.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

ایسا لگتا ہے کہ جھوٹ ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے حکمران ہیں جو دراصل عوام کا ہی عکس ہوا کرتے ہیں۔ یہاں عام عوام کی توکیا بات کریں حکمران با دانگ دہل جھوٹ بولتے ہیں۔ اور اس کے با وجود نا صرف یہ کہ کوئی ادارہ ان کو پکڑ نہیں سکتا بلکہ دوبارہ حکومت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔

حکومت نے چھے مہینے کے اندر ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب ایسا لگتا ہے کہ صرف  الیکشن کے قریب ہی یہ وعدہ پورا ہو گا تاکہ اگلے  الیکشن میں حکومت پکی کی جا سکے۔ چوہدری نثار صاحب ہمیشہ سے ہی سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رھے ہیں آُن کے اور وزیر اعظم کے مطاپق اس ملک میں اسلامک سٹیٹ کا کوئی وجود نہیں ہے ، کتنے معصوم لوگ ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ کسی آئیڈیالوجی کو کسی ملک تک پہچانے کے لئے وہاں دوسرے ملک سے لوگوں کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس ملک میں موجود "ہمدرد" لوگوں کی موبلائیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،  اور ہمارہ ملک ما شاء اللہ ایسے ہمدردوں سے خود کفیل ہے۔ اس ملک میں ذرا سا دین کے نام پہ کوئی پروپگنڈا کر کے تو دیکھو، جیالوں کی ایک فوج تیّار ہو جائے گی۔ جیسا کے ضیاء الحق نے امریکہ کو خوش کرنے اور کچھ سیاسی مقاصد کے لیئے افغانستان جہاد کو ہوا دی تھی۔ اور شعور سے فارغ لوگ پاگلوں کی طرح جہاد پہ چل نکلے تھے۔ کیونکہ اسلام پہ عمل کرنے سے زیادہ آسان شورٹ کٹ، جہاد کے نام پہ شہید ہو جانا ہے۔ بیشک کے روز محشر اللہ کے دربار میں یہی ثابت ہو کہ کچھ اعمال لگتے تو جہاد ہیں مگر وہ فساد ہوتے ہیں۔ اور قرآن کے مطاپق "فساد قتل سے پڑا گناہ ہے"

 

وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں لندن میں فلیٹس ہونے کا انکار کیا اور بعد میں مال انکا ہی نکلا اور قطری شہزادے سے مدد مانگنی پڑی۔ چوہدری نثار کے صادق ہونےمیں تو کوئی شک نہیں کرنا چاہئے کہ انکو معلوم ہی نہیں تھا کے کلعدم تنظیم اسلام آباد میں ایک جلسہ کر رھی ہے۔ جبکہ اس دن پی ٹی آئی جیسی لیجیٹیمیٹ سیاسی جماعت بھی جلسہ نہیں کر سکی۔ ہاں اگر پی ٹی آئی کلعدم تنظیم ہوتی تو شائید اسکا جلسہ نہ روکا جاتا۔ چوہدری نثار میڈیا میں کھڑے ہو کر کہ دیتے ہیں کہ لال مسجد کے مولوی عبدلاعزیر کے خلاف کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے، ایسا وہ جان بوجھ کے تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ آن کو دراصل پتا نہیں تھا، اگر کسی انٹیریر منسٹر کو کچھ پتا نہ ہو تو اسکو جھوٹا تو نہیں کہا جاسکتا نا۔ امید کرتے ہیں کے ان کوشائید کبھی پتا جل ہی جائے گا کہ نا مکمل علم بھی فساد پیدا کرتا ہے اور وہ گلی محلے کے پپو بھائی نہیں ملک کے ایک انتہائی زمہ دار ادارے کے سربراہ ہیں۔

