.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

جوانی میں غفلت اور بڑھاپے میں تبلیغ ۔۔۔

 ابتداء ہے رب جلیل اور اس کے حبیب محمد صل اللہ علیہ و آل وسلم کے نام نامی سے۔

اسلام مکمل دین حیات ہے اور یہ قیامت تک کے لیئے دین حق قرار دیا گیا ہے۔ فرمان رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم ہے "اور پورے کے پورے {یعنی مکمل} دین میں داخل ہو جاو {مفہوم}۔ اس حدیث کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی شرعی حکم پہ عمل کرنا اور کسی پہ عمل نہ کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسرے نقطہء نظرسے دیکھا جائے تو یہ بھی ایک غیر شرعی عمل ہے کہ انسان ساری زندگی خصوصی طور پہ جوانی کی عمر تک تو حد درجہ عیاشیاں کرے اور جب گناہ کی طاقت کم یا ختم ہوتی نظر آئے تو متقی اور پرہیزگار کا روپ دھار لے اور ہر کسی کو نصیحت اور تبلیغ کرتا نظر آئے۔ یہاں تک کے سختی سے اپنی اولاد، گھروالوں اور عوام میں تبلیغ کرتا پھرے۔

تو کیا پڑھاپے کی دین داری یا تبلیغ ایک نا مناسب عمل ہے؟ کیا انسان توبہ کر کے بھی اور {دیر سے ہی سہی} لیکن سدھر جانے کے بعد بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے؟

میرا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ پڑھاپے کی دینداری نا جائز عمل ہے اور ایسے لوگوں کا تبلیغ کرنا غلط ہے۔۔۔

 البتہ ایک بات ضرور ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔۔۔ "کیا جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" میرے ذہن میں اس آیت کے پیش نظر یہ سوال آتا ہے کہ کیا ایسے لوگ جو ابتدائی عمر سے دین سیکھتے ہیں اور حق کے ساتھ اس پہ عمل کرتے ہیں ایسے لوگوں کا موازنہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ہو سکتا ہے جس نے بڑھاپے کی عمر میں دین کو اہمیت دینی شروع کی ہو؟

احادیث کے مطابق جوانی کی عبادات اور بڑھاپے کی عبادات کے درجات میں بھی بے انتہاء فرق ہے۔ کسی نے اس سلسلہ میں کیا کمال شعر کہا ہے۔

گر جوانی توبہ کردن شیوائے پیغمبری۔۔

وقت پیری گرگ ظالم مے شود پرہیزگار۔۔۔

ترجمہ: اگر جوانی میں توبہ کر لیں تو یہ بیغمبروں والی صفت ہے، بڑھاپے میں تو بھیڑیا بھی اپنے آپ کو پرہیزگار سمجھتا ہے، کیونکہ اس میں شکار کرنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔

ایسے لوگ جنہوں نے ساری جوانی عیاشی اور بے دین زندگی گزاری ہو ، میں سمجھ نہیں پاتا کہ ایسے لوگ آخر ایسا اعتماد کہاں سے لے کر آتے ہیں کہ بڑھاپے میں وہ ہر وقت تبلیغ ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کے ان کی تبلیغ میں سختی کا عنصر بھی انتہائی سطح پہ پایا جاتا ہے۔ عام زندگی میں یا آن لائن دنیا میں  کوئی فرقہ واریت پہ مبنی بات ہو یا شرعی مسائل پہ کوئی اختلاف کی بات ہو تو ایسے لوگ اپنی باتوں سے ایسے عالم فاضل نظر آتے ہیں جیسے کہ ان کو موروثی علم و معرفت عطاء ہوئی ہو اور ان لوگوں نے اپنی محنت سے اپنی آباواجداد سے حاصل شدہ علم کو بھی چار چاند لگا دیئے ہیں۔

