.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

میرے پہلے دو آرٹیکلز میں سیاسی جماعتوں کی گندگیوں کا سیر حاصل ذکر تھا،

http://vustudents.ning.com/forum/topics/let-s-discuss-the-disgustin...

http://vustudents.ning.com/forum/topics/politicians-are-the-real-en...

اگر جان کی امان پائوں تو آج کچھ ذکر خیر اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہو جائے کیونکہ اللہ کے فضل سے اب اس ٹاپک پہ اتنی بات ہو رہی ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔

میں نے اپنے ایک پچھلے آرٹیکل میں لکھا تھا کہ اگر نواز شریف کی پارٹی کےساتھ کوئی انجنیرنگ کی کوشش کی گئی تو نواز اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور ممکن ہے کےدوبارہ تھوڑے نقصان کے ساتھ اسمبلی میں سیٹیں حاصل کر لے۔ لیکن اب کسی حد تک نظر آ رھا ہے کہ وزارت زراعت کی طرف سےایسی انجنیرنگ کی کوشش ہو رہی ہے کہ نواز کی پارٹی پارہ پارہ ہو سکتی ہے اور ایک اور ق لیگ، یعنی ف لیگ یا نثار لیگ اس میں سے نکالی جا سکتی ہے۔ اب کیونکہ کوئی ڈیل ہوتی تو نظر نہیں آ رہی سو اگلی حکومت تو نواز کی پارٹی کا ذیادہ سیٹس لینا تقریبا نا ممکن ہو چکا ہے۔

ذاتی طور پہ سیاست میرا پسندیدہ شعبہ نہیں رھا۔ اس کی اہم وجہ صرف ایک ہے کہ ستر سال سے اس ملک کے عوام کے ساتھ ایک ہی کھلواڑ کھیلا گیا ہے۔ اور ہر بار عوام کے اندر ایسے جہلاء کی تعداد آضافہ ہوتے ہی دیکھا ہے جو سیاست کو سمجھتے نہیں ہیں اور کچھ ایسی پرسرار طاقتوں کے ہاتھ میں نا صرف خود استعمال ہوتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی اس جہالت کا حصّہ بنا ڈالتے ہیں۔ خیال آیا کہ ایک اس آرٹیکل لکھا جائے جس میں سیاست پہ اپنی ریسرچ کا نچوڑ لکھنے کی کوشش کی جائے۔ امید تو کم ہی ہے کہ کوئی فائدہ ہوگا کیونکہ اس قوم کا کمال یہی ہے کہ ہم نا صرف غلطی مانتے نہیں بلکہ اپنی غلطی کو فخر سے اور بار بار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بدلنے کےلئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو آئن سٹائن نے خبطی یا پاگل قرار دیا ہے۔

پہلے اپنا سیاسی بیک گرائونڈ بتاتا چلوں۔ آپ یقین مانیں میں نے آجتک کبھی پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ یا تحریک انصاف یا ایم کیو ایم یا جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیا۔ صرف ایسے شخص کو ووٹ دیا جو مجھے با کردار لگا۔ چند سال پرانی بات ہے کہ میں مشرف کو بڑا لیڈر مانتا تھا، لیکن کچھ عرصہ بعد مجھے عمران کی سونامی لے اڑی لیکن کیونکہ میں شخصیت پرستی کا ہارڈ ایڈ فاسٹ قائل نہیں ہوں۔ اس لئے جب جب ان لوگوں کی غلطیاں یعنی بے شرمیاں نا قابل معافی بلنڈرز کی شکل اختیار کرتی رہیں تو ایسے بت کو فورْا توڑ دینا ہی حق ہے۔ بہت محنت کے بعد تھوڑا سا پتا چلا کہ سیاست کس کھیت کی مولی ہے۔ پاکستانی سیاست میں بویا کچھ جاتا ہے اور کاٹا کچھ اور جاتا ہے اور ہاں یہ فیصلہ بھی اکثرانجینیرڈ ہوتا ہے کہ اصلی مولی کو کس کھیت میں اگانا ہے۔ میں کنسپیریسی تھیوری پہ ذیادہ یقین نہیں رکھتا لیکن کچھ منجھے اور سچے صحافیوں  کی اس بات سے متفق ہوں کہ پاکستان میں سیاست کا میچ اکثر فکسڈ ہی ہوتا ہے۔ افسوس کہ میں اس فکسڈ میچ کے فکس ہونے کا ثبوت بھی نہیں دے سکتا۔ پاکستانی سیاست کے سارے بڑے فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں لیکن آجتک ان بند کمرے کے شرکاء میں اتنی جرت و غیرت نہیں آئی کہ وہ اپنی غلطیوں کا کبھی تو اعتراف کر لیں۔ سیاست میں ضیاء الحق سے آج تک صرف اتنا ہی فرق پڑا ہے کہ اب سیاست دان کو پھانسی دینے کے بجائے اسے اجنبی بنا دیا جاتا ہے۔ چند با رسوخ افراداتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ اداروں کو اپنے ذاتی ایجینڈا کے لئے استعمال کرتے ہیں اور بات ملک کی خدمت کی کرتے ہیں۔ وہ ملک کے لیڈرزکو بھی گمنام بنا دیتے ہیں۔ عوام توجیسے بھیڑ بکری ہیں انہیں کسی نئے بکرے کو پوجنےپہ مجبور کر دیا جاتا ہے۔

