We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

کیا جادو کی کوئی حقیقت ہے ؟ اور کیا یہ اثر انداز ہوتا ہے اور اس کی اقسام کون سی ہیں ؟
الحمدللہ

سب تعریفیں اللہ تعالی کے لۓ ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور ان کے صحابہ اور جو ان کے طریقہ پر چلنے والے ہیں ان پر درود و سلام کے بعد !

جادو کرنا بہت بڑا جرم اور کفر کی ایک قسم ہے جس میں پہلی امتوں کے لوگ اور دور جاہلیت میں بھی اور اس امت کے لوگ پہلے بھی اور آج کے دور میں بھی مبتلا رہے ہیں ۔

جہالت کی کثرت اور قلت علم اور قلت ایمان اور حرام کاموں سے باز رکھنے والوں کا غلبہ قلیل ہونے کی بناء پر جادو کرنے والے اور شعبدہ بازوں کی کثرت ہو چکی ہے اور یہ لوگ ملک میں لوگوں کے مال کے لالچ میں اور ان پر کتمان حقیقت کے لۓ ملک میں پھیلتے ہیں اس کے علاوہ دوسرے اسباب بھی ہیں :

تو جب علم ظاہر ہو جائے اور ایمان کی کثرت ہو اور اسلامی طاقت قوی ہو جائے تو اس قسم کے خبیث لوگ کم اور سمٹ جاتے ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو جاتے ہیں تا کہ ایسی جگہ تلاش کر سکیں جہاں پر یہ اپنے باطل کو رواج دیں اور فساد اور شعبدہ بازی کو دکھا سکیں ۔

اور قرآن مجید اور سنت نبوی نے جادو کی اقسام اور ان کا حکم بیان کیا ہے ۔

جادو کو جادو اس لۓ کہا جاتا ہے کہ اس کے اسباب مخفی (چھپے ) ہوتے ہیں اور اس لۓ کہ جادوگر ایسی پوشیدہ اشیاء سے کام لیتے ہیں جن کی بناء پر لوگوں پر خیال اثر عمل اور حقیقت کو چھپانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو سکیں اور انہیں نقصان پہنچا کر ان کے مال وغیرہ کو چھین سکیں اور ایسے طریقے استعمال کرتے ہیں جو کہ عام طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتے اور اسی لۓ رات کے آخری حصہ کو سحر کہتے ہیں کیونکہ اس میں لوگ غفلت میں اور حرکت میں کمی ہوتی ہے اور پھپھڑے کو بھی سحر کہتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے ۔

اور اس کا شرعی طور پر معنی یہ ہے کہ جو جادوگر لوگوں پر خلط ملط کرتے ہیں اور انہیں تخیل پیش کرتے ہیں تو اسے دیکھنے والا حقیقت تصور کرتا ہے حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا – جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں پس موسی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آۓ کامیاب نہیں ہوتا " – طہ 65 - 69

اور بعض اوقات جادوگر ایسی گرہیں لگا کر جادو کرتے ہیں کہ ان گرہوں میں پھونکیں مارتے
اور بعض اوقات جادوگر ایسی گرہیں لگا کر جادو کرتے ہیں کہ ان گرہوں میں پھونکیں مارتے ہیں – جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

" اور گرہیں ( لگا کر ان ) میں پھونک مارنے والیوں کی شر سے " الفلق 4

اور کبھی دوسرے اعمال کے ساتھ جادو کرتے ہیں جن تک پہنچنے کے لۓ شیطانوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور ایسا عمل کرتے ہیں کہ جس سے انسان کی عقل میں تغیر آ جاتا ہے اور بعض اوقات یہ عمل مرض کا باعث بنتے ہیں اور یا پھر بعض اوقات خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بنتا ہے جس کی بنا پر اس کی بیوی اس کے سامنے قبیح الشکل ہو جاتی ہے جس سے وہ اسے ناپسند کرنا شروع کر دیتا ہے اور اسی طرح بیوی کے ساتھ بھی جادوگر یہی عمل کرتا ہے تو وہ اپنے خاوند سے نفرت اور بغض کرنے لگتی ہے – اور یہ عمل نص قرآنی کے مطابق صریحا کفر ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

