کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی سائٹس، آپ کو اپنی خدمات مفت میں کیوں دیتی ہیں؟

سوال: کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی سائٹس، آپ کو اپنی خدمات مفت میں کیوں دیتی ہیں؟

آپ سے یہ سوال پوچھنے والے کا نام ڈاکٹر عمر عبدالکافی ہے، آپ 66 سالہ مشہور و معروف مصری عالم دین اور مبلغ اسلام ہیں۔ پوری دنیا میں عام طور پر اور عرب دنیا میں خاص طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ آپ اپنے مندرجہ بالا سوال کا جواب یوں دیتے ہیں:

جب آپ کو کسی سامان کی قیمت نا دینا پڑے تو جان لیجیئے گا کہ سامان وہ نہیں جو آپ کو مل رہا ہے، بلکہ سامان آپ ہیں جسے خریدا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو سمجھیئے، توجہ دیجیئے اور خوب غور کیجیئے۔ مثال:

موبائیل ٹیلی فون اس دنیا میں اٹھائی جانے والی ہلکی ترین چیز ہو سکتی ہے مگرہو سکتا ہے آخرت میں یہ اٹھائی جانے والی سب سے بھاری اور سخت چیز ہو۔ پس کچھ اور نا کیجیئے صرف اس کا استعمال ہی اچھا کرنا شروع کر دیجیئے۔
گوگل، فیس بک، ٹویٹر، واٹساپ اور اسی قبیل کے دیگر پروگرام ایسے گہرے سمندر ہیں جن میں بڑے بڑے قد آور لوگوں کے اخلاق گر کر ڈوب گئے۔ اور جن کے اخلاق ڈوبے وہ صرف نوجوان ہی نہیں، کچھ اچھی خاصی عمروں والے بھی تھے۔
اس سمندر کی موجیں لوگوں کی زندگی سے حیاء کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔ اس سمندر میں بہت سی مخلوق ہلاک ہوئی ہے۔
اگر تجھے اس ہلاکت سے بچنا ہے تو بہت احتیاط کرنا ہوگی۔ ان چیزوں کے درمیان میں شہد کی مکھی کی طرح رہنا ہوگا، اگر رُکنا تو اچھے اچھے صفحات پر، جن سے پہلے تجھے فائدہ ملے اور بعد میں تیرے توسط سے دوسروں کو۔
ان چیزوں میں مکھی کی طرح نا بن کے رہنا، جو ہر اچھی اور بری چیز پر ٹھہرتی ہے۔ ایک جگہ کی بیماریاں دوسری جگہ ایسے لیجاتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
انٹرنیٹ بہت بڑا بازار ہے، یہاں کوئی بھی اپنا سامان مفت بانٹنے کیلیئے نہیں بیٹھا ہوا۔ ہر کوئی اپنے مال کے بدلے میں آپ سے کوئی چیز لے رہا ہے۔
ان میں سے کچھ تو اپنے مال کے بدلے میں آپ کا اخلاق خراب کرنا چاہتے ہیں۔
کچھ اپنے مال کے بدلے میں آپ کے دل میں شک و شبہ کا بیج ڈالنا چاہتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر کچھ بھی خریدنے سے پہلے پڑتال کر لیجیئے گا کہ بدلے میں آپ سے کیا لیا جا رہا ہے۔
خبردار: نا معلوم لنک کھولنے میں بھی احتیاط کیجیئے کیونکہ ان میں سے کچھ ہی خیر ہوتے ہیں، زیادہ تر شر، ہیکر، بردبادی اور تباہی کا ہی کام کرتے ہیں۔
خبردار: جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے سے باز رہنا، غلط چیزوں کی کاپی پیسٹ سے دور رہنا۔ جان لینا کہ یہ والی تجارت نیکی بھی ہو سکتی ہے اور برائی بھی۔ نیٹ سے سامان پرکھ کر لینا کہ جسے آگے پھیلانے جا رہے ہو وہ کس قبیل کی ہے۔ کیونکہ لینے والا وہ چیز اب آپ کے نام اور پہچان سے خریدے گا۔
کہیں تبصرہ یا کمنٹ پیش کرنے سے قبل دیکھ لینا کہ معاملہ اللہ کی ناراضگی والا تو نہیں۔
نا ہی کسی کی شخصیت کا تصور اس کی تحریروں کے مطابق باندھ لینا۔
کیونکہ:
لوگ اپنے چہروں پر پردہ چڑھا کر رکھتے ہیں۔
تصویریں ایڈیٹ کر کے پیش کرتے ہیں
باتیں بنا بنا کر پیش کرتے ہیں۔
اخلاق کو مٹھاس میں گھول کر دکھاتے ہیں۔
جھوٹ پر سچ کی ملمع کاری کرتے ہیں۔
رواداری اور اخلاقیات کا چورن ڈالتے ہیں۔
ایک بات ذہن میں بٹھا لے: اِدھر تو لکھتا ہے، اُدھر تیرے فرشتے لکھتے ہیں۔ اور تم دونوں کے اوپر اللہ ہے جو سب دیکھ رہا ہے اور ہر چیز کا حساب رکھ رہا ہے۔
جو بات سب سے زیادہ ڈراتی ہے وہ انٹرنیٹ کے سمندر میں حرام کا دیکھنا، فسق و فجور کا مشاہدہ کرنا اور راہ راست سے انحراف کرتی چیزوں میں پڑ جانا ہے۔

اگر آپ کو لگے کہ آپ غلط نہیں کر رہےتو پھر خود بھی مستفید ہوں اور دوسروں کو بھی فائدہ دیں۔

اور اگر تجھے لگے کہ غلط کر رہا ہے تو پھر اس سے دور بھاگ، بالکل ایسے جیسے کوئی خونخوار جانور کو دیکھ کر بھاگے۔

یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں نا کہ انٹرنیٹ آپ کو استعمال کر رہا ہے۔

Load Previous Comments