We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

کیا خدا کا تصورایک ذہنی ارتقاء ہے

ایک نظریہ جو خدا کے وجود کے بارے میں عام طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ خدا کا تصور انسانی ابتدائی ذہن کی اختراع ہے۔

جب انسان نے مختلف مظاہر فطرت کی وجوہات کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور اسکو اسکی کوئی سائنسی/منطقی توجیہہ نہ ملی تو اس نے کسی فوق الفطرت ہستی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اور یوں خدا کا تصور پیدا ہوا جو ارتقاء کا سفر طے کرتے ہوۓ ۔۔۔۔۔ دیوی دیوتاؤں سے اور مختلف مظاہر کی پوجا پاٹ سے شروع ہوا ۔۔۔۔ اور ایک خداۓ واحد تک پہنچا اور چونکہ سائنسی علوم کی ترقی نے انسان کو اس قابل بنانا شروع کر دیا ہے کہ وہ ان کائناتی مظاہر کی توجیہات بیان کر سکے تو یہ ذہنی ارتقاء "انکار خدا" کیطرف جا رہا ہے۔

مختصرا اس نظریے کا کہنا ہے خدا کا تصور مطلق نہیں ہے صرف انسانی ذہن کی اس سعی یا بے بسی کا اظہار ہے جو وہ نامعلوم علت کو "خدا" سے منسوب کر کے اپنی جان چھڑاتا ہے۔
..................................

اس نظریے کو سپورٹ کرنے کے لیۓ عموما قدیم یونانی دیومالائی اور ہندومت کی مثال دی جاتی ہے۔ انکا ایک مختصر جائزہ لینے سے پہلے ایک ضروری بات جو نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک سپریم گاڈ، پاور یا ارفع روح  کا تصور دیوملائیت میں بھی رائج رہا ہے ۔۔۔۔۔ جیسے یونانی دیوملائیت میں زیئوس کو تمام دیوتاؤں کا بادشاہ کہا گیا اور ہندو مت میں ایشور کا تصور ہے جو کہ ایک سپریم سول ہے۔ اس سپریم اینٹیٹی کے وجود کی وجہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ خدا کے تصور کی ابتدائی شکلیں نہیں بلکہ خداۓ واحد کے تصور کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں میرے نزدیک سب سے بڑی وجہ مذہبی پروہتوں ، پیشواؤں کا کردار ہے جو وہ اس طرح کے عقائد گھڑ کر مذہب کو بطور آلہ استحصال استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ زمانہ وسطی میں عیسائیت میں پادری کا کردار اور اسلام میں ملائیت کا کردار اسی استحصال کا تسلسل ہے۔


اس مذہبی استحصال کے تسلسل کی وجہ سے آج بھی یہ متھ کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے جیسے آپ کے قریب ترین ہندو مذہب اور اسلام میں قطب، ولی ،پیغمبر، غوث وغیرہ جنکو اللہ کا فرستادہ مانا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ وہ کائناتی امور میں دیوتاؤں کی مانند تصرف رکھتے ہیں یا اللہ کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ (ایک جملہ معترضہ) جب تک یہ کردار غالب رہے گا انسانی فکر خدا کے ساتھ اصل تعلق کو بھی سمجھنے سے قاصر رہے گی اور دوسری انتہا کے طور پر خدا کے وجود کا انکار بھی ہوتا رہے گا۔


دلچسپ بات یہ ہے ان قدیمی مذاہب میں ایک طبقہ ایسا بھی نظر آتا ہے جو ان عقائد پر تنقید کرتا ہے یا سوالات اٹھاتا ہے جیسے یونانی مفکروں ارسطو، افلاطون اور سقراط کی تحریرات اور اقوال سے اندازہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ بلکہ سقراط کے بارے میں تو کہا جاتا ہے ہے شاید وہ توحید پرست تھا ۔۔۔۔۔ اسی طرح ہندو مذہبی کتابوں میں خداۓ واحد کا تذکرہ بھی ملتا ہے ( ڈاکٹر ذاکر نائیک اس پہلو پر اکثر حوالہ جات سے روشنی ڈالتے ہیں)۔


اسی طرح آسمانی صحائف میں موجود قصص بھی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ ان قدیم تہذیبوں میں بھی "خداۓ واحد" کا ذکر اور تبلیغ ملتی ہے جیسے فرعونی تہذیب میں پیغبر یوسف (ع) اور موسی (ع) ۔۔۔۔ اسی طرح 2000 سال قبل مسیح بابل و نینوا کی تہذیب میں ابراہیم (ع) کی موحدانہ تحریک۔


اوپر بیان کردہ نظریہ مذہبی ارتقاء کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اب انسانی ذہن اتنا ترقی یافتہ ہو چکا کہ وہ خدا کا انکار کر دے یا کر دے گا یہ بات بھی سراسر صرف ایک مفروضہ ہی ہے ۔ کیونکہ انکار خدا ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ اسکا ارتقاء سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مشہور فلسفی جان لاک (1632 – 1704) سے متعلقہ ایک بات نظر سے گزری کہ افریقہ کے کئی جنگلی قبائل میں "خدا" کا تصور سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ اسی طرح مذہب بدھ مت خدا کے خارجی تصور سے خالی ہے۔


کوئی چار سو سال قبل مسیح یونانی ڈرامہ نگار یوریپیدس اپنے ڈرامہ میں یہ لائن لکھتا ہے 

?Doth some one say that there be gods above 
There are not; no, there are not. Let no fool, 
Led by the old false fable, thus deceive you


