We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

قرآن اور حدیث میں عورت کے مختلف کردار اور اس میں ہم کے لیے کیا تعلیمات مخفی ہیں؟؟

ہم آج جس موضوع کو آپ سے شیؑر کرنے کو چنا وہ ہم کا یہاں کے وقت کا تجربہ اور اس کا حاصل ہے

قرآن زندگی کے ہر موضوع کا احاطہ کرتا ہے لیکن ہم اس کو اس نگاہ سے، سوچ سے نہیں دیکھتے قرآن قصے کہانیوں کی کتاب نہیں یہ نظآم حیات کو چلانے کا سبق دیتا ہے ہر بات میں کوؑی نا کوؑیی تعلیم دی جا رہی ہے ہم کو صرف اس تعلیم کو احذ کرنا اور اپنی زندگی کا حصہ

بنا نا ہے۔

موضوع ہے قرآن اور حدیث میں عورت کے مختلف کردار اور اس میں ہم کے لیے کیا تعلیمات مخفی ہیں؟؟ آیؑے تلاش کرتے ہیں

قرآن میں بہت سی خواتیں کا ذکر آیا ہے اور ایک ترتیب سے آیا ہے ہم کوشش کریں گے کہ اس ترتیب کو برقرار رکھیں

اماں حوا

شیطان نے سب سے پہلے اماں حوا کو ورغلایا کہ آپ لوگ اگر یہ پھل کھا لیں تو ہمیشہ کی زندگی اور جنت پا لیں گے

یہ واقعہ آپ سب جانتے اس میں ہم خواتین کے لیے کیا تعلیم مخفی ہی؟؟؟؟

پہلا سبق : اگر آپ کسی غیر متعلق شخص کی بات مانیں گے اس کو اپنے خدا اور اپنے شوہر یا اپنے گھر کے بڑے کی بات پر ترجیح دیں گے تو ذلیل ہوں گے۔۔

کیسے؟؟؟

اماں حوا نے حضرت آدم کو بھی راضی کیا کہ ہم یہ کھا لیتے تو اس عمل میں وہ اپنے رب کا حکم بھول گؑے ایک انجان کی باتوں میں آ کر تو نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ستر کھل گؑے پردہ جاتا رہا۔

دوسرے ان کو جنت سے بھی نکال دیا گیا

تیسرے اللہ بھی ان سے ناراض ہو گیا

اس ایک واقعہ میں یہ تعیلم پوشیدہ ہے کہ ہم خواتین کا کسی بھی انجان انسان سے متعلق کیا رویہ ہونا چاہے۔

کبھی بھی کسی غیر متعلقہ شخص کی بات نہین ماننی چاہے چاہے وہ دل کو کتنی ہی بھلی کیوں نہ لگے۔۔

کیونکہ جو اپنی حیا کو قایم کر رہے یں اور باپردہ ہیں وہ اللہ کی سنت پر ہیں کیونکہ اللہ سب سے بڑا پردے والا ہے کوؑی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے اللہ کو دیکھا ہے سو جو اللہ کی سنت پر ہوں گی وہ اللہ کی پسندیدہ ہوں گی اور اللہ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے

پہلا قانون یہ ہے کہ کسی غیر کے مشوروں پر عمل نہیں کرنا

دوسری تعلیم یہ کہ بے پردگی سے پردہ کو ترجیح دینی ہے

آپ جب بھی ایسا عمل کریں گے تو اس کے نتیجے میں آپ رسوا ہوں گے

آپ کا پردہ جاتا رہے گا

آپ اللہ کو ناراض کریں گے

تو یہ سمجھ لینا چاہے کہ جب جب ہم ایسا عمل کریں گے اللہ کے حکم اور اپنے حاکموں یعنی بیوی کے لیے شوہر بیٹی بہن کے لیے باپ بھاؑی ان کے حاکم ہوتے۔ ان کی بات سے روگردانی کریں گے تو ایسے مصایؑب کا شکار ہوں گے۔۔

