Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے
نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر
بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی
خزاں معلوم ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتاہے
کہ حرف و صورت کے رشتے 
زباں‌سے ٹوٹ جاتے ہیں
نہ سوچیں ساتھ دیتی ہیں
نہ بازو کام کرتے ہیں
رگوں میں لہو بھی
منجمد محسوس ہوتا ہے
چراغِ جسم و جاں کی لو 
دھواں معلوم ہوتی ہے
مگر جب ایسا ہوتا ہے
تو آنکھوں کے جزیرے 
سیلِ غم میں ڈوب جاتے ہیں
شجر ہوتا ہے رستے می
ں نہ سائے کا نشاں کوئی
زمیں رہتی ہے قدموں میں
نہ سر پر آسماں‌کوئی
شکستہ دل کے خانوں میں
بس اک احساس ہوتا ہے
یہ رشتے کیوں بکھرتے ہیں
جو اپنے لوگ ہوتے ہیں
وہ ہم سے کیوں بچھڑتے ہیں...

Views: 337

Reply to This

Replies to This Discussion

v nice

MUSKAN

100% true sis banoooo

nice

keep it up

muskan itni sad ufffffffffffffff ALLAH jiiii

vry nice sisooooo

 itni sad poetry hay ALLAH jiiiiii

haan ji kabi asa b hota ha ......kabi hi hota ha roz nahi hota 

Aap un sai udhar lai kr wapis na karey

Insha Allah aap sai kabi nai bichrey gai

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service