تمہاری طرح واقعہ میلاد بیان کرے اس کو نجات ملے گی۔ (بحوالہ رضیہ التنویر فی مولد سراج المنیر




سوال: کیا علمائے امت کے اقوال و افعال سے جشن عیدمیلاد النبیﷺ کا ثبوت ملتا ہے؟

امام ابو حنیفہ (آپﷺ ہی وہ ہیں کہ اگر آپﷺ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا اور آپ پیدا نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ پیدا کیا جاتا۔ آپﷺ وہ ہیں جن کے نور سے چودھویں کا چاند منور ہے اور آپﷺ ہی کے نور سے یہ سورج روشن ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام آپ کی خوشخبری سنانے آئے اور آپﷺ کے حسن صفات کی خبر لے کر آئے‘)‘ (قصیدۂ نعمانیہ، صفحہ 196، 195ء)

۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘ (النعمتہ الکبریٰ بحوالہ ’’برکات میلاد شریف‘‘ ص 6)

3۔ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ (المتوفی 241ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں ’’شب جمعہ، شب قدر سے افضل ہے کیونکہ جمعہ کی رات سرکار علیہ السلام کا وہ نور پاک اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا کے مبارک رحم میں منتقل ہوا جو دنیا و آخرت میں ایسی برکات و خیرات کا سبب ہے جوکسی گنتی و شمار میں نہیں آسکتا‘‘ (اشعتہ اللمعات)

4۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا‘‘ (النعمتہ الکبری، بحوالہ برکات میلاد شریف ص 5)

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (المتوفی 911ھ) آپ فرماتے ہیں کہ میلاد النبیﷺ کے سلسلہ میں منعقد کی جانے والی یہ تقریب سعید (مروجہ محافل میلاد) بدعت حسنہ ہے جس کا اہتمام کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ اس لئے کہ اس میں حضور نبی کریمﷺ کی تعظیم، شان اور آپ کی ولادت باسعادت پر فرحت و مسرت کا اظہار پایا جاتا ہے (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 173)

پیران پیر حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو سرکار دوعالمﷺ کے حضور نذرونیاز پیش فرماتے تھے (قرۃ الناظر ص 11)

18۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم رحمتہ اﷲ علیہ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں ’’میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبیﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔ ایک سال تنگدست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے۔ میں نے وہی چنے تقسیم کردیئے۔ رات کو سرکار دوعالمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں‘‘ (درثمین ص 8)

19۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا معمول تھا کہ 12 ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے، آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے (الدرالمنظم ص 89)

جو ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے اس کی تصدیق دیوبند تبلیغی جماعت مکتبہ فکر کے مفتی محمد شفیع صاحب (دارالعلوم کراچی) نے کی ہے۔

نانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی اسی کتاب میں فرماتے ہیں

شب ولادت شب قدر سے افضل ہے

(1) سرور عالمﷺ کی شب ولادت یقیناًشب قدر سے زیادہ افضل ہے کیونکہ شب ولادت آپﷺ کی پیدائش و جلوہ گری کی شب ہے اور شب قدر آپﷺ کو عطا کی ہوئی شب ہے (مومن کے ماہ و سال، صفحہ نمبر 84)

میلاد النبیﷺ مسلمانوں کی عید ہے

(6) اﷲ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل کرتا ہے جو میلاد النبیﷺ کی شب کو عید مناتے ہیں اور جس کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے (ص 86)

جھنڈے و پرچم لگانے کا ثبوت

(7) حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا (ص 75)

سوال: آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محافل میلاد میں حضورﷺ کی آمد ہوتی ہے، اس لئے کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں؟

جواب: ہم حضورﷺ کی آمد کے لئے نہیں بلکہ ذکر رسول ﷺ کے ادب کے لئے کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام کھڑے ہوتے ہیں

القرآن: والصفت صفاہ (سورۂ الصفت، آیت 1 پارہ 23)

ترجمہ: قسم صف بستہ جماعتوں کی کہ صف باندھیں۔

تفسیر: اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو سرکار اعظمﷺ کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے ہیں۔

سوال: عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر آپ لوگ جو جھنڈے لگاتے ہیں اس کی کیا اصل ہے؟

جواب: عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر جھنڈے لگانا ملائکہ (فرشتوں) کا طریقہ ہے۔

عید میلاد النبیﷺ پر جھنڈے لگانے کی اصل

دلیل: سیدتنا آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول ص 109)