زوجہ حضرت نوح علیہ اسلام

قرآن کہتا ہے وہ ڈوبنے والوں میں سے تھی۔۔

وہ ایک عظیم پیغمبر کی بیوی تھی جن کو پہلا صیحفہ بھی ملا تھا یہاں اس بات کی تعیلم دی جا رہی کہ

اگر آپ کا شوہر نیک ہے ولی ہے حتیٰ کے پیغمبر ہے تو بھی اس کے اعمال آپ کے لیے نہیں ہیں آپ یہ نا سمجھیں کہ آپ ان کے سہارے پار ہو جایں گی۔ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے یہاں دو تعلیمات ملتی ہیں۔

ہر ایک نے اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے،

بیشک آپ کے شوہر یا بزرگ آپ کے عیال دار ہوتے ذمے دار ہوتے اور وہ اس کے لیے جوابدہ بھی ہوتے لیکن پھر بھی اپنے کیے کا آپ نے خود حساب دینا ہے

شوہر سے منافی حق سے روگردانی آپ کو ڈوبنے والوں کا ساتھی بنا دے گی۔

زوجہ حضرت لوط علیہ اسلام

قرآن کہتا ہے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔

اس کردار میں یہ تعلیم ہے کہ حق کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے نا کہ برادری کے ساتھ

یہ معاملہ ہم روز مرہ زندگی میں عام دیکھتے کہ لوگ حق کی بجاے اپنوں کو بچانے کی کوشش کرتے۔ ان کی زوج نٓے یہی کیا کہ جب ان کو کہا گیا کہ حکم ہے اللہ کا کہ یہاں سے کوچ کرو تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ جا کھڑی ہوؑی کہ وہ ان کو زیادہ عزیز بجاؑے اللہ کے حکم کے۔

اس نے پیغمبر کی بات اور اللہ کی بات سے اعراض برتا اور اپنے خاندان کا ساتھ دینا مناسب سمجھا تو ایسے عمل کے لیے بھی وعید اؑی کے وہ ہم میں سے نہیں رہیں گے۔تو مزاج میں خواتین اس قسم کی عدات کی حامل ہوری ہیں یہاں اسی بات کو واضح کیا گیا ہے کہ آپ کو اقربا پروری کی بجاے حق بات کا ساتھ دینا ہے۔۔

حضرت سارہ علیہ اسلام

فرشتے نے آپ کو اولاد نرینہ کی نوید دی۔

آپ زوجہ حضرت ابرہیم علیہ اسلام ہیں فرشتے نے نوید دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹے سے نوازیں گے تو فرمایا کہ میں بوڑھی اور بانجھ ہوں شوہر میرے ضعیف ہیں ہم کے ہاں اولاد کیسے ہو گی تو فرشتے نے جواب دیا اللہ سب کر سکتا ہے جب چاہیے جیسے چاہیے۔۔۔۔

اس کردار میں پیغا م اور تعلیم ان لوگوں کے لیے مایوس ہو جاتے ۔۔

اسباب کو نہ دیکھیں مسبب الاسباب کو دیکھیں ۔آپ اسباب کی ممکنات اور ناممکنات کو دیکھ کر مایوس نا ہوں بلکہ مسبب الاسباب پر توکل کریں۔۔ اگر اللہ ایک جرثومے سے اولاد پیدا کر سکتا ہے تو وہ یہ جرثومہ بھی پیدا کر سکتا ہے اس کی ذات کو کسی اسباب کی ضرورت نہین۔ بس آپ کا ایقان مکمل ہونا چاہیے۔

یہ تعلیم صرف اولاد کے سلسلے میں نہیں دی جا رہی بلکہ زندگی کے ہی پہلو میں اس کو لاگو کیا جانا چاہیے لیکن عورتوں کے حوالے سے بات ہو رہی اس لیے ہم کا فوکس ان پر اور ان کے مسایؑل پر ہے۔کیو نکہ گھریلو مسایؑل سے گھبرا کر عورتیں ہی اسباب کی تلاش میں نکل پڑتی اور گمراہ ہوتی ہیں۔

