Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

مرد و عورت کی تخلیق میں فطری تفاوت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ ہر ایک کو ان صلاحیتوں سے بہرہ ورکیاگیا ہے جو اس کے فرائض کے مناسب حال ہے۔ مردوں کے اوصاف عورتوں میں نہیں، نہ عورتوں کے اوصاف مردوں میں ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ نام نہاد جدید معاشرہ میں عورت کو حاکم بنانے پر رات دن قوت صرف کی جارہی ہے جبکہ تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ باس کی کرسی پر براجمان خواتین کیلئے ان کا عہدہ ذہنی دباو کی علامات کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس کا ہم منصب مرد اعلی سطح کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کےساتھ ، عام طور پر زیادہ با اعتماد ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ’آزادخیال‘طبقہ کو اس سے تکلیف پہنچی ہو لیکن اس کا کیا کیجئے کہ یہ موقف کسی ’طالبانی‘کا نہیں بلکہ ٹیکساس یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر، تیتیانا پیدروسکا نے پیش کیا ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ خواتین باس جنھیں کارکنوں کی ہائرنگ اور بیدخلی سمیت تنخواہ سے متعلق معاملات کیلئے صریحی اختیارات حاصل تھے، وہ پاورفل اختیارات رکھنے کے باوجود، نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں۔ ایسی خواتین میں ڈپریشن کی علامات ان خواتین کی نسبت زیادہ تھیں جو جاب کیساتھ اختیارات کی مالک نہیں تھیں۔

لیکن تحقیق کے نتیجہ کا دوسرا پہلو اس لحاظ سے دلچسپ رہا کہ اس عورت باس کے مقابلہ میں مرد باس میں ڈپریشن کی علامات ایسے ملازمت پیشہ مردوں کے مقابلے میں خاصی کم تھی جن کا جاب با اختیار نہیں تھا۔’جرنل ہیلتھ اینڈ سوشل بی ہیویر‘کے دسمبر کے شمارہ میںشائع ہونے والے مطالعے کا عنوان’جینڈر،جاب اتھارٹی اور ڈپریشن‘ہے جس کیلئے 1300 مرد اور 1500 خواتین کو بھرتی کیا گیا۔مطالعے کے معاون مصنف تیتیانا پیدروسکا نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین جنھیں اختیارات حاصل نہیں تھے، ان میں ذہنی تناو کی علامات کی سطح ان مردوں کے مقابلہ اوسطاً زیادہ تھی جو جاب پر اختیارت کے مالک نہیں تھے۔ لیکن، اس نتیجہ کے برعکس، اثر و رسوخ کیساتھ باس کے عہدہ پر فائز خواتین میں ڈپریشن کی علامات شدید تھیں۔محقق تیتیانا کے بقول’ ہمارا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جاب پر صریحی اختیارات کی مالک خواتین میں ایسی خصوصیات عیاں ہوئیں جنھیں مضبوط دماغی صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ملاً، وہ زیادہ تعلیم یافتہ تھیں، ان کی آمدنی زیادہ تھی اور خود مختاری کی اعلی سطح کیساتھ ساتھ وہ اپنی ملازمت سے مطمئن تھیں۔ ان تمام وجوہات کے باوجود، ان کی دماغی صحت عام ملازمت پیشہ خواتین کی دماغی صحت سے بدتر تھی۔ بنادیا نفسیاتی مریض: سماجی سائنس کی اس تحقیق کے مطابق یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی وجوہات ہیں جو باس خواتین کی پریشانیوں کو بڑھاتی ہیں اور اس کے برخلاف مرد باس کو پر اعتماد بناتی ہے۔ اس گتھی کو سلجھانے کیلئے مصنفین نے ایک نظریہ اخذ کیا ہے۔اس صنفی اختلاف کی وجوہات کے طور پر محقق تیتیانا کہتی ہیں کہ اثر و رسوخ کی مالک خواتین کو معاشرہ میں مضبوط قائد کی حیثیت سے زیادہ دعویدار اور پر اعتماد خیال نہیں کیا جاتالیکن، جب کبھی خواتین’باس‘ کی خصوصیات کے مطابق عمل کرتی ہے، تو اسے غیر نسوانی رویہ قرار دیتے ہوئے منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح، دقیانوسی وجوہات اس کے دائمی ڈپریشن کی وجوہات بنتی ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس نتیجہ کے برخلاف مرد باس کیساتھ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اسے دقیانوسی تصورات اور مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اکثر خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ، باختیار عہدہ پر مرد باس کو دیکھنا معاشرہ کے ایک عام تصور پر پورا اترتا ہے۔ اسی لیے، مرد قیادت کو زیادہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ ہی بات اس کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور اسے ایک رہنما کی حیثیت سے زیادہ بااثر اور زیادہ بااختیار بناتی ہے۔محققین نے کہا ہے کہ مطالعہ کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ ملازمت پیشہ با اختیار خواتین کے نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے صنفی امتیاز پر بات کرنا ضروری ہے۔

