We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

مرد و عورت کی تخلیق میں فطری تفاوت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ ہر ایک کو ان صلاحیتوں سے بہرہ ورکیاگیا ہے جو اس کے فرائض کے مناسب حال ہے۔ مردوں کے اوصاف عورتوں میں نہیں، نہ عورتوں کے اوصاف مردوں میں ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ نام نہاد جدید معاشرہ میں عورت کو حاکم بنانے پر رات دن قوت صرف کی جارہی ہے جبکہ تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ باس کی کرسی پر براجمان خواتین کیلئے ان کا عہدہ ذہنی دباو کی علامات کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس کا ہم منصب مرد اعلی سطح کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کےساتھ ، عام طور پر زیادہ با اعتماد ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ’آزادخیال‘طبقہ کو اس سے تکلیف پہنچی ہو لیکن اس کا کیا کیجئے کہ یہ موقف کسی ’طالبانی‘کا نہیں بلکہ ٹیکساس یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر، تیتیانا پیدروسکا نے پیش کیا ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ خواتین باس جنھیں کارکنوں کی ہائرنگ اور بیدخلی سمیت تنخواہ سے متعلق معاملات کیلئے صریحی اختیارات حاصل تھے، وہ پاورفل اختیارات رکھنے کے باوجود، نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں۔ ایسی خواتین میں ڈپریشن کی علامات ان خواتین کی نسبت زیادہ تھیں جو جاب کیساتھ اختیارات کی مالک نہیں تھیں۔

لیکن تحقیق کے نتیجہ کا دوسرا پہلو اس لحاظ سے دلچسپ رہا کہ اس عورت باس کے مقابلہ میں مرد باس میں ڈپریشن کی علامات ایسے ملازمت پیشہ مردوں کے مقابلے میں خاصی کم تھی جن کا جاب با اختیار نہیں تھا۔’جرنل ہیلتھ اینڈ سوشل بی ہیویر‘کے دسمبر کے شمارہ میںشائع ہونے والے مطالعے کا عنوان’جینڈر،جاب اتھارٹی اور ڈپریشن‘ہے جس کیلئے 1300 مرد اور 1500 خواتین کو بھرتی کیا گیا۔مطالعے کے معاون مصنف تیتیانا پیدروسکا نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین جنھیں اختیارات حاصل نہیں تھے، ان میں ذہنی تناو کی علامات کی سطح ان مردوں کے مقابلہ اوسطاً زیادہ تھی جو جاب پر اختیارت کے مالک نہیں تھے۔ لیکن، اس نتیجہ کے برعکس، اثر و رسوخ کیساتھ باس کے عہدہ پر فائز خواتین میں ڈپریشن کی علامات شدید تھیں۔محقق تیتیانا کے بقول’ ہمارا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جاب پر صریحی اختیارات کی مالک خواتین میں ایسی خصوصیات عیاں ہوئیں جنھیں مضبوط دماغی صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ملاً، وہ زیادہ تعلیم یافتہ تھیں، ان کی آمدنی زیادہ تھی اور خود مختاری کی اعلی سطح کیساتھ ساتھ وہ اپنی ملازمت سے مطمئن تھیں۔ ان تمام وجوہات کے باوجود، ان کی دماغی صحت عام ملازمت پیشہ خواتین کی دماغی صحت سے بدتر تھی۔ بنادیا نفسیاتی مریض: سماجی سائنس کی اس تحقیق کے مطابق یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی وجوہات ہیں جو باس خواتین کی پریشانیوں کو بڑھاتی ہیں اور اس کے برخلاف مرد باس کو پر اعتماد بناتی ہے۔ اس گتھی کو سلجھانے کیلئے مصنفین نے ایک نظریہ اخذ کیا ہے۔اس صنفی اختلاف کی وجوہات کے طور پر محقق تیتیانا کہتی ہیں کہ اثر و رسوخ کی مالک خواتین کو معاشرہ میں مضبوط قائد کی حیثیت سے زیادہ دعویدار اور پر اعتماد خیال نہیں کیا جاتالیکن، جب کبھی خواتین’باس‘ کی خصوصیات کے مطابق عمل کرتی ہے، تو اسے غیر نسوانی رویہ قرار دیتے ہوئے منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح، دقیانوسی وجوہات اس کے دائمی ڈپریشن کی وجوہات بنتی ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس نتیجہ کے برخلاف مرد باس کیساتھ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اسے دقیانوسی تصورات اور مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اکثر خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ، باختیار عہدہ پر مرد باس کو دیکھنا معاشرہ کے ایک عام تصور پر پورا اترتا ہے۔ اسی لیے، مرد قیادت کو زیادہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ ہی بات اس کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور اسے ایک رہنما کی حیثیت سے زیادہ بااثر اور زیادہ بااختیار بناتی ہے۔محققین نے کہا ہے کہ مطالعہ کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ ملازمت پیشہ با اختیار خواتین کے نفسیاتی مسائل کے حل کیلئے صنفی امتیاز پر بات کرنا ضروری ہے۔