 خاص طور پہ ایسے لوگوں کی دینی باتوں میں سختی کا عنصر دیکھ کے تو انتہاء کی حیرت  ہوتی ہے کہ یہ بندہء خدا آخر اپنے غیر دینی اور غیر شرعی اور بے عمل ماضی کو کیسے بھول سکتاہے۔  مجھے تو شرم آتی ہے کہ اگر میں کسی شخص کو کسی ایسی برائی سے "سختی" سے منع کروں جو میں خود ماضی میں کرتا رھا ہوں۔ ہاں دو شرائط لاگو ہیں،  اگر میں اس برائی سے توبہ کر چکا ہوں اور اگر وہ شخص میری "رعیت" میں آتا ہے{یعنی میں اُس شخص پہ اختیار رکھتا ہوں یا وہ میری نصیحت کو سننا پسند کرتا ہے} تو میں اس کو نرمی سے اس برائی سے منع کر سکتا ہوں لیکن اگر میری شفقت سے کہی بات بھی دوسرا شخص نہ سمجھے تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ شائد میری ہی ماضی کی   توبہ قبول نہیں ہوئی ورنہ شائد وہ شخص میری نصیحت مان جاتا۔ سو میں اپنی نصیحت کا دائرہ کار کم سے کم ہی رکھنا پہتر سمجھتا ہوں۔

دوسری بات کہ اگر میرا ماضی با علم و با عمل نہیں رہا تو میں "ہر وقت" اور "ہر کسی" کو تبلیغ کرنے سے گبھراتا ہوں۔ وجہ وہی ہے کہ مجھے بڑھاپے کی دینداری سے یہی بات سمجھ آئی ہے کہ کسی ظالم کو ظالم کہنے سے پہلے یہ سوچنا چا ہیے کہ میں خود ماضی میں کتنا ظالم رھا ہوں۔ کسی زناء کے مجرم کو رجم کا پتھر مارنے کا حق بھی مجھے تب ہی حاصل ہو گا کہ اگر میں خود ایسے گناہ سے ہمشہ پاک رہا ہوں۔ اگر میں خود ہر قسم کے زناء سے پاک ہوں صرف اسی صورت میں تبلیغ کو اپنی "باقی" زندگی میں اختیار کرنے کا حق رکھتا ہوں ورنہ یہی زیادہ مناسب ہے کہ اپنی باقی زندگی توبہ اور اپنی ذاتی بہتری پہ خرچ کروں، اور اپنی تبلیغ کا دائرہ بھی محدود رکھوں، اور میٹھی میٹھی دینی باتوں کا حق ایسے لوگوں کے پاس ہی رہنے دوں جو اس کام کے حقیقی حق دار ہیں۔ یہ نہ ہو کہ میں متقی ہونے کی خواہش، گمان اور دھوکے میں رھوں اور خود ہی یہ فیصلہ کر لوں کہ میری توبہ کیونکہ قبول ہو گئی ہے تو اس وجہ سے مجھے یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ اب دوسروں کی اصلاح کیلئے اپنی زندگی وقف کر دوں اور اپنے گناہوں کے کفارہ کے طور پہ اپنی باقی زندگی میں خود سے ہی اپنے آپ کو اللہ کے نیک بندوں کی صف میں شامل کر لوں۔ پھر خود ہی یہ یقین بنا لوں کے میں تو اب بہت متقی اور پرہیزگار ہو گیا ہوں اس لئے میں ہر کسی کو ہر وقت تبلیغ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔  یہ سب میرے نفس کا  دھوکا بھی تو ہو سکتا ہے۔

 

 بیشک اللہ نے توبہ کی قبولیت کی نشانیاں تو بتائی ہیں لیکن توبہ کی قبولیت کی رسید تو اللہ نے کسی کو نہیں دی نا؟ تو جناب اپنی بنائی ہوئی کسی جنت میں رھنے کا فیصلہ خود سے مت کر بیٹھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں شدّاد والی جنت ہی دے دی جائے ۔ کہیں شدّاد کی طرح ہم بھی اپنے آپ کو دھوکا تو نہیں دے رہے؟