عورت اور مرد کا رتبہ: ایسی ہی سائنسی تحقیقات نے اہل مغرب کی چولیں ہلا کررکھ دی دیں ہیں جبکہ اہل ایمان کے یقین میں اضافہ کا سبب بنی ہیں۔اہل علم شاہد ہیں کہ ’بیان القرآن‘میں آیتِ کریمہ’اَلرِّجَال قَوَّامونَ عَلَی النِّسَآئ‘ کا ترجمہ ’مرد حاکم ہیں عورتوں پر (دو وجہ سے، ایک تو) اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (یعنی مردوں کو) بعضوں پر (یعنی عورتوں پر قدرتی) فضیلت دی ہے، (یہ تو وہبی اَمر ہے) اور (دوسری) اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں پر) اپنے مال (مہر میں، نان و نفقہ میں) خرچ کئے ہیں، (اور خرچ کرنے والے کا ہاتھ اونچا اور بہتر ہوتا ہے، اس سے جس پر خرچ کیا جائے، اور یہ امر مکتسب ہے) سو جو عورتیں نیک ہیں (وہ مرد کے ان فضائل و حقوق کی وجہ سے) اطاعت کرتی ہیں

کسے کہتے ہیں’ قوام‘؟ ’قوام وہ شخص ہے جو دوسرے کے مصالح، تدابیر اور تہدیب کا ذمہ دار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے عورتوں پر قوام ہونے کے دو سبب ذکر کئے ہیں، ایک وہبی، دوسرا کسبی، چنانچہ ارشاد ہے کہ’اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،یعنی مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے، اصل خلقت میں، کمالِ عقل میں، حسنِ تدبیر میں، علم کی فراخی میں، اعمال کی مزید قوت میں اور بلندی استعداد میں، یہی وجہ ہے کہ مردوں کو بہت سے ایسے احکام کیساتھ مخصوص کیا ہے جو عورتوں سے متعلق نہیں، مثلاً: نبوت، امامت، قاضی اور جج بننا، حدود و قصاص وغیرہ میں شہادت دینا، وجوبِ جہاد، جمعہ، عیدین، اَذان، جماعت، خطبہ، وراثت میں حصہ زائد ہونا، نکاح کا مالک ہونا، طلاق دینے کا اختیار، بغیر وقفے کے نماز روزے کا کامل ہونا، وغیر ذلک، یہ اَمر تو وہبی ہے۔ پھر فرمایاکہ’اور اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں کے نکاح میں) اپنے مال خرچ کئے ہیں’یعنی مہر اور نان و نفقہ اور یہ امر کسبی ہے۔‘تصدیق کیلئے احکام القرآن ج2 ص176سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

Views: 674

Reply to This

Replies to This Discussion

4-

قرآنِ کریم نے طلاق کا اختیار مرد کو دیا ہے، اور اگر عورت کو کسی بدقماش شوہر سے پالا پڑے اور وہ اس سے گلوخلاصی چاہتی ہو تو اس کیلئے’خلع‘ کی صورت تجویز فرمائی ہے، جو یا تو برضامندی طرفین ہوسکتا ہے، یا بذریعہ عدالت۔

5-

قرآنِ کریم نے مرد کو بیک وقت چار تک نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اور اسے پابند کیا ہے کہ وہ متعدد بیویوں کی صورت میں ان کے درمیان عدل و مساوات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا، لیکن عورت کو ایک سے زیادہ شوہر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ان چند مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآنِ کریم نے مرد و عورت کے درمیان فرق و امتیاز کو ہر سطح پر ملحوظ رکھا ہے، جسے کوئی مسلمان نظرانداز نہیں کرسکتا۔
کیا ہے عورت کی دیت؟
شریعت اسلام میں عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے، اور اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر اَئمہ اَربعہ تک سب کا اتفاق ہے

Thantu Fol Shaling 

JazakAllah :)

Happy Laho 

حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ’لن یفلح قومولّوا مرھم امراة۔‘حوالہ کیلئے صحیح بخاری ج:2ص:637، 1025، نسائی ج:2 ص:304، ترمذی ج:2 ص:333سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔یعنی’وہ قوم کبھی فلاح یاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔

ahooo rit thantu fol shaling :)

weshy na Allah hum females sy bht pyar krta hy tabi to free main khana peena shab milta hy ol kaam klny ol hakim bn'ny shy mana kia hy , q k hum mazuk jo itny hoty hy :p hy na sisoo???

orat kbi b hakim ni bn skti according to God law , ALLAH TALA ne sirf bando ko e apna khaleefa banya 

to hum Allah k bandy nhi hy kia ??? @ Naveed Sir :P :P

kia khyal hy apka hum kia hy sir???

