.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

طب نبوی اور جدید میڈیکل سائینس


اوّلاً اِسلام نے اِنسانیت کے لئے حفظانِ صحت کے ایسے اُصول مرتب کئے ہیں کہ بندہ زیادہ سے زیادہ بیماریوں سے قبل از وقت بچا رہے۔ تاہم اگر کوئی بیماری حملہ آور ہو جائے تو اُس کا مناسب علاج بھی پیش کیا ہے۔ طب کو باقاعدہ ایک فن کے طور پر پروان چڑھانے اور اِس فن کے ماہرین پیدا کرنے میں سب سے زیادہ دخل اِسلام کو حاصل ہے۔ دُنیا میں سب سے پہلے ہسپتال مسلمانوں ہی نے قائم کئے اور سب سے پہلے رجسٹرڈ ڈاکٹروں اور سرجنوں کا ایک باقاعدہ نظام بھی اِنہی نے وضع کیا تاکہ مختلف بیماریوں کا صحیح طبیخطوط پر علاج کیا جا سکے۔

اِس سلسلے میں تاجدارِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اُمتِ مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ بنا۔ اِرشادِنبوی ہے :

و من تطبّب و لم يعلم منه الطب قبل ذٰلک فهو ضامنٌ.
(سنن ابنِ ماجه : 256)
جس شخص نے علمُ الطب سے ناآگہی کے باوُجود طب کا پیشہ اِختیار کیا تو اُس (کے غلط علاج۔ / مضر اثرات) کی ذمہ داری اُسی شخص پر عائد ہو گی۔

اِس فرمان نے جہاں لوگوں کو طب میں تخصیص کے لئے مہمیز دی وہاں اِسلام کی اوّلین صدیوں میں ہی جعل سازوں سے بچنے کے لئے میڈیکل کا ایک باقاعدہ اِمتحانی نظام وضع کرنے میں بھی مدد ملی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بڑے بڑے ماہرینِ طب اور سرجن پیدا ہوئے۔

دُنیا میں سب سے پہلے ڈاکٹروں اور طبیبوں کے لئے اِمتحانات اور رجسٹریشن کا باقاعدہ نظام عباسی خلافت کے دور میں 931ء میں بغداد میں وضع ہوا جسے جلد ہی پورے عالم اِسلام میں نافذ کر دیا گیا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ایک جعلی حکیم کے ناقص علاج سے ایک مریض کی جان چلی گئی۔ اُس حادثے کی اِطلاع حکومت کو پہنچی تو تحقیقات کا حکم ہوا۔ پتہ یہ چلا کہ اُس عطائی طبیب نے میڈیکل کی مروّجہ تمام کتب کا مطالعہ نہیں کیا تھا، اور چند ایک کتابوں کو پڑھ لینے بعد مطب (clinic) کھول کر بیٹھ گیا تھا۔

اُس حادثے کے فوری بعد حکومت کی طرف سے معالجین کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لئے ایک بورڈ بنایا گیا، جس کی سربراہی اپنے وقت کے عظیم طبیب ’سنان بن ثابت‘ کے ذمہ ہوئی۔ اُس بورڈ نے سب سے پہلے صرف بغداد شہر کے اطباء کو شمار کیا تو پتہ چلا کہ شہر بھر میں کل 1,000 طبیب ہیں۔ تمام اطباء کا باقاعدہ تحریری اِمتحان اور اِنٹرویو لیا گیا۔ ایک ہزار میں سے 700 معالج پاس ہوئے، چنانچہ رجسٹریشن کے بعد اُنہیں پریکٹس کی اِجازت دے دی گئی اور ناکام ہو جانے والے 300 اطباء کو پریکٹس کرنے سے روک دیا گیا۔

