Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ہاتھوں کی لکیریں میری پیدائشی ہیں

سانسیں زندگی کی میری آزمائشی ہیں

رشتے خون کے ہوتے ہیں سب اپنے

بربادی میری کے سب فرمائشی ہیں

سہارا دیتے دیتے تھک گیا سب کو

کہنے میں اب اپنے سب نمائشی ہیں

کہاں کا انصاف ہے میرے منصفو!

دشمنوں کی سن کر سب خموشی ہیں

سن لیا ہوتا کسی نے مجھکو بھی کاش 

ہم سب  دلوں کے قریب رہائشی  ہیں

آفریں ہے خون کے اپنوں پر اے شامل

مجبوری سب جھوٹ کے ستائشی ہیں

Views: 194

Reply to This

Replies to This Discussion

شکریہ

wah ji wah 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service