اور اس چیز کے پیچھے لگ گۓ جسے شیاطین سلیمان ( علیہ السلام ) کی حکومت میں پڑھتے تھے سلیمان (علیہ السلام ) نے تو کفر نہیں کیا – لیکن شیطانوں نے کفر کیا تھا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے " البقرہ / 102

تو اللہ تعالی نے ان کا کفر یہ بیان کیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے - اور اس کے بعد اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

" اور بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر " – البقرہ / 102

پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا :

" پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے البقرہ 102

یعنی یہ جادو اور جو اس سے شر واقع ہو رہا ہے تو یہ سب اللہ تعالی کی تقدیر مسبق اور اس کی مشیت سے ہے تو ہمارا رب جل وعلی مغلوب نہیں ہو سکتا اور نہ اس کی بادشاہی میں اس کے ارادہ کے بغیر کچھ ہوسکتا ہے بلکہ نہ تو اس دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں کسی چیز کا وقوع ہو سکتا ہے سواۓ اس کے جو تقدیر میں پہلے سے لکھا گیا ہے جس بلیغ حکمت کے تحت اللہ سبحانہ وتعالی نے چاہا تو یہ جادو کے ساتھ آزماۓ جاتے ہیں اور ان کی مرض کے ساتھ آزمائش ہوتی ہے اور وہ قتل کے ساتھ آزماۓ جاتے ہیں – وغیرہ – اور اللہ تعالی جو فیصلہ اور تقدیر بناتا ہے اس میں کوئی اللہ کی بلیغ حکمت ہے اور جو چیز بھی لوگوں کے لۓ مشروع کی گئی اس میں کوئی حکمت ہے – تو اسی لۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" اور دراصل وہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے " البقرہ 102-

یعنی اس کی کونی اور قدری اجازت کے ساتھ نہ کہ شرعی اجازت کے ساتھ – شرع تو اس سے روکتی اور منع اور اسے ان پر حرام کرتی ہے لیکن اس تقدیری اجازت کے ساتھ جو کہ اللہ تعالی کے علم اور تقدیر سابق جو کہ پہلے گذر چکی ہے کہ فلاں مرد اور فلان عورت سے جادو کا وقوع ہو گا اور یہ جادو فلاں مرد پر اور فلان عورت پر ہو گا جس طرح کہ یہ تقدیر بھی لکھی جا چکی ہے کہ فلاں آدمی قتل کیا جائے گا اور فلاں کو یہ بیماری ہو گی اور اس ملک میں مرے گا اور اسے اتنا رزق ملے گا اور یہ غنی ہو گا یا فقیر تو یہ سب اللہ تعالی کی مشیت اور تقدیر سے ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

" بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک ( مقررہ ) اندازے پر پیدا کیا ہے " القمر 49

اور فرمان باری تعالی ہے :

" نہ کو‏ئی مصیبت دنیا میں آتی ہے اور نہ ہی تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلےکہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور یہ کام اللہ تعالی پر آسان ہے " الحدید 22

تو یہ شر جو کہ جادوگروں اور دوسرے لوگوں سے واقع ہو رہا ہے اس سے تمہارا رب جاہل نہیں بلکہ یہ سب اس کے علم میں ہے اللہ سبحانہ وتعالی پر کوئی چیز مخفی نہیں /

جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

" بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر علم رکھنے والا ہے " الانفال 75

" تا کہ تم جان لو کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ تعالی نے ہر چیز کو علم کے اعتبار سے گھیر رکھا ہے " – الطلاق 12

تو وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کی بادشاہی میں اس کا وقوع نہیں ہو سکتا جسے اللہ سبحانہ وتعالی نہ چاہے لیکن جس چیز میں وہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تقدیر میں جس کے اندر لوگ واقع ہوتے ہیں اس کی حکمت بالغہ اور اچھی غایات ہیں کسی کو عزت اور کسی کو ذلت اور کسی کی حکومت چھین لینا اور کسی کو دے دینا اور بیماری اور صحت اور جادو وغیرہ ۔