نواز اور الطاف حسین جیسے لوگوں کے ہاتھ سے طاقت ہمیشہ کے لئے چھین لینا کوئی کمال کی کھیل نہیں ہے۔ دو طاقت ور افراد کی لڑائی میں آخر کسی کو تو میدان چھوڑ کر بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن سمجھ دار تجزیہ نگار کہتے ہیں کے ایسے طریقوں سے کبھی حقیقی فائدہ نہیں ہوتا۔ عوام کو ایسا شعور دینے کی کوشش کریں کے وہ خود کسی برے لیڈر کو چھوڑ دیں آپ اگر خود اس کو پکڑ کے سسٹم سے باہر نکالنے کی کوشش کریں گے تو یہ ایک کاسمیٹک اور ظاہری تبدیلی سے ذیادہ کچھ نہیں۔ اس طرح تو لوگ ایسے ظالموں کو مظلوم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، جیسا کے نواز شریف آجکل اپنے آپ کو متقی ثابت کرنے کی کوشش کر رھاہے۔ برصغیر میں لوگ شصیت پسندی کے صدیوں سے عادی ہیں، صدیوں کی عادتیں ذبردستی کے فیصلوں سے بدلہ نہیں کرتیں۔ جب تک جماعتوں میں اندرونی جمہوریت نہیں آئےگی آپ جمع حاصل رکھیں، تبدیلی ہر گز نہیں آئے گی۔ ایک حدیث کے  مفہوم کے مطابق جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں۔ عوام صحح اور غلط کی تمیز کرنا شروع کر دیں تو تب ہی صرف بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

 

سوال یہ ہے کیا ووٹ ہی نا دیا جائے؟

کیوں نا دیا جائے جناب، ووٹ قوم کی امانت کے طور پہ سوچ سمجھ کے دیا جائے۔

کیسی پارٹی کو دیا جائے؟

ایسی پارٹی کو دیا جائے جواصولوں پہ کمپرومائزنہ کرے۔۔۔۔ شائد یہ تو ممکن نہیں، لیکن وہ کم از کم کچھ تو اصولی ہو۔

