Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


خوبصورت کردار اور عمل
.............................................................

سمجھ لیں کردار آپ کا روحانی عکس ہوتا ہے جبکہ کہ عمل حالات و واقعات کے تحت کیا جانے والا ایک قولی یا جسمانی فعل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کردار اور عمل ایک ہی چیز کا نام نہیں ہے۔


مثال سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ اور میں نے اکثر کسی نہ کسی وجہ سے مالی مدد کی ہو گی ۔۔۔۔۔ اب آّپ کے اس عمل سے قلبی طور پر دو طرح کی کیفیات جنم لے سکتی ہیں ۔۔۔۔۔


بخل اوازاری و تنگ دلی و چر چراہٹ

سخاوت خوشی و سکینت و اطمینان


اب مالی مدد کرنا ایک "عمل" ہے جبکہ آپ کے اندر پیدا ہونے والی کیفیات آپ کا اصل "کردار" ہیں۔ یہ کردار آپکی اصل شخصیت ہے۔ اس مثال سے ایک کردار "سخی" جنم لیتا ہے جسکو مال دینے کے عوض روحانی خوشی و سکون حاصل ہوتا ہے اور اسکے متضاد ایک کردار "بخیل" بھی سامنے آتا ہے ۔ جس طرح جسم کے مختلف بائیولوجیکل اعضاء ہیں اسیطرح روح کے مختلف وصف ہیں۔


دراصل ایک خوبصورت روح یا کردار کے حامل وہ مردو عورت ہوں گے جن میں یہ خصوصیات  توازن کی حالت میں ہوں گی۔ جیسے عقل مند ہونا کردار کا ایک ایٹریبوٹ ہے جسکا مطلب ہے استدلال کرکے غلط اور صحیح کی پہچان کرنے کی صلاحیت کا استعمال۔ اب جو اس کا کم سے کم استعمال کرے گا اس میں احمقانہ پن جنم لے گا اور اپنی ذات کا یا کسی اور کا نقصان کر بیٹھے گا اور جو اسکا زیادہ استعمال کرے گا وہ صرف اور صرف اپنی ذات کو محور بنا لے گا اور اسکے لیۓ بددیانتی و دھوکے جیسے کاموں کے لیۓ بھی دلائل ہوں گے اور عقل کا کام دلیل تلاش کر کے دینا ہے مرضی آپکی ہے کہ آپکو دلیل چاہیۓ کس مقصد کے لیۓ چاہيے۔ جب یہی عقل توازن کی حالت میں ہو گی تو حکمت یا وزڈم کہلاتی ہے۔


اسی طرح "بہاردی" بھی کردار کی ایک خصوصیت ہے ۔۔۔۔ اگر یہ متوازن نہیں ہو گی تو انسان ڈرپوک کہلاۓ گا یا پھر وحشی و بدتمیز اور توازن کی حالت میں اسکو "باہمت یا کرج" کہیں گے۔


کردار کی ان خصوصیات کو توازن میں رکھنے کے لیۓ ایک قوت درکار ہوتی ہے جسے ہم سمجھ یا فہم و فراست یا انٹیلکٹ کا نام دیتے ہیں۔اسی توازن سے "عدل " جیسی نیکی کا ظہور ہوتا ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ کردار کی ان خصوصیات کی کمی یا زیادتی کے ساتھ عملی زندگی گزارنا آسان ہوتا ہے جبکہ انکو توازن میں رکھ کے جینا (خوبصورت کردار کے ساتھ) نہایت مشکل اور کھٹن ہوتا ہے بالکل جیسے تنی ہوئی رسی پر چلنا کہ ہر لمحہ توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔


ان خصوصیات کا متوازن نہ ہونا روحانی و قلبی طور پربیمار ہونے کی علامت ہے۔ اور اسکا علاج یہی ہوتا ہے کہ ایسے اعمال کیۓ جائیں کہ کمی کو بڑھایا جاۓ اور زیادتی کو کم کیا جاۓ۔ اس لحاظ سے ہر مریض کے لیۓ اسکے مرض کی شدت و نوعیت کو سامنے رکھ کر دوا تجویز کی جاتی ہے۔ مثلا اگر کسی کی مالی مدد کر کے آپ کے دل میں فراخ دلی کی بجاۓ تنگ دلی جنم لے رہی ہو تو (روحانی) فزیشن کو چاہیۓ کہ آپ کے مال خرچ کرنے کے عمل کو حد درجہ سراہے اور قابل تعریف و قابل تقلید ثابت کرے حتی کہ عمل کے مثبت پن کا شعور آپ کے دل کی تنگی (بخل) کو ۔۔۔ سکینت و اطمینان (سخاوت) میں بدل دے۔



(امام غزالی کے خیالات سے مستعار)

Views: 160

Reply to This

Replies to This Discussion

بیشک کردار اور عمل ایک ہی چیز کا نام نہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ محض عمل ایک بار کسی کا عمل دیکھ کر اس کی روح کی لطافت یا کثافت کا اندازہ کیا جا سکے۔کیونکہ بسا اوقات آنکھ دیکھی بات بھی غلط ہو سکتی ہے ۔۔ کہ مطلوبہ انسان کسی حالت کے دباوؑ کے تحت کسی امر کا مرتکب ہو جب کہ یہ اس کی فطرت کا حصہ نہ ہو۔۔لیکن کسی کے پے در پے عمل اس کی فطرت کا عکاس ہو سکتے ہیں۔ روح اسی لطیف چیز ہے کہ اعمال کی غلاظت سے کثیف ہو  جاتی ہے لیکن اگر اعمال کی درستگی کر کے تقوی کو اختیار کر لیا جائے تو نہایت لطیف ہو جائے،

بہر کیف ہم کے اعمال کا تعلق ہم کی روح سے پیوستہ ہے لیکن ہر دو مختلف چیزیں ہیں،،

جہاں تک بات توازن برقرار رکھنے کی ہے امام کی یہ تھراپی بہت اعلیٰ ہے ہم اس سے اپنی ذات مین بہت حد تک توازن لا سکتے ہیں ۔۔روھانی بیماریوں کا علاج عمدہ اخلاق ہیں

آپ نے تو بادام توڑ کر مغز نکال لیا

RSS

Looking For Something? Search Below

VIP Member Badge & Others

How to Get This Badge at Your Profile DP

------------------------------------

Management: Admins ::: Moderators

Other Awards Badges List Moderators Group

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service