We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

مہر عورت کی قیمت نہیں ہوتی اور نہ عورت کے پیار و عصمت کی کوئی قیمت ہوسکتی ہے ۔ یہ تو صدیوں سے ظلم اور بے بسی میں جکڑی عورت کو آزادی کا اختیار  عطا کرنے کے لیے اسلام نے عورت کو مہر کا حق دے دیا ۔ یہ ایک علامت  ہے جس کو قبول کر کے وہ مرد کو اپنانے کا اعلان کرتی ہے ۔ اگر وہ اسے قبول نہ ہو تو نہ مرد اس پر زبردستی کر سکتا ہے نہ خود اس کے ماں باپ ۔ دراصل مہر عورت کی رضا مندی  کا اعلان ہے ۔
قرآن مجید میں واضح طور پر جہاں بھی مہر کا حکم آیا ہے ’ نقد ‘ ادا کرنے کے مفہوم میں آیا ہے ۔ فقہاء نے اگرچہ اس کو اُدھار رکھنے کی اجازت دی ہے لیکن قرآن مجید یا سیرت رسول و صحابہ سے ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا کہ مہر کو اُدھار رکھا گیا ہو ۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی مالی حیثیت کیا تھی یہ تو سبھی جانتے ہیں ۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہر ایک کو حسب استطاعت جتنا نقد ادا کرسکتے ہوں ادا کرنے کا حکم دیا ہے بشرطیکہ وہ عورت کو قبول ہو ۔

 'مہر معجل موجل عند الطلب

مہر معجل وہ مہر جس کی ادئیگی رخصتی پر کر دی جاتی ہے جبکہ مہر موجل ایسا مہر جو بعد ازاں بیوی کے مطالبے پر ادا کیا جاتا ہے عند الطلب جب بھی اس مہر کو طلب کیا جائے ادئیگی  اسی وقت لازم ہو جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ مہر  کی کم مقدار یا مقرر ہی نہ کرنا کیا عورت کو اللہ کی طرف سے دیئے گئے حق کی منافی نہیں ہے؟

مہر کا مرد کی استطاعت سے زیادہ مطالبہ کرنا کیا انتشار کا باعث بنتا ہے؟

بعض لوگ محض لمبا چوڑا مہر لکھوا لیتے ہیں کہ ہم نے کونسا طلب کرنا ہے کیا یہ درست عمل ہے؟

جو لوگ سامان جہیز کے مطابق مہر کا تعین کرتے ہیں یہ کیسا عمل ہے؟

شرعی مہر کے نام پر مہر کی مقدار کم کرنا کیسا فعل ہے؟آپ کے خیال میں مہر کے زیادہ  ہونے سے خاندان پر کیسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

مہر کی رقم کم ہونے سے کیاعورت کا استحصال کیا جاتا ہے؟

جن علاقوں میں قیمت کے بدلے شادی طے کی جاتی ہے کیا وہ مہر کا بدل ہے؟

سماج میں مہر و نکاح سے متعلق کس کی تربیت کی ضرورت ہے؟

کیا زیادہ مہر شادیوں میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے؟

کیا ہم مہر کی شریعی قانونی سماجی حثیت کی گہرائی کو جانتے ہیں؟

جب اللہ نے مہر کی  رقم کا تعین نہیں کیا تو ہم کس کو شریعی مہر کہتے ہیں؟

سماجی تعلیمات کا حصۤہ سمجھتے ہوئے ہم نے ضروری سمجھا کہ اس موضوع کو بھی قارئین کی نگاہوں میں لایا جائے تاکہ باہمی آراء سے معاشرے میں پھیلی ہو ئی غلطی فہمیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 793

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

Replies to This Discussion

Mehar ki raqam foran ada kerna afzal hai, laikin ye b haqeeqat hai k log jan bojh k afford kerne k bawajood is raqam ko fori ada nahi kerte.

Jahan tak meher ki raqam ka talluq hai to is ko SECURITY DEPOSIT k tor pe treat kerna or zyda se zyda demand kerna b ajeeb fazool c rivayat hai. Jab se mehar ko security deposit ka darja hasil huwa hai, logo k liye ye raqam bojh mehsoos hone lagi hai, ye b aik waja hai k log foran haq e mahar ada nahi kerte. Rasool Allah (SAWW) k dour me haq e mehar nominal amount huwa kerti thi, bas status k mare logo ne har dour me aik fazool competition create ker dia hai. 

foran ada krna mtlab ???

