Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےظہور کے وقت پیش آنے والے کچھ واقعات کے بارے میں دوستوں کو چند معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

یہ بات تو تمام مسلمان جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صورت میں اسی ربیع الاول کے مبارک مہینے میں مسلمانوں پر بہت بڑی رحمت نازل فرمائی۔ بلکہ اس احسان کا قرآن حکیم میں بھی اللہ تعالی نے ذکر فرمایا ہے۔

بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا ۔( سورۂ آل عمران ، آیت 164 )

’ اپنے رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو۔( سورۂ والضحیٰ )

’’تم فرماو اللہ کا ہی فضل اور اس کی رحمت ہے اور اس پر چاہیے کہ خوشی کریں۔‘‘ ( سورۂ یونس آیت 58)

( اے محبوب ) آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘ ( سورۂ انبیاء ، آیت 107)

تو ہمیں اللہ کی اس نعمت' رحمت اور احسان کا ہمیشہ شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے۔ شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت اور سیرت کو اپنانا چاہیئے۔ تاکہ ہمارے اندر نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سچی محبت پیدا ہو۔ کفار ہم مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور ہمیں مٹانے کی پلاننگ کررہا ہے اور ہم اپنے اپنے اختلافات کو لئے بیٹھے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے اندر اتفاق و اتحاد پیدا کرے۔ اور ہمارے اندر نبی کریم روف و رحیم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سچی محبت پیدا کرے۔ آمین

برکات نبوت کا ظہور
المواہب میں ہے کہ جس طرح سورج نکلنے سے پہلے ستاروں کی روپوشی،صبح صادق کی 
سفیدی، شفق کی سرخی سورج نکلنے کی خوشخبری دینے لگتی ہیں اسی طرح جب آفتاب رسالت کے طلوع کا زمانہ قریب آ گیا تواطراف عالم میں بہت سے ایسے عجیب عجیب واقعات اور خوارق عادات بطور علامات کے ظاہر ہونے لگے جو ساری کائنات کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یہ بشارت دینے لگے کہ اب رسالت کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہونے والا ہے۔

چنانچہ
1۔ اصحابِ فیل کی ہلاکت کا واقعہ،
2۔ ناگہاں بارانِ رحمت سے سرزمین عرب کا سر سبز و شاداب ہو جانا،اور برسوں کی خشک سالی دفع ہو کر پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جانا،
3۔ بتوں کا منہ کے بل گر پڑنا،
4۔ فارس کے مجوسیوں کی ایک ہزار سال سے جلائی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، 
5۔کسریٰ کے محل کا زلزلہ، اور اس کے چودہ کنگوروں کا منہدم ہو جانا،
6۔''ہمدان'' اور ''قم'' کے درمیان چھ میل لمبے چھ میل چوڑے ''بحرهٔ ساوہ'' کا یکایک بالکل خشک ہو جانا،
7۔ شام اور کوفہ کے درمیان وادی ''سماوہ'' کی خشک ندی کا اچانک جاری ہو جانا،
8۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ کے بدن سے ایک ایسے نور کا نکلنا جس سے ''بصریٰ''کے محل روشن ہو جانا
یہ سب واقعات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جو حضور علیہ الصلوات والتسلیمات کی تشریف آوری سے پہلے ہی ''مبشرات'' بن کر عالم کائنات کو یہ خوشخبری دینے لگے۔
(المواھب اللدنیۃوشرح الزرقانی،ولادتہ...الخ، ج1،ص21831)

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے قبل اعلان نبوت جو خلاف عادت اور عقل کو حیرت میں ڈالنے والے واقعات صادر ہوتے ہیں ان کو شریعت کی اصطلاح میں ''ارہاص'' کہتے ہیں اور اعلان نبوت کے بعد انہی کو ''معجزہ'' کہا جاتا ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا تمام واقعات ''ارہاص'' ہیں جو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کرنے سے قبل ظاہر ہوئے جن کو ہم نے ''برکات نبوت'' کے عنوان سے بیان کیا ہے۔ اس قسم کے واقعات جو ''ارہاص'' کہلاتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں ۔

(1) محدث ابو نعیم نے اپنی کتاب '' دلائل النبوۃ'' میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جس رات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا نورِ نبوت حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پشت اقدس سے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بطن مقدس میں منتقل ہوا ،روئے زمین کے تمام چوپایوں،خصوصاً قریش کے جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے گویائی عطا فرمائی اور انہوں نے بزبانِ فصیح اعلان کیا کہ آج اللہ عزوجل کاوہ مقدس رسول شکم مادر میں جلوہ گر ہو گیا جس کے سر پر تمام دنیا کی امامت کا تاج ہے اور جو سارے عالم کو روشن کرنے والا چراغ ہے۔ مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو بشارت دی۔اسی طرح سمندروں اور دریاؤں کے جانوروں نے ایک دوسرے کو یہ خوشخبری سنائی کہ حضرت ابو القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا وقت قریب آ گیا۔ (زرقانی علی المواہب ج 1 ص108)

(2) خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی بدلی آئی جس میں روشنی کے ساتھ گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اُڑنے کی آواز تھی اور کچھ انسانوں کی بولیاں بھی سنائی دیتی تھیں۔ پھر ایک دم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے سامنے سے غائب ہو گئے اور میں نے سنا کہ ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو مشرق و مغرب میں گشت کراؤ اور ان کو سمندروں کی بھی سیر کراؤ تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام، ان کاحلیہ، ان کی صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق یعنی جن و انس، ملائکہ اورچرندوں و پرندوں کے سامنے پیش کرواور انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت، حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت،حضرت نوح علیہ السلام کی شجاعت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خلت، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان، حضرت اسحق علیہ السلام کی رضا،حضرت صالح علیہ السلام کی فصاحت، حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت،حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شدت، حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر، حضرت یونس علیہ السلام کی طاعت، حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد،حضرت داؤدعلیہ السلام کی آواز، حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت،حضرت الیاس علیہ السلام کا وقار، حضرت یحیی علیہ السلام کی عصمت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زہد عطا کرکے ان کو تمام پیغمبروں کے کمالات اور اخلاق حسنہ سے مزین کر دو۔

اس کے بعد وہ بادل چھٹ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ ریشم کے سبز کپڑے میں لپٹے ہوئے ہیں اور اس کپڑے سے پانی ٹپک رہا ہے اور کوئی منادی اعلان کر رہا ہے کہ واہ واہ! کیا خوب محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا گیا اور کائناتِ عالم کی کوئی چیز باقی نہ رہی جو ان کے قبضۂ اقتدار و غلبۂ اطاعت میں نہ ہو۔ اب میں نے چہرهٔ انورکو دیکھا تو چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اور بدن سے پاکیزہ مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔ 
پھر تین شخص نظر آئے، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا، دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت، تیسرے کے ہاتھ میں ایک چمک دار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر اس نے حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی، پھر حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایااور ایک لمحہ کے بعد مجھے سپرد کر دیا۔

(المواہب اللدنیۃ، المقصدالاول، آیات حملہ،ج1،ص62)

اللہ عزوجل کی ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ان کے آل و اصحاب پر۔آمین

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

Views: 300

Reply to This

Replies to This Discussion

MASHA ALLAH.....

SUBHAN ALLAH,,,

Jazak Alalh 

SUBHAN ALLAH

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service