 مزید یہ کہ میری دینی دانست میں اگر کوئی انسان اپنی جوانی کا بڑا حصّہ غفلت میں گزاتا رہا ہے اور وہ اپنے جہل سے مکمل باہر نہیں نکل پایا {کیونکہ ہر کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ جہل سے نکلا ہے یا نہیں} پس جس شخص میں جہل باقی ہو ایسے شخص میں "شر" ضرور باقی رھتا ہے۔ اور بد ترین شر وہ ہے جو اس شخص کی اپنی ذات سے زیادہ دوسرے انسانوں کو نقصان دیتا ہے۔ یہ ایک خطرناک ترین لمحہ فکریہ ہے۔  ایسا شخص نفس کے دھوکے کا شکار ہو سکتا ہے، جو دین کے روپ میں دراصل اپنےہی کفن میں آخری کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ بربادی ایسے لوگوں کا مقدر ہو سکتی ہے جبکہ ظاہری طور پہ وہ بہت دینی نظر آتے ہیں۔ باطنی طور پہ وہ برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔ کسی برگزیدہ دینی ہستی کا فرمان پڑھنے کو ملا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگوں کا دین لبادے کی صورت ہو گا، جس کو جب ان کا دل چاہے گا پہن لیں گے اور جب دل چاہے گا اتار ڈالیں گے {مفہوم

 

شائد آپ میں سے کچھ لوگوں کو میری یہ باتیں انتہائی عجیب محسوس ہو رہی ہوں۔ لیکن میرے مشاہدہ میں ایسے لوگ آئے ہیں۔ جن کے ماضی سے میں واقف ہوں۔ بے حیائی کے فیشن اور حرکتیں کرنے والے ایسےخواتین و حضرات جب اپنے بڑھاپے میں با پردہ لبادوں میں نظر آتے ہیں، روزانہ شیو کرنے والےجب آج لمبی لمبی داڑھیوں کے ساتھ لمبی لمبی دینی تقاریر جھاڑتے نظر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مذہبی جذبات اور جنون پہ رشک آنے کے بجائے ان پہ افسوس ہوتا ہے۔ لیکن مخلوق خداء اور خاص طور پہ ان ک قریبی اور گھر والے ان لوگوں کے "شر" اور بد اخلاقی سے عاجز نظر آتے ہیں۔

اگر کسی مکمل دینی ماحول میں تربیت پانے والےافراد، ظاہری طور پہ بہت دین دار اور بیشک حافظ قرآن یا عالم دین ہی کیوں نہ ہوں لیکن ان کے "شر" سے دوسرے انسان محفوظ نہیں تو یقین جانیں ایسے لوگ کسی لا دین انسان سے بھی بد تر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دین کو اپنا لبادہ بنا رکھا ہے۔ جن کے لئے قرآن فرماتا ہے۔

"کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟"

اس فرمان کے مطابق ایسے لوگوں کا اپنے آپ کو دینی متقی اور پرہیزگار ظاہر کرنا انکی ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہے  لیکن در حقیقت ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مولا علی کرم اللہ وجہ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے: جب عقل مند بوڑھا جاتا ہے تو  اسکی عقل جوان ہو جاتی ہے اور جب جاہل بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہو جاتی ہے۔ میری دینی دانست میں دین دار لوگ ہی عقل مند ہیں اور بےدین لوگ ہی جہالت کا شکار ہیں۔ ہم نے جوانی دین داری میں گزاری ہے یا جہالت میں؟ اس فرمان کے مطابق ہم اپنا محاسبہ خود کر سکتے ہیں۔