حضرت ہاجرہ علیہ اسلام

آپ کی زندگی بہیتریں تعلیمات کا مجموعہ ہے تاریخ انسانی کی سب سے عظیم خاتون زوجہ حضرت ابرہیم علیہ اسلام تھیں۔

چھوٹا سا بچہ اور لق و دق صحرا اور شوہر کہتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے کہ میں تم کو یہاں چھوڑ جاوں ۔آپ صبر و رضا کا پیکر اور اللہ پر مکمل ایمان رکھنے والی خاتون فرماتی ہیں جو میرے اللہ کا حکم آپ بجا لاییں ۔۔۔

یہاں یہ تعلیم ملتی کہ اللہ پر کامل یقین کے وہ پیغمبر کی اولاد کو ے آسرا نہیں چھوڑے گا

دوسری بات ان میں صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

تیسرے یہ جانتی تھیں کہ اگر شوہر کی فر مانبردار نا رہیں گی تو اللہ بھی ان کا نا رہے گا

تو ان کے کردار میں پہلی تعلیم آپ کو شوہر کیا فرمانبراداری کی مل رہی

دوسری تعلیم بطور ایک مومنہ کے اللہ پر کامل یقین

اب تیسرا ان کا کرادار ایک ماں کا ہے

کہ پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے سات چکر لگاتی ہیں۔اللہ کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اس کو ہم کی عبادت کا تا قیامت حصہ بنا دیا۔۔اور قرآن میں کہہ دیا کہ

جو سعی تو صفا و مروہ میں کرتا ہے تو کل کو تجھ پر کوؑی گناہ نہیں۔۔

یہ حکم اس لیےآ یا کہ کل کو کوؑی نکتہ اٹھا سکتا کہ یہ عمل ایک غیر پیغمبر نے کیا تو اس کہ کیوں کیا جاے یہ تو گناہ ہے۔۔

ایک شوہر کی فرمانبردار بیوی

ایک متوکل عورت

ایک ہمت والی جستجو والی ماں

یہاں عورتوں کو تعیلم دی جا رہی ہے کہ اگر تم کو انی جان بھی اولاد کی تربیت اور حفاظت واسطے دینا پڑے تو نچھاور کر دو۔

دوسری بات اللہ نے انعام کیا دیا کہ بچے کی ایڑیوں سے پانی نکال دیا اور اللہ نے بتا دیا کہ وہ محنت کو ضایؑع نہیں کرتا۔۔یہ قبولیت تھی ایک عورت کی اپنے بچے کے لیے سعی کی محنت کی۔

پھر ایک سبق آموز واقعہ کہ ابراہیمؐ فرماتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے کہ بچہ قربان کرو

آپ پھر اسی استقامت اور ایمان سے فرماتی ہیں کہ جو حکم خدا۔۔

اور اسماعیل تیار ہو جاتے ہیں کیوں؟؟؟

کس نے بچے کو تربیت دی والد تو کوسوں دور تھے پر بچہ پھر بھی باپ سے محبت کرتا ان کا اخترام کرتا ہے۔۔۔ ماں نے یہ محبت بچے کے دل میں ڈالی تو اس سے یہ تعلیم ملی کہ

اولادیں نیک اور فرمانبردار بھی ہو سکتی ہیں اگر ماں اپنا حق ادا کرے

ہم کے ہاں تو ماییؑں پارٹی بن جاتی ہیں بچوں کو شوہر کے خلاف اکساتی ہیں

تو اس کردار میں ہم کو یہ تعلیم دے دی گؑی کہ اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو تم کو اپنا مال اولاد اپنی چاہیتیں قربان کرنا ہوں گی۔ تو صبر استقا مت اثیار محبت محنت آپ کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرنا ہو گا۔

ملکہ سبا

ملکہ سبا ک ذکر سورہ سبا میں آیا جن کا تخت بلقیس آصف بلقیا کے ذریعے دربار سیلمان ؐ میں لایا گیا وہ ایک عقل مند اور جہاندیدہ خاتون تھی کہ ایک بادشاہ مقرر ہو ؑی ۔۔

