We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ دین اسلام اور ہمارے معاشرے میں ماﺅں کا مقام اور مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے حدیث نبوی بھی ہے کہ ”جنت ماﺅں کے قدموں تلے ہوتی ہے“ ماں کوایک مرتبہ مسکرا کر دیکھنا بھی نیکی میں شمار ہوتا ہے لیکن آج کے دور میں نظر اُٹھا کر دیکھیں تو ہمارے اطراف میں آج کی اولادوں اور آج کی مائیں کیا اپنا فرض صحیح طریقے سے ادا کررہی ہیں؟

نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے آج کا دور بہت زیادہ تیز رفتار ترقی کا دور ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈا کی ترقی نے اور الیکٹرانک اشیاءکی بھر مار نے جہاں زندگی کو آسان سہل اور پرتعیش بنا کر پیش کردیا ہے وہیں ہم ماﺅں کی ذمہ داریوں میں بھی بے پناہ اضافہ کردیا ہے اور کیا دور حاضر کی ماں ان ذمہ داریوں کے احسن طریقے سے پورا کررہی ہے آج کا یہ سوال نئے دور میں تمام ماﺅں کے لئے ایک سوالہ نشان ہے؟

آج کی ماﺅں کو دراصل دوہرے محاذ پر لڑنا ہوگا انہیں اسے اپنے آپ کو اس قدر تیکنیکی ساﺅنڈ کرتے ہوئے اپنے بڑھتے ہوئی عمر کے بچوں کی نگہداشت کرنی ہوگی کہ انہیں یہ محسوس نہ ہو کہ ان پر کوئی پابندی عائد کی جارہی ہے یا وہ کسی دباﺅ کا شکار ہیں نو عمر بڑھتی ہوئی عمر کے بچے اور بچیاں نازک سے پھلوں کی کلیوں کے ماند ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی آلودگیوں سے بچانے کے لئے ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور عصر حاضر کی ماﺅں کی کمپیوٹر امیج کے ان بچوں کو ہینڈل کرنے کے لئے بہت دانشمندی اور عقل و فراست سے کام لیتے ہوئے انہیں مطلوبہ ٹائم دینا ہوگا کہ کہیں یہ کلیاں جنہیں پھول بن کر کھلنا ہے بن کھلے ہی نہ مرجھاجائیں اور یہ ہم ماﺅں کی ہی ذمہ داری ہے کہ ہم ارفع کریم ارندھا معین نوازش ملالہ یوسف زئی اور شرمین عبید چنائے بننے میں مدد دیں اپنی بڑھتی ہوئی عمر کے بچوں کو قوت دیں انہیں بزرگان دین کے بارے میں اور اسلام کی بنیادی باتوں کا شعور دیں ان کی نصابی اور ہم نصاب سرگرمیوں میں ان کا ساتھ دیں جب وہ ٹی وی چینل کھولیں یا کمپیوٹر اور نیٹ وغیرہ کا استعمال کریں تو حتیٰ المقدور وقت ان کے ساتھ رہ کر گزاریں یہ آج کے بچے ہی ہیں جو کل کے اچھے معاشرے اور بہترین پاکستان کا مستقبل ہیں نپولین نے کیا خوب کہا تھا کہ ”تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔

آیئے ماضی اور  حال اور مستقبل کے آیئنے میں دیکھتے ہیں کہ کیا  ماں کا کردار اپنے فرض کو نبھا رہا ہے؟؟

ماں میں یہ دکھ کس سے کہوں کیا تو آج بھی میرا دکھ جاننے کی صلاحیت رکھتی ہے ؟ کیا آج کی ماں اولاد کا دکھ سمجھتی ہے؟میرا یہ سوال ماں سے ہے۔۔۔۔


HAMID ALI BELA - Maaye Ni Main Kino Aakhan... by muhammad-naseer1

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 613

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

Replies to This Discussion

کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں کہ دشمن اپنی چال میں کامیاب ہونے کو ہے اور ہم اپنی لاابالی طبیعتوں اور نااہلیوں کی وجہ سے اس کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں؟؟

کیا ہم کو اس کے تدارک میں اپنا فعل ادا نہیں کرنا چاہیے؟؟

بالکل ہمارا کردار سب سے اہم ہے۔  ہمیں اس کی ابتداء اپنی زات سے کرنی ہے۔ 

ol is title ki samjh ni alahi yeh kia hy hun??? 