بخار کا علاج
عموماً انسانی جسم 105، 106 درجہ فارن ہائیٹ سے زیادہ ٹمپریچر کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر جسم انسانی کا درجۂ حرارت اِس سے بہت زیادہ تجاوز کر جائے تو فقط اُس کی حدت کی زیادتی کی وجہ سے بھی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں سب سے مفید علاج جلد از جلد درجۂ حرارت کو نیچے لانا ہے۔ طبِ جدید کی رُو سے ایسے مریض کے تمام جسم کو برف کے پانی سے بھگو دینا چاہئے، جسم پر گیلے کپڑے کی پٹیاں رکھنی چاہئیں تاکہ اُن کی برودت سے جسم کا درجۂ حرارت نسبتاً کم ہو کر اِعتدال پر آ جائے۔

اس باب میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِرشادِ گرامی یاد رکھنے کے قابل ہے، اِرشادِ نبوی ہے :

الحمي من فيح جهنم، فابرودها بالماء.
(صحيح البخاري، 2 : 852)
بخار جہنم کے شعلوں میں سے ہے، اِس لئے اُس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ۔

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں :

إنّ شدة الحمي مِن فيحِ جهنم فابردُوها بالمآءِ.
(سنن ابن ماجه : 256)
(جامع الترمذي، 2 : 28)
بخار کی شدت جہنم کے شعلوں میں سے ہے، اِس لئے اُس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ۔

آپریشن کے ذریعے علاج
جب بیماری کی نوعیت بگڑ جائے اور عام علاج سے اِفاقے کی صورت ممکن نہ ہو تو ایسے میں بعض اَوقات آپریشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ قربان جائیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عظمت پر کہ آپ نے چودہ سو سال قبل آپریشن کے ذریعے علاج کی بنیاد رکھی اور سرجری کی ایک عظیم مثال قائم کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث جو سرجری کے باب میں مذکور ہیں ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ تاجدارِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

أنّ النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم ثلثاً في الاخدعين و الکاهل.
(سنن ابي داؤد، 2 : 184)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں اور اخدعین (گردن کے دونوں طرف کی رگوں) کے بیچ میں تین سنگی کھنچوائے۔

اِسی سلسلے میں ایک اور حدیثِ نبوی ہے :

عن ابن عباس قال : احتجم النبي صلى الله عليه وآله وسلم و هو صائم.
(صحيح البخاري، 2 : 849)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔

صحیح بخاری ہی میں مذکور ہے :

أنّ رسول اﷲ احتجم و هو محرم في رأسه من شقيقة کانت به.
(صحيح البخاري، 2 : 850)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر میں دردِ شقیقہ کے علاج کے لئے حالتِ اِحرام میں پچھنے لگوائے۔

اِرشادِ نبوی ہے :

الشفاء في ثلاثةٍ : في شرطة محجمٍ، أو شربة عسلٍ، أو کيّة بنارٍ.
(صحيح البخاري، 2 : 848)
شفاء تین چیزوں میں ہے، پچھنے لگوانا، شہد پینا یا آگ سے داغ دلوانا۔

نفسیاتی اَمراض کا مستقل علاج
اگر اِسلامی طرزِ زندگی کو مکمل طور پر اپنایا جائے تو انسان بہت سی نفسیاتی بیماریوں پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ اِسلامی طرزِ حیات اِنسان کو ذہنی تناؤ اور بوجھ سے آزاد کرتا ہے اور اِنسان کو زندگی کی دلچسپیوں کو برقرار رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ اِسلام نے انسان کو نفسیاتی دباؤ اور اُلجھنوں سے دُور رہنے اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر بہت زور دیاہے۔

قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :

الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ.
(آل عمران، 3 : 134)
یہ وہ لوگ ہیں جو (معاشرے سے مفلسی کے خاتمے کے لئے) فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (اُن کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں۔

سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إنّ الغضبَ من الشيطانِ، و إن الشيطان خُلِق من النار، و إنما تطفئ النار بالماء، فإذا غضب أحدکم فلْيتوضّاء.
(ابوداؤد، 2 : 312)
غصہ شیطانی عمل ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے (تاکہ غصہ جاتا رہے)۔