دلمیال گاوں کے اثر و رسوخ رکھنے والے مولویوں نے عوام کوایک جھوٹ کی بنیاد پہ اکسایا کے احمدی فرقہ کے لوگوں کی عبادت گاہ در اصل ایک مسجد ہے جس پہ احمدی لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ یہ عبادت گاہ اٹھارہ سو ساٹھ کی دہائی سے احمدی حضرات کے پا س ہے۔ لیکن ایک جھوٹ کی بنیاد پہ ہزروں افراد نے اس عبادت گاہ پہ بارہ ربیع الاول والے مقدس دن چڑھائی کر دی، دو افراد جان سے گئے اور دین اسلام کی جائیداد میں اضافہ کی ایک اور کوشش کی گئی ۔ ان جاہلوں کو کون بتائے کہ اسلام ہر مذہب کی عبادت گاہ کی حرمت کا خیال کرنے کا درس دیتا ہے۔

سب سے عام جھوٹ جو مولوی بولتے ہیں وہ کسی کو کافر بول کے اس سے جینے کا حق  چھین لینا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فرانس میں اور چند دن پہلے جرمنی میں ایک شخص نے عام عوام پہ ایک ٹرک چڑھا دیا اور کتنے معصوم افراد کو مار ڈالا، اُن کا قصور یہ تھا کہ وہ کافر پیدا ہوئے تھے، ان میں سے اکثر لوگوں کو تو مسلمانوں سے کچھ لینا دینا بھی نہ ہو گا۔ اپنی دنیا میں مگن عا م لوگ جن کی اسلام دشمنی بھی ثابت کرنا آسان ہیں۔ جو پالیسی میکر ہیں، اور جو لوگ حقیقی مسمانوں کے دشمن ہیں آن تک تو یہ جا ہل لوگ پہنچ بھی نہیں پاتے اور عام عوام کو جان سے مار کر جہاد جیسے مقدش رکن اسلام کو مسخ کرتے ہہیں۔

 سب سے بڑا جھوٹ جو مولوی بولتے ہیں وہ دنیا کے سارے دہشت کردی کے واقعات کوصرف یہود و نصارا کی سازش قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اب تو پاکستان سمیت پوری دنیا میں ریسرچ سے ثابت ہو چکا ہے کہ خاص طور پہ خود کش حملہ عام حالات میں مسلمان کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ ہاں کم تعداد میں واقعی غیر مسلم شامل ہیں۔ ہاں یہ بھی سچ ہو سکتا ہے کہ یہود و نصارا پیسہ لگا تے ہیں۔ لیکن اکثر مسلمان اپنے اس جہل سے نا واقف ہیں کے استعمال پہرحال مسلمان ہی ہوتا ہے۔

حکومتوں کے جھوٹ پہ اگر کوئی کتاب لکھی جائے تو ایسی کتاب شائید کبھی مکمل نہیں ہو سکے گی۔ مثال کے طور پہ چایئنہ پاکستان ایکانومک کوریڈور کےنام پہ پاکستان کے عوام سے جو جھوٹ بولا گیا اس کی کوئی اور مثال نہیں۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ چھیالیس بیلین ڈالر اس پراجیکٹ کی انوسٹمنٹ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انوسٹمنٹ ایک قرضے کی صورت میں دی گئی ہے۔ اور جو بات عوام سے جان بوجھ کے چھپا ئی گئی ہے وہ یہ کہ اس قرض کا انٹریسٹ ریٹ تقریبا پچیس فیصد کے قریب ہے۔ ماشاء اللہ جب آپ اس قرض کو انٹریسٹ بلکہ کمپاونڈ انٹریسٹ کے ساتھ واپس کریں گےتو اس کا صاف یہ مطلب ہے کہ گوادر کی بندرگاہ سے آپ کم از کم اگلے دس سال تک کوئی فائدہ نہیں اتھا سکتے۔ اللہ ہی اس ملک کو بچائے اگر اس قرضہ کو لائیبور اور ڈیٹ ٹو ایکوٹی {اسی بتناسب بیس} کے مطابق دیکھا جائے تو ہماری اگلی نسلیں بھی مقروض ہی پیدا ہوں گی۔

