.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

Tum Karti Hi Kiya Ho.....تم کرتی ہی کیا ہو؟

یہ جو کچھ بھی ہے، میری وجہ سے ہے، میں نے دن رات تمہارے اور بچوں کے لئے ایک کیا۔ محنت کی، مشقت کی، لوگوں کی باتیں سنیں، صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلا تو رات کو منہ اندھیرے گھر پہنچا۔ نہ دن دیکھا نہ رات۔ اِس گھر کے لئے، تمہارے لئے اور بچوں کے لئے اپنی زندگی کے بہترین دن وقف کردئیے۔ تمہیں ہر ہر آسائش دی، اچھے سے اچھا کھانا، اچھے سے اچھا پہننا، آج تم لوگ جو ’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘ پر اتراتے ہو یہ ایسے ہی دنوں میں نہیں ہوگیا اِس میں میری ایک ایک لمحے کی فکر، سوچ اور کوشش شامل ہے، میری دور اندیشی اور وژن شامل ہے، پر تمہیں کیا معلوم کہ پیسہ کمانا آسان نہیں ہے۔
اور تم ۔۔۔
تم آج کہہ رہی ہو کہ ’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے؟‘
تمہارا کردار ہی کیا ہے؟ جھاڑو پونجھا لگانا کونسا مشکل کام ہے؟
ویسے بھی گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، استری کرنا، صبح کا ناشتہ بنانا، یہ سب کام تو فضلاں کرتی ہے، خواجہ رفیق الزماں نے ناشتہ ٹیبل پر ہی چھوڑا، ہینڈ بیگ لیا اور دروازہ زور سے پٹخ کر آفس چل دئیے۔
خواجہ رفیق الزماں میرے والد، ایک کامیاب بزنس مین، کاروباری حلقوں میں جن کا طوطی بولتا ہے۔ شائستگی، کلام کی عمدگی اور معاملہ فہمی جن پر بس ہے۔ نوجوان جن سے متاثر ہو کر کاروباری گر سیکھنے آتے ہیں۔ خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز کے مالک، جن کا کاروبار ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔
اُنہیں ہم نے کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا لیکن آج میری والدہ مہرالنساء نے ناشتہ کی میز پر مذاق میں یہ کہہ دیا کہ،
’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘
یہ کہنے کی دیر تھی اور بس اُن کا ردِعمل ہم سب کے لئے حیرت انگیز تھا۔ میری والدہ مہرالنساء نے یہ الفاظ خوش مزاجی میں کہے مگر ابو پر جیسے قیامت بن کر گرے، پھر جو کچھ انہوں نے کہا وہ سب امی نے خاموشی سے سُنا، وہ چپ رہیں آگے سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بس دو آنسوؤں کے قطرے اُن کی آنکھوں سے نکلے اور لڑھکتے ہوئے اُن کے دوپٹے میں جذب ہوگئے۔
ابو آفس جاچکے تھے، بھائی کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ امی نے ناشتے کی میز سے برتن سمیٹے، کچن میں رکھے اور اپنے کمرے میں چلی گئیں، میں اِن کی حالت کو سمجھ سکتی تھی کہ اُن پر یہ الفاظ ’تم کرتی ہی کیا ہو؟‘ قیامت بن کر ٹوٹے ہوں گے۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج جو شان و شوکت تھی وہ ابو کی محنت، ذہانت اور کاروباری سمجھ بوجھ کی وجہ سے تھی مگر یہ بھی سچ تھا کہ ابو کی کامیابی کے پیچھے امی کی کوششوں کا دخل تھا۔ آج وہ کامیاب بزنس مین تھے، اُن کا بیٹا لمز سے ایم بی اے میں گولڈ میڈل یافتہ تھا، اُن کی بیٹی کی گھر داری اور تربیت کا ذکر زبان زدِ عام تھا اور اُن کے گھر کی سجاوٹ و صفائی ستھرائی کی اگر سب تعریف کرتے تھے تو یہ سب آنٹی ’’فضلاں‘‘ کے سُگھڑ پن اور سمجھداری کی وجہ سے نہیں بلکہ مہرالنساء کی محنتوں اور سلیقہ شعاری کا نتیجہ تھا۔ مگر جب عمر بھر کی ریاضت کو کوئی ایک لمحے میں رد کردے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، اُسے اپنی بے وقعتی کا بے پناہ احساس ہوتا ہے، اُسے اپنے گزرے ماہ و سال رائیگاں لگتے ہیں، اُسے اپنی زندگی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ میں چپکے چپکے دبے قدموں امی کے کمرے میں گئی تو امی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھی ہوئیں تھیں۔ میری آہٹ محسوس کرکے انہوں نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے بولیں آؤ عینی بیٹا بیٹھو، میں اُن کے ساتھ لپٹ گئی، میری آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئی، بولیں بیٹا کیوں روتی ہو؟