غضب و غصہ پر قابو پانے سے اعصابی تناؤ اور ذہنی کھنچاؤ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے جو دِل کے امراض سے بچاؤ کی بھی ایک اہم صورت ہے۔ اِسی طرح غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح کے لئے روپیہ خرچ کرنے سے اور دُوسروں کو معاف کر دینے کے عمل سے اِنسان کو رُوحانی خوشی و سرمستی حاصل ہوتی ہے۔ جس سے زندگی کی مسرّتیں اور رعنائیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

حسد بہت سی ذہنی پریشانیوں کا منبع ہے، اِسلام نے اپنے ماننے والوں کو سختی سے حسد سے روکا ہے۔ تاجدارِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے :

إياکم و الحسد، فإن الحسد يأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب.
(سنن ابي داؤد، 2 : 324)
اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ، بیشک حسد تمام نیکیوں اور ثواب کو اِس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو۔

اِسی طرح لالچ اور خود غرضی بھی بہت سا ذِہنی تناؤ اور پریشانیاں پیدا کرتی ہے۔ اِن نفسانی آلائشوں سے بھی اسی طرح منع کیا گیا ہے اور اُن کی بجائے اطمینان و سکون کی تلقین کی گئی ہے۔

اِسلام کی یہی تعلیم خوشگوار زندگی کی اَساس ہے جو پُرامن معاشرے اور صحت مند ماحول کے قیام کے لئے لابدّی ہے۔ علاوہ ازیں زندگی کے ہر معاملے میں توازن پیدا کرنا چاہئے اور معمولاتِ حیات میں شدّت پیدا کرنے یا ضرورت سے زیادہ نرمی سے گریز بھی نہایت لازمی ہے۔

قرآنِ حکیم میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ.
(البقره، 2 : 185)
اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لئے دُشواری نہیں چاہتا۔

آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :

’’هلک المتنطّعون‘‘، قالها ثلاثاً.
(الصحيح لمسلم، 2 : 339)
’’مشکلات پر اِصرار کرنے والے تباہ ہو جاتے ہیں‘‘۔ آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔

اِسلام ہر مسلمان کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور طاقت سے زیادہ بوجھ اپنے سر نہ لے۔ قرآن مجید میں ایک دعا کی صورت میں ارشاد ہوتا ہے :

رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَة لَنَا بِه.
(البقره، 2 : 286)
اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اِتنا بوجھ (بھی) نہ ڈال جسے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔

اگرچہ اِسلام نے جسمانی محنت و مشقت کی بھرپور تائید کی ہے، تاہم اُس کی ساری تائید صرف اور صرف توازن اور میانہ روی کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ہے۔ اسلامی طرز حیات میں سے یہ وہ چند مثالیں تھیں جو اِسلام کی تجویز کردہ، اَعصابی تناؤ سے آزاد اور متوازن زندگی کی تفصیل و توجیہہ بیان کرتی ہیں۔

اِسلام اور جینیاتی انجینئرنگ (Genetic engineering)
دورِ جدید کی طبی تحقیقات میں جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) کو خاص مقام حاصل ہے۔ کسی شخص کے جینز (genes) کے مطالعہ سے اُس کا نسب، اُس کی زندگی کی تمام بیماریاں اور اُس سے متعلق بے شمار ایسے حقائق جنہیں عام حالات میں معلوم کرنا ناممکن ہے، جینیاتی انجینئرنگ ہی کی بدولت طشت از بام ہو رہے ہیں۔ ڈی این اے (Deoxyribonucleic Acid) کی تھیوری سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ اِنسانی جسم کے ہر خلیے میں انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا (Encyclopaedia Britannica) کے دس کروڑ صفحات کے برابر معلومات تحریر کی جاسکتی ہیں۔ یہ دریافت جہاں سائنسی تحقیقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں اِسلامی عقائد کی تصدیق و تائید بھی کرتی جارہی ہے۔ آج کی طبی تحقیق جن DNA کوڈز کو بے نقاب کر رہی ہے، ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہی تحقیق جب اپنے نکتۂ کمال کو پہنچے گی اور ہم ایسے آلات اِیجاد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جن سے کسی بھی اِنسان کی گزری ہوئی زندگی کے اچھے بُرے اعمال طشت از بام کئے جاسکیں گے۔

