Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ایک بات یاد رکھنے کی ہے اور وہ بہت ہی اہم ہے کہ تصوف یا صوفی ازم اور روحانی طاقت یا spiritulism دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ایک کا دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں-

مثلاً جو آدمی کرامتیں دکھائے، عقل کے خلاف uncanny واقعات عمل میں لائے ضروری نہیں کہ وہ صوفی بھی ہو -
لیکن اس کے الٹ ہر پورے صوفی میں کرامتیں دکھانے کی طاقت موجود ہوتی ہے-
یہ دوسری بات ہے کہ وہ کرامتیں دکھائے یا نہ دکھائے -
اب دیکھنا یہ ہے کہ تصوف یا صوفی ازم ہے کیا چیز اور اس کا انسان سے یا انسانی زندگی سے کیا تعلق ہے-

مختصر طور پر یہ جان لیجئے کہ تصوف ایک علم ہے جس کا موضوع ہے کہ ان طاقتوں اور ہستیوں کی حقیقت معلوم کی جائے جن پر ہمارے مذہب کی بنیاد قائم ہے اور جن کو دیکھے بغیر اور جن کا ثبوت دیے بغیر ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کو مانیں.-

وہ طاقتیں اور ہستیاں ہیں الله، فرشتے ،الہامی کتابیں ،رسول، قیامت کا دن، اور حیات بعد الموت ،لیکن اگر اصل طریقے پر دیکھا جائے تو صوفی ازم کی بنیاد ایک ہی بات پر ہے کہ الله کیا ہے- 
کیسا ہے- کس طرح کا ہے اور مخلوق سے اس کا کیا تعلق ہے -

قرآن میں وہ اپنے ہاتھ، آنکھ، کان،روح اور نفس کا ذکر کرتا ہے تو یہ سب کیا ہے-
اس سے الله کا کیا مطلب ہے.- کیا اس کے ہاتھ،کان،آنکھ، اور روح و نفس ہماری طرح کے ہیں یا کسی اور طرح کے-
اگر ہماری طرح کے ہیں تو پھر وہ ایک جسم رکھتے ہوئے ہر جگہ حاضر و ناظر کس طرح سے ہو سکتا ہے -


Views: 782

Reply to This

Replies to This Discussion

MashaAllah 

0some work to aware

about this

Allah bless you 

realy nice

mashAllah nice sharing

thnx 4 this info

jazakAllah

keep it up 

very nice leaf bhai

par last paragraph samaj nae aaya....?

" تصوف " ۔۔۔ ادبی اعتبار سے ایک اجنبی لفظ ہے جس کا عربی لغت میں کوئی وجود نہیں !اس
بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس لفظ کے معنی میں خود صوفیاء کے درمیان شدید اختلاف پایا
جاتا ہے اور اب تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ اس لفظ کا کون سا مفہوم صحیح ہے جس کی رعایت سے
اس کے حامل کو ’صوفی‘ کہا جاتا ہے؟؟؟
اس کے علاوہ چونکہ یہ لفظ نہ تو قرآن میں موجود ہے اور نہ احادیثِ بنوی میں یہاں تک کہ جماعت
صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اس لفظ کو استعمال نہیں
کیا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لفظ اور اس سے متعلق سارا فلسفہ اسلام کے خلاف اور ایک
ایسی ’بدعت‘ ہے جس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔
صوفیاء کے نزدیک تصوف ، اپنے نفس کو ریاضت و مجاہدہ کے ذریعہ اخلاق رذیلہ سے پھیرنے اور
اخلاق حمیدہ یعنی زہد و علم صبر و اخلاص اور صدق و صفا جیسے خصائل حسنہ پر آمادہ کرنے کا نام
ہے جس سے دنیا و آخرت میں کامرانی نصیب ہو ۔
تصوف کا لفظ ’صوف‘ سے بناہے جس کے معنی اُون کے ہیں ۔ مراد اس سے وہ درویش اور اللہ ترس
بندگان اللہ ہیں جو دنیا کی لذتوں اور نعمتوں سے کنارہ کش ہو کر یادِ اللہ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
موٹا چھوٹا پہنتے ہیں اور جیسا بھی کھانے کو مل جائے اس سے اپنا پیٹ پھر لیتے ہیں ۔
لفظ ’صوفی‘ کی اہل تصوف نے بہت سی توجیہات کی ہیں جن میں چند یہ ہیں :
1۔ ابو محمد عبدالغنی بن سعید الحافظ رحمہ اللہ نے فرمایا :
جب ولید بن قاسم سے لفظ ’صوفی‘ کی نسبت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ :
زمانہ جاہلیت میں ایک شخص تھا جس کا نام غوث بن مرّ اور لقب ’صوفا‘ تھا ۔ اس کا کام ایامِ حج
میں لوگوں کو حج کرانا اور ان کو عرفات سے منٰی اور منٰی سے مکہ جانے کی اجازت دنیا تھا ۔ اس
کے بعد یہ ذمہ داری اس کی اولاد میں منتقل ہوگئی ۔ ان سے عدوان نے لے لی اور کافی عرصہ عدوان
کی اولاد میں یہ ذمہ داری باقی رہی ۔ پھر ان سے یہ منصب قریش نے حاصل کر لیا۔ غوث بن مرّ پہلا
فرد ہے جیسے اس کی ماں نے بیت اللہ کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا ۔ ابن سائب الکلبی کا بیان
ہے کہ اس کی ماں کا کوئی لڑکا نہیں جیتا تھا ۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اس کا فرزند زندہ رہا تو
اس کے سرپر ’صوف‘ باندھ کر اس کو کعبہ کی خدمت کے لئے وقف کردے گی ۔ چنانچہ اس نے
نذرپوری کی ۔ بعد میں اس لڑکے کا نام ’صوفہ‘ پڑ گیا اور اس کی اولاد بھی ’صوفہ‘ کہلائی ۔ اس
کے بعد سے جو لوگ بھی اللہ کے واسطے دنیا چھوڑ کر کعبہ کی خدمت سے منسلک ہوگئے انہیں
بھی لوگ اسی مناسبت سے ’صوفیہ‘ کہنے لگے ۔
بحوالہ : تلبیس ابلیس، علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ، باب 10 ، صوفیوں پر تلبیس ابلیس کا بیان
2۔ کچھ لوگ تصوف کو ’اہل صفہ‘ کی طرف منسوب کرتے ہیں اس لئے کہ جس طرح اہل صفہ
دنیاداری اور فکر معاش سے علیحدہ ہوکر ، دین کے حصول کی خاطر فقر و فاقہ کو اپنائے ہوئے تھے ،
اسی طرح اہل تصوف بھی مال و عیال سے دامن چھڑا کر ’اصلاح باطن‘ کی غرض سے خانقاہوں اور
جنگلوں میں پڑے رہتے ہیں ۔
علامہ ابن جوزی (رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ : اُن ’اہل صفہ‘ نے ضرورت کے تحت مسجد میں قیام کیا

