We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

سن کے نےؑ کہتی ہے اپنی داستان
درد ہجراں سے ہویؑ ہے نوحہ خواں
کاٹ کر لاےؑ نیستاں سے یہاں
مرد و زن میری نوا سے خونچکاں
جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا
ہو گا وصل خشت اس کا مدعا
یہ نواےؑ نےؑ اسی کے دم سے ہے
زندگی کی لے اسی کے دم سے ہے


Nawai Ney, Tina Sani, Coke Studio Pakistan... by سروش

آج ہم اپنا طریق بدل رہے آج سوالات آپ سب اٹھاییں گے جو ہم پوسٹ میں شامل کرتے جاییں گے اور ان کے جواب تلا ش کرنے کی کوشش کریں گے آپ سب کو سوالات کی دعوت دی جاتی ہے ہم مشکور ہوں گے


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 1104

Reply to This

Replies to This Discussion

شکوہ داستان زندگی

ye title thek hai??

سرا سر غلط

برخوردار پہلے غور سے پڑھ لو اور محنت جاری رکھو اللہ مدد کرے گا انشاء اللہ

better luck next time

koshish jari hai

یہ  اچھا وقت آج ہی آ جانا چاہیے کیونکہ آپ ذہین بچے ہو

تصوف ہے اس میں ۔

اشعار کیا سمجھیں یہاں لوگ اِنھیں تو شرح بھی سمجھ نہ آئے گی

جی سر سمجھ تو نہیں ہے لیکن لوگ الفاظ معانی سے ہی تصوف کی طرف جا رہے آپ سینئیرز کی مدد سے۔

Explanation verse 1

----------------------------

سن کے نےؑ کہتی ہے اپنی داستان

درد ہجراں سے ہویؑ ہے نوحہ خواں

کسی کی آہ و بکا سن کر بانسری بھی بول اُٹھی اور اس نے بھی اپنی جدائی کا نوحہ کرنا شروع کردیا۔

اے بانسری تو اتنے درد بھرے سر کیوں اُگل رہی ہے۔ اُسنے جواب دیا میں سُر کہاں اُگل رہی ہوں میں تو اپنی جدائی کا ماتم کر رہی ہوں۔

___________________________________________________________________

یہ تو لفظی ترجمہ تھا اب اصل شرح یہ ہے کہ

عاشق کسی کی بکا سن کر  اپنی جدائی کا نوحہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور کہتا ہے جب سے محبوب سے جداہوا ہوں جدائی کا غم جھیل رہا ہوں۔

اشارہ عشقِ حقیقی کی طرف ہے۔ بندہ جو اپنے خالق سے  بچھڑا ہوا ہے جنت سے نکالا گیا۔اور اس دنیا میں بھیج دیا گیا۔ یہ ہے جدائی

ہم بھی یہی لکھ رہے تھے جو آپ  نے بیان کر دیا شکریہ

بانسری سے کہانی سنو ۔ کہ وہ اپنی جدائیوں کی شکایت کرتی ہے 

یعنی بانسری کو بانس کے جنگل سے کاٹاگیا ہے ۔ اور بانسری اسی اصل سے جدا ہونے کی شکایت بیان کرتی ہے ۔ مولانا نے بانسری کی دردانگیز آواز کی عجیب و غریب حکمت بیان کی ہےوہ کہنا چاہتے ہیں کہ بانسری کی آواز میں اتنا اثر اتنا درد بلا وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اپنے محبوب سے جدا ہونے کی وجہ سے درد بھری صدا دیتی ہے۔

سن کے نےؑ کہتی ہے اپنی داستان
درد ہجراں سے ہویؑ ہے نوحہ خواں
کاٹ کر لاےؑ نیستاں سے یہاں
مرد و زن میری نوا سے خونچکاں

درد بحراں ہے نوحہ خواں اور وصل خشت اس کا مدعا

بشنو از نے چوں حکایت می کند
وز جدائیھا شکایت می کند

بشنو ۔۔۔۔۔

شنیدن مصدر سے فعل امر ہے ۔ شنیدن ۔ سننا۔ مضارع ۔۔ شنود ۔ بشنو تم سنو ۔
از ۔۔۔۔۔۔۔

سے

نے

بانسری

چوں
جب ، جیسے ۔ وغیرہ

حکایت

داستان ، کہانی

می کند ۔

کردن مصدر سے ہے ۔ کند مضارع ۔ معنی ہے کرنا ۔ می کند فعل حال ۔
وز
و جمع از سے وز ۔۔

اور سے ۔

جدائیھا ۔ جدائی کی جمع

شکایت ۔۔
گلہ۔ شکوہ
می کند ۔
کرتی ہے ۔

بانسری سے کہانی سنو ۔ کہ وہ اپنی جدائیوں کی شکایت کرتی ہے ۔

شرح ۔ یعنی بانسری کو بانس کے جنگل سے کاٹا گیا ہے ۔ اور بانسری اسی اصل سے جدا ہونے کی شکایت بیان کرتی ہے ۔ مولانا نے بانسری کی درد انگیز آواز کی عجیب و غریب حکمت بیان کی ہے وہ کہنا چاہتے ہیں کہ بانسری کی آواز میں اتنا اثر اتنا درد بلا وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اپنے محبوب سے جدا ہونے کی وجہ سے درد بھری صدا دیتی ہے۔

کز نیستاں تا مرا ببریدہ اند
از نفرم مرد و زن نالیدہ ام

کز
کہ از سے مرکب ہے ۔ کہ ۔۔ سے

نیستاں ۔۔

بنسلی ۔۔ بانس کا جنگل

تا مرا

جب سے مجھے

ببریدہ اند

بریدن مصدر سے کاٹنا ماضی قریب ۔

مطلب ۔۔۔انہوں نے مجھے کاٹا ہے یعنی مجہول معنی یہ ہو گا کہ مجھے کاٹا گیا ہے ۔

از ۔ نفرم
نفرم
میری آہ و زاری سے
مرد و زن ۔
مرد اور عورتیں یعنی تمام لوگ

نالیدہ اند ۔

روتے ہیں ۔

بانسری کی زبانی اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں ۔ جب سے مجھے بانس کے جنگل یعنی میرے گھر سے جدا کیا گیا ہے میرے اندر جدائی کے سبب اتنا درد پیدا ہو گیا ہے کہ میری آہ و زاری سے مرد و زن روتے ہیں ۔

سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق
تا بگویم شرحِ دردِ اشتیاق

سینہ خواہم
میرا سینہ چاہتا ہے ۔
خواستن مصدر سے معنی چاہنا ۔
شرحہ شرحہ ۔
پارہ پارہ
از فراق
جدائی کی وجہ سے

تا
تاکہ ۔
بگویم ۔
گفتن مصدر سے ۔ معنی کہنا ۔ گوید مضارع ۔ معنی کہے ۔ گویم ۔ میں*کہوں ۔
شرح درد اشتیاق ۔
ملاقات کے درد کی شرح

یعنی میرا سینہ جدائی اور فراق کے سبب پارہ پارہ ہوا چاہتا ہے ۔ تاکہ میں* فنا ہو جاؤں اور ملاقات کے شوق کی شرح بیان کر سکوں

RSS

Looking For Something? Search Here

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.