بیٹا مردوں کو غصہ آتا رہتا ہے مگر ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے تبھی تو گھر بنتے ہیں۔ وہ گھر سے باہر دھوپ، گرمی میں مارے مارے پھرتے ہیں، اچھے بُرے ہر طرح کے لوگوں سے اُن کا واسطہ  پڑتا ہے، پیسہ کمانے کے لئے ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں، دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسے ہم پر خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں، ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، ہمیں احساسِ تحفظ دیتے ہیں، ہمیں تو بس اُن کے پیسے کو طریقے سے خرچ کرنا ہوتا ہے، اُن کی نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے۔ میاں بیوی مل کر ہی گھر بناتے ہیں، معاشرہ سنوارتے ہیں۔ بیٹا یہ کسی بھی معاشرے، خاندان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اُن میں سے کسی ایک کو بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، اگر نہیں کریں گے تو یہ اکائی ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔ سب کچھ بِکھر جائے گا، سوائے زندگی بھر کی آہوں کے، کچھ نہیں بچتا۔
مگر امی ہمیں ہی کیوں؟
ہمیں ہی کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے؟ ہر بار عورت ہی کیوں قربانی دے؟
مرد کیوں گھر کے لئے قربانی نہیں دیتا؟
دیکھو بیٹا! تمہاری ماں ڈگری یافتہ نہیں ہے، بس ابا جی نے نماز کے سبق اور قرآن پاک کی تعلیم گھر پر دی تھی مگر تمہاری نانی نے میری تربیت بہت اچھی کی، وہ کہتی تھیں مہرالنساء دیکھ مرد کو اللہ تعالیٰ نے کمانے کی ذمہ داری دی ہے وہ تمہارے کھانے پینے، کپڑے لتے، تمہاری چھت کا ذمہ دار ہے اور اِن ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتا ہے مگر اپنے بیوی بچوں کو گرم ہوا نہیں لگنے دیتا، کسی کو آنکھ اٹھا کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں دیکھنے دیتا۔
جبکہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے گھر کی ذمہ داری دی ہے، اُسے اپنے شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہوتا ہے، اُسے اُس کی دلجوی کرنی ہوتی ہے، وہ پریشان ہو تو اُس کی ہمت بندھانی ہے، اُسے دنیا والوں سے مقابلہ کرنے کے لئے دوبارہ کھڑا کرنا ہوتا ہے، اُس کی عزت کی حفاظت کرنی ہوتی ہے، اُس کی اولاد کی بہتر پرورش کرنی ہوتی ہے اور مہرالنساء یہ سارے کام آسان نہیں ہیں۔ خدا تخلیق کار ہے تو ماں میں بھی اُس نے ایک تخلیق کار کی صفات رکھی ہیں، وہ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں سنبھالے پھرتی ہے۔ اُس کے جنم پر درد سہتی ہے، اُس کی اِس کی ایک ایک قلقاری اور ایک ایک چیخ پر لوٹ پوٹ ہوتی ہے، وہ اِس کے بات کرنے تک ڈھیروں باتیں کرتی ہے، بچہ چلنے تک ہزاروں بار لڑکھڑاتا ہے تو وہ ماں ہی ہوتی ہے جو اُسے چلنے کے قابل بناتی ہے۔ عینی میں تو ایک بات ہی کہوں گی کہ عورت گھر کے لئے قربانی اس لئے دیتی ہے کہ یہ صلاحیت اِس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہے، تو جو مالک ہوتا ہے، جو ذمہ دار ہوتا ہے وہی قربانی دیتا ہے۔
رب العزت نے ہمیں یہ ہمت دی ہے، برداشت کی طاقت دی ہے، تو یہ اُس کا کرم ہے۔ باقی جو خواتین گھر کے معاملے میں قربانی نہیں دیتیں وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کردیتی ہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی برباد کردیتی ہیں۔ میں نے خواجہ صاحب کو صبح جو کہا وہ غلط نہیں تھا، انہیں اِس بات کا احساس ہوگا ضرور جلد یا بدیر۔
عینی نے سوچا واقعی عورت ایک آرٹسٹ ہوتی ہے، وہ بڑے سلیقے سے ساری کڑیاں جوڑتی ہے، سارے رنگوں کو کینوس پر ایسے پھیلاتی ہے کہ گھر جیسا گلشن بن جاتا ہے، وہ ایک تخلیق کار ہوتی ہے اور تخلیق کار اپنی تخلیق کی گئی جنت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ اُسے آج جواب مل گیا تھا کہ گھر کے لئے ہمیشہ عورت ہی کیوں قربانی دیتی رہی ہے اور دے رہی ہے۔
خواجہ رفیق الزماں ناشتہ کی ٹیبل سے غصہ میں جب گاڑی کی طرف بڑھے، تو بوڑھا فضل حسین بھانپ گیا صاحب کے تیور کچھ ٹھیک نہیں، اُس نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا، صاحب بیٹھ گئے تو اپنی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ فضل حسین اُس وقت سے خواجہ رفیق الزماں کے خاندان کے ساتھ وابستہ تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں تھے، خواجہ صاحب اُس کا بے حد احترام کرتے تھے، خواجہ رفیق الزماں اُس کے ہاتھوں میں پلے بڑھے تھے۔
