اک تعلق مجھے نبھانا تھا
وہ حقیقت تھی، میں فسانہ تھا

دو کنارے تھے زندگی اور موت

بیچ دریا سا اک زمانہ تھا

ہجر و فرقت مرا مقدر تھا
وصل اس کا تو اک بہانہ تھا

وہ جو آیا تھا آندھیاں لے کر
اُس نے ہر دیپ کو بجھانا تھا

کچھ پرندے تھے خالی شاخوں پر
میری آنکھوں میں آشیانہ تھا

اس لیے ہم نے اس سے بات نہ کی
یہ تو بس بات کا گنوانا تھا

سعد یہ یاد کب رہا ہم کو

ہمیں اس شخص کو بھلانا تھا.