Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

گستاخ رسول کی سزایا معافی ۔ اعتراضات کے جوابات

اس پوسٹ کا مقصد کسی کی حقانیت یا کسی کی تکفیر  ثابت کرنا نہیں ہے مطلوب و مقصود محض اتنا ہے کہ اس نازک مسلؑہ پر کوئی بھی بے ادبی کا مرتکب  نہ ہو جائے۔

ہم نے گزشتہ ایک پوسٹ پر یہی ایک کوشش کی تھی لیکن اس کو در خود اعتنا سمجھا گیا امید ہے کہ ممبرز اس کو ایسی کسی کڑی کا حصّہ نہ سمجھیں گے محض تعلیم کی نظر سے دیکھیں گے۔

گستاخ رسول کی سزا ایک ایسا امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ اور اگر ان دلائل کو ایک انسان مدنظر رکھے تو وہ کبھی بھی اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہوگا۔ لیکن چونکہ کم علمی کے سبب بعض لوگوں کے ذہن میں بعض اشکالات اور اعتراضات پیدا ہوجاتے ہیں ، جس کےسبب وہ اس عالمی اور مشہور مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں بروقت مناسب رہنمائی نہ ہونے سے کبھی کبھی اس سلسلے میں بعض اوقات مخالفت پر بھی اُ تر آتے ہیں۔

لھذا ہم نے مناسب جانا کہ اول تو اس مسئلے کو دلائل سے ثابت کروں اور اسکے بعدقرآن وحدیث کی روشنی میں ان اعتراضات کا بےغبار جواب کروں تاکہ اس کے بعداس سلسلے میں کسی کا کوئی اشکال اور اعتراض باقی نہ رہے۔ممبرز کی آسانی کیلئے ہم نے اسکو درج ذیل کے عنوانات میں تقسیم کیا ہے ۔تاکہ ہر بات آسانی سے سمجھی جاسکے۔نیز پڑھنے میں دشواری نہ ہو۔

اللہ جل شانہ ہماری اس سعی کو قبول فرما کر ہم کی سعادت کا ذریعہ بنا دے۔آمین۔
٭٭٭۔۔اہانت رسول کی سزا قرآن میں

٭٭٭۔۔ اہانت رسول کی سزا احادیث میں

٭٭٭۔۔ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے کر اپنےطور پر گستاخ رسول کو قتل کرے تو اسکا کیا حکم ہے۔

٭٭٭۔۔ گستاخ رسول کا توبہ کرنا اور معافی طلب کرنا۔

٭٭٭۔۔ اعتراضات اور انکے جوابات

شاتم رسول کی سزا اسلام میں متنازع فیہ مسئلہ نہیں ہے۔تاریخ اسلام کے کسی دور میں اسکے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا گیا۔

لیکن دور جدید میں بعض اہل قلم مغربی نظریات سے اسی طرح متاثر ہوے کہ انہوں نے اپنے ہی عقیدےاور اسلام کے بنیادی احکام میں بےجا مداخلت شروع کی ،اور غیر ضروری بحثوں میں پڑ کر امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش شروع کردی ۔ مغربی نظریہ کے نزد آزادی فکر ”خیر اعلیٰ” کی حیثیت رکھتی ہے اور ہر شخص کو حق ہے کہ وہ جو چاہے کہے اور لکھے ، اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

اسی مغربی نظریے کے اپنانے کا یہ نقصان ہوا کہ ایک ایسے مسئلے سے اختلاف کیا گیا ، جس پر ہمیشہ عالم اسلام متفق اور متحد رہا۔

چنانچہ ملعون سلمان رشدی کے کتاب کے وقت بھی بعض لوگوں نے مسلمانوں کے احتجاج کو ایک مجنونانہ حرکت قرار دیا تھا۔ اور یہی حال اب بھی ہے کہ بعض لوگ توہین رسالت بل کے درپے ہیں اور اغیار کے آلہ کار بن کر ناموس رسالت کی گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