اور جتنی ضرورت تھی اتنا صدقہ کھایا ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دے کر ان کو
مستغنی کر دیا تو یہ لوگ نکل کر چلے گئے ۔ ’صوفی‘ کی نسبت ’اہل صفہ‘ کی طرف اسی سبب غلط
ہے ۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ’صفی‘ کہا جاتا ۔
3۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صوفی لیا گیا ہے ’صوفانہ‘ سے جو ایک خوشنما اور خود رو جنگلی
ساگ ہے جو چھوٹے چھوٹے پتوں کی شکل کا ہوتا ہے ۔ اہل تصوف بھی جنگل کے ساگ پات پر
گزارہ کر لیتے ہیں اس لئے انہیں صوفی کہا جاتا ہے ۔ مگر یہ بھی غلطی ہے ، کیونکہ اگر اس
طرف نسبت ہوتی تو ’صوفانی‘ کہا جاتا ۔
4۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ صوفی منسوب ہے ’صوفۃ القضا‘ کی طرف یعنی وہ چند بال جو گدی
کے آخر میں جمتے ہیں گویا صوفی حق کی طرف متوجہ اور خلق کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہے
۔
مذکورہ بالا 3 تعریفات بحوالہ : تلبیس ابلیس، علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ، باب 10 ، فصل 2:
ابوریحان البیرونی کا خیال ہے کہ ’صوفی‘ کا مادۂ اشتقاق ایک یونانی لفظ ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے:
سوفی بمعنی فلاسفر ہے کیونکہ یونانی لفظ ’سوف ‘بمعنی فلسفہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی زبان میں
’فیلسوف‘ کو ’فلاسفا‘ کہا جاتا ہے ، یعنی فلسفہ کا دلدادہ ۔ چونکہ اہل اسلام میں ایک جماعت ایسی
تھی جو ان کے مسلک سے قریب تھی اس بناء پر ان کا نام بھی ’صوفی‘ پڑ گیا ۔
بحوالہ :کتاب الہند ، ابوریحان البیرونی ، صفحہ 16
----
اہل تصوف نے تصوف کی بنیاد جن ستونوں پر قائم کی ہے اور جن کے بغیر تصوف کا تصور بھی
نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہیں :
صدق و صفا ، اخلاص و محبت،احسان، عبادت، خشوع و خضوع، فقر، توکل، صبرو رضا اور شکر وغیرہ
اہل تصوف نے تصوف کی بنیاد کے لیے اقوال رسول کو سر چشمہ ہدایت بنایا ہے اور یہ بھی امر واقع
ہے کہ آئمہ تصوف نے اپنے اعمال اور احوال و مقامات کے لیے سنت نبوی سے استناد و دلائل فراہم
کرنے کی کامیاب کوشش فرمائی ہے
----
بات یہ نہیں ہے کہ تصوف کی بنیاد یا اہمیت کن کن عناصر پر قائم ہے ؟
بلکہ حقیقی جوابِ مطلوب یہ ہے کہ دین اسلام کے ہوتے ہوئے ایک علحدہ فلسفے یا نظریے کی
ضرورت کیوں درپیش ہے ؟
سوال یہ نہیں ہے کہ : دینِ تصوف یا دینِ طریقت کی کون سی اہم بنیادیں ہیں ؟
بلکہ یہ ہے کہ : دینِ اسلام میں وہ کیا کمی تھی کہ ایک علحدہ فلسفہ یا نظریہ ایجاد کرنا ضروری
سمجھا گیا ؟ اگر دینِ طریقت ( یا تصوف) پورا کا پورا وہی ہے جو قرآن و حدیث میں درج ہے تو اس
کو دینِ اسلام ہی کہا جائے گا ، کوئی دوسرا نام دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔
