.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

"جشـن ِ بربادی ء محبت میں"

"چار سو رقص ہے اندھیروں کا"


"آنکھ میں آئینے کی حیرت ہے"


"رو برو عــکس ہے اندھیروں کا"

طلسم ِ سفر

گزر گئیں ہیں جو راتیں انہیں گزرنا تھا
اگر ہے فرق وصال و فراق میں - - - کیا ہے ؟
خبر تمہیں بھی نہیں ، مجھے بھی علم نہیں

مگر یہ کیسی کسک ہے ؟
ہوا کا رنگ درختوں پہ حَرف لکھتا ہے
سکوں کے حرف کہ جیسے سفر تمام ہوا
مثالِ موج ِ شکستہ ، فراز ِ ساحل پر
کچھ ایسے تھک کے گرے ہیں کہ جیسے جزر کا ہاتھ
کرے گا اب نہ طلاطم سے آشنا ہم کو

مگر یہ کیسی چمک ہے؟
بکھرتے جھاگ کی اُنگلی سے ریگِ ساحل پر
بھنور کی آنکھ کے منظر دکھا رہی ہے مجھے
طلوع ِ صبح ازل سے غروبِ محشر تک
ہر ایک چیز طلسم ِ سفر کی قیدی ہے

کہیں نہیں ہے ٹھکانہ ہوائے صحرا کا
یہ جس پڑاؤ کو منزل سمجھ رہے ہیں ہم
اسے بھی ریگِ رواں کی مثال ہونا ہے
یہ ایک لمحہء پراں بھی تتلیوں کی طرح
ہتھیلیوں پہ فقط رنگ چھوڑ جائے گا

ترے جمال کے ، میرے فشار ِ شوق کے رنگ
گلوئے اہل ِ محبت ، نشانِ طوق کے رنگ
ہر ایک خواب کا جادو ہے آنکھ کھلنے تک !

ہزارپا ہے جو خواہش گریز پا ہو گی
تو کیوں نہ ہم اسی جادو کو جاوداں کر لیں
ہتھیلیوں میں چھپا کر بھٹکتے رنگوں کو
اسی وصال کے لمحے کو بے کراں کرلیں

نگاہ و دل کو قرار کیسا، نشاط و غم میں کمی کہاں کی
وہ جب ملے ہیں تو اُن سے ہر بار، کی ہے الفت نئے سرے سے

اب ھم انسان سے __ فرشتے تو ہو نہیں سکتے
اور وہ کہتے ہیں کہ __ ھم سے خطا بھی نہ ہو

