We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

اللہ رب العزت کا کوئي ذاتی نام نہں ہے

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ مجھے جس نام سے پکارو وہی میرا نام ہے ۔ جہاں تک اللہ اس کا ذاتی نام ہے تو یہ بات کس نے بتائی خود اللہ میاں نے یا یہ بات ہمارے بڑوں نے بتائی ہے یا ہم نے خود فرض کرلی ہے ؟

ہمارے ایک محترم کہنے لگے کہ یہ قرآن میں مذکور ہے کہ اللہ کا ذاتی نام اللہ ہے ۔ ہم نے کہا کوئی دلیل ۔ کہنے لگے دلیل یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں اللہ خود اپنا نام اللہ ذکر کر رہا ہے ۔ ان اللہ مع الصابرین ایک مثال ہے ۔ ہم نے کہا بات تو آپ کی درست ہے کہ اللہ نے اپنے آپ کو قرآن میں اللہ کے نام سے پکارا ہے ۔ لیکن اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ اس کا ذاتی نام اللہ ہے ۔ بلکہ اللہ نے یہ نام اس لیئے پسند کرلیا کہ یہ مشرکین مکّہ کا دیا ہوا نام تھا ۔ وہ خانۂ کعبہ کے رب کو اللہ کہتے تھے اور اللہ تعالٰی نے ان کا یہ نام اپنے لیئے پسند کرلیا کہ یہ ان مشرکین کو جن کے لئے اپنے آخری نبی کو بھیجا تھا کو بھی پسند تھا ۔ بلکہ ایک موقع پر تو مشرکین نے جب رحمٰن کے نام پر اعتراض کیا تو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اللہ کہہ لو یا رحمٰن یہ سب میرے نام ہیں اور میرے سب نام اچھے ہیں ۔ خیر ایک اور دلیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب قرآن بھی نازل نہیں ہوا تھا، جب اسلام بھی نہیں آیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ بھی اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت ان کے والد کے والد نے اپنے بیٹے کا نام عبدللہ رکھا تھا یعنی اللہ کا بندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ مشرکین مکّہ کا دیا ہوا نام تھا اللہ تعالیٰ کو اور وہ خانہ کعبہ کے رب کو اور ناموں کے ساتھ اس نام سے سب سے زیادہ پکارا کرتے تھے اور اللہ تعالٰی نے یہ نام اپنے لئے پسند کرلیا ۔

زیادہ گمان حقیقت نہیں بن جاتے ۔ حقیقت تو حقیقت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کو جس نام سے پکارو وہ اچھا اور خوبصورت نام ہے ۔ اگر ہم خدا کہتے ہیں تو یہ بہت ہی اعلٰی اور خوبصورت نام ہے ۔ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو صرف زبانوں کے تعصّب میں اللہ کے اس خوبصورت نام کو برا گردانتے ہیں ۔ انہیں سوچنا چاہیئے کہ کسی قوم کی دشمنی انہیں کہیں نہیں لے جائیگی بلکہ شاید سیدھی راہ سے ہٹا دے ۔

وما یذکر الّا اولوالباب


اختر عمر

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 349

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Replies are closed for this discussion.

Replies to This Discussion

مجھے کیوں لگتا ہے جو مٹھاس لفظ “ الله “ کہہ کر پکارنے میں ہے وہ باقی میں نہیں ایک چیز اور
باقی نام صرف الله کی ایک صفت کو ظاہر کرتے جبکہ جب ہم الله کہہ کر پکارتے تویہ  سبھی  صفات
کو سمو لیتا ۔۔۔ کیا خیال ہے ؟؟؟  بلا شبہ وہ تو تب بھی سنتا جب ہم بغیر الفاظ ( سینوں کے بھید ) کے پکارتے

۔۔
جزاک الله خیرا ۔۔۔۔

آپ کا خیال "دلیل" ہونے سے تو رہا۔ 


لفظ ایل، بھگوان ، گاڈ ، خدا بھی صفاتی نام نہیں ہیں ۔ سب صفات کو سموئے ہوۓ

میں نہیں جانتی

لفظ ایل، بھگوان

اسکے کیا معنی ہیں جو بھی ہونگے کسی ایک ہی صفت کو ظاہر کر رہے ہونگے نا ۔۔۔
الله ایسا جلال و شان و   شوکت رکھتا ہے کہ اگر اس کا ایک ایک لفظ بھی ہٹا دیا جائے تو اسکے معنی
میں فرق نہیں آتا جیسے ۔۔۔۔ الف ہٹا دیں تو لله ۔۔۔۔ ل ہٹا دیں الہ ۔۔۔ پھر الف اور ل دونوں بھی ہٹا دیں تب
لہ ( لا ہو ان عر بی ) ۔۔۔۔  اس کے برعکس اک چیز اور جن ناموں میں نقطے ہوتے وہ اتنے وزنی نہیں
ہوتے مطلب  ب ، ت ، ث وغیرہ