منطقی اعتبار سے یہ معاملہ اس لیے بھی زیرِ بحث آئے گا کہ ۔۔۔ فرقے فرقے بننے والی چیزوں سے قرآن
واضح طور پر منع فرماتا ہے ۔
اگر احباب کو ناگوار خاطر نہ گزرے تو عرض ہے کہ : ایک فرقہ وہ بھی ہے جس کا کلمۂ توحید وہی
ہے جو تمام مسلمانوں کا ہے اور اسلام کے پانچ ارکان پر بھی اس کا ایمان ہے ۔۔۔ اس کے باوجود
اس کی انفرادیت ختمِ نبوت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انکار کے سبب واضح ہوئی اور اس کو اسلام سے
علحدہ ایک الگ مذہب قرار دیا گیا ۔ یہ فرقہ بھی تو وہی راگ الاپتا ہے کہ ہمارا کلمہ ، رسول (صلی
اللہ علیہ وسلم) کا ہی کلمہ ہے ۔ پھر بھی یہ اپنی شناخت علحدہ بتانے پر مصر ہے ۔
ایک دنیاوی مثال سے یوں بھی سمجھئے کہ بچوں کے دودھ کا پاؤڈر نیڈو بھی بناتا ہے اور اینکر
بھی ۔ دونوں اقسام کے پاؤڈر کے اجزائے ترکیبی تقریباََ ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ پھر بھی مقابلہ
ہوتا ہے کہ ہمارا پراڈکٹ سب میں بہترین ہے ۔ اور دعویٰ کے ثبوت میں اجزائے ترکیبی کوئی بھی
بیان نہیں کرتا بلکہ وہ خصوصیات بتائی جاتی ہیں جو دوسرے میں نہیں ہوتیں ۔ یعنی یہ سارا نام کا
کھیل ہے ۔ یعنی دنیا میں بس ہم خالص ہیں ۔
دینِ اسلام کا بھی یہی معاملہ ہے ۔ ہر کوئی ایک نیا فلسفہ یا نظریہ لے آتا ہے اور اس کی بنیاد قرآن و
سنت کو بتاتا ہے ۔ لیکن کن باتوں سے اس کی خصوصیات ، قرآن و سنت کی تعلیمات سے الگ ہٹ کر
واضح ہوتی ہیں ؟ یہ کوئی نہیں بتاتا ۔ اگر پوچھا جائے کہ نام کیوں الگ ہے تو جواب ملے گا کہ نام
سے کیا ہوتا ہے ، کام تو سارا ہی وہی ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے ۔
بھائی جب آپ قرآن و سنت کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں تو نئے نام گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش
آتی ہے ؟
اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب شریعتِ اسلامیہ مسلمانوں کے لئے مکمل
اور کافی ہے اور کتاب و سنت میں بھی زندگی گزارنے کے لئے مہد سے لحد تک ایک ایک لمحہ
کے لئے ہدایات موجود ہیں تو پھر اس میں ’طریقت‘ یا ’تصوف‘ کے نام سے اضافہ کی گنجائش
کہاں سے پیدا کر لی گئی ؟؟؟
اگر طریقت اخلاص فی العبادت کا نام ہے تو کیا شریعت میں پہلے یہ عنصر موجود نہیں تھا ؟
اگر اسلام میں اخلاص فی العبادت کا عنصر مفقود تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم طریقت اور اس
کے اصطلاحی اوراد اور وظائف کا سہارا لئے بغیر اپنے اعمال میں اخلاص کیسے برتتے تھے ؟؟؟

www.theilmi.com

very nice

very nice disscussion

keep it up dear 

very informative 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service