چھین لیتے ہیں لوگ اکثر تجھے خوابوں میں

واسطہ ہے محبت کا سونے نہ دیا کر مجھے


مجھے جینے سے ڈر لگتا ہے
جام زندگی پینے سے ڈر لگتا ہے
ظلم حد سے بڑ ھنے لگا ہے اب
مجھے لب سینے سے ڈر لگتا ہے
ہے کر ڈالا انسان نے خدا تقسیم
مجھے عبادت کرنے سے ڈر لگتا ہے
میرے شہر کی گلیاں بنی خون کی ندیاں
مجھے گھر جانے سے ڈر لگتا ہے
مجھ سے چھین گئیں کتابیں میری
مجھے سکول جانے سے ڈر لگتا ہے
کہیں نالہ ہے کہیں غموں کی بارش
مجھے یہ کہنے سے ڈر لگتا ہے
خوشیاں روٹھ گئیں میرے وطن سے
مجھے مسکرانے سے ڈر لگتا ہے
مانگوں تو خدا سے کیا مانگوں
مجھے ہاتھ اٹھنے سے ڈر لگتا ہے
غم دوراں ہوا حصئہ زندگی میر ا
مجھے دل لگنے سے ڈر لگتا ہے
لے لے میری زندگی اب میرےمالک
مجھے اب جینے سے ڈر لگتا ہے
یہ تیرا نصیب ھے ____ تُجھے کیسا بنائے عشق
مُجھکو تو مشتِ خاک سے ______ گُلزار کر دیا
کیوں نہ کروں میں غرور اپنے آپ پر ...
مجھے اس نے چاہا جس کے چاہنے والےہزاروں تهے
کس قدر ٹوٹ رہی ہے میری وحدت مجھ سے
اے میری وحدتوں والے، مجھے یکجا کر دے
نیا اک ربط پیدا کیوں کریں ہم ؟
بچهڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم؟
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری !
کوی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم ؟
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم ؟
زلیخاے عزیزاں' بات یہ ہے!
بهلا گاٹے کا سودا کیوں کریں ہم ؟
نہیں دنیا کو جب پرواہ ہماری!
تو پھر دنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم؟
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم ؟
ضمیر بولتے ہیں , ہم کو سچ بتاتے ہیں
یہ تو انسان ہیں جو بہرے بنے بیٹھے ہیں
حق ,ناحق کے دکھاتے ہیں چہرے سب کو
اندھے انسان ہیں, بے چہرہ بنے بیٹھے ہیں
اتنے بھی تو وہ خفا نہیں تھے
جیسے کبھی آشنا نہیں تھے
مانا کہ بہم کہاں تھے ایسے
پر یوں بھی جدا جدا نہیں تھے
تھی جتنی بساط کی پرستش
تم بھی تو کوئی خدا نہیں تھے
حد ہوتی ہے طنز کی بھی آخر
ہم تیرے نہیں تھے، جا نہیں تھے
کس کس سے نباہتے رفاقت
ہم لوگ کہ بے وفا نہیں تھے
رخصت ہوا وہ تو میں نے دیکھا
پھول اتنے بھی خوشنما نہیں تھے
تھے یوں تو ہم اس کی انجمن میں
کوئی ہمیں دیکھتا ، نہیں تھے
جب اس کو تھا مان خود پہ کیا کیا
تب ہم بھی فراز کیا نہیں تھے
تم نے ہی کہا تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
جب تصور مرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے
اپنی ہر سانس سے مجھ کو تِری خوشبو آئے
مشغلہ اب ہے مرا چاند کو تکتے رہنا
رات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے
پیار نے ہم میں کوئی فرق نہ چھوڑا باقی
جھیل میں عکس تو میرا ہو، نظر تو آئے
جب کبھی گردشِ دوراں نے ستایا مجھ کو
مری جانب تیرے پھیلے ہوئے بازو آئے
جب بھی سوچا کہ شبِ ہجر نہ ہو گی روشن
مجھ کو سمجھانے تِری یاد کے جگنو آئے
کتنا حساس مری آس کا سنّاٹا ہے
کہ خموشی بھی جہاں باندھ کے گھنگرو آئے
مجھ سے ملنے کو سرِشام کوئی سایہ سا
تیرے آنگن سے چلے اور لبِ جو آئے
اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیلؔ
وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے
ہم محبت کے اظہار میں گونگے اور نفرت کے اظہار میں منہ پھٹ لوگ ہیں ......!!
میں اپنی لاش کو ' تنہا ہی دفن کر لوں گی ..
کہ تم بھی جاو' سبھی لوگ گھر گئےاپنے !!
''محبت چار دن کی ہو
یا چاہے چار صدیوں کی
اسے جب بھولنا چاہیں
تواکثر مات ہوتی ہے''
میرے پہلو میں ہو درویش نگاہوں والی
وقت وہ پل بھی دکھاۓ تو مزا آ جاۓ
یہ شیشے یہ سپنے
یہ رشتے یہ دھاگے

کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں
محبت کے دریا میں تنکے وفا کے

نہ جانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں
عجب دل کی بستی عجب دل کی وادی

ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا
لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے

مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا
مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے

محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے
ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو

کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے
جنہیں دل سے چاہا جنہیں دل سے پوجا

نظر آرہے ہیں وہی اجنبی سے
روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی
شکایت نہیں ہے کوئی زندگی سے
نہ کوئی آنکھ مِلتی ہے نہ کوئی جام مِلتا ہے
ابھی تو مے کدہ ہم کو بَرائے نام مِلتا ہے
مجھے اے دوست وہ تکلیف دے اپنی نِگاہوں سے
کہ جس تکلیف سے، تکلیف کو آرام مِلتا ہے
مجھے محسُوس ہوتا ہے عبادت ہو گئی میری
کوئی زہرہ جبیں جب صُبح کے ہنگام مِلتا ہے
شکایت کیوں کریں ہم اُس پری وَش کے نہ مِلنے کی
برنگِ صُبح مِلتا ہے، بہ شکلِ شام مِلتا ہے
خُدا کا شُکر کر، تہمت اگر اُس آنکھ کی آئے
بڑی مُشکل سے ایسا قیمتی اِلزام مِلتا ہے
بسا اوقات! دُنیا بھی کچھ ایسے پیش آتی ہے
کہ جیسے مُسکرا کر ساقیِ گلفام مِلتا ہے
غریبوں کی خُوشی کا، کب زمانہ فکر کرتا ہے
غریبوں کو زمانے میں کہاں آرام مِلتا ہے
اُنہِیں بندوں کو ہوتی ہے خُدا کے نام سے رَغبت
کہ جن کے پاس ہر رُت میں خُدا کا نام مِلتا ہے
ولایت میکدے کی اُس جگہ پر ختم ہوتی
جہاں سے کچھ سُراغِ گردشِ ایّام مِلتا ہے
مَحبت اُس اجل کی جستجو کا نام ہے شاید
جسے رسماََ حیاتِ جاوِداں کا نام مِلتا ہے
عدم! وجدان اب راحت کی اُس منزِل پہ پُہنچا ہے
جراحت سے جہاں احساس کو آرام مِلتا ہے
تم نے
میری روح کو
اک کالے تابوت میں رکھ کر
کیلیں ٹھونکیں
جسم کو لیکن چھوڑ دیا
گھنی رات کے جنگل میں سو جانے کو
اور میں
تن کے ٹکڑے کر کے
لفظوں کے صندوق میں بھر کر
بیتے دنوں کے فریزر میں رکھ آیا ہوں
جب تم اپنی گزری شاموں کے پٹ کھولو گی
ڈر جاؤ گی!
اپنے احساس سے چهو کر مجهے صندل کر دو
میں صدیوں سے ادهورا هوں مجھے مکمل کر دو