عورت اور مرد کا رتبہ: ایسی ہی سائنسی تحقیقات نے اہل مغرب کی چولیں ہلا کررکھ دی دیں ہیں جبکہ اہل ایمان کے یقین میں اضافہ کا سبب بنی ہیں۔اہل علم شاہد ہیں کہ ’بیان القرآن‘میں آیتِ کریمہ’اَلرِّجَال قَوَّامونَ عَلَی النِّسَآئ‘ کا ترجمہ ’مرد حاکم ہیں عورتوں پر (دو وجہ سے، ایک تو) اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو (یعنی مردوں کو) بعضوں پر (یعنی عورتوں پر قدرتی) فضیلت دی ہے، (یہ تو وہبی اَمر ہے) اور (دوسری) اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں پر) اپنے مال (مہر میں، نان و نفقہ میں) خرچ کئے ہیں، (اور خرچ کرنے والے کا ہاتھ اونچا اور بہتر ہوتا ہے، اس سے جس پر خرچ کیا جائے، اور یہ امر مکتسب ہے) سو جو عورتیں نیک ہیں (وہ مرد کے ان فضائل و حقوق کی وجہ سے) اطاعت کرتی ہیں

کسے کہتے ہیں’ قوام‘؟ ’قوام وہ شخص ہے جو دوسرے کے مصالح، تدابیر اور تہدیب کا ذمہ دار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے عورتوں پر قوام ہونے کے دو سبب ذکر کئے ہیں، ایک وہبی، دوسرا کسبی، چنانچہ ارشاد ہے کہ’اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،یعنی مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے، اصل خلقت میں، کمالِ عقل میں، حسنِ تدبیر میں، علم کی فراخی میں، اعمال کی مزید قوت میں اور بلندی استعداد میں، یہی وجہ ہے کہ مردوں کو بہت سے ایسے احکام کیساتھ مخصوص کیا ہے جو عورتوں سے متعلق نہیں، مثلاً: نبوت، امامت، قاضی اور جج بننا، حدود و قصاص وغیرہ میں شہادت دینا، وجوبِ جہاد، جمعہ، عیدین، اَذان، جماعت، خطبہ، وراثت میں حصہ زائد ہونا، نکاح کا مالک ہونا، طلاق دینے کا اختیار، بغیر وقفے کے نماز روزے کا کامل ہونا، وغیر ذلک، یہ اَمر تو وہبی ہے۔ پھر فرمایاکہ’اور اس سبب سے کہ مردوں نے (عورتوں کے نکاح میں) اپنے مال خرچ کئے ہیں’یعنی مہر اور نان و نفقہ اور یہ امر کسبی ہے۔‘تصدیق کیلئے احکام القرآن ج2 ص176سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 545

Reply to This

Replies to This Discussion

حاکمیت کے کیا تقاضے--؟  
کیا اک عورت جج ، لیڈر یا حاکم بن سکتی ؟؟

ایک عورت بعینہ ہی ایسے جج، لیڈر یا حاکم بن سکتی ہےجیسے ایک مرد بن سکتا ہے۔

عہدے اور اس سے متعلقہ ذمہ داریوں کے ادا کرنے والے اشخاص کی سلیکشن قابلیت کی بنیاد پر ہوتی ہیں نہ کہ جنس کی بنیاد پر ۔۔۔۔ ذمہ داری کا تقاضا اسکی قابلیت ہے نہ کے اسکی جنس، قوم یا مذہب ۔۔۔۔۔۔ 