اگر پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کا خلاصہ دیکھنا چاہیں تو سینٹ کا سیلیکشن دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ انتہائی شاطر ذہین کے ساتھ صرف آتھ افراد کو چند نا معلوم افراد نے اپنی جیب میں ڈالا اور سینٹ کے باقی چھیانوے افراد کو ان آزاد خیال لوگوں کے پیچھے چلنے پہ مجبور کر دیا گیا۔ نا معلوم افراد کون تھے؟ یہ ایک علہدہ بحث ہے۔ کوئی آصف زرداری کا نام لیتا نظر آتا ہے تو کوئی ایٹیبلشمنٹ کا۔ میں نے آجتک پاکستانی سیاست کو کئی سال میں جس حد تک ایکسپلور کیا ہے، آجتک جتنے ایکسپرٹس کو پڑھا ہے میں ایسے تمام لوگوں کے تجزیات اور مشاہدات کا چوں چوں کا مربع یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ لوگوں کا مففق ہونا ضروری نہی ، لیکن میں آپکو صرف اتنا یقین دلا دوں کہ میں کسی ایکسپرٹ کی رائے کو آگے بیان کرنے سے پہلے یہ یقین دھانی کر لیتا ہوں کے بیان کرنے والا شخص میڈیا میں ایک با اصول اور با عزت شخص مانا جاتا ہواور وہ شخص چول مارنے کا آدی نا ہو۔ میں نے کئی سال بہت سے صحافیوں کو پڑھا اور سنا ہے۔ اور اب میں کافی  حد تک یہ سمجھتا ہوں کہ کون سے صحافی پراپگنڈا ایکسپرٹ ہیں اور کون ایسے لوگ ہیں جو کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے، اصولی بات کرتے ہیں اور اپنی بات پہ سٹینڈ لیتے ہیں اور غلطی ہو تو معافی مانگتے ہیں۔ عامر لیاقت جیسے فسادی عناصر کو میں نے عالم آن لائن جیسے پروگرام میں بھی سیریس نہیں لیا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کو بہت سنا لیکن ان کی کہانیوں کی بھی ایک دن سمجھ آ گئی۔ اس ملک میں اگر احتساب  کی تاریخ دیکھی جائے تو  صرف ایک بات ہی سمجھ آئی ہے کہ یہاں جب کسی سیاست دان کے خلاف کیسس کھولے جاتے ہیں تو اس کو صرف دو وجوہات ہی ہوتی ہیں، پہلی وجہ کسی ذاتی دشمنی کا بدلہ لینا اور دوسری وجہ اس کو کسی ڈیل کرنے پہ مجبور کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کاش کے کبھی حقیقی احتساب بھی ہو۔ سارے سیاست دان ڈیل کے چکروں میں شہباز شریف کی طرح جی ایچ کیو کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں لیکن فال کس کے نا نکلتا ہے یہ سب کا اپنا اپنا نصب ہے۔

 

جہاں تک پاکستان کی تاریخ پڑھ پایا ہوں، مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کوئی ایسا قابل ذکر وقت گزرا ہو جب ہماری سیاست میں ایسٹیبلشمنٹ کا ظاہری یا باطنی کردار نہ رھا ہو۔ حکومت بیشک جمہوری حکومت کے ہاتھ ہو لیکن اس کی باگیں کبھی جمہوری ہاتھ میں نہیں رہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کوریا، ایران،افغانستان، روس، انڈیا اور یہاں تک کے امریکہ جیسی طاقتور ڈیموکریسی میں بھی آجکل اصلی حکمرانی ایسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔ ہاں ہمارے ہاں ایک تو عوام کو اس بات کا شعور نہیں ہے دوسری طرف ہمارے حکمران اس بات کو اعلانیہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسٹیبلشمنٹ دنیا کے کسی ملک کی بھی ہو وہ کبھی بھی ایسا نہیں چاہتی کہ کوئی بھی حکومت اتنی مضبوط ہو کہ وہ جو چاہے کر لے۔ یعنی  وہ ڈیوائڈ اینڈ روول کی ٹرک سے سیاست دانوں کو آپس میں الجھا کے رکھتی ہے۔ کم از کم آدھے حکمران ان کی جیب میں ہوتے ہیں۔اسی لئے میرا ماننا ہے کہ سیاست دانوں پہ آنے والی ہر مصیبت کا ذمہ دار وہ خود ہی ہوتا ہے۔ اگر نواز شریف کو سینیٹ میں تیتر بٹیر طاقت ہی حاصل کرنی تھی تو کیا پہتر نہیں تھا کے وہ پانامہ سے پہلے الیکشن کروا دیتا۔ لیکن چمڑی جائے حکومت نہ جائے، نواز نے ایسے بکے ہوئے ساتھیوں پہ اعتماد کیا جن کو صرف مفاد سے مطلب ہے۔ یہ صرف طاقت کو سلام کرنے والے لوگ ہیں جو ہر حکومت کا حصہ نظر آتے ہیں۔

 