  اپنی آواز پیدا کرنے کیلئے “ نقطوں “ کے محتاج   ۔۔۔ اس نام میں نقطہ نہیں

گاڈ میں بھی نقطہ نہیں اور وہ ذات عربی کی محتاج نہیں

کوئی نام بھی اسکی شان و شوکت کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ وہ ہے ہی لامحدود ۔۔۔۔ اور الفاظ محدود ہوتے ہیں

جب وہ عظیم ذات بنا نام لیۓ دلوں کا حال جان لیتی ہے تو پھر ناموں کی بحث میں کیا پڑنا۔

JAZAKALLAH nice sharing

Jazak Allah........

میں اپنے رب کو خدا، بگھوان، دیوتا کی بجائے 'الله' کہنے کا یہ جواز رکھتی ہوں کہ

 خود اس نے اور ہمارے نبیﷺ نے اس نام کو زیادہ پسند فرمایا.
 اسکا کوئی جمع کا صیغہ نہیں. جیسے ، خدا .... خداؤں*

اسکا کوئی مونث نہیں. جسے، گاڈ ...... گاڈیس*

*

انگلش ہو اردو یا کوئی بھی زبان...نام ، نام ہی رہتا ہے. اردو میں ایمان تو انگلش میں مجھے فیتھ نہیں بلایا جاتا. 

ترجمہ کرتے وقت نام وہ چیز ہے جسے ایس اٹ از استعمال کیا جاتا ہے . چاہے وہ جس مرضی زبان میں بولا جائے. لہٰذا اس میں کہیں کوئی تعصب کی بات ہی نہیں.

*
 'الله' وہ واحد نام ہے جو اس کی وحدانیت کا برملا اظہار کرتا ہے..کہ وہ وحدہ لاشریک ہے...(خدا .... خداؤں)...اسکا کوئی ہمعصر(گاڈ ......  گاڈیس) نہیں. اس میں یکتاہی جھلکتی ہے جبکہ خدا یا گاڈ میں یکتاہی کا کوئی عنصر نہیں ہے.
لہٰذا، الله کی تعریف وہی جو خود اس نے بیاں کی.
جو نام اللہ رب العزت نے خود اپنے لیے پسند فرمایا وہ واقعی اسکی ذات کی طرح بے مثال ہے.
لیس کمثله شیء
اسکی کوئی مثال نہیں. ہ

اللہ نے کب اور کہاں کہا کہ مجھے یہ نام پسند ہے؟

باقی سب باتیں اضافی ہیں

بھگوان اور ایشور کی بھی جمع نہیں اور نہ مونث ہے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ۔۔۔۔ انگنش میں ہی شی بولا جاتا ہے اردو میں دونوں کے لیۓ وہ بولا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ زبان کی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں۔

کوئی بھی دنیاوی لفظ اسکی ذات کو مکمل بیان کرنے سے قاصر ہے کیونکہ 
لیس کمثله شیء

میں نے بھی ایک مرتبہ یہی کسی سے کہا کہ لفظ اللہ کسی جنس کو ظاہر نہیں کرتا  ۔۔۔۔۔

اس نے آگے سے جواب دیا پھر وہ اپنے لیۓ مذکر کا صیغہ "ہی" کیوں استعمال کرتا ہے ۔۔۔۔۔ میرے پاس سواۓ اسکی تاویل کا کوئی چارہ نہیں تھا ۔

یہی سے کلک ہوا یہ بھی ایک محدود لفظ ہے۔

خدا کی بجایے

اللہ کا نام زات الہی کا مظہر زیادہ ھے

دلیل

اللہ

میں سے الف نکالی

للہ یہ بھی االہ کا نام ھے

لام نکالی بھر بھی لاھو

آخر سے ہ نکالی پھر بھی الا

دلیل قرآن و سنت کے ماخذ سے ہوتی ہے باقی سب تاویلات ہیں

RSS

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.