We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

یہ فٹ بال 100 ملین ڈالر کا ہے یاد رہے۔

ٹی پی ایس -77 یا

AN/TPS-77

لانگ رینج راڈار
اگر کبھی آپکو کسی ائیر بیس پر اور ائیر ڈیفنس یونٹ پر ایک بہت بڑی فٹ بال نظر آئے تو اے پانی کی ٹینکی نہیں سمجھنا یہ فٹ بال 100 ملین ڈالر کا ہے یاد رہے۔
جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ٹی پی ایس -77 لانگ رینج راڈار کی ۔ یہ اصل میں اے این ایف پی ایس-117 کا ہی نیا ماڈل ہے جسے ٹرانسپورٹ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے مختلف ویرزن ہیں اور مختلف ڈیزائین ہیں ۔ یہ فیز ارے راڈار ہے جو کہ تھری ڈیہے ۔ ایک ساتھ 12 چینلز سے یہ آپریٹ کرتا ہے اور اس کی رینج 400 کلو میٹر ہے ۔اور یہ ایک لاکھ فٹ کی بلندی تک اڑنے والی ہر چیز پر نظر رکھتا ہے ۔ یہ 365 کور دیتا ہے اور جتنے بھی اBجیکٹ ا جائیں سب پر نظر رکھتا ہے ۔ اور اس پر لگے ایک اور سسٹم کی وجہ سے یہ سطح سمندر پر بھی نظر رکھ سکتا ہے ۔امریکن کمپنی لوکھیڈ مارٹن کا بنا یہ راڈار ہی ہے جو امریکہ کینڈا کے نارتھ سرویلنس اینڈ وارننگ سسٹم کو چلاتا ہے ۔ اب تک اس کے 134 راڈار بنائے جا چکے ہیں جو کہ مختلف ممالک میں استمال ہو رہے ہیں برطانیہ کا مین ائیر ڈیفس ایند سرویلنس بھی یہی راڈار ہے ۔ اس کے دو ٹائپ کے انٹینے ہوتے ہیں ایک جو کوور کر دیا جاتا ہے ایک جو مابائیل ہوتا ہے جسے کور نہیں کیا جاتا بلکہ ٹو کر سی ون تھرٹی سے منتقل کیا جاتا ہے ۔
پاکستان کو اپنے اسی اور ستر کی دھائی والے میدیم رینج راڈاروں کی جگہ نئے اور لانگ رینج راڈاروں کی ضرورت تھی ۔ جو پورے مغربی انڈیا پر نظر رکھ سکیں ۔ کئی سال سے بھارت کے سارے مغربی کمانڈ کے اڈوں پر نظر رکھنا مشکل ہو رہا تھا چھوٹے راڈاروں کی وجہ سے ۔ جام نگر- وادسر -اجمیر -آگرہ -چندی گڑھ-امبالہ -دہلی -کوٹا -جودھ پور -سورت گڑھ -سرسوا -سری نگر -گارگل- ہلواڑا بھیشانیا- وغیرہ بھارتی فضائیہ کے ہوائی اڈوں کی لائین ہے جسے ایک ہی سرویلنس کمانڈ کے نیچے لانے کے لیے پاکستان نے یہ راڈار خریدا تاکہ فضائی نگرانی کے ساتھ ہے آتے جاتے ابجیکٹ پر نظر رکھی جا سکے ۔پاکستان نے 2 ستمبر 2003 کو امریکہ سے درخواست کی کہ پاکستان کو 6 ٹی پی ایس -77 راڈار بیچے جائیں کانگریس کی منظوری کے بعد پاکستانی انجینزر کی ٹریننگ گراؤند کریو راڈار آپریٹرز کی ٹریننگ شروع ہوئی ۔ اور 2007 میں پاکستان میں یہ راڈار پہنچنا شروع ہوئے جنہیں جلد ہی سروس میں لگا دیا گیا ۔ اس ڈیل میں پارٹس ایکپمنٹ اور ایک بیس بھی شامل تھا ۔ اب یہ 6 راڈار پاکستان کے مختلف علاقں میں لوکیٹیڈ ہیں اور دن

رات کور دے رہے ہیں ۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 202

Reply to This

Replies to This Discussion

Informative Kakoo Patakooo Shatakooooooo.

Like it.

Thanks bhai

RSS

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.