اور وہ سارے امور جن کا بندوں میں وقوع ہو رہا ہے اس کی مشیت اور تقدیر سابق سے ہیں اور یہ جادوگر ایسی اشیاء اور افعال کرتے ہیں جو کہ تخیلاتی ہوتی ہیں جیسا کہ اس کا بیان اس فرمان ربانی کے تحت پہلے گذر چکا ہے :

" کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں " طہ 65- 66-

دیکھنے والے کو یہ لاٹھی اور رسیاں وادی میں چلتے ہوۓ سانپ محسوس ہو رہے تھے اور وہ یہاں رسیاں اور لاٹھیاں تھیں جنہیں جادوگروں نے ان اشیاء اور افعال کی بناء پر جو کہ انہوں نے حقائق کو بدلنے کے لۓ سیکھے اور لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کۓ ان کی بناء پر خیال میں ڈال دیا کہ یہ سانپ ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے "

موسی (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں " طہ 66

اور اللہ تعالی نے سورت اعراف میں فرمایا ہے :

" کہنے لگے تم ہی ڈالو پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا " الاعراف 116

اور وہ حقیقت میں تبدیل نہیں ہوۓ بلکہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں تھیں لیکن جادو کی بناء پرلوگوں کی آنکھوں میں تبدیلی آئی تھی تو انہوں نے اسے جادوگروں کی کتمان حقیقت کے سبب سے سانپ سمجھ لیا اور بعض لوگ اس کا نام تقمیر رکھتے ہیں وہ یہ کہ جادوگر ایسا عمل کرتا ہے جس کی حقیقت کا انسان کو شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہے تو اس کی نظر حقیقت کو نہیں پا سکتی تو بعض اوقات اس کی دوکان یا گھر سے کوئی لے لی جاتی ہے تو اسے کوئی علم نہیں ہوتا یعنی وہ واقعہ اس کی نظروں میں بدل چکا ہے تو اس کی آنکھوں کو جادو کر دیا گیا ہے اور ان اشیاء کو جسے جادوگر استعمال کرتا ہے اور آنکھیں اس حقیقت کو جس پر وہ دیکھ نہیں پاتیں تو یہ جادو ہے جسے اللہ تعالی نے عظیم کے نام سے تعبیر کیا ہے کہ وہ بہت بڑا جادو ہے ۔

سورت اعراف میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

" پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا " الاعراف 116 .
جادو کے علاج کا کیا طریقہ ہے؟

الحمد للہ 
جو جادو کی بیماری میں ہو تو وہ اس کا علاج جادو سے نہ کرے کیونکہ شر برائی کے ساتھ ختم نہیں ہوتی اور نہ کفر کفر کے ساتھ ختم ہوتا ہے بلکہ شر اور برائی خیر اور بھلائی سے ختم ہوتی ہے۔

تو اسی لئے جب نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے نشرہ یعنی جادو کے خاتمہ کے لئے منتر وغیرہ پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا (یہ شیطانی عمل ہے) اور حدیث میں جس نشرہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ جادو والے مریض سے جادو کو جادو کے ذریعے ختم کرنے کو کہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ علاج قرآن کریم اور جائز دواؤں اور شرعی اور اچھے دم کے ساتھ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر جادو سے ہو تو یہ جائز نہیں جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ جادو شیطانوں کی عبادت ہے۔ تو جادوگر اس وقت تک جادو نہ تو کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے سیکھ سکتا ہے جب تک وہ انکی عبادت نہ کرے اور شیطانوں کی خدمت نہ کر لے اور ان چیزوں کے ساتھ انکا تقرب حاصل نہ کرلے جو وہ چاہتے ہیں تو اسکے بعد اسے وہ اشیاء سکھاتے ہیں جس سے جادو ہوتا ہے۔

لیکن الحمدللہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ جادو کیے گئے شخص کا علاج قرات قرآن اور شرعی تعویذات (یعنی شرعی دم وغیرہ جن میں پناہ کا ذکر ہے) اور جائز دواؤوں کے ساتھ کیا جائے جس طرح کہ ڈاکٹر دوسرے امراض کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں کہ شفا لازمی ملے کیونکہ ہر مریض کو شفا نہیں ملتی۔