پاکستان کے ائین کے مطابق ناموس رسالت کی توہین کرنے والے کی سزا صرف اورصرف موت ہے۔ اور یہ سزا عین شریعت خدا وندی اور اسلام کے مطابق ہے۔نیز گستاخ رسول کا قتل ہی عشق اور محبت رسول کی دلیل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی محبت سےعاری ہونا اہل فسق کا شعار ہے۔اور مؤمنوں کا شعار تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے شدیدمحبت کرنے والے ہونگے۔ چنانچہ قران مجید میں ہے کہ

والذین امنوا اشد حبا للہ (البقرہ۔۱۶۵)

اور ایک حدیث کے مطابق ایمان کی حلاوت بھی وہی شخص پائے گا جسکے نزد اللہ اور اسکے رسول کی محبت ساری محبتوں پر غالب ہو۔

شاتم رسول صل اللہ علیہ وسلم کیلئے سزائے موت کی مخالفت اور اہانت رسول صل اللہ علیہ وسلم پر احتجاج کو خلاف اسلام قرار دینا دراصل مزاج اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔اور اجماع امت کی مخالفت ہے۔ گذشتہ چودہ سو سال سے یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے۔ اور کسی نے بھی شاتم رسول کی سزائے موت کا انکار نہیں کیا ہے

  گستاخ رسول کی سزا  کے قرانی آیات سے دلائل

ذیل میں  ہم قرآن مجید سے  گستاخ رسول کی سزائے موت کے دلائل کو ذکر کرتے ہیں:

(۱)

ا نَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا

(سورۃ احزاب ۔ایت۵۷)

ترجمہ:  بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ  اور اسکے رسول  صل اللہ علیہ وسلم  کو ایذاء  دیتے ہیں ، اللہ ان پر دنیا اور اخرت میں لعنت کرتا ہے۔اور انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اذیت  جسمانی بھی   اور   روحانی بھی ،  ذہنی بھی اور عقلی بھی، ان سب صورتوں میں  جو شخص اللہ اور اسکے رسول  کو کوئی بھی اذیت دے تو  وہ  دین  و  دنیا  میں رحمت سے دور  ہوتا ہے۔اب ہر آدمی کو سوچ لینا چاہیے کہ دو انچ کی زبان کہاں تک آدمی کا خانہ خراب کرتی ہے۔

(۲)

وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ  (احزاب ،۵۸)

ترجمہ: اور تم کو جائز نہیں کہ رسول اللہ کو اذیت دو۔

(۳)

 قُلْ أَبِاللَّهِ وَآَيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ۔لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ 

  (التوبہ۔۶۵،۶۶)

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے  کہ کیا  اللہ  کے ساتھ اور اسکی ایتوں کے ساتھ اور اسکے رسول کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے۔تم اب عذر مت کرو،تم اپنے کو مؤمن کہہ کر کفر کرنے لگے۔

(۴)

ومن یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب (الانفال۔۱۳)

ترجمہ:  اور جو اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے،سو  اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔

(۵)

ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی و یتبع  غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولیٰ و نصلہ جھنم و سائت مصیرا(النساء۔۱۱۵)

ترجمہ:  اور جو شخص رسول صل اللہ علیہ وسلم  کی مخالفت کرے گا  بعد اسکے  کہ اسکے سامنے امر حق ظاہر ہو چکا  ہو اور مسلمانوں کا  راستہ  چھوڑ کر دوسرے رستہ ہو لیا  ہو تو ہم اسکو جو کچھ وہ کرتا ہے  کرنے دینگے  اور اسکو جھنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔

امید ہے کہ سب حضرات  اس پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی اذیت  اور انکی مخالفت اور  انکا  مقابلہ  کس قدر سنگین  جرم ہے۔ جس پر اللہ تعالی کے شدید عذاب سے کون اور کس طرح بچ سکتا ہے۔

پھر مخالفت بھی معمولی نہیں بلکہ اعلانات  اور  اشتہارات  اور  اپنی انتہائی  کوشش  سے،  تو غور کر لیا جائے  کہ اس شدید ترین کوشش پر شدید عقاب وعذاب  دنیا اوراخرت میں کیا کیا ہوگا۔