Means k nikah k bad without delay mehar ki raqam wife ko ada ker deni chahiye. 

par BE shil wo wife us mehar ka kia kry gi hun ???

sholi bura lagy to pal me ko ni pta na isliye poch lai , ol me ny tisa wesa kuj ni vekha i tnk yaha log ni likhty mehar wghra ya phir me ko pta ni hoga par ik bar czn ki mangni thi nikah bhi tha us roz unho ny 1 lakh mehar likhwa di to i mujhe jitna yaad hy khala log us pe kuj zyada khush ni thy , meri siters ki v shadi ho chuki hy par me ny kbi mehar ka ni suna :x

اگر آپ مہر کی رقم ادا نہیں کرتے اور فوت ہو جاتے ہیں تو بعد ازاں باقی قرضہ جات کی طرح یہ بھی مرحوم کی طرف سے ادا کیا جائے گا ۔اور جو لوگ مہر  کا ارادہ ہی نہیں رکھتے کہ بس لکھ لو کون ساادا کرنا ہے تو وہ جان لیں کہ یہ بات زنا کے زمرے میں آ جائے گی۔جیسے کچھ لوگ طلاق کے بعد لڑکی کو مہر تک ادا نہیں کرتے تو وہ سمجھ لیں کہ ان کا حلال حرام  میں بدل جائے گا۔

oh to yeh bat hy par idhar kbi aisa kuch sunny ko ni mila :x

یہ زنإ والی بات کو تھوڑا سا وضاحت سے بتا دیں محترمہ کہ یہ کس حدیث سے یاقرآن کی آیت سے آپ نے لیا ہے تا کہ صحیح رہنمائی ہو۔۔شکریہ

”من نکح امراة وہو یرید أن یذہب بمہرہا فہو زان یوم القیمة“۔

حضورنبی ٔ ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس شخص نے کسی عورت سے اس نیت سے نکاح کیا کہ وہ اس کا مہر ادا نہ کرے گا اور(ادا کئے بغیر ) مر گیا تو موت کے دن زانی(کی مثل گناہگار) ہو گا۔‘‘
المعجم الکبیر،الحدیث:۷۳۰۲،ج۸،ص۳۵۔

جس شخص نے بھی کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں ادائیگی کا ارادہ نہیں تو وہ روز قیامت اﷲ تعالیٰ کے پاس زانی کی حیثیت سے پیش ہوگا ۔ ( طبرانی ، مجمع الزوائد )

سر آپ نے لکھا کہ حق مہر میں اضافہ  کرنا فضول سی روایت ہے۔۔ یہ فضول اس لئے سمجھ رہے آپ کہ یہ عورت کی طرف سے ہے’اگر یہ مرد کی طرف سے ہوتا تو یہ عین فرض ہوتا اور مرد اسکو اتنا بڑھا لیتا کہ عورت شادی کا سوچتی بھی نہیں جیسا کہ جہیز کا مطالبہ بھی ہے۔۔

حق مہر لڑکے کی حثیت دیکھ کر متعین کرنا چاہیے اگر مالہ طور پر وہ مستحکم نہیں  اور لڑکی زیادہ کی مستحق ہے تو وہاں رشتہ ہی طے نا کریں

زیادہ یا کم مہر مرد کے ظرف اور حثیت پر منحصر ہے

اب جہیز کی کم سے کم شرح بتائی گئی ہے مگر زیادہ سے زیادہ شرح نہیں ہے تو اگر کسی نے بڑھا لی زیادہ تو بھی اس میں کوئی پرابلم تو نہیں ہے۔۔

زیادہ کی ممانعت نہیں لیکن اس کو نمائش مت کیا جائے لوگوں کو دکھلواے کے لیے کم شرح اس لیے بتائی گئی کہ اس سے کم پر نکاح نہیں ہونا چاہیے  زیادہ کی حد اس لیے مقرر نہیں کہ ہر کسی کی اپنی مالی حثیت

RSS

Latest Activity

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.