اگر مریض کی موت نہ آئی ہو تو اس کا علاج ہوتا ہے اور اسے شفا نصیب ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات وہ اسی مرض میں فوت ہوجاتا ہے اگرچہ اسے کسی ماہر سے ماہر اور کسی سپیشلیسٹ ڈاکٹر کے پاس ہی کیوں نہ لے جائیں تو جب موت آچکی ہو نہ تو علاج کام آتا ہے اور نہ ہی دوا کسی کام آتی ہے۔

فرمان ربانی ہے:

"اور جب کسی کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو اسے اللہ تعالی ہر گز مہلت نہیں دیتا" المنافقون11

دوا اور علاج تو اس وقت کام آتا ہے جب موت نہ آئی ہو اور اللہ تعالی نے بندے کے مقدر میں شفا کی ہو تو ایسے ہو یہ جسے جادو کیا گیا ہے بعض اوقات اللہ تعالی نے اس کے لئے شفا لکھی ہوتی ہے اور بعض اوقات نہیں لکھی ہوتی تاکہ اسے آزمائے اور اس کا امتحان لے اور بعض اوقات کسی اور سبب کی بنا پر جسے اللہ عزوجل جانتا ہے: ہوسکتا ہے جس نے اس کا علاج کیا ہو اسکے پاس اس بیماری کا مناسب علاج نہ ہو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر یہ ثابت ہے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

(ہر بیماری کی دوا ہے تو اگر بیماری کی دوا صحیح مل جائے تو اللہ تعالی کے حکم سے اس بیماری سے نجات مل جاتی ہے۔)

اور فرمان نبویصلی اللہ علیہ وسلم ہے

(اللہ تعالی نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی دوا بھی اتاری ہے تو اسے جس نے معلوم کرلیا اسے علم ہوگیا اور جو اس سے جاہل رہا وہ اس سے جاہل ہے۔)

اور جادو کے شرعی علاج میں سے یہ بھی ہے کہ اس کا علاج قرآن پڑھ کر کیا جائے۔

جادو والے مریض پر قرآن کی سب سے عظیم سورت فاتحہ بار بار پڑھی جائے۔ تو اگر پڑھنے والا صالح اور مومن اور جانتا ہو کہ ہر چیز اللہ تعالی کے فیصلے اور تقدیر سے ہوتی ہے اور اللہ سبحانہ وتعالی سب معاملات کو چلانے والا ہے اور جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا تو ہوجاتی ہے تو اگر یہ قرآت ایمان تقوی اور اخلاص کے ساتھ پڑھی جائے اور قاری اسے بار بار پڑھے تو جادو زائل ہوجائے گا اور مریض اللہ تعالی کے حکم سے شفایاب ہوگا۔

اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم ایک دیہات کے پاس سے گذرے تو دیہات کے شیخ یعنی ان کے امیر کو کسی چیز نے ڈس لیا تو انہوں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے صحابہ اکرام میں سے کسی کو کہا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ تو صحابہ نے کہا جی ہاں۔ تو ان میں سے ایک نے اس پر سورت فاتحہ پڑھی تو وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ گویا کہ ابھی اسے کھولا گیا ہو۔ اور اللہ تعالی نے اسے سانپ کے ڈسنے کے شر سے عافیت دی۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

(اس دم کے کرنے سے کوئی حرج نہیں جبکہ وہ شرک نہ ہو) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کیا گیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی دم کیا تو دم کے اندر بہت زیادہ خیر اور بہت عظیم نفع ہے۔ تو جادو کۓ گۓ شخص پر سورت فاتحہ اور آیۃ الکرسی اور (قل ہو اللہ احد) اور معوذتین (یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) اور اسکے علاوہ آیات اور اچھی اچھی دعائیں جو کہ احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں مثلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول جب آپ نے کسی مریض کو دم کیا :