یوں طبی میدان میں کی جانے والی سائنسی پیش رفت کا فرسِ تحقیق اِس رُخ پر گامزن ہے اور جس دن اِس ممکن نے حقیقت کا رُوپ دھار لیا، دینِ اسلام کا ایک اور بنیادی ستون ’عقیدۂ آخرت‘ سائنسی توجیہ سے مزین ہو کر غیرمسلم محققین پر بھی اِسلام کی حقانیت آشکار کردے گا۔

روزِ قیامت جب تمام اِنسان جِلائے جائیں گے اور اُن سے حساب کتاب کیا جائے گا تو اُن کے ہاتھ اور پیر اِس بات کی گواہی دیں گے کہ اُنہوں نے اپنی دُنیوی زندگی میں کیسے اَعمال سرانجام دئیے۔ سادہ لوح عقل اِسلام کے پیش کردہ اِس نظریئے پر ہنگامہ کھڑا کر دیتی ہے کہ ہاتھ، پاؤں یا دیگر اعضائے جسمانی آخر کس طرح ہمارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں! اِس ضمن میں اور بھی ہزاروں سوالات انسانی ذہن میں سر اُٹھاتے ہیں جن کا جواب DNA تھیوری میں مل سکا ہے۔ خالقِ کائنات اپنے آخری اِلہامی صحیفے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں فرماتا ہے :

الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَO
(يٰسن، 36 : 65)
آج (کا دن وہ دن ہے کہ) ہم اُن (مجرموں) کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور اُن کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور اُن کے پاؤں اُس کی گواہی دیں گے جو وہ لوگ کیا کرتے تھےO

اِسی آیتِ کریمہ کی تشریح و توضیح میں سرورِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :

فيُختم علي فيه، و يُقال لفخذِه و لحمِه و عظامِه ’’انطقي‘‘، فتنطق فخذُه و لحمُه و عظامُه بعملِه.
(الصحيح لمسلم، 2 : 409)
پس اُس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اُس کی ٹانگ، گوشت اور ہڈیوں کو بولنے کا حکم ہو گا۔ پس اُس کی ٹانگ، گوشت اور ہڈیاں اُس کے اَعمال بتائیں گے۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے بھی اِسی مضمون میں ایک حدیثِ مبارکہ مروی ہے۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا :

إنّ أوّلَ عظم من الإنسان يتکلّم يومَ يختم علٰي الأفواه فخذُه من الرِّجل الشمالِ.
(الدرالمنثور، 5 : 62)
(جس روز منہ پر مہریں لگائی جائیں گی) اِنسان کے جسم کی سب سے پہلی ہڈی جو بولے گی وہ بائیں ٹانگ کی ران کی (ہڈی) ہو گی۔

یہ مضمون متعدّد احادیثِ مبارکہ میں اِسی طرح درج ہے اور اِسے قرآنی تائید بھی حاصل ہے۔

آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کے اُس جاہل معاشرے میں اِسلام نے یہ عقیدہ پیش کیا جہاں اَذہان جہالت کی گرد میں لپٹے ہوئے تھے اور اپنی جہالت پر فخر کرتے تھے۔ وہ اِس اِسلامی تصوّر کو بآسانی قبول نہیں کر سکتے تھے۔ وہ تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اُٹھنے کی مطلق حقیقت کو بھی جھٹلاتے تھے، چہ جائیکہ وہ اعضائے اِنسان کی گواہی دینے کی صلاحیت کو تسلیم کر لیتے اور اُس پر ایمان لے آتے۔