  حکومت نے نندی پور پاور پروجیکٹ پہ پہلے بتایا کے کوئی بتیس بلین  کا خرچہ آئے گا۔ بعد میں یہ رقم بڑھتےبڑھتے بیاسی بیلین  تک پہنح گئی۔ کچھ لوگ اس کی وجہ کک بیکس کو سمجھتے ہیں۔  اب حکومت نے چا ہا کے یہ پیسہ عوام پہ ڈال دیا جائے۔ نیپرا نے حکومت کےتمام نا جائیز اخراجات کو مسترد کر دیا اور بجلی کا ریٹ تقریبا پیسٹھ بیلین خرچہ کے مطابق عوام پہ بوج ڈالنا منظور کیا ۔ حکومت  نے اس بات پہ ناراض ہو کر نیپرا کے پر کاٹنے کا فیصلہ کیا اور عوام کو یہ بتایاگیا کے وسیع قومی مفاد میں نیپرا کو حکومت کی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ 

حکومت نے کچھ عرصہ پہلےکے الیکٹرک {کراچی} کو چائینہ کی شنگھائی الیکڑک کو پیچ دیا، آج کی خبر ہے کہ پاکستان سٹاک ایسکچینج کے بھی جالیس فیصد حصص چائنہ کی ایک کنصارٹیم کو بیچ دیئے ہیں۔ ٹھوڑے دنوں پہلے امیر المومنین نے کمپنیز آرڈیننس ۱۹۸۴ میں تبدیلی کردی اوراب وہ کسی بھی پبلک ادارے کے ممبر اور چِئیرمین کو ایک نوٹس پہ فارغ کر سکتے ہیں۔ چند دن پہلے تمام رگولیڑی باڈیز کو حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کے اب بجلی، پٹرول،گیس، موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ریٹ بزنس کرنے والے حضرات کے رحم و کرم پہ ہوں گے۔ ان تلخ خبروں میں جو تلخ سچ چھپا ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کو دولت مند طبقہ یعنی بزنس مین اور خاص طور پہ چائینہ کے انوسٹرز کو زیادہ خطرہ ایسے اداروں سے ہے جوان کو من پسند پرافٹ حاصل کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ ہم سے یہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ملک میں انوسٹمنٹ آ رہی ہے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی اپنی انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے اور اس ملک میں ایک بار پھر ایسٹ انڈیا کمپنِی والی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔

ہماری ساری حکومتیں ہی جھوٹ پولتی آئی ہیں۔ لیکن اب جھوٹ ذیادہ صفائی اور ڈھٹائی سے بولا جانے لگا ہے۔ یعنی جھوٹ کمشرلائز ہو چکا ہے۔ خصوصی طور پہ سوشل میڈیا تو جھوٹ کے پرنٹنگ پریس کا درجا رکھتا ہے کہ جس کے وسیلہ سے "سچ ابھی تسمے ہی باندھ رہا ہوتا ہےجبکہ جھوٹ ساری دنیا کا چکر لگا چکا ہوتا ہے۔" حدیث رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کے کسی کے جھوٹا ہونے کے لیئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بلا تصدیق آگے بڑھا دے۔ {مفہوم}۔ سوشل میڈیا پہ سارہ دن زیادہ تر جھوٹ ہی شئیر ہوتا ہے۔

 

 نیشل انٹریسٹ کے نام پہ حکومیتں تو جھوٹ بولتی ہی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہم عام لوگ حکمرانوں سے زیادہ بڑے جھوٹے ہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جیسےعوام ہوتے ہیں ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں۔

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 117

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

Absolutely 

hmmm 

بڑی خرابی ہوگی ایسے شخص کے لئے جو جھوٹا ہو نافرمان ہو۔
قرآن کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے
بیشک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو جھوٹا (اور) ناشکرا ہو۔
ان آیات مبارکہ کا شان نزول ایک الگ باب ہے مگر بنیادی طور پر جھوٹ سے گریز کاحکم دیتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ حق بات کو چھپانا یا جھوٹ و سچ کو ملانا درست نہیں ، مزید یہ کہ جھوٹے کے لئے بڑی خرابی کا ذکر آنے کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہاہے کہ اللہ پاک بھی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا اور اس کے مسائل، مشکلات، مصائب وپریشانیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