{اللهم رب الناس اذهب الباس واشف انت الشافي لا شفاء الا شفاؤک شفاء لا يغادر سقما} تین بار یہ دعا پڑھے

(اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کردے اور شفایابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے) تو اسے تین یا اس سے زیادہ بار پڑھے۔

اور ایسے ہی یہ بھی ثابت ہے کہ جبرا‏‎ئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دعا کے ساتھ دم کیا تھا۔

{ بسم الله أرقيك ، من كل شيء يؤذيك ، ومن شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك ، بسم الله أرقيك }

"میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں"

اسے بھی تین بار پڑھے اور بہت ہی عظیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دم ہے جس کے ساتھ ڈسے ہوئے اور جادو کئے گئے اور مریض کو دم کرنا مشروع ہے۔

اور اچھی دعاؤں کے ساتھ ڈسے ہوئے اور مریض اور جادو والے کو دم کرنے میں کوئی حرج نہیں اگر اس میں کوئی شرعی مخالفت نہ ہو اگرچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے عموم پر اعتبار کرتے ہوئے۔ (دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ شرک نہ ہو۔)

اور بعض اوقات اللہ تعالی مریض اور جادو کئے گئے شخص وغیرہ کو بغیر کسی انسانی سبب سے شفا نصیب کردیتا ہے۔ کیونکہ وہ سبحانہ وتعالی ہر چیز پر قادر ہے اور ہر چیز میں اسکی بلیغ حکمت چمک رہی ہے۔

اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی کتاب عزیز میں ارشاد فرمایا ہے :

"وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے" یسین/82

تو اس اللہ سبحانہ وتعالی کی حمد وتعریف اور شکر ہے جو وہ فیصلے کرتا اور تقدیر بناتا ہے اور ہر چیز میں بلیغ حکمت پائی جاتی ہے۔

اور بعض اوقات مریض کو شفا نہیں ہوتی کیونکہ اس کا وقت پورا ہوچکا ہوتا ہے اور اس مرض سے اسکی موت مقدر میں ہوتی ہے۔

اور جو دم میں استعمال کیا جاتا ہے ان میں وہ آیات بھی ہیں جن میں جادو کا ذکر ہے وہ پانی پر پڑھی جائیں۔

اور سورت اعراف میں جادو والی آیات۔

فرمان باری تعالی ہے:

{ ( وأوحينا إلى موسى أن ألق عصاك فإذا هي تلقف ما يأفكون فوقع الحق وبطل ما كانوا يعملون فغلبوا هنالك وانقلبوا صاغرين) } الاعراف117۔119

"اور ہم نے موسی (علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی ڈال دیجئے سو اس کا ڈالنا تھا کہ اس نے انکے سارے بنے بنائے کھیل کو نگھلنا شروع کردیا پس حق ظاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب کچھ جاتا رہا پس وہ لوگ موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے" الاعراف117۔119

اور سورہ یونس میں اللہ تعالی کا یہ فرمان:

{ وقال فرعون ائتوني بکل ساحر عليم فلما جاء السحرة قال لهم القوا ما انتم ملقون فلما القوا قال موسى ما جئتم به السحر ان الله سيبطله ان الله لا يصلح عمل المفسدين ويحق الحق بکلماته ولو کره المجرمون } یونس/ 79۔82

(اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام جادو گروں کو حاضر کرو پھر جب جادو گر آئے تو موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو سو جب انہوں نے ڈالا تو موسی (علیہ السلام )نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم لائے ہو جادو ہے یقینی بات یہ ہے اللہ تعالی اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے اللہ تعالی ایسے فسادیوں کا کام نہیں بننے دیتا)

اور ایسے ہی سورہ طہ کی مندرجہ ذیل آیات فرمان ربانی ہے:

{ قالوا يا موسى اما ان تلقي واما ان نکون اول من القى قال بل القوا فاذا حبالهم وعصيهم بخيل اليه من سحرهم انها تسعى فاوجس في نفسه خيفة موسى قلنا لا تخف انک انت الاعلى والق ما في يمينک تلقف ما صنعوا انما صنعوا کيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتى } طہ65۔59

"کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پھلے ڈالو اب تو موسی (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ انکی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ رہیں ہیں پس موسی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا تو ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ انکی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادو گروں کے کرتب ہیں اور جادو گر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا" طہ65۔69

تو ایسی آیات ہیں جن سے جادو کے دم میں ان شاء اللہ تعالی فائدہ دے گا۔ تو بیشک یہ آیات اور اسکے ساتھ سورہ فاتحہ اور سورہ (قل ہو اللہ احد) اور آیۃ الکرسی اور معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) اگر قاری پانی میں پڑھے اور اس پانی کو جس کے متعلق یہ خیال ہو کہ اسے جادو ہے یا جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہے اس پر بھادیا جائے (یعنی غسل کرے از مترجم) تو اسے اللہ کے حکم سے شفا یابی نصیب ہوگی۔

اور اگر اس پانی میں سبز بیری کے سات پتے کوٹنے کے بعد رکھ لئے جائیں تو یہ بہت مناسب ہوگا جیسا کہ شیخ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (فتح المجید) میں بعض اہل علم سے باب (منتر کے متعلق باب) میں ذکر کیا ہے اور افضل یہ ہے کہ تینوں سورتیں (قل ہو اللہ احد) (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) تین تین بار دہرائی جائیں۔

مقصد یہ ہے کہ یہ اور ایسی ہی دوسری وہ دوائیں ہیں جو کہ مجرب ہیں اور ان سے اس بیماری (جادو) کا علاج کیا جاتا ہے اور ایسے ہی جسے اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو اسکا بھی علاج ہے جسکا تجربہ کیا گیا اور اللہ تعالی نے اس سے نفع دیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف سورہ سے علاج کیا جائے تو شفایابی ہو اور اسی طرح (قل ہو اللہ احد) اور معوذتین سے علاج کیا جائے تو شفا مل جائے۔

سب سے اہم یہ ہے کہ علاج کرنے والا اور علاج کروانے والا دونوں کا صدق ایمان ہونا اور اللہ تعالی پر بھروسہ ہونا ضروری ہے اور انہیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اللہ سبحانہ وتعالی سب کاموں کا متصرف ہے اور وہ جب کسی چیز کو چاہتا ہے تو وہ ہوتی ہے اور جب نہیں چاہتا تو نہیں ہوتی تو معاملہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جو وہ چاہے وہ ہوگا اور جو نہ چاہے وہ نہیں ہوگا۔ تو پڑھنے والے اور جس پر پڑھا جارہا ہے انکے اللہ تعالی پر ایمان اور صدق کی بنا پر اللہ تعالی کے حکم سے مرض زائل ہوگا اور اتنا ہی جلدی ہوگا جتنا ایمان ہے۔ اور پھر معنوی اور حسی دوائیں بھی کام کریں گی۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ ہم سب کو وہ عمل کرنے کی توفیق دے جو اسے راضی کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بیشک وہ سننے والا اور قریب ہے۔  .
جسے جادوکر کے کسی کےمخالف کردیا ‎گیا اور یا پھر کسی کی طرف جھکاؤ ہو تو اس کا علاج کیا ہے؟ 
اور مومن کے لۓ اس سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے کہ یہ فعل اسے نقصان نہ دے اور کیا اس کے لۓ دعائیں یا پھر قرآن میں کوئی اذکار ہیں ؟

الحمدللہ

علاج کی کئی قسمیں ہیں :

اول: یہ دیکھا جائے گا جادوگر نے جادو کس چیز میں کیا ہے اگر اس کا پتہ چل جائے کہ اس نے کسی جگہ میں بالوں پر یا کنگھی کے دندانوں پر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز پر کیا ہے جب یہ پتہ چل جائے کہ فلاں جگہ پر رکھا ہے تو اس چیز کو زائل کر دیا اور جلا دیا اور تلف کر دیا جائے تو جو کیا گیا ہے وہ ختم اور جو جادو گر کا ارادہ تھا وہ زائل ہو جائے گا ۔

