Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

بارش ہُوئی تو پھُولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

بارش ہُوئی تو پھُولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سُورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سُورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زُلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریبِ شہر سے کُچھ گفتگو ہُوئی
لہجے ہَوائے شام کے نمناک ہو گئے

ساحل پہ جتنے آب گزیدہ تہے سب کے سب
دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گےء

پروین شاکر

Views: 743

Reply to This

Replies to This Discussion

Thanks Shakeel bhai...

Wow........lovely presentation & Poetry

Thanks Burried...

RSS

© 2022   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service