نہ تمهیں هوش رهے اور نہ مجهے هوش رهے
اس قدر ٹوٹ کر چاهو مجهے پاگل کر دو

تم هتهیلی کو میرے پیار کی مهندی سے رنگو
اپنی آنکهوں میں میرے نام کا کاجل کر دو

اس کے ساۓ میں میرے خواب دمک اٹهیں گے
میرے چهرے پہ چمکتا هوا آنچل کر دو

دهوپ هی دهوپ هوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پہ
اس قدر برسو کہ میری روح کو جل تهل کر دو

جیسے صحراوں میں سرشام هوا چلتی هے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجهے تهل کر دو

تم چپها لو میرا دل اوٹ میں اپنے دل کے
اور مجهے میری نگاهوں سے بهی اوجهل کر دو

مسئلہ هوں تو نگاهیں نهو چراؤ مجھ سے
اپنی چاهت سے توجہ سگ مجھے حل کر دو

اپنے غم سے کهو هر وقت میرے ساتھ رهے
ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دومجھ پہ

چها جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں
اور میری ذات کو سوکها هوا جنگل کر دو
اے محبت تیرے بڑے احسان هیں
مجھ پر
بہت تحفے دیئے
تو نے
جدائی دی کبهی
تو کبهی وصل کے لمحے
کبهی ملن تو
کبهی هر گهڑی انتظاری دی
کبهی مہکایا میرا تن من
اور کبهی
هر رات آنسوؤں سے بهیگا تکیہ
کبهی مہکتی هر رات دی
کبهی هر صبح سہانی دی
تو کبهی درد سے بوجهل هر صبح
کبهی لگے بارش میں
بهی آگ
اور کبهی
چاند میں اس کا عکس لگے
پهولوں میں اس کی مہک هے
هر رنگ میں اس کے انگ
کبهی غم سے رنجور رهی
کبهی چاهت بےتہاشہ ملی
کبهی هر وقت کا هنسنا مسکرانا
تو کبهی رات رات روتے رهنا
هر روپ تیرا انوکها
هر ڈهب تیرا نرالا
مجھ کو هر رنگ میں تو پیاری هے
اے محبت تیرے بڑے احسان هیں
مجھ پر......
مرے عشق دعائیں لیتا جا
مجھے چھوڑ کے جا، یا توڑ کے جا
مجھے دیکھ نہیں، منہ موڑ کے جا
ترے بعد مری حالت ہے کیا
تجھے اس سے کیا
مرے عشق دعائیں لیتا جا
مرا ہجر ہی میرے پاس رہے
تری وصل کی رات سلامت ہو
مری سچی باتیں جھوٹی ہوں
تری جھوٹی بات سلامت ہو
مری صبحیں کالی ہو جائیں
تری روشن روشن شام رہے
میں رہوں نہ رہوں اس دنیا میں
ترا نام رہے
ترے نام کی اک خیرات ملے
مجھے کوئی مکمل رات ملے
کوئی پورا ذکر یا بات ملے
میں آدھے خواب کا بندہ ہوں
جسے کوئی گرہ نہیں لگ سکتی
وہ مصرعہ ہوں
میں جھوٹا تھا، میں جھوٹا ہوں
تجھے جانا ہے تو جلدی جا
میں یہ بھی نہیں اب پوچھوں گا
مرا جرم ہے کیا
مرے عشق دعائیں لیتا جا
مرے ہاتھوں نے تجھے تھاما تھا
یہ ہاتھ بدن سے کاٹ لے تو
مری آنکھوں نے تجھے دیکھا تھا
یہ آنکھیں نوچ لے چہرے سے
مری سانسوں نے تجھے چوما تھا
وہ بوسے چھین لے سانسوں سے
مرے جملے واپس کرتا جا
کوئی جان نہ لے تری باتوں سے
کبھی میں بھی تھا
"The End"
thanks for your time.!~

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 2852

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

wah g wah kia song ha.. loshyyy.

dedicated too assad pai. 

This song is Brought to Wolverine veer by Noodles Inc.

Ahan !! nice 

thank you. bano.

super WolveRine!~ 

thank you. miss moona butt. 

ہم محبت کے اظہار میں گونگے اور نفرت کے اظہار میں منہ پھٹ لوگ ہیں

zaberdst janab

RSS

Latest Activity

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

+ More Categorizes

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service