بوڑھے ملازم نے پوچھا صاحب طبیعت ٹھیک ہے تو خواجہ رفیق الزماں جیسے پھٹ پڑے، فضل حسین اپنے گھر کے لئے سب کچھ کرو مگر کسی کو احساس ہی نہیں ہوتا۔ آج ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کا اگر نام و مقام ہے تو وہ میرے دم خم سے ہے، مگر مہر النساء صاحبہ جنہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا اور جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ’’خواجہ اینڈ سنز گروپ آف کمپنیز‘‘ کتنے قسم کے بزنس سے وابستہ ہے، وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ
’خواجہ صاحب! آج آپ کا یہ جو مقام و مرتبہ ہے میری وجہ سے ہے‘۔
فضل حسین مسکرایا اور معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا، وہ گویا ہوا صاحب جی بات سیدھی سی ہے، اِن ساری کامیابیوں کے پیچھے آپ کی محنت، دیانت اور ذہانت ضرور شامل ہے مگر آپ کو کامیاب بنانے کے پیچھے بیٹی مہرالنساء ہی ہیں۔ جب آپ کو گھر سے بھائیوں نے نکال دیا اور والدین کے ترکے میں سے آپ کو کچھ بھی نہ ملا تو وہ بی بی صاحبہ ہی تھیں جنہوں نے آپ کو کپڑے کا کاروبار کرنے کا کہا تھا، پھر اپنا زیور بیچ کر آپ کو چھوٹی سی دوکان بنانے میں مدد کی اور ہر مشکل گھڑی آپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ آپ کے پاس وقت نہیں تھا مگر انہوں نے بچوں کی بہترین تربیت کی، رشتہ دار جو آپ سے بیر کھاتے تھے اُن کے ساتھ تعلقات بنائے، آپ کو خاندان میں دوبارہ ایک عزت ایک مقام دلوایا۔ یہ باتیں مجھے نہیں کرنی چائیے، مگر آپ کو میں نے اپنے ہاتھوں پالا پوسا ہے اِس لئے یہ ضرور کہوں گا یہ مسئلہ آپ کا اور بی بی صاحبہ کا نہیں بلکہ ایک ’کمانے والے‘ اور ایک ’گھر چلانے والے‘ کا ہے۔
صاحب جی! لوگوں کی نظروں میں کمانے والا ہوتا ہے، اُسی کی کوششیں ہوتی ہیں، اُسی کی قربانیاں ہوتی ہیں مگر گھر چلانے والے کی قربانیاں صرف کمانے والے کو معلوم ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمانے والا تعریف و توصیف کے اُس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی نظر میں گھر چلانے والی ہستی کی اہمیت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ اِس کی ساری عمر کی ریاضت کو ٹھکرا دیتا ہے حالانکہ اُسے دنیا کی نہیں صرف اُسی کمانے والے کی ستائش کی ضرورت ہوتی ہے۔
خواجہ رفیق الزماں نے جب فضل حسین کی باتیں سنیں تو دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے، اُنہیں مہرالنساء کی وہ تمام قربانیاں، وہ گھر کے لئے کی گئی محنت، سب کچھ اُن کی نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ اِنہی خیالوں میں وہ آفس پہنچے تو اُس وقت تک اپنی ساری زندگی اور اُس میں مہرالنساء کے کردار کا احاطہ کرچکے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں اُن کا بیٹا خواجہ وحید الزماں بھی آگیا، اُس کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے ہر انداز میں اُس کی ماں کی جھلک تھی۔ وہ بتانے لگا کہ اُس کا وزٹ بہت کامیاب رہا اور ماشاء للہ امی کی دعاؤں سے ڈیل فائنل ہوگئی ہے۔
خواجہ صاحب جو آفس آتے ہی کام میں لگ جاتے تھے آج گم سم بیٹھے تھے۔ دن گیارہ بجے خواجہ وحید الزماں کو ساتھ لیا مہرالنساء کے لئے شاپنگ کی اور سیدھے گھر پہنچ گئے۔ عینی بھائی اور ابو کو آج اتنی جلدی گھر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
خواجہ صاحب اپنے کمرے میں گئے، مہرالنساء سے نظروں ہی نظروں میں معافی مانگی اور ساڑھی اُن کے سامنے رکھ دی۔ مہرالنساء کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھا جیسے کسی نے ٹین ایج میں اظہارِ محبت کیا ہو۔ جب دونوں باہر آئے تو باغ و بہار ہو رہے تھے۔ خواجہ وحید الزماں والدہ سے لپٹ گئے اور عینی دھیرے سے مسکرا دی۔
شام کے وقت پاکستان مونومنٹ سے پورا اسلام آباد ساون کی برکھا رُت میں اجلا اجلا لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور جواد عینی سے پوچھ رہا تھا اب ایم بی اے کے بعد تمہارا کیا ارادہ ہے؟
عینی نے دور وسعتوں میں کھوئے ہوئے جواب دیا ’’آرٹسٹ‘‘ بننے کا۔

