Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں

لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

مرا خط پھینک کر قاصد کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں

ابھی اے جاں تونے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں

قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں

جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آکے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں

چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں

قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
حباب آ سا ٹھہرتے ہیں*تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں

ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

بڑے ہی قدرداں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں

وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں

امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

 

امیر مینائی

 

 

Views: 126

Reply to This

Replies to This Discussion

آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
(مير تقي ميرؔ)
آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
تو بھي ہم دل کو مار رکھتے ہيں
برق کم حوصلہ ہے ہم بھي تو
دل اک بے قرار رکھتے ہيں
غير ہے مورد عنايت، ہائے
ہم بھي تو تم سے پيار رکھتے ہيں
نہ نگہ، نہ پيام، نہ وعدہ
نام کو ہم بھي يار رکھتے ہيں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں يوں تو
لب ہ لہجہ ہزار رکھتے ہيں
چھوٹے دل کے ہيں يہ بتاں مشہور
بس يہي اعتبار رکھتے ہيں
پھر بھي کرتے ہيں ميرؔ صاحب عشق
ہيں جواں اختيار رکھتے ہيں

RSS

Looking For Something? Search Below

Latest Activity

© 2022   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service