اسی طرح 1400 سال قبل نازل ہونے والی آسمانی کتاب قرآن میں بھی منکرین خدا کو بار بار ایڈریس کیا گیا ہے جو اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ خدا کے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ خدا کا انکار کرنے والوں کی بھی ایک ذہنیت موجود رہی ہے۔ حتی کہ قدیم مسلم کلچر میں ابن الراوندی، مشہور شخصیت محمد ابن زکریا الرازی جیسے لوگ مذہب و خدا کا انکار کرنے والوں میں سے تھے۔


اختتام اس بات پر کرنا چاہوں گا کہ اقرار خدا یا انکار خدا کسی انسانی ذہنی ارتقاء کی منزل نہیں اور نہ ہی اختراع ہے۔ یہ مخالف سمت میں چلنے والے دو سفر ہیں۔ جسطرح ریاضی، منطق اور مطلق اخلاقیات کے امتیازی اور واضح تصورات ہمیں پیدائشی طور پر ودیعت ہیں ۔۔۔ بدیہی ہیں ... انسان کی اختراع نہیں ہے بعینہ ایک کامل و اکمل اور مطلق ہستی مکمل کاملیت کا تصور ہمیں ودیعت کیا گیا ہے اور ایک کامل و اکمل اور مطلق ہستی کا تقاضا ہے کہ وہ کہیں وجود بھی رکھتی ہو وگرنہ وہ کامل و اکمل نہیں ہو سکتی۔

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 292

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

Replies to This Discussion

منحوس گفتگو ہے۔

فوری طور پر ختم کردیں۔

یہ شیطانی سوچ ہے

Zakki me partially tumhari bat se agree kerta hon, but discussion k khilaf nahi. Han shart ye hai k agar koi competent ho to...

وجود باری پر سوچ شیطانی وسوسہ ہے۔ 

اللہ اس سے بچائے

Amir bhai ye aik sensitive topic hai jis pe me kabi b open discussion nahi kerna chahonga. Meri knowledge is bare me kuch different hai, or mene clarity k liye is post me b kuch sawalat uthaye thay....

http://vustudents.ning.com/forum/topics/3783342:Topic:5109631

Khair mujhe apne ilm ko discuss to bilkul nahi kerna but clarity k liye kindly mujhe is sentence ko thora mazeed explain ker dain:

ایک کامل و اکمل اور مطلق ہستی کا تقاضا ہے کہ وہ کہیں وجود بھی رکھتی ہو وگرنہ وہ کامل و اکمل نہیں ہو سکتی۔

بھیا پہلی بات یہ کہ کس بات کا خوف آپ کو گھیرے ہوۓ ہوۓ ہے؟ جو آپ موضوع پر بات کرنے سے ڈر رہے؟
 

absolute perfection

مطلق کاملیت کے جو ایٹربیوٹس ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ وجود رکھتی ہو اور بالذات قائم  ہو۔۔۔۔ سو خدا ایک مکمل پرفیکشن ہے اور اسکا تقاضا ہے کہ وہ خارج میں وجود بھی رکھتی ہو۔ یعنی یہ کوئی خیالی تصور نہیں ہے۔

تیسرا اگر آپ کا اصرار ہے تو میں بہر حال اسکو ہٹا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔ 

No sir, m never afraid of discussion.....i am afraid to disclose my opinions, kahin koi kuffar ka fatwa hi na laga de...Attributes kisi maddi shay k hote hain, Allah aik Lateef wajood hai. I am ready to discuss this with you cos I know you are competent for this. I will try to keep myself within limits....

تو آپکی اور میری بحث بنتی ہی نہیں ۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں دو مختلف نظریات رکھنے والوں کے درمیان ہی ہو سکتی ہیں ۔۔۔۔ اور ہمارے نظریات مختلف نہیں ۔۔۔۔
باقی رہا فتوی ۔۔۔۔۔ یہ کونسا پہی مرتبہ ہونا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ 

:-)

کر لے جس نے شوق پورا کرنا ہے۔

But meri attributes wali query ka jawab dain, m anxious to know it.

 آپ نے کہا اللہ ایک لطیف وجود ہے ۔۔۔۔۔ آپ نے خود لطافت کا  وصف خدا کی ذات سے منسلک کر دیا جبکہ میرے کسی وصف کے منسلک کرنے پر ا عتراض کر رہے کہ وصف صرف مادی اشیاء کے ہوتے ہیں۔

Lateef k meaning me unmeasurable ki sense me leta hon, iske kiye lafz ka istamal beshak koi or behtar ker lain. Maddi wajood beshak chand sitaray sab hon measurable hain, or wo attributes rakhte hain. Jo wajood unexploreable ho uske attributes kese bataye ja sakte hain?

پہلی بات یہ کہ لفظ 

attribute 

صرف مادی اشیاء کے سکوپ میں نہیں آتا ۔۔۔۔۔ آپ ڈکشنری اٹھا کے دیکھ لیں۔۔۔۔ دوسرا میری بھی سینس وہی ہے جو اسکی شان کے لائق ہے۔۔۔۔ میں فانی اور متناہی ہوں سو غیر فانی اور لا متناہی کو محدود الفاظ سے ہی ایکسپریس کروں گا 

Chalain aisa hai k waise b mujhe apni auqat (i mean limits ) me hi rehna hai, so agar me ye chahon k ap is post ka thora sa clear conclusion or message bayan ker dain. I will be obliged...

Agar zarorat pari to me b kuch share keron ga...but it all depends, its not my priority

RSS

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.