پس میرا مشورہ ہے کہ جن افراد نے اپنی جوانی حقیقی دین داردی سے نہیں گزاری وہ بڑھاپے کی عمر میں {خاص طور پہ} سختی کے ساتھ اور اگر ہو سکے تو با قاعدہ یا بہت ذیادہ دین کی تبلیغ کرنے سےگریز ہی کیا کریں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو ہمیں معلوم ہی نہ ہو اور پڑھاپے میں دراصل ہماری جہالت جوان ہو چکی ہو۔ 

 اس پوسٹ کا مقصد کسی شخص، مسلک، گروہ یا تبلیغی جماعت کی دل آزاری  ہر گز نہیں۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معزرت چاہتا ہوں۔ اگر آپ میری اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے تو آپکو اختلاف کا حق ہے۔ جو اس ٹاپک پہ ڈسکشن کرنا چاہیں تو اپنے علم سے میری رہنمائی فرمائیں۔۔۔جزاک اللہ۔

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 386

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

Sule mine shweeeeet BE Shil 

میرا سوال یہ ہے کہ ہدایت کب ملتی ہے؟

کیا ہماری مرضی سے ملتی ہے یا اس میں رب کی رضا شامل ہوتی ہے؟

اللہ جوانی میں ہدایت دے یا بڑھاپے میں کیا اس میں ہمارا کوئی عمل دخل ہوتا ہے؟

ہدایت توفیق اور فضل میں کیا فرق ہے؟

دین داری کسے کہتےہیں نماز روزہ حج یا حقوق العباد؟

یہ کیسے معلوم ہو گا کہ  ہم دیندار ہیں؟ یہ اظہار ضروری ہے یا نمود نمائش میں آتا ہے؟

ہدایت کب، کسے اور کیسے ملتی ہے؟ یہ بات کسی انسان کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ ہدایت جب بھی ملے لیکن اس میں انسان کی اپنی کوشش، عمل اور پالیسی کا عمل دخل ضرور ہے۔ اللہ نے جو بھی اختیار ہمیں عطا کیا ہے صرف اسکا ہی ہم سے حساب مانگا جائے گا۔

 ہدایت، توفیق، فضل اور دین داری کیا ہے؟ میں اس کی تفصیلات میں جانے سے گریز کروں گا کیونکہ اس ڈسکشن کا ٹاپک پہلے ہیں سمجھنے میں کچھ مشکل ہے اور میں اس کے دائرا کار کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ اگر آپ اس پہ روشنی ڈالنا چاہیں تو بسم اللہ کریں۔

میں مختصرطور پہ یہی کہوں گا کہ عام عوام کو مذہبی اور غیر مذہبی لوگوں کی کافی حد تک پہچان ہے۔ میں صرف ایسے لوگوں کی بات کر رھا ہوں جن کی باتوں اور عمل سے مذہبی ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ نا ہی میں ان کے سچے یا چھوٹے مذہبی رویہ کے کسی پیمانے کی بات کر رھا ہوں۔ نا ہی مجھے ان کے ایمان کے کامل یا غیر کامل ہونے کے لئے کوئی پیمانہ مقرر کرنا ہے۔ یہ ڈسکشن دراصل مذہبی تبلیغ کا رجہان رکھنے والے لوگوں کے ضمیر سے ایک قسم کا خطاب ہے۔ جن لوگوں یہ ڈسکشن مخاطب ہے وہ میری اس تنقید کو اپنے ضمیر کے دربار میں پیش کریں، اگرآپ کا ضمیر آپکو کلئیر کر دیتا ہے تو بہت اچھا ورنہ اپنا محاسبہ کریں۔

