We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

محبت و نفرت بھی انسان کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ ہم بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ یہی جذبے کچھ شدت اختیار کرکے محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر تو یہ جذبے اپنی فطری حدود میں رہیں تب تو ٹھیک ہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح مسخ کردیتا ہے۔ آپ نے یقینا ایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی تباہ کربیٹھے یا پھر اس سے ہاتھ ہی دھو بیٹھے۔

ان جذبوں کو اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ہر ہر ضرورت کا ایسا خیال رکھتا ہے جو اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔ بعض انسان بڑے ناشکرے ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کے ساتھ شریک بنا کر ان سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  

و من الناس من یتخذ من دون اللّٰہ اندادا یحبونھم کحب اللہ، والذین اٰمنوا اشد حبا للہ ۔  (البقرہ 2:165)  ’’انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ کچھ شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسے محبت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، (ان کے برعکس) اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ سے محبت ہی کی اہم ترین شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے بندے اور آخری رسول ہیں۔ آپ کی محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت ہے۔ اس محبت کے بارے میں ہمارے ہاں افراط و تفریط کے رویے پائے جاتے ہیں۔

    بعض لوگ اپنی حماقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے الگ سمجھتے ہیں اور پھر رسول کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تو آپ کو اپنی محبت کے غلو میں خدا کا شریک دیتے ہیں اور دوسری طرف شخصی محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود آپ کی تعلیمات کی پیروی بھی نہیں کرتے حالانکہ محبت بغیر اتباع کے محض دکھاوا اور فریب ہے۔

اسی طرح کچھ دوسرے لوگ آپ کی محبت کو محض اتباع سنت ہی قرار دیتے ہیں اور آپ کے ساتھ محبت کے ذاتی تعلق کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں۔ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ محبت و عقیدت ایک عظیم نعمت ہے وہاں اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اپنے ہر معاملے میں آپ کی اتباع اور پیروی کی جائے۔

    اسی محبت کی ایک اور شاخ آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی محبت ہے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا لیکن اس معاملے میں بھی ہر قسم کے غلو سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ یہ عظیم نعمت ہمارے لئے شرک کی مصیبت نہ بن جائے۔   

    جب انسان اپنی محبت کا رخ اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور آپ کی آل و اصحاب کی طرف موڑ دے تو پھر اسے دنیاوی محبتوں سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ والدین اور بیوی بچوں سے محبت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محبتیں بھی انسان کی فطرت میں داخل ہیں۔ لیکن ان سب محبتوں کو خدا و رسول کی محبت کے تابع ہونا چاہئے۔ 

    یہی حال نفرت کے جذبے کا ہے۔ جب نفرت کے جذبے کو غلط استعمال کیا جائے تو انسان تخریب کار اور دہشت گرد بن جاتا ہے اور اپنے جیسے انسانوں کے خون میں ہاتھ رنگنے لگتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اسے برائیوں کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایک بندہ مومن کے نزدیک کفر اور فسق و فجور کی طرف جانا آگ میں جل جانے سے زیادہ قابل نفرت ہونا چاہئے۔ اسی چیز کا ہمارے دین میں تقاضا کیا گیا ہے۔ اس جذبے کو بھی بعض اوقات غلط رنگ دے دیا جاتا ہے۔ برائی سے نفرت کو انسانوں تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ نفرت برائی سے ہونی چاہئے برے انسان سے نہیں۔

    ایک مسلمان کو دین اور اخلاقیات کا داعی ہونا چاہئے اور اسے برائیوں میں مبتلا شخص کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اسے برا قرار دے کر دھتکار دے اور وہ اپنی برائیوں میں اور شدت اختیار کر جائے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم سے بھی بہت سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو کیا خوب نصیحت فرمائی کہ اس گناہ گار کو وہ سزا دے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو۔

    اس اصول سے استثنا صرف ان لوگوں کا ہے جو بہت ہی زیادہ گھناؤنے قسم کے جرائم میں مبتلا ہوں اور اس سے توبہ بھی نہ کرنا چاہتے ہوں اور انہی میں مبتلا رہنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہوں۔

    اپنی زندگی میں ان دوستوں کا انتخاب کیجئے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور بھاگنے والے ہوں۔ اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجود ہیں جو ہر وقت دوسروں کی نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے ورنہ آپ کی شخصیت کو بھی یہ لوگ تباہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑیں گے۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 269

Reply to This

Replies to This Discussion

thanks for sharing

I will try but sometimes these people are your dear ones and they require your love and affection.

True and Very Nice  Sharing. Thanks

true sharing 

very nice 

Great Sharing!

wah wah wah bohat alaa.

RSS

Looking For Something? Search Here

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.