me ko punjabi ni andi 

matlab,

"maa mein kis say kahon? "

اگر آج کی ماں ین سب اقدار سے خود فارغ ہے تو میں اپنا یہ دکھ کس سے کہوں

ماں کے بعد ایسا کون سا سایہ ہے دنیا میں جس کے زیر سایہ میں تپتی دھوپ میں جھلس نا سکوں؟؟؟

thanks sisters 

Maa aik aesa rishta jis ki waqi koi misal nhi, bhaly wo aj k dor ki maa ho ya purany dor ki, bacho ki tarbiyat may koi kasar nhi chorti , han aksr maay may ny aesi dekhi hy jo working mothers hoti hain jin ki masrofiyat ki wja sy bachy miss hoty hain es ka bht bura effect hota hy khsa kr toddlers pay, jin ko khas zarort hoti hy maa ki us age may,
may ye kahu ge k bachy ho to maa ko job nhi krni chaye kiu k aik maa k responsibility double ho jati hy , ghr, job, bachy etc etc .. agr bhht hi ashad zarort ho to job kary warna nhi ,

...........................
Akhiyan dy wich wassan
Waily loki lakh hazar
Main ty labna phirna waan
bas maaye tera piyar
Bujhny lagi hain aankhain
Tujh juri hain saansein ho
Dil mera tora kaahy
Hai ye wichora kaahy
Daikhon main teri raahein
Ho...
Ho mera dard na jany koi hor
Maaye ni..Maaye ni
Maaye ni..Maaye ni

Kaisy ratiyan bitaoun maaye ni
Maaye ni.. Maaye ni
Kahein chain na paoun
Maaye ni.. Maaye ni

Sadiyon ki toti bailain
Dil ki dareechy mein
Lamho sy rothy lamhy
Mujh sy akely mein
Beety zamany kitny
Kitny samy hain baaqi
Saansein ukhadny mein
Ho...
Kahli haath na awein maino tor
Maaye ni..Maaye ni
Maaye ni..Maaye ni
Maaye ni..Maaye ni...!!!

very nice shareing

ہمارا سوال یہ تھا کہ کیا آج کی ماں اپنے فرائض بخوبی ادا کر رہی ہے؟؟

سوشل میڈیا کی جنگ میں کیا مائیں اپنے بچوں کی ذہنی کثافت دور کرنے میں کامیاب ہیں؟

ہم یہ سوال بھی  کرنا چاہیں گے کہ آج کی ماں کی ترجیحات اسے  کس موڑ پر کھڑا کر دیں گی۔؟؟کیا اس کی ترجیحات اس کے بر عکس نہیں ہونا چاہیں؟؟