ایٹیبلشمنٹ کی ڈکشنری کے مطابق اگر کوئی حکومت دو تہائی کی طاقت سے الیکشن جیت جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے اور ایسے موقع پہ ملک پہ مارشل لاء کا نفاذ لازم ہو جاتا ہے، جب اللہ اللہ کر کے مارشل لاء ختم ہوتا ہے۔ تواگلی حکومت جان بوجھ کے ایسے ضمیر فروش سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے کہ آٹھ سے دس سال کے بعد جب ڈیموکریٹک حکومت واپس آئےتو اگلے پانچ سال ان نا اہل لوگوں کی مدد سے ڈیموکریسی کی چتا پہ ہاتھ سینکے جا سکیں۔ایسٹیبلشمنٹ کو کبھی مکمل آئین پسند نہیں ہوا کرتا، ہاں اس کے بعض حصے انتہائی پسندیدہ اور باقی انتہائی ناپسندیدہ ہوتے ہیں۔ یعنی  ایسے تمام قاتون پسند ہوتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہوں مثال کے طور پہ ایسا قانون جو ان کو مقدش گائے بنانے میں مدد گار ہو۔ لیکن اٹھاروں ترمیم جیسے قوانین ان کو نا پسند ہوتے ہیں جن کی وجہ سے چند افراد کے بجائے سارے صوبوں کے ہاتھ میں اختیار چلا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا کھیل اور دراصل اس دنیا کا سب سے بڑا کھیل "دولت کی تقسیم"جیسی طاقت جو ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ایسٹیبلشمنٹ کی یہ بات ہیت پسند ہوتی ہے کہ چاروں صوبوں میں علہدہ علہدہ پارٹی کی حکومت ہو، کیوں کے ڈوائیڈ اینڈ رول کرنا ذیادہ آسان ہوتا ہے۔ ایک ڈکٹیٹر کا حکومت چلانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ اسمبلیاں ان کے گھر کی باندی ہوتی ہے، سینٹ بھی ایک ربڑ سٹیمپ سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتا، جب سارے فیصلے ایک شخص کو ہی کرنے ہوں تو پھر حکومت چلانا تو آسان ہی ہوا نا۔ ایٹیبلشمنٹ کی فویرٹ ڈش ایک لٹکی ہوئی پارلیمنٹ  ہوتی ہے، جہاں کسی پارٹی کو بھی اکثریت حاصل نہ ہو۔ اور ہاں ان کو ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ بہت پسند ہوتی ہے کیونکہ پڑھا لکھا بندہ اکثرڈرپوک ہوتا ہے تو ان کو دبانا آسان ہوتا ہے۔  ایٹیبلشمنٹ کو یہ ہر گز پسند نہیں ہوتا کہ کوئی بلڈی نا اہل سولین فارن پالیسی اور بلوچستان پالیسی کے بارے میں سوچے۔ ورنہ انجام نواز اور بھٹو خاندان سے برا بھی ہو سکتا ہے۔

 لیکن جمہوری حکومت کو ہر پانج سال کے بعد عوام سے اپنا منہ کالا کروانا ہوتا ہے۔   تاریخ سے ثابت ہے کہ سیاست دان کا احتساب  تو لازمی ہے، کبھی پراپگینڈا سے، کبھی دو نمبر دھرنوں کے زرئع، یا حکومت گرا کے، یا ان کو کرپٹ کہلاوا کے، یا ان کا جیوڈیشل مرڈر کروا کے،آجکل جیڈیشل مارشل لاء ذیادہ مشہور ہے، ایک نیا ماڈل سیاست سے ہی نا اہل کروانا ہے۔  ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کہ ایک ڈکٹیٹر کے بعد آنے والی ہر حکومت ہی نا اہل ہو۔ اگر الیکشن تھوڑا بہت فئیر ہو جائے تو اگلی حکومت بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر افتخار چوہدری جوڈیشل ایکٹیوزم ورژن ون آ جاتا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت سانس بھی لے تو اعتراض کیا جاتا ہے، حکومتیں ایسے کبھی نہیں چل سکتیں۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اگر افتخار چوہدری کے انتہائی نا مناسب فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی جگ ہسائی ہو جائے، اور اگر رینٹل پاور اور سٹیل مل کے کیسز میں بلا وجہ مداخلت سے پاکستان کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا تو کیا ہوا، پیسہ تو حکومت کو ہی دینا ہے، افتخار چوہدری کا غیر قانونی بلٹ پروف گاڑی رکھنے پہ کوئی کچھ نہیں اکھاڑ سکا تو کس کی مجال کے بعد میں کوئی ان کے غلط فیصلوں کا احتساب کرے؟ اس ملک کی تاریخ میں کبھی کسی مائی کے لال میں جرت ہوئی ہے کہ جنرل یا جج کا احتساب یا انکے خرچوں کا آڈٹ کرے؟ نواز کو شوق ہوا تھا نا، اب ان باطنی طاقتوں کے علاوہ نواز کو سب بتا رھے ہیں کے تمھیں کیوں نکالا۔ ایسٹیبلشمنٹ عام طور پہ نظریہ ضرورت کے تحت کا کرتی ہے، فیصلہ پہلے کیا جاتا ہے اور پھر اس پہ عمل کے لئے یا تو قانون بدلہ جاتا ہے یا پھر قانون کو توڑ مڑوڑ کے پیش کیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ "انجام اچھا ہونا چاہئے، طریقہ بیشک نا جائز ہو" اچھا انجام یعنی ان کے مطلب کا انجام۔

