We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

اگست میں مجھے اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں ایک سیلاب سے متاثرہ علاقے کی طرف جانے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ بارشیں بھی شہروں کو دیکھ کر ہورہی تھیں، آج یہاں تو کل وہاں، اس لئے جب ہم نکلے تو اُس علاقے کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ وہاں پانی وغیرہ کی کیا صورتحال ہوگی۔ ابھی منزلِ مقصود سے بیس کلومیٹر پیچھے ہی تھے کہ محکمہ سڑکیات والوں کا بورڈ آن وارد ہوا جس پرلکھا تھا کہ سیلابی پانی کے سڑک پرسے گزرنے کی وجہ سے گاڑیوں کو یہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے گاڑی کو ایک طرف کھڑا کیا اور اتر کر حالاتِ سامنا کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ سڑک اُس علاقے کی مرکزی اور دو اضلاع کو آپس میں ملانے کا واحد ذریعہ  تھی، اور گاڑیوں کے کثیر تعداد میں کھڑا ہونے پر کافی رونق کا سماں تھا۔سڑک جہاں پانی میں مدغم ہوئی تھی وہاں سے چند میٹر آگے دوتین ٹرک کچے راستے پر اترے وہیں اوندھے پڑے تھے،  ایک طرف  اونچی جگہ پر اڈا سا بن گیا تھا جہاں لوگ پانی کا عارضی دریا پیدل عبور کرکے اس طرف آتے اور یہاں موجود ویگنوں میں بیٹھ کر روانہ ہوجاتے۔ آسان الفاظ میں آپ یوں سمجھ لیجیئے کہ پانی دونوں اطراف کیلئے واہگہ بارڈر کا کردار ادا کررہا تھا۔
سڑک کے عین اوپر چھ سات ٹیلی ویژن چینلز کی موبائل رپورٹنگ گاڑیاں کھڑی تھی،جن سے نکل کر اچھے خاصے صاحبِ عقل مرد و خواتین پانی میں کھڑے بلاتکان بول رہے تھے ، اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ان کی یہ باتیں لائیو ٹرانس مشن میں آن ائیر کی جارہی ہیں۔ہمارا یہاں سے تقریباً ہر مہینے ایک آدھ بار گزرنا ہوتا تھا ا س لئے سڑک اور اس کے گرد و نواح میں موجودنشیب و فراز ذہن میں نقش ہوچکے تھے۔ پہلے تو ہم نے یہی کوشش کی کہ کسی طرح وہاں موجود لوگوں کو منا کر گلیوں سے ہوتے ہوئے رستے کا پتا کریں لیکن کوئی ایک صاحب بھی ہمارا ہم خیال نہ بن سکا۔ویسے ایک ڈیڑھ فٹ پانی سے ہم کئی بار پہلے بھی باحفاظت و صحیح سلامت گزر چکے تھے، اور خود پر اتنا اعتماد تھا کہ اگر اجازت مل جاتی تو اس کو بھی پار کرلیتے۔ اب جب کوئی چارہ نہ رہا تو سوچا کہ واپس تو جانا ہی ہے، کیوں نہ کچھ دیر اس منظر کو محسوس کیا جائے۔اپنی دائیں جانب غور کیا تو وہاں  سماء نیوز کا ایک رپورٹر رانوں تک چڑھے پانی میں کھڑا ہوکر رپورٹنگ کررہا تھا جبکہ دوسری جانب جیو نیوز کی خاتون بھی بالکل ایسی ہی حرکات کی مرتکب ہورہی تھی، اور اہلیانِ علاقہ اس مفت کی تفریح کو ٹھیک ٹھاک انداز میں انجوائے کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ آخر اس چھوٹے شہر میں ٹی وی پر آنا ایک بہت بڑی  بات بھی تو تھی۔ہم نے بھی یہاں کے چند غیر اعتراضی مناظر محفوظ کیئے، جن میں سے ایک یہاں بیان کرتے ہیں۔