قوام ۔۔۔۔ مردو عورت نہیں  ۔۔۔۔ بلکہ میاں بیوی کے معاملے کے طور پر کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اس آیت کا سیاق سباق اور پورا مضمون کیا چل رہا ہے ۔۔۔ پڑھ لیجئے 

میں اپنی ماں جو کہ ایک عورت ہے اس پر قوام نہیں ہوں ۔۔۔ مجھے اسکی اطاعت کا  حکم ہے۔ 

بیشک اس کا سیاق و سباق یہ بتا رہا کہ یہ میاں بیوی کے سلسلے کا بیان ہے

لیکن کیا یہ کہیں تحریر ہے کہ مرد اپنی ماں کا قوام نہیں  ہے یا یہ نیتجہ ہم لوگوں کا اپنا اخذ کردہ ہے؟؟

جیسے کہ داڑھی کے بارے حکم آیا کہ ایک مٹھی رکھنا سنت ایک گروہ نے آدھی مٹھی رکھ لی اور دلیل  یہ دہ کہ پوری مٹھی رکھنے کا حکم ہے لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ آدھی مٹھی نہ رکھو۔

یہاں سے یہ  دلیل نکلتی پے کہ جب ایک بات کا حکم  معلوم ہے تو اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کی بجائے ایسا عمل کیوں کیا جائے جس کا بارے خاموشی ہے؟؟

کیا ہم اپنی خوایشات اور آسانی کے لیے ایسی دلیلیں گھڑتے ہیں؟؟

//بیشک اس کا سیاق و سباق یہ بتا رہا کہ یہ میاں بیوی کے سلسلے کا بیان ہے//

..........................

آپ نے یہ تسلیم کر لیا

//لیکن کیا یہ کہیں تحریر ہے کہ مرد اپنی ماں کا قوام نہیں  ہے یا یہ نیتجہ ہم لوگوں کا اپنا اخذ کردہ ہے؟؟//

..............

میں نے دلیل دی ہے کہ مجھے بکثرت ایسی احادیث سے حکم ملتا ہے اور فضیلت ملتی ہے ماں کی اطاعت اور فرما برداری کے متعلق ۔۔۔۔۔ اگر بیٹا ماں پر قوام ہے تو لازم ہے کہ ماں بیٹے کی اطاعت و فرمابرداری کرے اسکی دلیل یہ موقف رکھنے والے کے اوپر ہے۔

..............

جیسے کہ داڑھی کے بارے حکم آیا کہ ایک مٹھی رکھنا سنت ایک گروہ نے آدھی مٹھی رکھ لی اور دلیل  یہ دہ کہ پوری مٹھی رکھنے کا حکم ہے لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ آدھی مٹھی نہ رکھو۔

داڑھی ایک مٹھی رکھنا کے حکم کا پہلے قرآن و سنت سے پہلے ثبوت دیں پھر مثال دیجئیے۔

کیا ہم اپنی خوایشات اور آسانی کے لیے ایسی دلیلیں گھڑتے ہیں؟؟


ہمیں قوام پہ بات کرنی چاہئیے نہ کہ داڑھی پہ ۔۔۔

حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ’لن یفلح قومولّوا مرھم امراة۔‘حوالہ کیلئے صحیح بخاری ج:2ص:637، 1025، نسائی ج:2 ص:304، ترمذی ج:2 ص:333سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔یعنی’وہ قوم کبھی فلاح یاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔

...............

اس حدیث کے راوی صحابی ابو بکرہ ہیں جنکو حضرت عمر نے جھوٹ بولنے پر کوڑے لگواۓ تھے۔ اور ان کو یہ بات تب یاد آئی جب حضرت عائشہ اور حضرت علی کی جنگ جمل ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اور ابو بکرہ حضرت علی کے حواری تھے اور حضرت عائشہ کے مخالف۔

وگرنہ قیاس یہی کہتا ہے کہ حضرت علی اور حضرت عائشہ ان سے بہتر علم رکھنے والے تھے ۔

واللہ اعلم

RSS

Looking For Something? Search Below

Top Trends 

Latest Activity

M. Haris left a comment for Sana rajput
1 hour ago
M. Haris left a comment for Sana rajput
1 hour ago
M. Haris liked Sana rajput's profile
1 hour ago
M. Haris liked MUSFIRA's profile
2 hours ago
M. Haris liked MUSFIRA's profile
2 hours ago
MUSFIRA replied to Mr Siren Head's discussion Ning Chats
2 hours ago
MUSFIRA liked Mr Siren Head's discussion Ning Chats
2 hours ago
Hania Khalid Shariff is now a member of Virtual University of Pakistan
13 hours ago

VIP Member Badge & Others

How to Get This Badge at Your Profile DP

------------------------------------

Management: Admins ::: Moderators

Other Awards Badges List Moderators Group

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service