ایسے مجرم کی حمایت اور حفاظت  نیز اسکی معاونت کرنا کسی انسانیت دشمن ہی کا کام ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ

یاایہاالنبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم و ماوٰھم جھنم  وبئس المصیر(سورہ توبہ۔۷۳)

ترجمہ: ائے نبی !  کفار ومنافقین سے سے جھاد کرو اور ان پرسختی کرو  اور انکا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا  ٹھکانہ ہی  ہے۔

ان گستاخان رسالت میں بعض اسلام کے دعوی ٰ بھی کرتے ہیں ، لھذا منافق کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔

۔ گستاخ رسول کی سزا     احادیث نبویہ سے دلائل

قرآن مجید کے ان ایات کے بعد ہم احادیث نبویہ سےدلائل پیش کرتے ہیں۔

(1)

قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَايَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ

(بخاری،باب الرھن)

مختصرترجمہ:

حضرت عمروبن العاص روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے سنا کہ حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون کھڑا ہوگا کعب بن اشرف کیلئے کیونکہ اس نے اللہ اور اسکے رسول کو تکلیفیں دی ہیں تو محمد بن مسلمہ اٹھ کھڑے ہوےاورپھر جا کر اسکو قتل کردیا۔اور پھر حضور صل اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے اسکو قتل کردیا۔

اس حدیث کے ذیل میں فتح الباری نے لکھا ہے کہ یہاں اللہ اور اسکے رسول کو اذیت پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ  اس نے اپنے اشعار کے ذریعے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دی تھیں اور مشرکوں کی مدد کی تھی۔حضرت عمرو سے روایت ہے کہ یہ کعب بن اشرف

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ہجو  کرتا تھا اور قریش کومسلمانوں  کے خلاف ابھارتا تھا۔یہ یہودی نبی صل اللہ علیہ وسلم کو اور انکے واسطے سے اللہ کو اذیت دیتا تھا  تو نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اسکے قتل کا اعلان کیا اور محمد بن مسلمہ نے اسکو قتل کرکے حضور صل اللہ علیہ وسلم کو اسکےقتل کی اطلاع دےدی۔

(۲)

بعث رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم الیٰ ابی رافع الیھودی رجالا من الانصاروامر علیھم عبد اللہ بن عتیق وکان ابو رافع یؤذی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم و یعین علیہ ۔

(بخاری)

ترجمہ:

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کیلئے چند انصار کا انتخاب فرمایا ،  جن کا امیر عبد اللہ بن عتیق  مقرر کیا ۔یہ ابو رافع نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دیتا تھا اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کی مدد کرتا تھا۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گستاخ رسول کے قتل کیلئے باقاعدہ  آدمی مقرر کئے جاسکتے ہیں اور نیز یہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے نہ کہ باعث سزا  و  ملامت۔کیونکہ یہ لوگ ایک بہت ہی بڑا کارنامہ اور دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

(۳)

عن انس بن مالک  ان النبی صل اللہ علیہ وسلم دخل مکہ یوم الفتح و علی راسہ المغفر فلما نزعہ جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبہ فقال اقتلہ۔

(بخاری)

قال ابن تیمیہ فی الصارم المسلول وانہ کان یقول الشعر یھجو بہ رسول اللہ ویامرجاریتہ ان تغنیابہ

فھذا لہ ثلاث جرائم مبیحۃ الدم، قتل النفس ، والردۃ ، الھجاء۔

(الصارم۔صفحہ ۱۳۵)

امر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بقتل القینتین(اسمھما قریبہ و قرتنا) 

(اصح السیر ۔صفحہ ۲۶۶)

ترجمہ:    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے  تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا۔جب آپ نے خود  اتارا  تو ایک آدمی اس وقت حاضر ہوا   ور عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردو ں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے،آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسکو قتل کردو۔(بخاری)

ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ ابن خطل اشعار کہہ کر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور اپنی باندی کو وہ اشعار گانے کیلئے کہا کرتا تھا،تو اسکے کُل تین جرم تھے جس کی وجہ سے وہ مباح الدم قرار پایا ، اول ارتداد دوسرا قتل اور تیسرا  حضور صل اللہ علیہ وسلم کی ان میں گستاخی۔

اور ابن خطل کے ان دونوں باندیوں کے قتل کانبی صل اللہ علیہ وسلم نےحکم دیا تھا۔

دراصل اشعار ابن خطل کے ہوتے تھے اور اسکو عوام کے سامنے گانے والی اسکی دو باندیاں تھیں۔

تو اس سے معلوم ہوا کہ گستاخی ناموس رسالت  کی اشاعت میں مدد کرنے والے کو بھی قتل کا جائے گا۔

(۴)

امر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بقتل الحویرث ابن نقیذ فی فتح مکہ  وکان ممن یؤذی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم(البدایہ والنھایہ)        وقتلہ علی رضی اللہ عنہ  (اصح السیر)

فتح مکہ کے دن نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے حویرث بن نقیذ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو نبی صل اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچایا کرتے تھے۔حضرت علی نے اسکو قتل کیا۔

(۵)

عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل و من سب اصحابہ جلد(الصارم المسلول صفحہ۹۲،۲۹۹)

ترجمہ:

حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو برا کہے اسے قتل کیا جاے اور جو صحابہ کو برا کہے اسکو کوڑے لگادئے جائیں۔

ان تمام دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ناموس رسالت کی گستاخی آدمی کو واجب القتل بنادیتی ہے اور اسکا  خون مباح ہوجاتا ہے۔اور یہ حکم حضرت آدم سے لے کر نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم تک سب کو شامل ہے، یعنی آدم علیہ السلا م سے لے کر نبی صل اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی انبیاء ہیں،تو ان میں سے کسی ایک کی توہین سے بھی آدمی واجب القتل بن جاتا ہے۔

گر کسی نے قانون ہاتھ میں لے کر اپنےطور پر اس گستاخ  رسول کو قتل کیا تو   !!!

ان دلائل کے بعد  جس میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کا حکم ملتا ہے۔ اور خود نبی پاک صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے ایسے گستاخوں کو قتل کا حکم دیا ہے ۔ظاہر ہے اس وقت اسلامی حکومت تھی اور یہ کام اسلامی حاکم کے  حکم سےانجام پائے ہیں ۔لیکن اگر کسی نے انفرادی طور پر اُٹھ کر ایسے گستاخ کو قتل کردیا  تو اسکا  کیا حکم ہے۔آئیے    دیکھتے ہیں کہ نبوی زندگی میں اسکا کوئی مثال اگر ہےتو خود حضور صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے ایسےگستاخ کے قاتل کے ساتھ کیا  رویہ  اپنایا ہے

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ  رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا

(ابوداؤد، باب الحکم فی من سب)

ترجمہ:

حضرت علی سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ عورت  نبی صل اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی  اور برا کہتی تھی تو ایک  شخص نے اس کا  گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی  ،تو  رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اسکے خون کو ناقابل  سزا قرار دے دیا۔

گستاخ رسول کے قتل حکومت کے ذمہ ہے۔ اور عام آدمی قانون  کو اپنے ہاتھ میں نہ لے ،لیکن اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لے  کر اس گستاخ کو قتل کیا تو اس قاتل پر کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا کیونکہ مرتد مباح الدم ہوتا ہے اور جائز القتل ہوتا ہے۔ عام آدمی اگر اسکو قتل کردے تو  یہ آدمی مجرم نہیں ہوگا۔

گستاخ رسول کا توبہ کرنا اور معافی طلب کرنا۔

مرتد اور گستاخ رسول کے توبہ کے بارے میں اکثر علماء کا مسلک یہ  ہے کہ صرف مرتد کی توبہ کو قبول کیا جاسکتا ہے ، لیکن وہ مرتد  جس نے اہانت رسول کی ہے تو اسکی توبہ قطعا قبول نہیں ۔ کیونکہ رسالت انبیاء کا حق ہے ، اور اپنے حق  کی معافی کا اختیار  بھی صرف ان انبیاء کے پاس تھا۔ انکے وفات کے بعد کسی کو  یہ حق حاصل نہیں کہ انبیاء کی توہین کرکے انکی عزت مجروح  کرنے والے  کی توبہ قبول کرلے۔