دلیل: آپﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی میں جھنڈے لہرائے گئے۔ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبتہ اﷲ کی چھت پر (بحوالہ: بیان المیلاد النبی، محدث ابن جوزی ص 51، خصائص الکبریٰ جلد اول ص 48، مولد العروس ص 71، معارج النبوت جلد دوم ص 16)

امام محمد بن جار اﷲ ابن ظہیر علیہ الرحمہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’الجامع اللطیف‘‘ کے صفحہ نمبر 201 پر لکھتے ہیں کہ ہر سال مکہ شریف میں بارہ ربیع الاول کی رات کو اہل مکہ کا یہ معمول ہے کہ قاضی مکہ جوکہ شافعی ہیں، مغرب کی نماز کے بعد لوگوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ مولد شریف (جاء ولادت گاہ) کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ان لوگوں میں دیگر تینوں مذاہب فقہ کے ائمہ، اکثر فقہاء، فضلاء اور اہل شہر ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتی ہیں۔

اگر تعظیم اسلام اور دشمنوں پر رعب و دبدبہ کے لئے کعبہ کی آرائش و زیبائش کی جاسکتی ہے، سونے اور چاندی کی قنادیل، شمعیں اور لائٹس کے ساتھ بیت اﷲ کو سجایا جاسکتا ہے، بہترین ریشم کو کعبہ کی زینت بنایا جاسکتا ہے، تو پھر جان کائنات حضور پرنورﷺ کی ولادت باسعادت پر محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اور والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلی، محلوں، بازاروں اور مسجدوں کو کیوں نہیں سجایا جاسکتا؟ حالانکہ حضور اکرم نور مجسمﷺ کی ذات کائنات کی جان ہے۔ اگر یہ جان جلوہ گر نہ ہوتی تو نہ عرش و فرش ہوتے اور نہ کعبۃ اﷲ۔ آپﷺ کے صدقے سے ہی کعبۃ اﷲ ملا، اگر کعبۃ اﷲ کو سجایا جاسکتا ہے تو سید عالمﷺ کے میلاد پر چراغاں کیوں نہیں ہوسکتا؟

لہذا معلوم ہوا کہ تاجدار کائناتﷺ کے میلاد پر آرائش و زیبائش کا اہتمام کرنا بدرجہ اتم مستحسن عمل ہے

سوال: کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے آمد رسولﷺ کا جلوس نکالا؟

جواب: جب بھی حضورﷺ کی مدینہ منورہ آمد ہوتی، صحابہ کرام علیہم الرضوان جلوس کی شکل میں حضور سرور کونینﷺ کا استقبال جلوس کی شکل میں فرماتے اور فتح مکہ کے موقع پر بھی جلوس کی شکل میں سیاہ عمامہ باندھ کر آپﷺ مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے۔

حدیث شریف: بنو نجار نے (آپﷺ کے استقبال کے وقت) اپنی تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں وہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ حضور سید عالمﷺ اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ آپﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور بنو نجار کے سرکردہ افراد آپﷺ کے آس پاس چل رہے تھے، یہاں تک کہ حضورﷺ، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کے گھر میں آکر ٹھہر گئے (مسلم شریف، جلد اول، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، حدیث نمبر 1075، ص 417، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور پاکستان)

حدیث شریف: جب تاجدار کائناتﷺ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے۔ یہ سب باآواز بلند کہہ رہے تھے ’’یامحمدﷺ، یارسول اﷲﷺ، یارسول اﷲﷺ‘‘ (صحیح مسلم شریف ، جلد دوم، باب الھجرۃ)

امید واثق ہے کہ مندرجہ بالا تفصیلات سے آپ کے سوالوں کی تشفی ممکن ہو پائے گی ایسے موضوعات کے لیے پوسٹ ناکافی ہے اس پر تو ابواب تحریر ہو سکتے ہم نے کوشش کی کہ حوالہ جات ان علما ء کے شامل کیے جایئں جن کے مقلد میلاد کے منکر ہیں امید ہے کہ اپنےمشائخ کے معمول کو جاننے کے بعد ان کے میلاد کے تصور کے بارے جو بعدی پائی جاتی اس میں حاصل جمع کمی واقع ہو گی۔یہ صرف عوام میں ان معاملات کی تفصیل سے اعتراض برتے جانے کی بنا پر ان عقائد میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ورنہ ان کے اپنے جدِ امجد بھی میلاد کے معترف تھے

مختصراۤ

بعد از خدائے بزرگ  توئی قصّہ مختصر

I am very grateful to Ms. Sarosh for sharing precious knowledge about Milad-un-Nabi which will surely clear the misconceptions about this event.

I hope all fellows will remember this and will also share it with everyone.

Jazak Allah.

RSS

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. + ansa

rwp, Pakistan

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service