.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

اب رونے کی باری میری تھی کہ ۔۔۔۔۔

بات معمولی سی تھی ، لیکن اس نے تکرار کا رُخ اختیار کر لیا۔
ہوا کچھ یوں کہ جیسے ہی میں نے ایک دکان کے آگے گاڑی پارک کی ، دکان پر بیٹھے مصر سے تعلق رکھنے والے شخص نے مجھے وہاں گاڑی کھڑی کرنے سے منع کیا۔ مگر چونکہ اذاں ہونے والی تھی اور خدشہ تھا کہ اگر میں نے پارکنگ ڈھونڈنے میں مزید دو چار منٹ ضائع کیے تو دکانیں بند ہو جائیں گی اور مجھے گھر پہنچ کر دوبارہ بازار کا رُخ کرنا پڑے گا۔ لہذا میں نے دکاندار کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا :
میں ابھی آتا ہوں اور ویسے بھی یہاں پر رات بھر سونے کا میرا ارادہ بھی نہیں ہے۔
میری بات سن کر وہ چراغ پا ہو گیا اور بولا کہ مجھے ہر صورت میں گاڑی وہاں سے ہٹانا ہوگی۔
میں بھی ضد میں آ گیا اور جواباً کہا : میں اپنی گاڑی یہاں سے نہیں ہٹاؤں گا ، تمہارے جی میں جو آئے کر لو۔
یہ کہتے ہوئے گاڑی لاک کر کے میں دوسری جانب چل دیا۔ اپنی مطلوبہ چیز لے کر جب میں واپس پلٹا تو وہ بدستور دکان کے سامنے بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ اذان ہو چکی تھی اور بازار کی دکانوں کے دروازے بند ہونے لگے تھے۔
میں نے گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کیا ، پھر یکایک میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ : نہ میں اس مصری شخص کو جانتا ہوں اور نہ وہ مجھے۔ اگر میں ابھی یہاں سے چلا گیا تو خواہ مخواہ اس کے دل میں میری طرف سے بلکہ تمام پاکستانیوں کی طرف سے ایک غلط تصور ہمیشہ برقرار رہے گا۔ لہذا کیوں نہ میں پہل کرتے ہوئے اس سے اپنے رویے کی معافی مانگ لوں۔
اس خیال کے آتے ہیں میں اپنی گاڑی سے اترا اور اُس مصری شخص کے پاس پہنچ کر کہا :
میرے بھائی ! اگر تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہے تو مجھے معاف کر دو

کیونکہ غلطی میری ہی تھی ، مجھے تمہاری دکان کے آگے گاڑی نہیں کھڑی کرنی چاہئے تھی۔
میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ اپنی نشست سے کھڑا ہوا ، پہلے تو اس نے میرے ہاتھ چومے ، پھر ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کے بعد زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یکایک اسے کیا ہو گیا ہے؟
کچھ دیر بعد اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ : تم یقین کرو ، زندگی میں تم مجھے پہلے شخص ملے ہو جس نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔ اگر آج سب مسلمان اسی طرح اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دوسرے سے معافی تلافی کر لیں تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے؟
اس نے مزید کہا :
تمہاری طرف سے میرا دل بالکل صاف ہو گیا ہے۔ واقعی تم پاکستانی بہت اچھے ہو !!

اب رونے کی باری میری تھی کہ ۔۔۔۔۔
میرے ذرا سے جھکنے سے ، اس نے نہ صرف مجھے بلکہ پوری قوم کو اچھا قرار دے دیا

“ اے ابنِ آدم !

اپنے غصے کے وقت تو مجھے یاد کر لیا کر میں بھی اپنے غضب کے وقت تجھے معافی عطا کر دوں گا اور جن پر میرا عذاب نازل ہوگا،میں تجھے ان سے بچا لوں گا،برباد ہونے والوں کیساتھ تجھے برباد نہ کروں گا،ا ابنِ آدم ! جب تجھ پر ظلم کیا جائے تو صبر و سہار کے ساتھ کام لے،مجھ پر نگاہ رکھ،میری مدد پر بھروسہ رکھ،میری امداد پر راضی رہ،یاد رکھ! میں تیری مدد کروں گا ۔یہ اس سے بہتر ہے کہ تو اپنی مدد آپ کرے“

(تفسیر ابنِ کثیر :جلد 3 صفحہ 444)

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue


Views: 33

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Today Top Members 

Member of The Month

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service