آج سے پینتیس چالیس سال پہلے کی ماﺅں کو اگر دیکھا جائے اور ان کا موازنہ آج کے دور کی ماﺅں کے ساتھ کیا جائے تو کس قدر واضح فرق نظر آتا ہے گئے وقتوں کی ماں سارا دن گھر میں ہی رہتی تھی اور گھریلو جملہ خانہ داری کے امور بڑی جانفشانی کے ساتھ سرانجام دیتی تھی بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ ماں کی متانت فراست اور تجربے میں اضافہ ہوتا جاتا تھا اور ظاہری وقار اور رکھ رکھاﺅ بھی اسی طرح میانہ روی اور بردباری کے ساتھ بتدریج نمایاں ہوتا تھا پرانے وقتوں کی شاید ہی کوئی ماں ایسی ہوگی جو رات کو اپنے بچوں کو علاقائی کہانیاں لوگ داستانیں اور لوری نہ سناتی ہوں گی چاہے اس ماں کا تعلق پاکستان کے کسی بھی صوبے زبان اور علاقے سے ہو وہ چٹی ان پڑھ ہو یا پڑھنا لکھنا جانتی ہو پرانے وقتوں کی شاید ہی کوئی ماں اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے چار سے چھ گھنٹے پارلر میں گزارتی ہو آج کی مائیں اپنے بچوں کو آیاﺅں،ماﺅں اور ماسیوں کے حوالے کرکے بڑے مزے سے دن کے چار سے پانچ گھنٹے پارلر میں گزاتی ہیں ان کے بعد ونڈوشاپنگ اور فٹنس کو قت دیتی ہیں درمیانے طبقے کی مائیں وہ وقت جو کہانیاں سنانے دین کی باتیں بتانے کا ہوتا تھا دعائیں یاد کرانے میں صرف کرتی تھیں،وہ وقت وہ اسٹارپلس اور پاکستانی چینلز کے ہوش ربا اور لادینی واقعات پر مشتمل ڈرامے دیکھ کر گزارتی ہیں پوش علاقوں کی مائیں اپنے نو عمر بچوں کو موبائل فون سیٹ دے کر اور گیمز پر بٹھا کر گھنٹوں فون پر دوستوں سے گپ شپ کرکے فیس بک استعمال کرکے یا پھر مختلف ریستورانوں میں جا کر برگر پیزا اور ڈرنک پلانے کے بعد خود کو ماڈرن مائیں ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں انہوں نے اپنے بچوں کوکافی ٹائم دے دیا ہے آخر اپنی ذات پر ان کا بھی تو حق ہے وہ کیوں نہ اسمارٹ رہیں فٹ رہیں اور واقعی اگر کل اور آج کی ماﺅں میں موازنہ کیاجائے تو بڑا واضح فرق نظر اتا ہے کل کی بارہ چودہ سالہ بچے کی ماں تو نظر آتی تھی آج کل اتنے بڑے بچے کی ماں اس کی ماں کم اور بڑی بہن زیادہ نظر آتی ہے وجہ تمام تر توجہ اپنے اوپر دینا ہوتا ہے صحت اور فٹنس کا خیال رکھنا بہت اچھی عادت ہوتی ہے مگر بچوں کی جسمانی جذباتی اور بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اس کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ایک ماں کی ذمہ واری ہوا کرتا ہے آج کی بیشتر مائیں پڑھی لکھی ہوتی ہیں جب کہ پہلے کی ساٹھ سے ستر فیصد مائیں ان پڑھ ہوتی تھی یا پھر صرف خط و کتابت یا اخبار پڑھنا جانتی تھیں مگر جب اس چٹی ان پڑھ یا واجبی پڑھائی والی ماں کا بیٹا بھی جب فوجی جوان بن کر لوٹتا تھا یا ڈاکٹر بنتا تھا بنک میں کسی اعلیٰ عہدے پر ہوتا تھا پائلٹ بنتا یا بزنس مین سب سے پہلے وہ ماں کے قدموں میں آکر بیٹھتا ماں کی دعائیں لیتا سر پرہاتھ پھرواتا وہ کبھی ماں کو یہ نہ کہتا کہ ماں آپ کو تو کچھ پڑھنا ہی نہیں آتا یا آپ تو کچھ نہیں جانتی ہیں نہیں آپ کو کیا معلوم یہ کیا چیز ہے دراصل ہیں احترام وقعت اور ادب اس گزارے ہوئے وقت اور کاموں کی انجام دیہی کے بعد ہی مل پاتا ہے جو پہلے کی مائیں بچوں کے ساتھ گزارا کرتی تھی ان کو ادب آداب بڑوں کا لحاظ اور چھوٹوں سے شفقت کا درس دے کر پورا کرتی تھیں آج کا بچہ تو برملا کہتاہے کہ ماں سے بغیر کسی لحاظ کے مما آپ کو کیا پتہ اس گیم میں کیا ہوتا ہے کمپیوٹر کس طرح چلایا جاتا ہے آپ کو تو کچھ معلوم ہی نہیں ظاہر ہے جب مائیں بچوں کو گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بٹھا دیں یا نیٹ اور کمپیوٹر دلا کر اپنے فراض سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے غیر ذمہ داری والے رویئے کا اظہار کریں گی تو انہیں کسی قسم کے جواب کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ تیز رفتارترقی کے دور میں جو تھوڑا بہت ادب آداب اور بڑوں بزرگوں اور ضعیفوں کا احترام جو بچاکچا رہ گیا ہے وہ بھی کہیں ایسا نہ ہو مدرڈے کے حوالے سے ایک تہنیتی پیغام کی حد تک رہ جائے اور ماں کو مدرڈے گفٹ بھیجنے کے بعد لگے مدرڈے پر ہی یاد کیا جائے گا۔

RSS

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.