بعض علماء نے توبہ  کے بعد اسکےسزاے موت کو ٹالنے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ لیکن اس شرط پر کہ وہ توبہ حقیقی توبہ ہو  اور یہ  مرتد  دل سے توبہ کرے۔کیونکہ جرم اسکا بہت بڑا ہے لھذا  توبہ بھی اسی درجہ کی ہونی چاہیے۔

چونکہ قرانی ایات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  یہ شخص اسلام سے نکل کر مرتد ہو اہے ،لھذا یہ آدمی  پہلے  اسلام کی تجدید کرے،اور علماء  اور عوام کے مجمع میں باقاعدہ  اپنے اسلام کی تجدید کرے۔ اور جس قدر اعلان اس کی گستاخی کا  ہوا ہے ، اسی قدر اعلان

اپنے تجدید اسلام  اور توبہ کا کرے۔

توبہ نام ہے تین چیزوں کی ۔۔۔

(۱) ۔۔۔۔گذشتہ گناہ پر انتہائی شرمندگی:۔

یعنی جو گناہ اس کیا ہے اور جو گستاخی اس نے کی ہے، اس سے رجوع اور توبہ کا کھلے عام اعلان کرے۔

نیز جن جن علاقوں تک اسکی گستاخی کی خبر پہنچی ہے تو وہاں تک یہ اپنے توبہ کی خبر بھی پہنچادے۔ اور کھلے عام رسائل ،اخبارات اور میڈیا کے سامنے  اپنے گناہ سے توبہ کرے۔ اور اپنے اس گناہ پر شدید  شرمندگی اور ندامت ظاہر کرے۔نیز لوگوں کے سامنے اپنی غلطی کا اقرار کرے۔ اور جو گستاخی اس نے کی ہے ،  اسکو بے دلیل اور بے ثبوت قرار دے کر  لوگوں کے سامنے  اسکا اقرار کردے۔

(۲)۔۔۔۔ نہایت عاجزی اور گریہ و زاری سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اپنے فعل پر حقیقی پیشمانی ظاہر کرئے۔

(۳)۔۔۔۔ آئندہ کیلئے ان گناہوں کے نہ کرنے کا پختہ عہد کرے۔بلکہ اپنے اس گناہ کی تلافی کیلئے ان  انبیاء مبارکہ  کے محاسن ،  بزرگی اور اعلیٰ مراتب کو  اسی عام ترین اعلان اور تقریر وتحریر کے ذریعے کرتے رہا کرے اور گذشتہ  کی غلطیاں طشت ازبام کرے۔تو  توبہ کی تکمیل ہوجاے۔

واللہ وعلم

۔

Views: 1344

Reply to This

Replies to This Discussion

برخوردار آپ کی بصیرت کے ساتھ بصارت میں بھی کمی محسوس ہو رہی ہے اگر آپ مناسب سمھیں تو کیا ہم کو اپنے اصلی نام یا آئی ڈی سے متعارف کروانا  پسند کریں گے تاکہ ہم کو بھی اندازہ ہو پائے کی کمی ہم کے سمجھانے میں ہے یا آپ کی سمجھ میں۔

آپ لوگوں کو کسی کے یہ نہیں کہا کہ ہم کے موقف سے متفق ہوں صرف گزارش اتنی تھی کہ اپنی ہار جیت کی جنگ میں بے ادبی کے مرتکب نہ ہوں کہ اللہ کی پکڑ میں آ جایئں۔ ہم نے پوسٹ کے آغاز میں کہہ دیا تھا کہ ذاتیات پر بات نہیں ہو گی لیکن لگتا ہے کہ آپ اس کے عادی ہیں ۔

اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے آمین

بیشک انسان اپنے شر سے بھی واقف نہیں اس لیے ہر دم ہدایت اور صراط مستقیم کی دعا رکھنی چاہیے