یہاں یہ تعلیم دی جا رہی کہ آپ بھی سنجیدہ ہوں تعلیم ،تحقیق جستجو کریں تو اللہ آپ کو بھی نوازے گا۔۔۔ یہاں اللہ نے سمجھا دیا ہے کہ خواتین بھی بادشاہت کر سکتی ہیں ان میں بھی اتنی اہلیت ہو سکتی ہے کہ نظام خکومت چلا سکیں۔۔تو اللہ نے خواتین کے مختلف کرداروں کے ذریعے ہم کو بتلا دیا کہ کیا ہونا چاہیے کیا نہیں اب ہم کو اس میں پورا اترنا ہے اور اللہ کو راضی کرنا ہے۔

زلیخا

ان کا ردار کچھ بڑھیا نا تھا لیکن قرآن مکیں پیش کیا گیا کہ اسے بھی کردار ہیں آپ کو ان سے بچنا ہے آپ نے کسی غرور حسن اور علمیت سے اتنا متاثر نیں ہو جانا کہ اپنے دامن پر داغ لگوا بیٹھو۔۔ سو اسے ہر عمل سے دور رہنے کی ترغیب دی گؑی اور اس واقعہ میں بہترین مثآل موجود کہ ایسے عمل کا انجام کیا۔۔۔۔

دختران حضرت شیعب ؐ

موسٰی علیہ اسلام جب بھاگ کر حضرت شیعب کے پاس جاتے تو ان کو راستے میں دو لڑکیاں نظر اییں جو اپنے جانوروں کو پانی پلانا چاہتی ہیں لیکن لوگ انہیں پلانے نہیں دیتے اور وہ دیر تک اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں ،حضرت موسٰی آگے بڑھ کر یہ کام کر دیتے ہیں۔جس پر بچیاں کہتی ہیں آپ ہم کے بابا سے مل لیں۔۔۔۔

یہاں یہ تعلیم دی گؑی ہے کے جن لڑکیوں کے والد ضعیف ہو چکے گھر میں کوؑی مرد نہیں کمانے والا تو وہ اپنی گزر اوقات کے لیے مشقت کے لیے باہر جا سکتی ہیں قرآن یہ سہولت دے رہا ہے کہ سخت مجبوری کی صورت مین آپ باہر نکل کر کام کر سکتی اس پر شرمندہ نہیں ہونا ۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ جب آپ معاش کے سلسلے میں باہر جاو گی تو مشکلات آییں گی تو گھبرانا نہیں۔۔یعنی وہ باری نا آنے کے باوجود جگہ سے نہیں ہٹیں جانور لے کر واپس نہیں گؑی

دوسری تعلیم یہ تھی کہ بیشک حضرت موسٰی نے ان کی مدد کی تھی وہ ان کے ساتھ نہیں گؑی بلکہ ان کو بولا کے آپ ہم کے والد سے مل لیں۔

حضرت مریم علیہ سلام

اللہ نے ان کو اتنا معزز کیا کہ اللہ کہتا ہے کہ اس کھجور کے درخت کو ہلاییں اس سے میٹھی کھجوریں ملیں گی۔۔

ایک معجزہ ان سے ظہور ہو ا کہ ایک کمزور حاملہ عورت کھجور کے درخت کو ہلاے

پھر اعزاز کے حضرت زکریا ؐ کو ذمےلگایا کہ آپ کا خیال رکھیں۔۔

حضرت مریم نے اپنی پاکیزگی کیسے ثابت کی؟؟

آپ اللہ کے حکم سے دور خلوت میں چلی گؑیں اور اس سارے معاملے کو صبر سے برداشت کیا ان کا یقین اور اللہ سے تعلق اتنا قریب تھا کہ انہوں نے زمانے پر اپنی پاکیزگی ثابت کر دی ہمت سے دنیا کا سامنا کیا