میرا ماننا ہے کہ دین کے بھیلنے کے باوجود، ظاہری طور پہ دینی لوگوں کے بڑھتے ہوئے رجہان کے باوجود آخر کیوں امت مسلمہ میں بہتری نظر نہیں آتی اور ہم لوگ ہی جنگ و جدل، دہشت گردی، فتنہ و فساد جیسے عذاب کا شکار نظر آتے ہیں۔ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اس کی ایک اہم وجہ وہ آدھا سچ بولنے والے مذہبی لوگ ہیں جو بڑھاپے میں تبلیغ کی مدد سے اپنی جوانی کی غلطیوں کو کمپنسیٹ کرنے کی کوشش کر رھے ہوتے ہیں، شائد کہ وہ نفس کے قیدی کا کردار ادا کر رھے ہوتے ہیں نا کے ضمیر کے قیدے کا۔ میرا خیال ہے کہ اگر یہ لوگ نفس کی خواہش کے غلام ہیں تو یہ دھوکا ان کا بڑھاپا بھی برباد کر ڈالے گا۔  

آپ شاید کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ بے عمل دین داری کی بنا امت مسلمہ ایک منتشر نسل کو پروان چڑھا رہی

لہذا ہر ایک کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے نا کہ دوسروں کے قبلے درست کرے

لیکن یہ سوال یس لیے کئے گئے کہ ان سب بنیادی اصطلاحات کی تعریف بیان کرنا ضروری ہے تاکہ  لوگ فیصلہ کر سکیں  

جی یہ بھی کہ سکتے ہیں کے میں عالم بے عمل قسم کے لوگوں کی بات کر رھا ہوں۔ لیکن خاص طور پہ ایسے بوڑھے لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو جوانی میں اتنے با عمل اور دین دار نہیں رہے لیکن بڑھاپے میں ان کو دین کی خدمت کی اتنی فکر ہوتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے دینی معملات پہ لڑائی جھگڑا کرتے نظر آتے ہیں۔ 

اس فورم پہ ذیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں اس لئے میں انتہائی بنیادی اصطلاحات پہ بات نہیں کر رھا۔ اور ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان اصطلاحات کی تعریف ہر ایک کی نظر میں مختلف ہو سکتی ہے۔ گفتگو کو اپنی حدود میں رکھنے کے لئے زیادہ تفصیل سے اجتناب کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان اصطلاحات پہ روشنی ڈالنا چاہیں تو یہ قابل ستائش ہو گا۔ جزاک اللہ۔ 

ہدایت ہم تک قرآن کی صورت پہنچا دی گئی ہے

اس کو حاصل کرنے کے توفیق ہم کو اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے

قرآن مجید کی نظر میں دین سے مراد ''انسانی زندگی کی عملی روش کا حدود اربعہ ''ہے جس کی ایک دلیل وہ آیات ہیں جن میں خداوند متعال نے کفارو مشرکین کے راہ و رسم اور زندگی گزارنے کی روش کو بھی ''دین '' سے تعبیر کیا ہے

پس دین داری کا مطلب محض نماز روزہ نہیں بلکہ روز مرہ زندگی کو اللہ کے بتائے گئے احکامات کے مطابق گزارنا ہے

رہا سوال ان سوالوں کا آپ کے پوسٹ سے کیا تعلق تو ہم واضح کرتے جائیں کہ

ہدایت ہمارے پیدا ہونے سے پہلے پہنچا دی گیئ ہے لیکن اس کے توفیق ہم کو جوانی میں ملتی یا بڑھاپے میں اس کا تعین صرف اللہ کر سکتا اس کے فضل کے مرہون منت ہے لہذٰا پوسٹ کا  یہ حصہ اجر کے حساب سے یگانہ ہو سکتا ہے لیکن اختیار کامل حاصل  ہونا ممکن نہیں ہے ۔

آپ یہ چاہیتے کہ ایسے لوگ جو دین کا لبادہ اوڑھے دین کا پرچار کر ریے وہ اپنا محا سبہ کریں

کیا ہر انسان اپنے من کے گند کو نہیں پہچانتا؟ کیا ہم اپنی ریاکری سے واقف نہیں ہیں؟