 دیموکریسی کا اصول یہ ہے کہ حکومت کو اعتماد ک ساتھ کام کرنے کا وقت دیا جاتا چاہئے، یہی حق ہے اور بر جق اصول ہے۔ اور پانح سال بعد بیشک ووٹ سے اس کا احتساب کریں۔ نا اہلی کی وجہ سے عوام نے پیپلز پارٹی کو پاکستان سے رخصت کر دیا اگر نواز کو وقت دیا جاتا تو وہ بھی اپنی موت آپ مارا جاتا لیکن صد افسوس کہ اسکو مظلوم بنا دیا گیا۔ مشرف نے نواز کو نئی زندگی بخشی اور اب عمران نے نواز کو ایک نیا پاکستان اپنے ہاتھوں سے عطاء کر دیا۔ یہ لوگ اسی طرح ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرے گھونپتے رہیں گے اور ہماری تاریخ کے مطابق پھر سے آمریت کسی نہ کسی بہانے سے اس سسٹم کو کنٹرول کر لے گی۔ پھر لگے رہنا کم از کم دس سال ڈیموکریسی کی نیم مردہ لاش کو وینٹی لیٹر پہ ڈال کہ دھائیاں دیتے رہنا۔ فی الحال یہ کچے پکے جمہوریت کے آم چوپ لو، اگلے بانج سال میں مجھے پھر ماشاء اللہ نظر آ رھا ہے۔

پچھلے اٹھارہ سال سے دراصل اس ملک میں ایک ہی جنگ چل رہی ہے کہ مشرف اور نواز میں کوں کامیاب ہوتا ہے۔ پہلے مشرف نے نواز کو ملک بدر کیا، لیکن نواز کیونکہ ایک عوامی حکومت کا نمائندہ تھا تو آخر اس نے اپنا چانس ملتے ہی مشرف کو ملک بدر کر دیا۔ ان دو افراد کی اس جنگ میں نقصان عوام اور ملک کا ہی ہے لیکن ان لوگوں کے فارن ایسیٹس ہیں ان کو پاکستان کے مستقبل سے کیا لینا۔ نواز نے مشرف پہ آرٹیکل چھ  لگا کے ملک کی جمہویت پہ ایک بڑا احسان کیا تھا۔ لیکن اس کی قیمت اس کی حکومت تھی۔ بھٹو خاندان نے جمہوریت کےلئے جانیں دی ہیں، اے این پی کی بلور فیملی نے ملک کے لئے قربانیاں دیں لیکن پہلی بار ایک ڈکٹیٹر کی گود میں پروان چڑھنے والے سیاستدان کی بلّی چڑھ رھی ہے۔ ہاں نواز کی جان پہ ضرور بنی ہے کیوں کے حکومت ان لوگوں کو جان سے ذیادہ پیاری ہوتی ہے۔