آج کے اِس ترقی یافتہ دَور میں بھی اُن جاہل کفار و مشرکین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بعض غیرمسلم اَقوام اور مغربی یلغار سے مرعوب بعض نام نہاد مسلمان اپنی کم عملی اور جہالت کی بناء پر بلاتحقیق اِسلام کے بنیادی عقیدے ’آخرت‘ کو مسلمانوں کی تضحیک و تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔ اگر وہ جدید سائنسی تحقیقات اور اُن کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے حقائق و نظریات کا بخوبی مطالعہ کریں تو وہ اِس حقیقت پر پہنچیں گے کہ اِسلام ہی آفاقی سچائیوں سے معمور دین ہے۔ جو ہر شعبۂ زندگی میں اِنسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ جینیاتی انجینئرنگ کی تحقیقات جسمِ انسانی کے ہر خلیے میں اِتنی گنجائش ثابت کر چکی ہیں جہاں دس کروڑ صفحات کے برابر معلومات تحریر کی جاسکیں۔ بغیر خوردبین کے نظر نہ آسکنے والا معمولی خلیہ اپنے اندر اِتنی وسیع دُنیا لئے ہوئے ہے۔ روزِ آخر اللہ ربّ العزت کے حکم پر اِنسانی جسم کا ہر ہر خلیہ اپنی ساری سرنوشت زبانِ حال سے کہہ سنائے گا اور اِنسان کا سب کیا دھرا اُس کی آنکھوں کے سامنے بے نقاب کر دے گا۔ یہ اِسلام کی تعلیم ہے اور اِسی طرف جینیاتی انجینئرنگ کی تحقیقات پیش قدمی کر رہی ہیں۔

طبِ جدید کی اِن ساری تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِرشادات پر ایک نظر کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کے قول سے بڑھ کر حق کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ آج تک سائنس اور طب کی جتنی بھی تحقیقات ہوئیں وہ بالآخر اِس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ نبئ مختارِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات، خواہ وہ قرآن مجید ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ، مبنی برحق ہے اور سائنسی بنیادوں پر کام کرنے والے معاشروں کے لئے اُس سے رُوگردانی ممکن نہیں۔ قرآن و حدیث کا ہر لفظ رسولِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت پر دالّ ہے اور مُنکرینِ عظمتِ مصطفیٰ کے دِل و دِماغ پر ضربِ کاری ہے۔

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 361

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by βless!ng( خاک نشین) on March 12, 2014 at 9:13pm


(ابوداؤد، 2 : 312)
غصہ شیطانی عمل ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے (تاکہ غصہ جاتا رہے)۔



Comment by βless!ng( خاک نشین) on March 12, 2014 at 9:12pm

MashaAllah v nice sharing 

Comment by Programmer (Asp.net+Sql) on March 12, 2014 at 10:15am

Keep it up

Comment by Programmer (Asp.net+Sql) on March 12, 2014 at 10:15am

Nice sharing 

Comment by ĴĮÃ ČĤ on March 12, 2014 at 2:06am

Masha ALLAH nice sharing keep it up 

Comment by +6^6( RAPENZIL)+♦ *** on March 12, 2014 at 2:01am

jo Muhammad SAWW ne bataya hai...science aj khud is bat ko accept krhe hai... subhan Allah..

isi trhan...sajdah krne se science kehti hai k brain haemorrhage  k chances kam ho jaty han..

isi trhan..oiling krne k bht benefit han sar pa... or AP SAWW  be sar e mubarak pa tail lagaya krty thy..or aise he bhttttttttt sari baten hain isse related...MashaaAllah..

Comment by +6^6( RAPENZIL)+♦ *** on March 12, 2014 at 1:54am

leaf bhai..MASHAA ALLAH..very nice sharing... 

 ( hijama ) b tu sunnat se sabit hai na... ye jo line hai..iska matlb hijama k context ma ayga kya...? sangi .kya hai.. ?  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں اور اخدعین (گردن کے دونوں طرف کی رگوں) کے بیچ میں تین سنگی کھنچوائے۔


Comment by + MSN + on March 12, 2014 at 1:51am

بہت شکریہ ، سارہ خان اور زیویر بھائی

Comment by + ꗃᔖᎺrᎺ kᏂᎺn on March 12, 2014 at 1:39am

v nice sharing JazakAllah

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

+ More Categorizes

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service