سب جانتے ہیں  کہ وہ کہاں غلط ہیں اور کہاں ٹھیک کیونکہ ہدایت ان تک پہنچا دی گیئ تھی تو جانتے ہوئے بھی وہ اس  منافقانہ عمل کا شکار کیوں ہیں؟

کیونکہ وہ اپنے آپ کو راستی پر سمجھتے ہین۔۔کیونکہ انہوں نے اللہ کی بیجھی ہوئی ہدایت سے اپنے من مرضی مے مطالب اخذ کیے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں پر ہدایت حقیقی کا القا نہیں ہوا ہے کیونکہ ان کو اس نعمت عظمی کے ہوتے ہوئے بھی اس سے بہرہ ور ہونے کے توفیق نہیں ملی ہے کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گیئ ہے۔۔کیونکہ ان پر فضل خدا نہیں ہے۔۔۔۔

پس اللہ سے اس کا فضل مانگیں کہ وہ  ہم کو ہدایت حقیقی کی توفیق عطا فرمائے آمین

مزید یہ کہ میری دینی دانست میں اگر کوئی انسان اپنی جوانی کا بڑا حصّہ غفلت میں گزاتا رہا ہے اور وہ اپنے جہل سے مکمل باہر نہیں نکل پایا {کیونکہ ہر کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ جہل سے نکلا ہے یا نہیں} پس جس شخص میں جہل باقی ہو ایسے شخص میں "شر" ضرور باقی رھتا ہے۔
ہر کوئی کسی کے شر کو کیسے جان سکتا ہے جبکہ انسان خود اپنے شر کو نہیں جانتا کہ کب بہک جائے؟

ایک انسان ساری زندگی ہدایت پر گزارتا ہے لیکن آخری عمر میں رانداہ درگاہ ہو جاتا ہے اس کا کیا سبب ہے ؟اب اس کی ساری عمر کی  جوانی کی دین داری اور عقل کہاں گیئ؟

میرے خیال میں اس بات کا تعلق کسی لائف سائیکل سے نہیں ہے

رہی بات ریاکار دین داروں کی تو آپ دیکھ سکتے ان کا قول فعل میں تضاد ان کی تبلیغ کو غیر فعال کر دیتا ہے یہ دلوں کو تبدیل نہیں کر سکتے

اور جاہل سے اس کا محا سبہ کروانے کے سعی لا حاصل کا فائدہ نہیں

مولا علی کرم اللہ وجہ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے: جب عقل مند بوڑھا جاتا ہے تو اسکی عقل جوان ہو جاتی ہے اور جب جاہل بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہو جاتی ہے۔ میری دینی دانست میں دین دار لوگ ہی عقل مند ہیں اور بےدین لوگ ہی جہالت کا شکار ہیں۔ ہم نے جوانی دین داری میں گزاری ہے یا جہالت میں؟ اس فرمان کے مطابق ہم اپنا محاسبہ خود کر سکتے ہیں۔

ہمارے خیال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول اس موضوع سے مناسبت نہیں رکھتا

اس قول مبارک کا سیاق و سباق انسانی زندگی مین عقل اور نادانی کی عمر کا تعین کرنا تھا

نیز یہ کیسے  ثابت ہو گا کہ دین دار لوگ عقل مند ہیں

اسی لیے ہم نے سوال کیا تھا کہ آپ کے مطابق دین داری کہتے کس کو ہیں؟/ 

 جو فرمان باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کا ہو تو میرا تو یہی ماننا ہے کہ ھماری محدود عقل اس کی حدود کا تعیّن نہیں کر سکتی۔ آپ کے فرامین کی گہرایوں کو محدود کرنا مجھے مناسب نہیں لگتا۔ اس فرمان میں ایک ایسی وارننگ موجود ہے جوجوانوں اور بوڑھے افراد کو کچھ سمجھانے کے لئے ہے۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے لیکن میری نظر میں یہ فرمان اس ٹاپک سے انتہائی متابقت رکھتا ہے۔ 