یہا ں یہ تعلیم دی جا رہی کہ اگر آپ پر کوؑی بہتان لگتا ہے تو گھبرا نہیں جانا خود کشی نہیں کر لینی بلکہ اللہ پر مکمل ایمان رکھتے ہوے سچاؑی کے ساتھ زندہ رہنا اور زمانے کا مقا بلہ کرنا ہے۔سو ہم کو بھی ڈیپریشن میں نہیں جانا ہے بلکہ سچاؑی پر کامل رہنا ہے صبر کا دامن ہاتھ سے نہین چھوڑنا ہے۔۔

حضرت آمنہ

استقامت اور صبر کا پیکر شرافت و نجابت کی خوگر والدہ ماجدہ حضور ﷺ ایک بڑے خاندان کی بیٹی ایک معزز خاندان کی بہو لیکن ابھی حضور دنیامیں تشریف لاتے نہیں کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا لیکن آپ کی والدہ نے روکھی سوکھی پر گزارا کیا لیکن کسی کے آگے مدد کو ہاتھ نہیں پھیلایا کیونکہ حضور کی پرورش ایک خود دار ماں کے ذمہ تھی

آپ کی شخصیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر اولاد کو شرافت و نجابت اور خود داری کا خوگر بنانا چاہتے ہو تو اس کی پرورش اسی پیمانے پر کرو۔جب ہم اپنی خوداری کو کسی کے آگے جھکا دیتے تو مزاج میں درباریت آ ہی جاتی۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اگر بچے کی تربیت صبر سے محنت سے کی جاے تو بچے کہ جوہر ظاہر نہ ہوں۔ یہ وہ کردار ہین جن کو ہم نے اپنانا ہے اگر ہم اس کو اپنا لیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم کامیاب نا ہوں۔آج کل ہر دوسری خاتون ڈیپریشن کا شکار بالکل ایسے ہی جیسے یہ فیشن ہو ۔ ورنہ محض یہی ہے کہ قباعت نہٰن صبر نہیں۔۔تو ہم کو ان صفات کو اپنا کر اپنا آپ سنوارنا ہے اپنی زندگی کو جنت بنانا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا

آپ عرب کی سب سے امیر خاتون تھیں ۔۔آپ نے ایک ایسے آدمی سے شادی کا فیصلہ کیا جس کے پاس کچھ نا تھا لیکن ان کی نظر بینا تھی انھوں نے آپ ﷺ کا انتخاب کیا تو یہاں کیا تعلیم تھی کہ شادی کے لیے ظاہر نہین دیکھنا مال نہیں دیکھنا ۔سیرت دیکھنی چاہیے ۔جس میں مہارت ہی جس میں گن ہیں جس میں کردار ہی اس کا انتخاب کرنا چاہیے آج کل ہم کا سارا معاشرہ اس تعلیم سے برعکس کر رہا ہے اور اس کے مضمرات بھی دیکھ رہا۔

دوسری تعلیم آپ کی شخصیت سے کیا ملتی ۔جب نبی پاک ﷺ کو وحی نازل ہوی تو آپ کانپتے ہوے گھر داخل ہوے تو آپ نے ان کی ہمت بند ھای کہ آپ صلہ رحم ہیں اپنے رشتے داروں سے اللہ آپ کو کبھی رسوا بہیں کرے گا۔پھر آپ کی مزید تسلی کے لیے اپنے کزن ورقہ بن نوفل کے پاس لے گیں یہاں تعلیم یہ کہ اگر شوہر پریشان تو آرام سے نہیں بیٹھنا اس کی پوری تسلی تک اس کی دلجوی کرنا ہے۔

پھر آپ نے اپنا سارا پیسہ اپنے شوہر پر قربان کر دیا جس خاتون کے اونٹوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا تھا جب شعب ابی طالب میں وافات پای تو اس وقت اناج کے لیے بھی رقم نہ تھی سارا پیسہ راہ حق میں اسلام کی اشاعت میں اپنے شوہر کی اعانت کے لیے خرچ ہو چکا تھا۔۔ تو اس سے ہم کو یہ تعلیم ملتی کہ آپ اپنے شوہر کی ہر ممکن امداد اور دلجوؑی کریں۔اس کے شانے سے شانہ ملا کر کھڑی ہوہیں

