Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

دنیا کا پرُ اسرار ترین جنگل جہاں بڑے بڑے راز دفن ہیں

بخارسٹ (نیوز ڈیسک) فلموں اور قصے کہانیوں میں آپ نے خوفناک جنگلوں کا ذکر ضرور سنا ہوگا لیکن رومانیہ میں سینکڑوں ایکڑ پر محیط ایک حقیقی جنگل موجود ہے جسے دنیا کا خوفناک اور ڈراﺅنا ترین جنگل قرار دیا جاتا ہے۔

آسیب زدہ جنگل کہلانے والا Hoia-Baciu Forest سات سو تیس ایکڑ پر محیط ہے اور دنیا بھر میں مشہور ہے کہ اس میں جانے والے اول تو واپس ہی نہیں آتے اور جو واپس آتے ہیں ان کی حالت دیکھنے والی نہیں ہوتی۔ مقامی لوک داستانوں کے مطابق اس کا نام ایک چرواہے کے نام پر رکھا گیا ہے جو اپنی 200بھیڑوں کے ساتھ جنگل میں گیا اور پھر نہ وہ خود لوٹا اور نہ اس کی بھیڑیں۔ وہ اپنے ریوڑ کے ساتھ پراسرار جنگل میں ہمیشہ کے لئے غائب ہوگیا۔
 یہاں پائے جانے والے درختوں کے تنے حیران کن انداز میں خم کھاتے ہوئے اوپر بڑھتے ہیں اور اندھیرے میں عجیب و غریب مخلوقات جیسے نظر آتے ہیں۔ جنگل کے عین درمیان میں ایک گول میدان ہے جس میں لمبے درختوں کی بجائے محض چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہیں اور اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میدان میں خلائی مخلوقات اترتی ہیں۔ رات کے وقت گھنے درختوں کے نیچے تاریکی میں اچانک روشنی کے ہالے نمودار ہوجاتے ہیں اور ان میں خوفناک درندے دوڑتے بھاگتے اور دھاڑتے نظر آتے ہیں۔
 مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جسے بھی اس جنگل کی طرف جاتے دیکھا وہ واپس نہ آیا اور جو چند لوگ کبھی واپس آئے تو ان کے جسموں پر عجیب طرح کے زخم اور نشانات پائے گئے۔ واپس آنے والے جنگل میں نظر آنے والے خوفناک مناظر کا ذکر کرتے ہیں اور لوگوں کو دہشتناک جنگل سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

Views: 504

Reply to This

Replies to This Discussion

i think abhi iss modern world mein aise nhi hota ho ga

Jamil bhai modern world se kai world ki nature tabdeel ho jati hai....

Good Work

Thanks  zohaib iftikhar

Iss ki bajaye ager ap yeh kehty to zayada behter hota k jo Allah se darty hain wo kisi se nahi darty

Yup you are right

haan bilkul agree ,insaan Ashraf-ul-mokhluqat hai jes jagha insaani qadam pounch jayein wahan koi dousri mokhluq baag jati hai ,,,,insaan se koi mokhluq heavy nhi hai , iss lia mein yeh keh raha houn pehle waqat mein humre either pak mein aise jaghein hoti thi hum ne apne olders se iss tare ki batein suni hain

great post. Thanks for sharing  Faiʀy Qu££n

very nice post

very informative

RSS

© 2022   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service