دوم : یہ کہ اگر جادوگر کا پتہ چل جائے تو اس پر لازم کیا جائے کہ جو اس نے کیا ہے وہ اسے زائل کرے تو اسے یہ کہا جائے گا کہ یا تو اسے جو کہ تو نے کیا ہے اسے زائل کر دے یا پھر تیری گردن مار دی جائے گی تو پھر جب وہ اسے ختم کر دے تو اسے ولی الامر اس کی گردن اڑاۓ گا کیونکہ صحیح مسئلہ یہی ہے کہ جادوگر کو بغیر توبہ کے قتل کیا جائے گا جیسا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :

"جادوگر کی حد تلوار سے اس کی گردن اڑانی ہے " ۔

اور جب حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی لونڈی جادو کرتی ہے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

سوم : پڑھائی کا جادو کے ختم کرنے میں بہت بڑا اثر ہے اور وہ اس طرح کہ جس پر جادو کیا گیا ہے اس پر یا پھر ایک برتن میں آیۃ الکرسی اور سورت اعراف اور یونس اور مریم جو جادو کی آیات اور اس کے ساتھ سورت کافرون اور اخلاص اور الفلق اور الناس پڑھے اور اس کی عافیت اور شفاء کی دعاء کرے اور خاص طور پر وہ دعاء جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ پڑھے :

" اللهم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤك لا يغادر سقما "

( اے لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا‎ء نہیں ایسی شفاء نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے"

اور ایسے ہی وہ دم جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تھا :

" بسم الله ارقيك من كل شئ يؤذيك ومن شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك "

(میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں "

تو اس دم کو تین مرتبہ کرے اور تین مرتبہ " قل ھو اللہ احد " اور معوذتین " قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس " بھی تین مرتبہ دہراۓ اور ایسے ہی وہ پانی میں پڑھے جو ہم نے ذکر کیا ہے اور اس میں سے جسے جادو کیا گیا ہے وہ پیۓ اور باقی پانی سے غسل کرے یہ ایک یا اس سے زیادہ حسب ضرورت کرے تو ان شاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ علاج علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے مثلا شیخ عبدالرحمان بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ( فتح المجید شرح کتاب التوحید ) میں ( باب ما جاء فی النشرۃ ) منتر کے باب میں ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا ہے -

چہارم : سات بیری کے پتے کوٹ کر پانی میں ملائیں اور اس پر آیات اور سورتیں اور دعائیں پڑھیں جن کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے تو یہ پانی پیا بھی جائے اور اس سے غسل بھی کرے اور ایسے ہی یہ اس کے علاج میں بھی نفع مند ہے جسے اس کی بیوی سے روکا گیا ہے تو سبز بیری کے سات پتے پانی میں رکھ کر اس پر مندرجہ بالا آیات و سورتیں اور دعائیں پڑھیں تو اللہ کے حکم سے یہ نافع ثابت ہو گا ۔

جادو والے مریض اور اس کے لۓ جسے اس کی بیوی سےروک دیا گیا ہو کہ وہ اس سے جماع نہ کر سکے اس کے لۓ پانی اور بیری کے پتوں پر جو آیات پڑھنی ہیں وہ ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:

1- سورت فاتحہ پڑھنی ہے -

2- سورت بقرہ میں سے آیۃ الکرسی پڑھنی اور وہ اللہ کا فرمان یہ ہے :

" اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی الارض من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شاء وسع کرسیہ السماوات والارض ولا یؤدہ حفظھما وھو العلی العظیم "

( اللہ تعالی ہی معبود برحق ہےجس کے سوا کوئی معبود نہیں جوزندہ اور سب کا تھامنے والا ہے جسے نہ تو اونگھ آۓ اور نہ ہی نیند – آسمان وزمین میں تمام چیزیں اسی کی ملکیت ہیں کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے وہ جو انکے سامنے ہے اور جو انکے پیچھے ہے اس کے علم میں ہے وہ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی کی وسعت نے آسمانوں وزمین کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالی ان کی حفاظت سے نہ تو تھکتا اور نہ ہی اکتاتا ہے اور وہ بلند اور بہت بڑا ہے – (البقرہ 255)

