Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

ہاتھوں کی لکیریں میری پیدائشی ہیں

سانسیں زندگی کی میری آزمائشی ہیں

رشتے خون کے ہوتے ہیں سب اپنے

بربادی میری کے سب فرمائشی ہیں

سہارا دیتے دیتے تھک گیا سب کو

کہنے میں اب اپنے سب نمائشی ہیں

کہاں کا انصاف ہے میرے منصفو!

دشمنوں کی سن کر سب خموشی ہیں

سن لیا ہوتا کسی نے مجھکو بھی کاش 

ہم سب  دلوں کے قریب رہائشی  ہیں

آفریں ہے خون کے اپنوں پر اے شامل

مجبوری سب جھوٹ کے ستائشی ہیں

Views: 191

Reply to This

Replies to This Discussion

شکریہ

wah ji wah 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service