 یہ سوچ کے بہت افسوص ہوتا ہے کہ آخر اس ملک کا  بڑا لیڈر صرف امیر آدمی ہی کیوں ہوتا ہے۔ آخر کیوں ہمارے پاس تیسری آپشن عمران خان جیسے کڑوڑ پتی لیڈر کی ہی ہے مودی جیسے چائے بنانے والے یہاں لیڈر کیوں نہیں بن سکتے؟ آخر ہمارے ہاں چائے بنانے والا ایک فیشن ماڈل سے ذیادہ آگے کیوں نہیں جا سکتا؟

اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہم نا صرف فرقوں بلکہ لسانیت کی بنیاد پہ بھی تقسیم ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اس ملک کی ایسٹیبلشمنٹ اردو بولنے والے مہاجرین کے ہاتھ میں تھی، پھر بڑی محنت کے ساتھ مہاجروں کو کراچی میں قید کیا گیا اور یہ طاقت پنجابی اسٹیبلیشمنٹ کے ہاتھ آئی۔ اللہ کا عجیب نظام ہے کہ یہاں سدا حکومت کسی کی نہیں رہتی آجکل پشتون اس طاقت کو حاصل کرنے کی جنگ کا حصّہ ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ ذیادہ سے ذیادہ دس سال کی گیم رہ گئی ہے۔ پشتون کھپے ہی کھپے۔ لیکن افسوس صد افصوص لسانیت سے ہت کے کوئی نہیں سوچتا، جب تک یہ سوچ رھے گی خدا نا خواستہ بنگلہ دیش جیسی تاریخ دھرائی جا سکتی ہے۔

زرداری کی ڈیلز سے کون واقف نہیں، وہ اپنے مفاد کے لئے فرحت اللہ بابر اور میاں رضا ربانی جیسے پیادوں کی بلّی نہیں چڑھا سکتا؟ نواز جو آج معصوم بنا ہوا ہے کیا وہ پیپلز پارٹی کے خلاف افتخارچوہدری کا ساتھ نہیں دے رھا تھا؟  کیا نواز چوہدری صاحب کے بیٹے کو بلا وجہ نواز رہا تھا؟ بس یہ لوگ  صرف اس وقت سچ بولتے جب سچ بولنے کا ان کو سیاسی فائدہ ہوتا ہے، ساری زندگی آدھا سچ بولتے ہیں، تھوڑا سچ بھی اس وقت بولتے ہیں جب ان کی جان پہ آئی ہوتی ہے۔ پھر انکا کون یقین کرے؟ نواز ڈیل کے لئے تیار نہیں ہوا، فارغ کر دیا گیا، اقتدار کےلئے تو بھائی بھائی کا گلہ بھی کاٹ دیتا ہے، شہباز تو صرف ڈیل کی کوشش کی ہے۔ اگر تھوڑی ڈیل سے ماڈل ٹائون کا کیس دبا رہے تو کیا حرج ہے یا پھر پنجاب کی سیاست میں تھوڑا سا بچا کچا حصّہ بھی مل جائے تو کیا حرج ہے۔ جوہدری نثار اور شہباز جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ڈیموکریسی ہمیشہ کمزور رہے گی۔  سیاست میں بروکر بہت مل جاتے ہیں جن کی وفاداریاں مفاد کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، چوہدری نثار، شیخ رشید، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی، فضل الرحمان، طاہرالقادری، خادم رضوی اور خاص طور پہ دینی جماعتیں، سیاست کے او ایل ایکس پہ سب بکتا ہے بس قیمت الگ ہوتی ہے۔