Kamui ,...next time bat karein to ksi ki zaatiat ko hit karnay sy hata ul imkan parhaiz karein please..if u can't do this, then ik separate discussion banaein apni or wahan apna shouq pura kar lein..so, ap sy wahin nipat lia jaye ga lekin is trah hr discussion ko mess ka shikar mat karein dosaron ko beja tanz o tanqeed ka nishana bna k.

yesho Malika sisooo yeh waly sir hy hi aisy , bin sochy kuj v bol dety :(

Jazk Allah Khair

Sarosh sister i really appreciate your effort.

ye waqai nehayat nazuk muamla hy lykin log shayad apni adat sy majbor hyn.kisi b muamly main bina sochy samjy bs argument jetny ki khatir byja behas krty hyn. bjay es k k pely sahib e baserat sy ilm hasil kryn or phir guftgoo kryn ek dosray k khilaf bila sochy argue krty hyn.or esi har jeet k chakkar main pta nai kesi kesi gustakhian kr jaty hyn.or ehsas tk nai hota.Allah hmary Hal pe rehm kry or hm sb ko nyk hidayat dy.Ameen

Allah pak apko esi trha shaoor bedar krny ki salahiat or tofeek deta rahy.aaameeen.

very nice post keep it up.

thanks article likhney ka allah ap ko jaza ata farmae

Miss,uper baya'n kiay gaye dalail bilkul baja hein jin say hargiz inkar nahi kia ja sakta..


but kia koi us waqt tk Mujrim qarar diya ja sakta hai jab tk k us ka jurm sabit honay mein abham baqi rahay? jahan tk bat current case ki hai to paye janay walay shwahid is bat pr dalalat krtay hein k qasdan touheen nahi ki gai..sahi ya ghalat ka faisla hamesha zahir pr hi ho sakta hai k niaton k baid to Allah Rabul izzat k siwa koi nahi janta...
so, insan ko ikhteyar zahiri qoul o qarar or amal pr faisla karnay pr hi diya gya hai lehaza ye bat bilkul sach hai k us ny na danista, Indirect hi lekin Gustahi ka irtekab kia..
But kia uski khud ki bar bar ki wazahatein or clarifications usay itna b haq nahi day saki'n k woh ya apni ghalti tasleem karta ya khud ko saza k liay paish karta..??
Saza tab tk lago nahi hoti jab tk k puray waqia ki tafseel o tehqeeq k bad koi Mujrim sabit na ho jaye.
bilashubah, touheen e Risalat pr ik fard ka amal banta hai Lekin kis tanazur mein ye b mentioned above hadiths sy waziah hai.
uper bayan ki gai hadiths mein saza ksi ameer k mateht di gai or ik hadith jis mein fard e wahid ka ikhtyar ki bat bayan ki gai us mein , 'ghalian deti thi' k ilafaz ye sochnay pr majboor kartay hein k woh pehlay sy ye ghanaona amal krti chali aa rahi thi..aesa nahi tha k us nay 'Bura bhala kaha or ghalian di' or usi waqt qatal kar di gai. 
is zamray mein ik or hadith qabil e ghor hai,
ﻋﮑﺮﻣﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ  ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﮐﯽ ﺍﻡ ﻭﻟﺪ ﺗﮭﯽ ﺟﻮﻧﺒﯽﷺ ﮐﯽ ﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖﷺ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﺁﻣﯿﺰ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﮦ ( ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ) ﺍﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺯ ﮧ ﺁﺗﯽ، ﺍﺳﮯ ﮈﺍﻧﭩﺘﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻭﮦ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺍﻗﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺴﺘﺎﺧﯿﺎﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﺮﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻧﭗ ﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻮ ﻧﺒﯽﷺ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﷲ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺣﻖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻧﯿﮟ ﭘﮭﻼﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﮔﺮﺗﮯ ﭘﮍﺗﮯ ( ﺁﮔﮯ ﺁﺋﮯ ) ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﻧﺒﯽﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﺁﭖﷺ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯿﺎﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮈﺍﻧﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻓﯿﻘﮧ ﺣﯿﺎﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺭﺍﺕ ﺁﭖﷺ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﺁﻣﯿﺰ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﮭﺮﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻧﭗ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﮭﺮﮮ ﮐﻮﺧﻮﺏ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﺑﺎﯾﺎ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﺒﯽﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ! ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ ﮨﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﺟﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻗﺼﺎﺹ ﻭ ﺩﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ) ( ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺋﻮﺩ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺤﺪﻭﺩ، ﺑﺎﺏ ﻓﯿﻤﻦ ﺳﺐ ﺍﻟﻨﺒﯽﷺ ﺍﻟﺮﻗﻢ 4361 ،  ، ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺤﮑﻢ ﻓﯿﻤﻦ ﺳﺐ ﺍﻟﻨﺒﯽﷺ، ﺍﻟﺮﻗﻢ 4075 )
 
