جب ہم سب کی منزل مقصود آخرت ہے تو پھر اس دنیا کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔دنیا سے ملنے والی تعریف یا برائی بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ جس کے لیے ساری عمر ہم اپنی جان ہلکان کرتے رہے ،جب وہ اس قدر فانی اور بے قدری شے ہے۔

تو آیئے ! آج سے اور ابھی سے ہم سب مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب ہم 
دنیا کو اور دنیا سے ملنے والی تعریف یا برائی کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔
دوسروں کی ہمارے بارے میں کیا رائے ہے؟
وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟
ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
ان تمام عارضی اور دنیاوی باتوں سے قطعی بے نیاز ہو جا ئیں گے کیونکہ اجر دینے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے ، نہ کہ یہ دنیا والے اور اس کے بے وفا بندے جن کی زبان پر آج کچھ ہوتا ہے تو کل کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