جہان تک دلوں پہ مہر کا تعلق ہے میں پھر کہوں گا کے خدائی فیصلے جو بھی ہیں وہ ہمارا دائرہ کار نہیں ہے۔ ہم لوگوں کا کام  احتیاط کے ساتھ ایک دوسرے کی رہنمائی کرنا ہے۔ لیکن پہلے یہ جان لیں کے آپ دینی تعلیم دینے کا حق بھی رکھتے ہیں کے نہین٫ میں دوسروں کے ساتھ اپنے آپ کو بھِ یہ بات سمجھا رھا ہوں۔ 

مولا علی کے فرمان کا مفہوم ہے کہ بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن پہتر ہے اس کے علاوہ میری دینی تعلیم اور سمجھ کے مطابق عقل کا دینداری اور دینی درجات حاصل کرنے میں بے انتہا اہم حصّہ ہے۔ قرآن پاک میں اخر کس کو مخاطب کیا گیا ہے کہ جب فرما یا گیا کہ ان باتوں میں عقل والوں کے  لئے نشانیاں ہیں۔ 

میری مجبوری ہے کہ میں ٹاپک کے سکوپ سے ذیادہ باہر نہیں نکل سکتا ورنہ پڑھنے والوں کے لئے  کنفیوژن بڑھ جاتی ہے۔ پہلے ہی میری پوسٹ کافی لمبی اور تفصیلی ہوتی ہے، صرف اس لئے کہ بات کو ہر اینگل سے سمجھا سکوں۔ سو میں دینداری، فصل وغیرہ جیسی اصطلاحات کو قاری کی اپنی سمجھ پہ چھوڑنا چاہوں گا۔ اگر کسی کو دینداری کی بنیادی تعریف نہیں معلوم تو میری یہ ڈسکشن ایسے لوگوں کے لئے ذیادہ مدد گار بھی نہیں ہو سکے گی۔ 

 Intellectual discussion. You both have higher caliber. 

ایک آخری بات جو میں دوبارہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ تبلیغ کو وسیع پیمانے پہ یعنی عوام میں اور سوشل میڈیا پہ کرنے کا کام نیم حکیم اور نیم ملا قسم کے لوگ نہ ہی کریں تو یہ امت مسلمہ پہ بڑا احسان ہو گا۔ یہ کام ان لوگوں پہ ہی چھوڑ دیں جن کا حق ہے تو یہی بہتر ہو گا۔ 

میرا مزید مشورا ہے کہ اگر آپ علماء کو بھی پڑھنا چاہیں تو ایسے علماء کو پڑھیں جن کی  جوانی اور بیک گراونڈ دین کی تعلیم میں گزرا ہو۔  ایک مثال دیتا ہوں کہ آجکل ویسے تو علماء سوء کی تعداد ذیادہ ہے اور علماء حق کم ہیں۔ لیکن معذرت ک ساتھ کہوں گا کہ ہمارے عوام بعض اوقات علماء اور خطیب کے فرق کو بھی نہیں جانتے۔  مولانا طارق جمیل خطیب  ہیں، ڈاکٹر  اسرار احمد نے ڈاکٹری کی ڈگری دین کی تعلیم میں نہیں بلکہ میڈیکل سائنس میں حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی ویو سے آپ بیشک اختلاف کریں لیکن ان کی ڈاکڑی کی ڈگری دینی تعلمات میں ہے۔ سو جب بھی علماء کو ریسرچ کے مقصد کے لئے کنسلٹ کرنا چاہیں تو علماء کا بیک گراونڈ بھی دیکھ لیا کریں۔ اس طرح آپ کو معیاری علم  حاصل ہو سکے گا۔  جزاءک اللہ۔ 

Ulmye haqa and ulmye Su

RSS

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. + ! ! ! ! ϝιƴα ^

Venice, Italy

© 2018   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service