Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More


ایک شخص ایران سے آیا اور علامہ اقبال رح کی خدمت میں حاضر ہوا، گفتگو کے دوران فارسی زبان کی تعریف کرتے ہوئے ان کے منہ سے نکل گیا:
"عربی تو اونٹوں کی زبان ہے۔"
یہ جملہ سننا تھا کہ علامہ اقبال رح کا چہرہ سرخ ہوگیا، نہایت غصہ کے عالم میں کہا:
"نکل جاؤ میرے گھر سے.." وہ چلا گیا۔
بعد میں ذرا طبیعت سنبھلی تو حاضرین میں سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو اس قدر غصے میں نہیں دیکھا،
اس پر علامہ اقبال رح نے کہا:
" عربی میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نہایت میٹھی اور پیاری زبان ہے، میں اس کے خلاف ایسی بے ہودہ بات کیسے برداشت کرسکتا ہوں۔ "
ماخوذ از "اقبالیات"

Views: 277

Reply to This

Replies to This Discussion

اسے کہتے ہیں باادب با  نصیب

جو عاشقان رسول ﷺ ہوتے ہیں وہ ہر اس نسبت سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں جس میں حضور ﷺ کا شائبہ تک بھی ہو ایسے ہی لوگوں کو عرفان نصیب ہوتا ہے

جزاک اللہ

 

ادب  پہلا  قرینہ  ہے ، محبت کے  قرینوں میں 

انسان  کو  سوچ  کر  بولنا چاہیے،  

اکثر  فارسی بان ،  میں  نے  مغرور دیکھے ہیں،   سمجھتے ہیں کہ  ایران  کوئی بہت عظیم مملکت ہے!
 
ایرانی  اپنے آپ کو پہلے  ایرانی  ، پھر  مسلمان   سمجھتے ہیں اور  ان کا رویہ بھی ایسا ہی  ہے 
اُمید ہے کہ جلد  پاکستانیوں  کو  سمجھ آجائے گی کہ  ایران   کس کا دوست  ہے

nice

آ پ بھی اپنی ھنیڈ نگ

تبدیل کر لیں پلیز،،،

 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service