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

حضور ﷺ کی زوج مبارک ابو سفیان کی بیٹی جب باپ بیٹی سے ملنے آتے تو بیٹی باپ کو اس پر بیٹھنے سے روک دیتی کہ آپ مشرک ہیں رسوال خدا کے بستر پر نہیں بیٹھ سکتے۔۔ یہاں یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ شوہر کا بستر کا کیا تقدس ہے کہ آپ کو اس کا ہر دم خیال رکھنا ہے اس کو پامال نیہں ہونے دینا۔۔

حضرت عاشہؑ رضی اللہ عنہا

آپ دیکھیں کہ اسلام کے سارے عایؑلی قوا نین آپ کے توسط سے ہم کو ملےصحابہ کرام آپ سے رہنمای لیا کرتے تھے ان کی مروی احادیث سے زیادہ تر عاؑیلی قوانین وضع پاے۔۔ تو آپ کے لیے تعلیم یہ کہ آپ کو یہ قوانین سیکھنا ہیں ۔خواتین بھی فہم و ادراک کی حامل ہو سکتی ہیں اور ان کو بھی یہ علم حاصل کرنا چاہیے۔جب ایک خاتون اس علم کو پا لے گی تو صحیح بنیادوں پر اپنے خاندان کو استوار کر سکے گی

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

صبر برداشت انکسار اور عاجزی کا پیکر۔۔مدینے کے سربراہ کی بیٹی لیکن گھر میں فقر کے ڈھیرے۔۔ شرافت نجابت آپ پر ختم ہوتی صبر قناعت کی معراج پر تھیں کہ حضور ﷺ کی بیٹی ہوتے ہوے اور اتنے جلیل القدر صحابی کی بیوی ہوتے ہوے اور اتنے عظیم بیٹوں کی ماں ہوتے ہوۓ بھی ساری زندگی قناعت سے بسر کی آپ کی شخصیت ہم کے لیے عملی نمونہ ہے باپ سے محبت شوہر سے وفاداری بیٹوں کے لیے قربانیوں کا عظیم کردار۔۔ہم تو ان کے کردار کا پر تو بھی پا جاییں تو بیڑا پار لگ جاے۔

یہ سارے کردار ہم کے لیے پینٹ کیے گؑے کہ ہم ان سے تعلیم حاصل کریں اور ان کی روشنی سے اپنے کرداروں کو منوار کریں

ہم نے ایک عا جزانہ کوشش کی کہ ان کرداروں کو آپ کے سامنے کھولیں تاکہ ان کی شخصیت سے ہم اپنے لیے تعلیم وضع کر سکیں ان کرداروں کے اور بھی بہت سے پہلو ہوں گے آپ اپنے طور پر محض اس نکتہ نظر سے جایؑزہ لیں گے تو اور بھی پرتیں کھلیں گی ۔اور بھی اسباق حاصل ہوں گے ۔ان کو یہاں شیر کریں تاکہ ہم بھی مستفید ہو سکیں ۔۔۔شکریہ

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 367

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

Replies to This Discussion

Assalam O Alaikum Saloosh Ma'am 

JazakAllah Ma'am it's really very precious sharing 

saber.. fermanberdari....islam say humagahni...yeh 3 bht zarori hian ak perfect larki bannay k liyee...

i got it..