جنسی تفریق میل ڈومینیٹ سوسائٹی میں نمایاں ہوتی ہے جس کے رد عمل میں پھر حقوق نسواں جیسی تحریکیں اٹھتی ہیں۔

الحمد لله ہم ایسی کسی بھی قسم کی تحریک کا حصہ نہیں ۔۔۔ تلک حدود الله ۔۔
کیا شریعت میں ایسی کوئی عورت ( صحابیہ احادیث کی رو سے ) گزری جنہوں نے ریاستی امور کی ذمہ
داری لی ہو بشرطیکہ تب عالم و عاقل مرد موجود بھی ہو ؟؟

کیا شریعت کا کوئی صریح حکم موجود ہے کہ عورت کے لیۓ ایسے عہدوں پر کام کرنا حرام ہے؟

تاویل نہیں ۔۔۔۔ ممانعت کا صریح حکم پیش کریں

ایسے تمام مناصب جن میں ہرکس و ناکس کیساتھ اختلاط اور میل جول کی ضرورت پیش آتی ہے، شریعت اسلامی نے ان کی ذمہ داری مردوں پر عائد کی ہے، اور عورتوں کو اس سے سبکدوش رکھا ہے۔ انہی ذمہ داریوں میں سے ایک جج اور قاضی بننے کی ذمہ داری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کے زمانے میں بڑی فاضل خواتین موجود تھیں، مگر کبھی کسی خاتون کو جج اور قاضی بننے کی زحمت نہیں دی گئی۔۔۔۔۔۔
نزاکت کیساتھ بات نہ کرنا۔۔۔
اپنی چال میں اِترانے اور مٹکنے کا انداز اختیار نہ کریں، جو کسی کیلئے کشش کا باعث ہو۔۔راستے کے درمیان میں نہ چلیں، بلکہ کناروں پر چلیں۔۔ نکلتے وقت بڑی چادر (جلباب) اوڑھ لیں، جس سے سر سے پاوں تک پورا بدن ڈھک جائے، اپنی نظریں پست رکھیں ۔۔۔۔۔ وغیرہ  
اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پارلیمنٹ وغیرہ کی رکنیت قبول کرنا اور مردانہ مجمعوں میں تقریر کرنا، عورتوں کی نسوانیت کے خلاف ہے، کیونکہ ان صورتوں میں اسلامی ستر و حجاب کا ملحوظ رکھنا ممکن نہیں۔۔۔
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ

تَطْهِيرًا (

( اک طلبہ ہوں علم سیکھنے کے دورانیے سے گزر رہی امید کرتی ہوں میری اصلاح کی جائے گی )

صریح حکم پیش کریں؟

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تو پوری فوج کی کمانڈر انچیف بن کے جنگ کے میدان میں اترتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زندگی بسر کرنے والی ۔۔۔۔  

ممانعت نہیں تو حکم بھی نہیں ۔۔۔۔ کن وجوہات کی بنا پر حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنھم کو جنگی قیادت
سونپی گئ ؟؟؟؟ تب حضرت  محمد صلی الله علیہ وسلم زندہ تھے میں یہ واقعہ تفصیل سے سمجھنا چاہتی
اگر کہیں سے مل جائے۔۔۔۔۔۔

جزاک الله خیرا ۔۔۔۔

تاریخ پڑھئے

چلیں مان گئیں کہ ممانعت تو نہیں ہے....

وہ قوم کبھی فلاح نہ پایے گی

جو اپنے معملات

کی زمہ داری کسی عورت کے سپرد کر دے۔ صیح بخاری

بک ساتھہ لف ھے۔۔۔

Attachments:

اس حدیث پر اوپر کمنٹ کر چکا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے آگے ھم کو کسی کی رایے یا کمنٹس کی بلکل ضرورت نھیں

اور اس جنگ کا حال آپ جانتے ھے کیا ھوا تھا

اللہ سمجھنے کی توفیق دے

RSS

Looking For Something? Search Here

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.