کراچی جیسے لبرل اور بڑے شہر پر الطاف حسین کا غلبہ ہوا۔ اب شاید ان کے برے دن ہیں لیکن تقریبا تین دہائیوں تک ان کے پاس پاکستان کے بیشتر سیاست دانوں سے زیادہ طاقت رہی۔ ان کے منہ سے نکلے ایک لفظ پر شہر بند ہوجایا کرتا تھا اور ایک اشارہ مبینہ طور پر مخالف کی جان لے لیتا تھا۔

ہم میں سے بہت سارے ان کے اپنے حامیوں پر اثر کو دیکھ کر حیران ہوتے۔ کڑی دھوپ میں وہ ہزاروں کی تعداد میں نشے کی حالت کیا گیا ان کا بازاری اور بے ربط خطاب سنتے۔ ایم کیو ایم کا مظہر ایک معقول پاکستانی کی سمجھ سے بالا تھا

عمران خان کے پیروکار اجتماعی نامعقولیت کی ایک اور مثال ہیں۔ الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے فیصلوں کے باوجود ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے کئی ماہ تک مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں ڈیرے کیوں جمائے رکھے؟ عمران خان پر اتنا اندھا اعتماد کیوںا

ایم کیو ایم کا مظہر مہاجر پہچان اور اختیار سے جڑا ہے۔ حکومتی ملازمتوں کی خواہش گرچہ ایک وجہ تھی لیکن اس تحریک کے پیچھے فخر اور عزت نفس کی جستجو کارفرما تھی۔ ہمیں اس کی بھنک نہ پڑی کیونکہ ہم اپنے حصاروں میں بند پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔

اپنی عقلیت اور اطمینان میں ہم یہ بھول گئے کہ بے وقعت سمجھے جانے والے لوگوں کے نزدیک اس کی کیا اہمیت ہے۔ پس جب ان کے جذبات سے کھیل کر سٹیٹس کو کے خلاف تحریک کو جنم دینے والا کوئی آگے آیا تو ہم ناخوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئے۔

یہ تمام سیاست سچ کی بنیاد پر نہیں۔ جذبات سے کھیلنے والا قائد متعدد جھوٹ بولتا ہے لیکن رائے دہندگان اسے سزا نہیں دیتے۔ امریکی ذرائع ابلاغ، بشمول حقائق پر نظر رکھنے والی ویب سائٹیں، بار بار مباحث اور خطابات میں ٹرمپ کے بولے جھوٹ آشکار کرتی رہیں۔ لیکن ایک پکے حامی کے لیے یہ جھوٹ نجات اور امید سے زیادہ بڑے نہیں تھے۔

جب سیاست سچ کی بنیاد پر نہ ہو تو عقل کو ماننے والے لبرلز کے لیے جیتنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اگر آپ کا مخالف اپنی بات منوانے کے لیے جو چاہے کہہ سکتا ہے تو یا تو آپ بے ایمانی کی اس حد تک گر کر اپنے حلقے میں اپنی ساکھ متاثر کریں گے یا سچ کا ساتھ دے کر مباحثہ ہار جائیں گے۔

افواہوں اور من گھڑت اعددوشمار کا 24/7 ٹی وی کے ٹاک شوز اور انٹرنیٹ پر راج ہوتا ہے۔ میزبان اور بلاگرز بازاری سازشی نظریات پھیلائے اور الزامات کی لگائے رکھتے ہیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ جھوٹی اطلاعات آسانی سے پھیلائی جاسکتی ہیں۔ ناسمجھ اور سادہ لوح رائے دہندگان آسانی سے ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔

تو جمہوریت کے مستقبل کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟ واضح نظر آرہا ہے کہ پاپولزم اور جذباتیت آگے بڑھ رہی ہے اور لبرل ازم پسپا ہورہا ہے۔ پہچان کی سیاست کا رواداری اور اجتماعیت سے ٹکراؤ ہورہا ہے۔ تاہم اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم خود کو ارفع سمجھنا چھوڑ دیں، اپنی دنیا سے باہر آئیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ٹرمپ اور عمران خان جیسے لوگ آخر کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔

Thank you all for your contribution.

RSS

-------------------------------------------------------------

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

+ More Categorizes

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service