بیشک

لیکن جس زمرے میں ہم بات کر رہے اس کا حاصل حصول شوہر کی تابعداری میں ہے۔ اس لہے کہا جاتا ہے کہ نیک بیوی اللہ کے طرف سے نعمت ہے۔

تو سوالات شروع کریں سب سے پہلے اماں حوا کے حوالے س بات کر لیتے ہیں کہ آپ کو ان کی زندگی سے کیا سبق ملتا ہے؟

wahi na Ma'am k humy ghairo ki bato main ni ana chahea , 

bsh apni family hi hamary apny ol hum k achai chahny waly hoty hy :) 

Saroosh Ma'am pal ik confusion 

jeshy apny zikar tia na Malaka Saba ka k khwateen bhi badshahat kr skti hy 

to Ma'am wo S.But Ma'am ny jo discussion add kia tha na us main to bola tha k Islam ny khwateen ko Hakumat klny shy mana tia hy hun??? 

مکہ سبا کی تاریخ آپ نے پڑھی ہو گی

ملکہ سبا نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پیغمبرانہ جاہ و جلال کو دیکھ کر دین حق قبول کرلیا۔

بلقیس بنت شراحیل دسویں صدی قبل از مسیح یمن کی فرمانروا تھیں اور شہر سبا ان کا دارالحکومت تھا۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلامکو معلوم ہوا کہ وہ اور ان کے ملک کے عوام سورج کے پجاری ہیں تو انھوں نے انہيں اسلام اور یکتا پرستی کی دعوت دی جس کے جواب میں بلقیس نے بڑے بڑے تحائف جناب سلیمان علیہ السلام کے لئے بھجوا دیئے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کے تحائف کو مسترد کیا اور اور فرمایا:
قران کریم سورہ نمل کی آیات ٣٦-٣٧ میں ارشاد باری تعالی ہے
"فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ٭ ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ"۔

ترجمہ: کیا تم لوگ مال و دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ سو جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے اس (دولت) سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے بلکہ تم ہی ہو جو اپنے تحفے سے فرحاں (اور) نازاں ہو ٭ تو ان کے پاس (تحفے سمیت) واپس پلٹ جا سو ہم ان پر ایسے لشکروں کے ساتھ آئیں گے جن سے انہیں مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی اور ہم انہیں وہاں سے بےعزت کر کے اس حال میں نکالیں گے کہ وہ رسوا ہوں گے۔

یوں تو ملکہ سبا بہت سمجھدار حکمران خاتون ہو گزری ہیں چنانچہ انھوں نے جو خدا داد صلاحیت سے اپنی حکمت اور تدبر سے حضرت سلیمان نبی علیہ السلام کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور ان پر ایمان لائیں اور اللہ رب کریم کی بارگاہ میں عرض گذار ہوئیں:

بعض تاریخی متون میں منقول ہے کہ بلقیس اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سلیمان (ع) سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور کئی برسوں تک ان کے ساتھ مشترکہ زندگی گذار دی۔

تاریخ میں آتا ہے کہ

اسلام قبول کرلینے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کر لیا اور بعد میں اس کو اس کے ملک جانے اور حکومت کرنے کی اجازت عطا کی اور بعد ازاں اس سے وقتاََ فوقتاََ ملاقات فرماتے رہے۔

لیکن آپ قبل قبول اسلام  بادشاہ تھیں  اسلام قبول کرنے کے بعد آپ حضرت سلیمان علیہ اسلام کی باجگزار تھیں یعنی ان کے مشورہ  کی حکم کی پابند۔

ہم نے جو اوپر ذکر کیا ہے وہ ایک مشروط بات ہے کہ اگر یہ سب صلاحیتیں عورت میں ہوں تو وہ اس کی اہل ہو گی ۔ لیکن   اسلام میں قوام مرد کو ہی کہا گیا ہے ۔ اور ہر  وقت میں اسلام ہی بطور مذہب رائج رہا ہے

otty thant saloosh Ma'am ab clear howi bat :)

JazakAllah Ma'am Allah apko inni ashi wali sharing pe asha sa gift dy Ameen 

تمام کرداروں میں ایک بات کی مماثلت پائی جاتی ہے کیا آپ وہ جان پائے ہیں ؟؟ اور جس کا فقدان ہم کے معاشرے میں  نمایاں نظر آتا ہے۔۔

وہ کیا سروش میم آپ ہی بتا دیں۔

RSS

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.