عمران کا بھی میں کیا ذکر کروں، پچھلے الیکشن میں عمران کو ووٹ دینے نکلا تھا لیکن اسکی امیچورٹی کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا۔ لیکن اگر اب میں نے اس کے بارے میں منہ کھولا تو ہماری عوام کی سو کالڈ آخری امید بھی ختم ہوجائے گی۔ میں چوہدری نثار والی بات کا ذاتی ورژن بولوں گا کہ عمرانیات کے جیالے مجھے بولنے پہ مجبور نہ کریں ورنہ ایک خطرناک آرٹیکل عمران پہ بھی لکھ دوں گا جو اپ لوگوں کو پسند نہیں آئے گا، میرا لکھنا اصول اور لوجک کی بنیاد پہ ہوتا ہے، شخصیت پرستی پہ نہیں ہوتا۔ ہمارے کچھ عوام کا یہ خیال ہے کہ عمران ایک آخری امید ہے، میں ان کی امید نہیں توڑوں گا۔ بلکہ میں آجکل یہ دعا کر رھا ہوں کہ عمران ان لوٹوں ، نوٹوں یا بوٹوں میں سے کسی کی بھی بنیاد پہ جیت ہی جائے تو اچھا ہے۔ نواز کی طرح عمران صاحب کو بھی یہ سبق حاصل ہو جانا چاہئے کہ مسور کی دال ہر منہ کے لئے نہیں ہوتی۔  جی جناب اس بار عمران وزیر اعظم بن سکتا ہے بشرط یہ کہ جوہدری نثار یا سنجرانی قسم کے کسی شخص نے اگلی حکومت ہائی جیک نا کی۔ آجکل یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ عوام ووٹ کو عزت دیں یا جیپ کو ووٹ دیں؟ عمران کے جیالے کیا کریں گے اگر وزارت زراعت کا نامزد نمائندہ وزیر اعظم بن گیا، پھر سے دھرنا دیں گے؟اب یہ میری بہت بڑی خواہش ہے کہ عمران کی حکومت ہو اور اس کو نواز شریف کے دور کے حالات ، دھرنوں اور جیوڈیشل ایکٹیوزم کا سامنا ہو تو مزا آئے گا۔ عمران خان نے ایک بار کہا تھا کہ اگر میں برطانیہ کی سیاست کا حصہ ہوتا تو اس کے بورنگ ہونے کی وجہ سے میں دو مہینے میں خودکشی کر لیتا، چلو عمران نے اسی وجہ سے پاکستان کی سیاست کو چٹخارے دار بنا دیا جہاں اب ہماری اولادوں کو ریلو کٹے اور گھدوں کے بارے میں کافی کچھ معلوم ہے، امید ہے دو سال بعد جب عمران کو اس چٹخارے دارسیاست کی حقیقت کا پتا چلے گا تو وہ تب بور نہیں ہوں گے اور نواز کی طرح اپنی بوریت کا مقابلہ کریں گے۔ اگر عمران کو بھی وقت کے ساتھ عقل آ گئی تو وہ دھرنے دینے کے بجائے اور پارلیمنٹ کو لعنتی کہنے کے بجائے کچھ سوبر رویہ اختیار کریں گے۔ اے آر وائے جیسے چینل کس کے ایجنڈا پہ کا کررھے ہیں؟ اپنی غلط خبروں پہ ان کو برطانیہ میں سزا بھی مل چکی ہے اور یہ لوگ چینل سمیٹ کے اربوں روپے دیئے بغیر بھاگ چکے ہیں، الزام لگایا جاتا ہے کہ بول چینل اپنی دو نمبر ڈگریوں کی کمائی سے چل رھا ہے۔ ایسے چینلز سے آپ حق بات کی امید رکھتے ہیں؟ اسی فیصد میڈیا عمران کی الیکشن کمپین چلا رھا ہے امید ہے کہ انشاء االلہ ملک جہاں بھی جاوے۔۔۔عمران آوے ای آوے۔

پاکستان اگلے ستر سال جئے یا ستر ہزار سال، یقین رکھیں یہاں اس وقت تک کچھ نہیں بدلنے لگا۔ جب تک کے ہمارے سیاست دانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کمپرومائز کے نام پہ ایسٹیبلشمنٹ سے ڈیلیں کرتے پھرتے ہیں، چلو مانا کے ڈیل وقتی مجبوری سہی، لیکن بعد میں یہ لوگ اسلمبلی میں ایسے قوانین کیوں نہیں بناتے جو جمہوری حکومت کو اسکا حق دلانے میں مدد کریں۔  رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کو میں پیپلز پارٹی کا ضمیر سمجھتا تھا۔ ان کی رخصتی کے بعد اس پارٹی سے کس انقلاب کی امید رکھی جائے؟ اگر رضا ربانی سینٹ چیرمین ہوتا تو جمہوریت کو تھوڑا کندھا نا مل جاتا؟ لیکن ہر سیاست دان کو معلوم ہے کہ رضا ربانی اصولوں پہ سودا نہیں کرتا اور ان سب لوگوں کو ایک سینٹ چیرمین نہیں ایک سودا گر کی ضرورت ہے جو حرام و حلال کی تمیز کے بغیر نا دیدہ قووتوں کی انگلیوں کے اشاروں پہ بیلے ڈانس کرتا رھے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ انتخاب سے پہلے ہی دوسری بڑی پارٹیاں اور نشریاتی ادارے اور اخبارات یہ کہ رھے ہیں کے یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلے بار چار لاکھ فوج الیکشن میں تائنات کی گئی ہے اس کے باوجود کہ ایٹیبلشمنٹ کے ظاہری اور باطنی رول پہ بات کی جا رہی ہے لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ شوکت عزیز صدیقی  کے گلے میں ریفرینس کا ہار اسی لئے تو ڈالا گیا تھا کہ اگر انہوں نے کبھی کوئی سچ بولنے کی کوشش کی تو اس کا حال بھی نواز جیسا کر دیا جائے گا۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا حال کیا ہوتا ہے۔

