انجانہ سا اک احساس
کچھ دور ہے کچھ ہے پاس
کوئی چاند زمیں پر اُترے
اور پیار کے پیاسے ہونٹ بجھا لیں پیاس
کتنی دور کتنے پاس
ادھوری ہے دل کی آس
پیار تو ہمیشہ رہے گا

خوشی سے تو دکھ بھی سہے گا 

ہونٹوں سے اُف نہ کہے گا
آئے گا کبھی تو دکھ بھی راس
کتنی دور کتنے پاس
ادھوری ہے دل کی آس
ہونے دو جو بھی گلا ہے
دل تو یہ دل سے ملا ہے
جو بھی وفا کا صلہ ہے
غم ہیں تو غم بھی ہیں غم شناس
کتنی دور کتنے پاس
ادھوری ہے دل کی آس
کتنے دلوں میں تھی چاہتیں
آخر بنی ہیں وہ حسرتیں
لب پر نہ لانا شکایتیں
ٹوٹے نہ کبھی من کی آس
کتنی دور کتنے پاس
ادھوری ہے دل کی آس

Views: 515

Reply to This

Replies to This Discussion

Very nice

Keep sharing dear

Great Great Great

Akheeeeeerrr eeee oo appp

nice 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service