www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

سن کے نےؑ کہتی ہے اپنی داستان
درد ہجراں سے ہویؑ ہے نوحہ خواں
کاٹ کر لاےؑ نیستاں سے یہاں
مرد و زن میری نوا سے خونچکاں
جو بھی اپنی ازل سے ہو گا جدا
ہو گا وصل خشت اس کا مدعا
یہ نواےؑ نےؑ اسی کے دم سے ہے
زندگی کی لے اسی کے دم سے ہے


Nawai Ney, Tina Sani, Coke Studio Pakistan... by سروش

آج ہم اپنا طریق بدل رہے آج سوالات آپ سب اٹھاییں گے جو ہم پوسٹ میں شامل کرتے جاییں گے اور ان کے جواب تلا ش کرنے کی کوشش کریں گے آپ سب کو سوالات کی دعوت دی جاتی ہے ہم مشکور ہوں گے


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 1135

Reply to This

Replies to This Discussion

تصوف ہے عام کو سمجھ نہ آئے گا۔

اور مہربانی کرکے کوئی گہرا سوچے بھی نہ۔

اور وصل کا جام پینے کی کوشش نہ کرے ۔میں ذمہ دار نہ ہوگا۔

 ۔۔جیسے پاک روحوں نیک لوگوں کے جنازے کو جنازہ نھیں بارات کہتے ہیں

یہ نواےؑ نےؑ اسی کے دم سے ہے
زندگی کی لے اسی کے دم سے ہے
------------------------------------------------------------

لفظی:

بانسری اور سب کی آہ و بکا اُسی قائم و دائم کی وجہ سے ہے

اور زندگی کا سانس اور ترتیب اُسی ایک کی وجہ سے ہے۔

-------------------------------------------------------------

تشریح:

بانسری میں سوز ہے تو قادرِ مطلق کی وجہ سے ہے۔ سب کے نالے اُسی کی وجہ سے ہیں۔

زندگی اُسی نے قائم رکھی ہوئی ہے۔

& thats end.

Thanks a lot Zakki  and سروش for explanation. 

very nice.... Thanks for sharing

Superb speechless 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.