Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

شادی کے اکیس برس کے بعد آخر میری بیوی کے دل میں نیکی لہرائی کچھ کہنے سے پہلے وہ جھجکی،شرمائی
اپنے دل کی وسعت پر تھوڑا اِترائی
پھر بولی
آج اس عورت کو تم ڈیٹ پہ لے جاؤ
جو تمہاری چاہت میں دیوانی ہے
جس کی بھیگی آنکھوں میں ویرانی ہے
مجھ کو تم سے پیار بہت ہے
تم سے دو لمحے کی دُوری،گو کارِ دشوار بہت ہے
پر میرا دل نرم بہت ہے
آنکھوں میں بھی شرم بہت ہے
اور اس بات کا علم ہے مجھ کو
وہ عورت بھی تم سے ملنے کی طالب ہے
چاہ تمہاری اس کے دل پر بھی غالب ہے
وہ تنہا ہے ،دوری کا دکھ سہتے سہتے اُوب چکی ہے
اکلاپے کے ساگر میں وہ چپکے چپکے ڈوب چکی ہے
میری بیوی نے جس عورت سے ملنے کی چھٹی دی تھی
میری ماں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو پچھلے اُنیس برس سے بیوہ تھی تنہا رہتی تھی
اور میں اپنے بیوی بچوں ،کام اور دھندوں
کی ڈوری سے بندھا ہوا تھا
اس سے کم ہی مل پاتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کیا جب میں نے اس کو
رات کے کھانے کی دعوت دی
وہ حیران سی ہو کر بولی
اللہ تم کو خیر سے رکھے،آج تمہاری طبیعت شائد ٹھیک نہیں ہے
میں شرمندہ ہو کر بولا
ماں میں بالکل ٹھیک ہوں فٹ ہوں
صرف تمہارے ساتھ کچھ اچھا وقت بِتانے کی خواہش ہے
گھومیں گے کھانا کھائیں گے اور بہت سی باتیں ہوں گی
پیاری ماں ہم دونوں ہوں گے بس ہم دونوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اک لمحہ سوچ کے بولی
ٹھیک ہے بیٹے ،شام کو میں تیار رہوں گی
کام سے فارغ ہو کر جب میں اپنی ماں کو لینے پہنچا
مجھ کو یوں محسوس ہوا میں نروس سا ہوں
ماں بھی بے حد خوش تھی لیکن نروس سی تھی
ہلکا نیلا سُند جوڑا میری ماں کے زیبِ تن تھا
بالوں میں بھی پھول سجے تھے
اس کے ملکوتی چہرے پر نرمی تھی اور شکر گذاری
کار کی سیٹ پہ بیٹھ گئی تو ہنس کربولی
میں نے اپنی سب سکھیوں کو میری اور تمہاری ڈیٹ کے بارے میں بتلایا ہے
وہ بے حد حیران ہوئیں اور ان پر کافی رعب پڑا تھا
وہ کل مجھ سے فون پہ اک اک لمحے کی تفصیل سنیں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریستوران میں جب ہم پہنچے
میری ماں میرے بازو کو یوں تھامے تھی
گویا وہ خاتونِ اول کے منصب پر فائز ہے
میں نے مینیو پڑھتے پڑھتے رک کر اس کی جانب دیکھا
وہ مجھ کو گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی
میرے ہاتھ کو چُھو کر بولی
یاد ہے تم کو مینیو پڑھنا کام تھا میرا جب تم چھوٹے سے لڑکے تھے
میں بولا ہاں یاد ہے مجھ کو ،وہ دن کتنے اچھے تھے
کھانا کھاتے کافی پیتے ہم نے ڈھیروں باتیں کی تھیں
میرے بچپن اور جوانی کا ہر لمحہ یاد تھا اس کو
اس کی آنکھوں میں وہ منظر نقش تھے سارے
اس کے دل میں میری یاد کا بیتا موسم ٹھہر گیا تھا
جب ہم واپس لوٹ رہے تھے تب ماں بولی
میں تمہارے ساتھ دوبارہ کھانا کھانے جاؤں گی
لیکن اگلی بار یہ دعوت میری جانب سے ہو گی
میں نے ہنس کر حامی بھر لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں کو اس کے گھر پر چھوڑ کے رات گئے جب میں گھر پہنچا
میری بیوی ہنس کر بولی ’’کیسی تھی یہ ڈیٹ تمہاری‘‘؟
تب میں اگلی’’ ڈیٹ ‘‘پہ جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا
جس کی حامی بھر آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگربہانہ گھڑنے کی نوبت نہ آئی
میری ماں تو اکیس دن بھی بعد اس ڈیٹ کے جی نہ پائی
اک ہفتے کے بعد ہی یکدم وہ یہ دنیا چھوڑ گئی
ماں کے مر جانے کے بعد
ایک لفافہ ڈاک سے میرے نام آیا
اس میں کیا تھا؟
ایک رسید کی کاپی تھی اس ریستوران کی
میں نے اس شب اپنی ماں کے ساتھ جہاں کھانا کھایا تھا
اک پرچہ بھی ساتھ تھا اس کے
جس پر ماں کے ہاتھوں سے یہ نوٹ لکھا تھا
میرے بیٹے میں نے جس کھانے کی تم کو دعوت دی تھی
اس کے بل کی پے منٹ میں نے کل ایڈوانس میں کر دی ہے
میرا جی کچھ ٹھیک نہیں ہے،اور رسید کی کاپی تم کو بھیج رہی ہوں
ساتھ تمہارے اب میں شائد اور اک شام بِتا نہ پاؤں
ریستوران میں جا کر کھانا کھا نہ پاؤں
پھر بھی کوئی بات نہیں ہے
میں نے دو افراد کے کھانے کی ہی ان کو پے منٹ کی ہے
تم اپنی بیوی کے ہمراہ اسی جگہ پر کھانا کھانا، لطف اٹھانا
میری جانب سے یہ دعوت ایک محبت کا ٹوکن ہے
شائد تم یہ جان نہ پاؤ،جس شب ہم نے کھانا کھایا باتیں کی تھیں
میرے ویراں جیون میں وہ سُندرشب آباد بہت ہے
باقی جیون خوش رہنے کو ،اس اک شب کی یاد بہت ہے!!!