3 - سورت اعراف کی یہ آیات پڑھیں :

" قال ان کنت جئت بآیۃ فات بھا ان کنت من الصادقین فالقی عصاہ فاذا ھی ثعبان مبین ونزع یدہ فاذا ھی بیضاہ للنظرین قال الملاء من قوم فرعون ان ھذا الساحر علیم یرید ان یخرجکم من ارضکم فماذا تامرون قالوا ارجہ واخاہ وارسل فی المدائن حاشرین یاتوک بکل ساحر علیم وجاء السحرۃ فرعون قالوا ان لنا لاجرا ان کنا نحن الغالبین قال نعم وانکم لمن المقربین قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا سحروا اعین الناس واسترھبوھم وجاء وبسحر عظیم واوحینا الی موسی ان الق عصاک فاذا ھی تلقف ما یافکون فوقع الحق وبطل ما کانوا یعلمون فغلبوا ھنالک وانقلبوا صاغرین والقی السحرۃ ساجدین قالوا امنا برب موسی وھارون" الاعراف 106-

(فرعون نے کہا ہے کہ اگر آپ کوئی معجزہ لے کر آۓ ہیں تو اس کو اب پیش کیجۓ اگر آپ سچے ہیں ؟ تو انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو دفعتا وہ صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا قوم فرعون کے جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے نکال باہر کرے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو انہوں نے کہا آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دے دو اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجۓ کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کر دیں اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوۓ اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہو گۓ تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم سب مقرب لوگوں میں ہو جاؤ گے ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسی خواہ آپ ‌ڈالیں یا ہم ہی ڈالیں؟ ( موسی علیہ السلام ) کہنے لگے تم ہی ڈالو پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا اور ہم نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا اپنی لاٹھی ڈال دیجۓ سو اس کا ڈالنا تھا کہ اس نے سارے بنے بناۓ کھیل کو نگھلنا شروع کر دیا پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب کچھ جاتا رہا پس وہ لوگ موقع پر ہار گۓ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے اور جو ساحر تھے سجدہ میں گر گۓ اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاۓ جو موسی اور ہارون کا رب ہے ) الاعراف 106 122-

4 - سورت یونس کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :

"وقال فرعون ائتونی بکل ساحر علیم فلما جاء السحرۃ قال لھم موسی القوا ما انتم ملقون فلما القوا قال موسی ما جئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین ویحق الحق بکلماتہ ولو کرہ المجرمون " یونس /79 82 -

( اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام جادوگروں کو حاضر کرو پھر جب جادوگر آۓ تو موسی علیہ السلام نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو سو جب انہوں نے ڈالا تو موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کچھ تم لاۓ ہو جادو ہے یقینی بات یہ ہے اللہ تعالی اس کو ابھی درہم برہم کۓ دیتا ہے اللہ تعالی ایسے فسادیوں کا کام نہیں بننے دیتا )

3 - اور سورت طہ کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :

"قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون اول من القی قال بل القوا فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی قلنا لا تخف انک انت الاعلی والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا انما صنعوا کید ساحر ولا یفلح الساحر حیث اتی " طہ 65 69 -

( کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں پس موسی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا )

6- سورۃ الکافرین کو پڑھیں ۔

7 - سور‏ۃ الاخلاص اور معوذتین (فلق اور الناس)

8 - بعض شرعی دعائیں پڑھنا مثلا :

"اللھم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفا‏ؤک شفاء لا یغادر سقما " تین بار پڑھے ۔

( اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے ) اسے تین بار پڑھے تو اچھا ہے –

اور اگر ہو سکے ساتھ یہ بھی تین بار پڑھے تو بہتر ہے :

" بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک ومن شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک ۔

( میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ) ۔

اور اگر مندرجہ بالا آیات اور دعائیں مریض کے اوپر پڑھتے جائیں اور اس کے سینے اور سر پر دم کرے تو یہ ان شاء اللہ اللہ کے حکم سے شفا کے اسباب میں سے ہے ۔ .

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 275

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.