اگر آپ ان دونوں تصاویر کو غور سے دیکھیں تو یقیناً صحافت کو سمجھ جائیں گے۔ سڑک کے ساتھ عموماً تھوڑی سی نیچی زمین ہوتی ہے اور سیلاب کا پانی اگر زیادہ ہو تو وہاں سے گہرائی کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ رپورٹر صاحب نے اپنے "بیک گراؤنڈ میں چند نوجوانوں کو اس زاویے سے اکڑوں بٹھایا ہوا تھا کہ دیکھنے پر ایسا محسوس ہو جیسے وہ پانی اُن کے سینوں تک موجود ہے۔ خود برلبِ سڑک ایک نیچی جگہ پر کھڑا تھا جہاں پانی اُس کی ٹانگوں کو ڈھکے ہوئے تھا اور اپنی آواز کو دردناک بنائے علاقے والوں کا ماما بننے کی مکمل کوشش کررہا تھا۔ فرما رہا تھا کہ اس علاقے سے ایک طاقتور وزیر  گزرا ہے، اس علاقے کو یہ ہے، وہ ہے۔۔۔ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت یہاں سے تین فٹ پانی پورے زور و شور سے گزر رہا ہے اور میرے بالکل پیچھے جو بندے آپ دیکھ رہے ہیں ان کی ٹھوڑیوں تک آ پہنچا ہے۔۔۔۔کیمرے کے عین پیچھے اور اردگرد بھی "ڈائریکٹر" صاحبان  اپنی من مرضی کا سین لگائے پاکستانی کے دیگر علاقوں میں رہنے والی بھولی عوام کو نوانچ کا سیلابی پانی  چار پانچ فٹ کا بتا رہےتھے۔ یہی مناظر ہمیں جیو، اے آر وائے، ایکسپریس اور دنیا نیوز کے "سٹالز" پر بھی دیکھنے کو ملے۔اتفاق کی بات ہے کہ جیو اور دنیا نیوز میں یہ نیک کام خواتین کررہی تھیں۔ شائد " اندر کی خبرجان کے جیو" اور "دُنیا تیز ہے" والا کوئی چکر ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
آج سوشل میڈیا میں ایک بات کو صبح سے ہائی لائیٹ کیا جارہا ہے کہ پشاور کے کرکٹ سٹیڈیم میں ایک دوستانہ امن میچ کھیلا گیا، جس میں مملکتِ خداداد کے نامور کھلاڑیوں، سیاستدانوں اور چئیرمین تحریکِ انصاف جناب عمران خان صاحب نے بھی شرکت کی۔ جو تصاویر لوگوں نے شئیر کیں، اُن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام کی ایک اچھی خاصی  تعداد یہ میچ دیکھنے اپنے گھروں سے نکلی اور عرصے بعد یہاں اس کھیل کو انجوائے کیا۔ پشاور ہمارے جسم کا وہ حصہ ہے جس میں کئی سالوں سے کبھی درد ہوتا رہا، کبھی کوئی زخم اور کبھی ان دیکھی چوٹ۔۔ ان تمام معاملات میں ہم نے اپنے روائتی اور آزاد میڈیا کو گرد و خون کی رپورٹنگ اور وہ دلخراش مناظر براہِ راست دکھاتے ہوئے پایا۔حال ہی میں چرچ پر ہونے والے دھماکے کی فوٹیج دیکھ کر تو بڑے بڑوں کا دل بھی دہل گیا ہوگا، لیکن اگر کسی کا نہ دہلا تو وہ یہی آپ کا میڈیا تھا۔ آج صبح سے پاکستان کے آزاد میڈیا پرایشوریہ رائے کی بچی کی مسکراہٹ، ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام نہ ملنے پر پر مغز بحث، بھارت کے مسلمانوں کی حالت، یوگنڈہ کی خواتین کی آپس میں شادی اور گورڈن براؤن کے ناشتے میں شامل لوازمات، اِن سب کی مفصل رپورٹنگ تو دکھائی جاتی رہی، لیکن کہیں ایک جگہ بھی دانشور اس بات کا ذکر کرتے نظر نہیں آئے۔ بطور پاکستانی، ہمارے حصے میں تو ویسے بھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی آتی ہیں، جیسے کہیں سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتنے کی خوشی، یا وسیم اکرم کی آسٹریلوی دوشیزہ سے شادی، اب لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے یہ سارا میڈیا کسی پاکستانی دشمن ملک نے خرید لیا ہو، اور جو ہماری عوام کو رلاتا تو روزانہ کی بنیاد پر ہے، لیکن مہینے یا سال میں ایک بار بھی  پاکستانیوں کو ہنسنایا خوش ہونا اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔یہ لوگ دہشت گردوں کی کوششوں کو تو صبح سے رات تک بیان کرسکتے ہیں لیکن امن کیلئے کی جانے والی کوششیں ان کیلئے زہرِ قاتل کا درجہ رکھتی ہیں۔
ہاں البتہ اس دوران اگر حامد میر یا مبشر لقمان کو داڑھی منڈواتے وقت بلیڈ کا کَٹ لگ جائے تو وہ بریکنگ نیوز ضرور بن سکتی ہے۔ آخر خفیہ ایجنسیاں اُن  بلیڈوں کو بھی تو یہ کام کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ پیسے ضرور دیتی ہونگی۔

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 53

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Reply to This

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service