 jabkeh yahan touheen e risalat ka manzar aesa sareeh nahi tha k usay khatmi kaha ja sakta.
so, meray mehdood o naqas ilm k mutabiq, qanoon ksi ko apnay hath mein lenay ki ijazat nahi.Coz, is trah islam kabhi b aman barqarar nahi rakh sakta. 
 
its bitter reality k zatiyaat ki jang jeetnay k liay pak mein blasphemy law ka bht zyda misuse ho raha hai.. jisay hum jesay kalma go hi kar rahay hein..kahin ijtemai surat to kahin infardi.
so, agr ijtemai tor py cases ko hakoomti sarparasti mein insaaf k taqazon sy hal kia jaye to aman o aman mumkin hai,lekin agr fardan ye qanoon lagu kia jaye to aesay deen k naam pr qasdan bila dasadan qatol o gharat k license hr ik ko issue ho jaein gy to Aman o Salamti jo k islam ka haqeeqi pegham hai napaid ho jaye .And Allah knows the best.
so, agr ksi ny is point pr ksi ki pusht panahi krnay ki koshish ki hai to i don't think its wrong, but the careless attitude in the sensitive matters always goes wrong...  
 
Anyways,You have done great effort to share all of this with us regarding to know blasphemy punishment issue. Jazzak Allah.
Allah hamein zuban or jazbat pr control krnay ki toufeeq ata farmaye.or janay anjanay mein aesay jurm k irtekab say apni panah mein rkhay. Ameen. 

current case ki hai to paye janay walay shwahid is bat pr dalalat krtay hein k qasdan touheen nahi ki gai.

But kia uski khud ki bar bar ki wazahatein or clarifications usay itna b haq nahi day saki'n k woh ya apni ghalti tasleem karta ya khud ko saza k liay paish karta..??

ہم نے تحریر کیا تھا کے سہواٗ یا قصداٗ جو بھی یہ عمل کرے گا اس پر حد لاگو ہوتی ہے بیشک اس کی نوعیت مختلف ہو گی لیکن محض وضاحتیں دینا اس امر کے لیے کافی نہیں ہوتا کیا وہ اپنے عمل پر شرمندہ تھا؟ کیا اس کے کسی بھی بعد ازاں عمل سے یہ ثابت ہوا کہ اس نے بہت قبیح عمل کیا ہے؟

ہوتا یہ ہے کہ جیسا آپ کسی کے بارے ظن رکھتے ہو ویسا ہی آپ لاشعوری طور پر اس کے بارے اظہار خیال بھی کرتے ہو۔اگر مثال دیں تو یہ کہا جائے کہ ہم جس سے محبت عقیدت رکھتے ہیں اس کے بارے ذرا بھی بے جا سننا پسند نہیں کرتے لیکن جس سے ہم کو کوئی غرض نہیں ہوتی اس کی عزت و منزلت کی ہم کو پروا نہیں ہوتی۔ گورنر کا جو ظن تھا وہ اسی لیے بے خیالی میں اس کے دہن سے نکلا۔پھر وہ اس پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اپنے آپ کو صیحح ثابت کرنے کے لیے وضاحت کرنے لگا۔ جو غلطی پر شرمندہ ہوتے ہیں وہ بحث مباحثہ نہیں کرتے اعتراف کرتے ہیں۔تو جناب گورنر صاحب شرمندہ تک تو ہوے نہیں چہ جائیکہ وہ خود کو سزا کے لیے پیش کرتے۔

