www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

سن کے نےؑ کہتی ہے اپنی داستان
درد ہجراں سے ہویؑ ہے نوحہ خواں
کاٹ کر لاےؑ نیستاں سے یہاں
مرد و زن میری نوا سے خونچکاں
جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا
ہو گا وصل خشت اس کا مدعا
یہ نواےؑ نےؑ اسی کے دم سے ہے
زندگی کی لے اسی کے دم سے ہے


Nawai Ney, Tina Sani, Coke Studio Pakistan... by سروش

آج ہم اپنا طریق بدل رہے آج سوالات آپ سب اٹھاییں گے جو ہم پوسٹ میں شامل کرتے جاییں گے اور ان کے جواب تلا ش کرنے کی کوشش کریں گے آپ سب کو سوالات کی دعوت دی جاتی ہے ہم مشکور ہوں گے


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 1135

Reply to This

Replies to This Discussion

کز نیستاں تا مرا ببریدہ اند
از نفرم مرد و زن نالیدہ ام

یہاں دوسرے مصرع میں "نفر" نہیں نفیر ہے
بانسری میں پھونک مارنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اسے نفیر کہا جاتا ہے

سینہ خواہم شرحہ شرحہ از فراق
تا بگویم شرحِ دردِ اشتیاق

اس شعر میں
"سینہ خواہم" کا ترجمہ ﴿میرا سینہ چاہتا ہے﴾ نہیں ہے بلکہ اس کا ترجمہ یوں ہوگا
مجھے سینہ درکار ہے
یعنی مجھے ایسا سینہ چاہیئے جو پارہ پارہ ہو چونکہ بانسری میں سوراخ ہوتے ہیں اور انہی سوراخوں کی وجہ سے اس میں سے صدائے نغمہ برآمد ہوتی ہے
اس لیے اس کا کہنا یہ ہے کہ
جب سینہ جدائی کے درد سے چھلنی چھلنی ہو جائے تو پھر درد اشتیاق کی تشریح کی جا سکتی ہے
بانسری کے سینہ میں سوراخ نہ ہوں تو اس کے نغموں میں تاثیر نہ ہو

کاٹ کر لاےؑ نیستاں سے یہاں

مرد و زن میری نوا سے خونچکاں
----------------------------------------------------------------------

لفظی:

بانسری کہتی ہیں کہ وہ مجھے عدم سے کاٹ کرلائے ہیں۔یعنی جس جنگل سے مجھے کاٹا گیا وہ بھی ختم ہو چکا۔ لیکن مرد اور عورت سب میرے سُروں سے مدہوش رہتے ہیں۔

شرح:

------------------

یہ دنیا عدم ہے ۔ہر چیز یہاں ختم ہو جانی ہے۔ بانسری ہو یا وہ جنگل یہاں سے بانسری کاٹی گئی سب عدم ہے۔ وہ کہتی ہے تم مجھے عدم سے عدم میں لائے ہو۔ اور مجھ سے یہ کٹ جانے کا غم برداشت نہیں ہو رہا اور میں مسلسل نوحہ کناں ہوں۔ بندہ اپنے خالق سے کٹا ہے ۔اور وہ عالم ازل سے عدم میں لایا گیا ہے۔ پس اُسے یہ جدائی کا غم لے بیٹھا۔ وہ رو  رو کر وصل کی بکا کر رہا ہے۔ آدم علیہ السلام وصل کی لیے نو سو سال غالباً روتے رہے۔

Close this discussion.

سب ڈر رہے ہیں۔

Speechless discussion.

Jitni bar perho utna he km hy..

آپ جاری رکھیں سب سیکھ رہے ہیں

اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجھے ایک ایسے سینے کی تلاش ہے جو میری طرح مجروحِ الفت ہو اور ہجروفراق جھیل رہاہو کہ میں بھی اس کے سامنے اپنے فراق کے نالے الاپ سکوں،یعنی میری بپتا اسے ہی سمجھ آئے گی جس پر پہلے بیت چکی ہو،جو اس منزل کا راہ رو ہی نہیں اس کے سامنے کیارونا،لیکن شاید علامہ اقبال اس کے حق میں نہیں ہیں کہ زخمِ جگر دوسروں کودکھایاجائے بلکہ وہ تو فرماتے ہیں
پھراکرتے نہیں مجروحِ الفت فکرِ درماں میں
یہ زخمی آپ کرلیتے ہیں پیدا اپنی مرحم کو

جاری رکھۓ ہم جیسے لوگ اس سے بہت کچھ سیکھ رہی ہیں۔۔

تیسرے شعر کی تشریح سننے کا حوصلہ ہے کیا؟۔

اس پر حال بھی پڑسکتا ہے۔ جیسے مجذوب پر حال طاری ہوتا ہے۔

اتنا حوصلہ تو ہی جناب ہم میں بھی۔۔ آپ شروع کریں۔۔

ہر کسے کو دور ماند از اصل خویش

باز جوید روز گار وصل خویش

جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا
ہو گا وصل خشت اس کا مدعا

روح عالم ارواح میں   ،جیسے بانسری بنسلی میں لوٹنے کی مشتاق ہے

جو کویؑ اپنی اصل سے دور ہو جاتا ہے

 وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر تلاش کرتا ہے

جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا

ہو گا وصل خشت اس کا مدعا
----------------------------------------------------------------------------

لفظی:

جو کوئی نفس اپنے ازلی محبوب یعنی رب سے جدا ہو گا۔وہ ایسا کوئی وصیلہ ڈھونڈتا پھرے گا 

جسے پا کر وہ اپنے محبوب سے مل سکے۔

------------------------------------------------------------------------------

تشریح:

کوئی نفس جوبھی اپنے ازلی محبوب یعنی ربِ رحیم سے جدا ہو گا۔ وہ اُسی کی طرف پلٹنے کے ہیلے بہانے ڈھونڈتا پھرے گا۔ وہ قرار نہیں پائے گا جب تک جہاں سے ٹوٹا تھا وہاں نہ پہنچ جائے ۔

انسان جنت سے نکالا گیا گو اپنے رب سے ٹوٹا۔وہ کرب میں زندگی گزارتا ہے۔ ہر دم اُسے ملے کی خواہش کرتا ہے۔ اور آخر موت کا کڑوا ترین جام اُسے ملتا ہے اور وہ یہ جام بھی باخوشی پی لیتا ہے تاکہ وہ اپنے محبوب سے جاملے۔

حدیث شریف میں ہے کہ پاک روح کو جب کہا جاتا کہ اپنے رب کی ملاقات کو چل تو وہ جھوم جاتی ہے اور خوشی سے اچھل کر نکلتی ہے اور فرشتوں کے ساتھ ہولتی ہے۔

اُسے وصل کی نوید مل گی۔

جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا
ہو گا وصل خشت اس کا مدعا

Whoever is cut from   Divine

Will have to seek a way to rejoin

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.