Views: 3601

Reply to This

Replies to This Discussion

very nice sharing

great yar

thanks dear Masooma

ماں کے ساتھ   ملاقات  کو  ڈیٹ  تو  نہ  کہو  ،   یہ  ظلم  اور  زیادتی ہے ،  ایک مقدس  رشتے  کی توہین ہے۔  آپ ٹاپک کو دوسری عورت کے ساتھ  ملاقات  کر دیں  تو  شرمندگی  قابل برداشت  حدوں تک رہے گی۔  ہاں  اگر  خواہش ہے  کہ ہم  شرم  سے مر جائیں  تو  آپ  کی  مر ضی۔   

کیا ( زندگی میں آنے والی ) پہلی عورت کے ساتھ ڈیٹ کی اجازت ہے ؟ 
ماں کے ساتھ تو انسان کا رابطہ تو ختم نہیں ہو سکتا۔ ہاں آج کے مصروف دور میں ، شرم دلانے کے لیے ، اور یہ سمجھانے کے لیے کہ اِس دنیا کا نظام بڑے انصاف پر قائم ہے : اِس ہاتھ دے ، اُس ہاتھ لے 
جو خدا کو بھول گیا ہے ، اُسے ماں کے احسان کہاں یاد رہیں گے ۔ شرک کسی کے سامنے سر زمین پر رکھنے کا نام ہی نہیں ہے ، نعمت خدا کی ہو، شکر کسی اور کا ؟ رزق اﷲ دے اور آپ گُن گاؤ روٹی ، کپڑا اور مکان کے وعدے کر نے والوں کو ؟ خدا سے ناُمیدی اور بتوں سے ہیں اُمیدیں ، اور کافری کیا ہے ؟ اﷲ تو نظر نہیں آتا ، آپ اپنے تصور میں اُسے سامنے پا کر ، اپنے ایمان کے مطابق خدا مانتے ہو۔ جتنا طاقتور آپ اپنے رب کو مانتے ہو، وہ اتنا ہی اظہار بھی کر تا ہے آپ کے معاملوں میں۔ جن کا ناخدا امریکہ اور بہت سے ہوں ، اُنھیں چھوڑ دیں ، رب نے بھی مہلت دی ہوئی ہے ۔ ماں کی آہ آسمانوں کو چیر دیتی ہے ، ماں کی دعا طوفانوں کے رُخ موڑ دیتی ہے ۔ 

عصر حاضر میں جس بلا کا نام ڈیٹ ہے ، وہ ہر شکل اور حال میں منع ہے ۔ 


ماں تو رب کا احسان ہے ۔ ماں تجھے سلام ۔

 

v v nice

 @ Sadan

hmmm... literally meaning pay na jay....ju msg hia just us ko smjay..

istra tu criticism kisi bat ko lay k kia ja skta ha...jiasy ap k sharing main k maa nay last main kia kaha...kia is sy mtlb lay lia jay k maa nay ba dua di hai..hala k maa ka mukamm itna buland hai k sirf dua hi day skti hia...

so just us msg py ghor kray ..k hamin kia msg mil raha hai..

wrna behs ko jitna kainch lia jay chalti hi jay  gi

very very nice post + •şΔЯΔ КңΔП• siso

Thanks Maham dear for appriciation 

welcome siso

keep it up siso

RSS

© 2022   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service