'ghalian deti thi' k ilafaz ye sochnay pr majboor kartay hein k woh pehlay sy ye ghanaona amal krti chali aa rahi thi..aesa nahi tha k us nay 'Bura bhala kaha or ghalian di' or usi waqt qatal kar di gai.

ایسا ہے کہ پہلے زمانے میں ذرائع مواصلات اتنے تیز نہ تھے  کہ ایسے اعمال صادر ہوتے ہی سارے ملک میں مشہور ہو جاتے ۔ ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ ایسی نویت جس میں معافی کی گنجائش بنتی ہے  اس میں بھی یہ تقاضا پورا کرنا ہے کہ جہان تک غلطی کی اطلاع پہنچی وہاں تک توبہ کی بھی خبر جائے ۔اس عورت کا عمل ایک عرصہ تک میحط تھا لیکن جیسے ہی یہ بات صحابہ کے علم میں آئی یہ حکم صادر ہو گیا پھر اس پر کوئی لیل ولیلت سے کام نہیں لیا گیا فوری حکم جار ی ہوا

so, meray mehdood o naqas ilm k mutabiq, qanoon ksi ko apnay hath mein lenay ki ijazat nahi.Coz, is trah islam kabhi b aman barqarar nahi rakh sakta.

یہ کام خکومت کا تھا لیکن جب خکومت یہ کام نہیں کرے گی تو ایسے واقعات پیش آہیں گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اپنی دینی حمیت کو لبرازم کے نام بیچ دے یا د رہے بنی کی حرمت کے تقاضے مختلف ہیں اس میں گو مگو کی گنجائش نہیں

اور بے جا لیل ولیلت سے کام لینا معاملہ کو لٹکا دینا خارجیوں کو دعوت عام دے گا کہ وہ جب چاہیں  یہ فتنہ پیدا کریں بعد ازاں معافی مانگ لیں یہ بات بھی فساد کا باعث بن سکتی ہے

لکین ساتھ یہ بات بھی یا د رہے کہ اسلام کی بنیاد انصاف پر ہے بیشک انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھٹنا چاہیے لیکن ہمارے ملک میں قانون اتنا کمزور ہے کہ اچھی بھلی بات میں بھی ابہام پیدا ہو جائے۔

مشرکوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نبی ﷺ کی حرمت کے سلسلے میں کوئی گنجائش نہیں

مغرب آپ کے عشق محمدی ﷺ سے ہی تو ڈرتا ہے اور اس کو کمزور کرنے کے درپے ہے اس کے لیے وہ مختلف حیلے بہانے کرتا رہتا ہے ضرورت آپ کے چوکنے رہنے کی ہے

انصاف کے تقاضے بھی پورے کریں اور نبی ﷺ کی حرمت  پر گنجائش بھی نہ رکھیں یہی ادب کا تقاضا ہے

i think k saroosh k is comment aur burried ki post py coment k baad kisi behas ki zaroorat nei reh gei,,,

aur wesy b ALLAH dunya me hi kuch logo ko izzat ya zillat dy kar haqeeqt ayan kar dety hain,,,samjhny walo k liye nishaniyan hain,,,jesa k saroosh ma'am keh chuki k hidayet apni apni,,,

miss,I'm not in favor of sulman neither qadri.

dono shaksiat k fail o amal ko zahiri parakhnay k bad, mein nay ye tehreer bht matwazun pai hai.
jis mein is qadar wazahhat hai dono points k baray k easily measure kia ja sakta hai. chunkeh batein phir repeat ho rhi hein. jis mein kuch point k baray mein view already share kar chuki mazeed raised points k jawabaat us post mein majood hein which was enough clear to understand even every point so clearly. 

jazak Allah sis nice  informative sharing .

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service