اہل بصیرت ہماری توجہ ایک اہم نکتے کی طرف بھی کراتے آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ رشتے ریت کی طرح ہوتے ہیں۔ جب آپ کی مٹھی کھلی ہوتی ہے تو اس پر ریت کی ایک ڈھیری موجود ہوتی ہے۔ مگر جب اسی ریت کو مٹھی میں جکڑنے کی خواہش میں ہم یہ مٹھی بندکرتے ہیں تو ریت آہستہ آہستہ مٹھی سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر میں ہمارے ہاتھ میں فقط چند ذرے رہ جاتے ہیں۔ تعلقات کے حوالے سے بھی یہی حقیقت ہے کہ جب ہم ذہن اور روح کی گہرائیوں سے کھلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو تمام رشتے کھلی ہتھیلی پر چمکتی ریت کی طرح موجود رہتے ہیں اور جب ہم ذہن اور روح کی کھڑکیاں بند کر لیتے ہیں تو رشتے بند مٹھی میں دبی ریت کی طرح ہم سے روٹھ جاتے ہیں۔ ا س لیے ہمیشہ اپنے ذہن کو کشادہ رکھیں۔ فراخدلی رشتے مضبوط کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تعلق بنانے اور اسے نبھانے کے لیے ہر شخص کو کھلے دماغ اور اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں، مجھے اپنے سے متعلق لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔ فطرت کا حسن تنوع میں ہے۔ تمام لوگ آپ جیسے نہیں ہوسکتے۔ نہ ہی ویسے ہو سکتے ہیں جیسا کہ آپ کا خیال ہے کہ ان کو ایسے ہونا چاہیے۔ وہ لوگ جو باہر گھومنے پھرنے والے ہیں، لچکدار مزاج کے حامل ہیں، جو ذہنی وسعت کے حامل ہیں اور جو دوسروں کی بات سننا جانتے ہیں وہ آسانی سے اور فوراً تعلقات بنالیتے ہیں۔ یہ راز کسی تکنیک میں نہیں صرف رویے میں چھپا ہوتا ہے۔

(پریم پی بھالا کی کتاب ’’اچھے تعلقات کے رہنما اصول‘‘ سے ماخوذ)