شوکت عزیز صدیقی کی گستاخانہ جرت اس آرٹیکل میں ملاحضہ فرمائے۔

https://www.dawnnews.tv/news/1082774

جیوڈیشل ایکٹیوزم ورژن ٹو چل رھا ہے تو آپ لوگ کیا امید رکھتے ہیں؟ کیا ایسے جیوڈیشل مارشل لاء میں ادراروں کا ٹکرائو نہیں ہو سکتا؟ ہارون بلور کی سکیورٹی ہٹانے کی وجہ سے ان کی موت واقعہ ہو گئی، کیا کوئی یہاں مس کیرج آف جسٹس کا پوچھ سکتا ہے؟ یا پھر اسکو بھی کولیڑل ڈیمیج کہ کے آگے بڑھ جائیں۔  ابھی تو آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہےجناب۔ ادراے اپنی حدود سے باہر نکلیں گے تو اس سے بھی بد تر وقت کے لئے تیار رھیں۔

مضبوط جمہوریت کے لئے بہترین تو یہ ہے کہ  پورے ملک میں ایک وقت میں صرف ایک ہی پارٹی کو ووٹ ملے۔ تاکہ جو بارٹی بھی جیتے وہ دو تہائی یا اس سے ذیادہ اکثریت سے ہی جیتے ، اگر جیتنے والوں کو عقل ہوئی تو وہ تمام ڈکٹیٹرز کے دور کی آئینی تبدلیوں کا از سر نو جائزہ لین گے اور کاش کے اگلی اپوزیشن پارٹی پانچ سال تک دوسری پارٹی کو شرافت سے حکومت کرنے دے تاکہ کوئی طاہر قادری اور خادم حسین کے دھرنا فار رینٹ کا استعمال نہ کر سکے۔ دوسرا متبادل شائد صدارتی نظام ہو سکتا ہے۔جب تک اس ملک میں جمہوریت کومزید دس پندرہ سال نہیں ملیں گے۔ جمہوریت یہاں کچھ اشاروں پہ ناچتی ہی رہے گی۔

گبر اگلے ستر سال بھی بسنتی کو یہی کہتا رھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناچ بسنتی ناچ۔

ناچ جمہوریت ناچ

We are never going to be a better nation unless our institutions and we all stop saying “Ends justify the means” rather we should learn that “Two wrongs cannot beget a right”

PML(N) or PTI? Which wrong is the right one for you?

Please dont forget to vote, its better to vote a lesser evil than not voting at all. 

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 119

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

Disclaimer: 

This article consists of expert opinions of various famous authors, writers and journalists. It's only meant for productive criticism on events in Pakistan. I wish and hope that the article shall not be construed as a threat to national security. 

Nations grow higher when appropriate space is granted for discussion to their masses on national interests.

Long live my Country - Pakistan Zindabad.

Burried pai aap nay lagta hay Crane ko vote daina hay 

hun khush ohh burried bhai 

Well I agree with your point of view that no one is innocent in politics, all have their interests.  

What would u say about justice shoukat Azeez saddique? kuch tu hy js ki parda dari hy

RSS

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. Marha Khan

Dera Ghazi Khan, Punjab, Pakistan

© 2018   Created by + M.TariK MaliC.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service