This Content Originally Published by a member of VU Students.

Views: 165

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Latest Activity

amjad ali replied to Taimoor Rasheed's discussion CS603 Assignment No 03 Solution & Discussion Due Date July 20, 2017 in the group CS603 Software Architecture and Design
1 hour ago
amjad ali joined + M.Tariq Malik's group
1 hour ago
ZY joined + M.Tariq Malik's group
1 hour ago
CS619 Developer left a comment for + Saima ღ
2 hours ago
+ "Umeed " liked + "αяsαℓ "๓๏ภรtєг"'s discussion Any Genius!!! to solve this riddle........
2 hours ago
Noghman Khokhar added a discussion to the group CS507 Information Systems
2 hours ago
zahid usman added a discussion to the group FIN624 Islamic Mode of Financing
2 hours ago
SANA TARIQ updated their profile
3 hours ago
Taimoor Rasheed and Noorain are now friends
3 hours ago
+ "αяsαℓ "๓๏ภรtєг" replied to + "αяsαℓ "๓๏ภรtєг"'s discussion Any Genius!!! to solve this riddle........
3 hours ago
Omer replied to Rio Leo's discussion Assignment No.3 (Due Date 20-July-2017) CS401 - Computer Architecture and Assembly Language Programming in the group CS401 Computer Architecture and Assembly Language Programming
3 hours ago
anam ali commented on Mehar Eng Shahzad(MCS)'s video
3 hours ago

Today Top Members 

Member of The Month

1. + ansa

rwp, Pakistan

© 2017   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service