Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ایک غور طلب حکمت کی بات ہے؛ آپ کی توجہ درکار ہے۔

مندرجہ ذیل دو آیتیں دو مختلف مقامات سے اور دو مختلف احوال سے لی گئی ہیں اور دو مختلف انجام کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

(سورة القصص - 7) فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ 

(سورة الذاريات - 40) فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ

ان دونوں آیات کی مشترک بات ان دونوں میں موجود لفظ (الْيَمِّ) ہے۔ جس کا مطلب پانی، دریا یا سمندر ہے۔

پہلی آیت: پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے

دوسری آیت: آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا

آئیے اب ان دونوں کا مطلب، دونوں صورتوں میں فریقین کے خاتمے کا نداز اور لفظ (الْيَمِّ) پر کچھ بات کرتے ہیں۔ 

پہلی والی حالت میں موسٰی (علیہ السلام) کی ماں سے کہا جا رہا ہے، اسے دودھ پلاتی رہ اور جب اس کی جان کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا بُرد کر دینا۔ سیدنا موسٰی ایک نو مولود اور اپنی کمزوری و نا توانی کے عروج پر تھے۔ دریا بُرد بھی کیئے گئے مگر پانی نے کیا بگاڑ لیا تھا؟

دوسری والی حالت میں فرعون کا ذکر ہے جو اپنی طاقت و جبروتیت کے حوالے سے اپنے عروج پر تھا۔ اُسے تو ایک پلک جھپکنے کی مہلت بھی نا دی گئی تھی اور اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا گیا تھا۔ 

اب ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیئے:

بندہ جتنا بھی کمزور و ناتواں ہو، اللہ ساتھ ہے تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔ اور جس کے ساتھ اللہ نا ہو اُس کی طاقت و جبروتیت اُسے ذرا بھی فائدہ نا پہنچا پائے گی۔

Views: 398

Reply to This

Replies to This Discussion

 Beshak SubhanAllah 

JazakAllah 

very nice sharing 

keep it up 

exactly vry true

great discussion

keep sharing

SubhanAllah

JazakAllah

great sharing

Thanks for sharing

Wonderful

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service