We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.






دل کا رستہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 358

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Reply to This

Replies to This Discussion

خاکی بندہ کردا پھرے خدائی

 

لو لا بیٹھادنیا نال رب توں کرے جدائی

نہ کر بندیا میری میری نا تری نا میری

چار دناں دا دنیا اے میلہ پھر مٹھی دی ڈھیری

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا  نا م رکھ لیا وے قاضی

مکے مدینے گھم آیا تے نام رکھ لیاوے حاجی

Assalam-o-Alaikum!
Aapi Gee kaisi hen Aap
Bhool gaye na :(

ست رنگی رے نادانی تیری

نو ٹنکی رے من مانی تیری

اے ساتھ مگر فانی تیری

آ دل کے رستے پر چل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ویلکم سروش :)

دل کا رستہ وہی جہاں خوشی ملے۔

اچھے کو اچھای میں  برے کو برای میں  

aisa hi hy kia Shalo Ma'am ????

I was expecting something new in written ... but songs 

برخوردار گانا نہیں ہے یہ انسپائریشن ہے

آپ کلام سنیں اور اپنا تجزیہ شئیر کریں ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے  کچھ نئے پن کے ساتھ

دل والوں کی دنیا دل ہے
دل کی دنیا دل والوں کی
مستی کون سمجھ سکتا ہے
ذکر وفکر کے متوالوں کی
دل اک چڑیا چھوٹی سی جو
چوں چوں کرتی جاتی ہے
جسم کے خاکی زنداں میں
بے چین سی اڑتی جاتی ہے

اس دل میں ذکر کے ساگر ہیں
اس دل میں فکر کے جنگل بھی
اس دل میں خیر کی دنیا بھی
اس دل میں شر کے دنگل بھی

یہ دل اک رستہ منزل کا
سب راہی خوب مچلتے ہیں
اور ذکر کا زادراہ لے کر
مستانی چالیں چلتے ہیں
یہ دل بس روح کامحرم راز
اس دل کی ہے قدسی پرواز
اس دل کے پر کب جلتے ہیں
معراج کا ہے یہ بھی دمساز
اس دل کی مستی اللہ ھو
اس دل کی ہستی اللہ ھو
اس دل کا رستہ مصطفوی
توحید کی بستی اللہ ھو
یہ دل اک کاغذ کورا سا
اس دل پر جو۔بھی لکھتے ہیں
وہ سامنے آتا جاتا ہے
بہتر ہے محبت لکھی ہو
بہتر ہے وفائیں لکھی ہوں
ہرحرف ہو مدنی مستی۔کا
طیبہ۔کی ہوائیں لکھی ہوں
یہ دل ہے کن کے نقشے پر
جب حکم ہو اس کو ہونے کا
ہو جاتا ہے۔کھو جاتا ہے
مستی کے۔ترانے گاتا ہے
یہ مست نگر ہےمستی کا
توحید کی روشن بستی کا
اس نگر کا رستہ۔مصطفوی
اس بحر کا۔بستہ۔مصطفوی

(التحریم:۸) ‘‘مؤمنو! اللہ کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔’’اس آیت مبارکہ میں ایمان، توبہ اور نصوح تین ایسے الفاظ ہیں جن کی وضاحت ضروری ہےپہلا لفظ ایمان ہے۔ایمان اسلام کو مجموعی حیثیت سے تسلیم کرنے،زبان سے اس کا اقرار کرنے اور دل سے اس کی تصدیق کرنے سے عبارت ہے۔جب تک انسان تمام واجب الایمان امور پر ایمان نہ لائے اس وقت تک وہ مؤمن نہیں کہلا سکتا۔ اگرچہ ہمارے پیش نظر ایمان کے شرعی مفہوم کی وضاحت کرنا ہے،لیکن اس کے باوجود ایمان کے لغوی مفہوم پر روشنی ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے انسان خدائی امان میں آجاتا ہے۔انسان دنیا کے حادثات،اس کی پہاڑ جیسی مشکلات،آخرت کے عذاب اور اس کی ان ہلاکت خیزیوں سے جن کے مقابلے میں دنیا کے مصائب کی کچھ حیثیت نہیں صرف ایمان کی بدولت ہی نجات پا سکتا ہے۔

دوسرا لفظ توبہ ہے۔توبہ انسان کی تجدیدِنو اور اصلاحِ باطن سے عبارت ہے۔ اس کے ذریعے نافرمانی اور غلط تصرفات کے نتیجے میں دل کے بگڑے ہوئے توازن کو بحال کیا جاتا ہے۔یہ حق کی طرف پیش رفت ہے،بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں یہ اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب سے اس کے لطف و کرم اور اس کی بازپرس سے اس کی رحمت وعنایت کی طرف پیش قدمی ہے۔توبہ کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ یہ گناہ کے احساس کے نتیجے میں انسان کی خوداحتسابی سے عبارت ہے۔دوسرے لفظوں میں غیرذمہ دارانہ طورپرزندگی بسرکرنے سے انکار کرکے نفس کے سامنے ڈٹ جانے،کبیرہ گناہوں سے بچنے اور ان کے ارتکاب کا خیال بھی دل میں نہ آنے دینے کا نام توبہ ہے۔

گناہ ہلاکت کی کھائی میں گرنے کے مترادف ہے تو توبہ نفس کا سہارا اور باہر جست لگا کر اس گراوٹ سے نجات کا راستہ ہے۔دوسرے لفظوں میں گناہ خوداحتسابی سے غفلت برتنے کے نتیجے میں روح اور وجدان کو عارضی طورپرپہنچنے والازخم ہے تو توبہ دردِدل کا احساس،خوداحتسابی اور حواس کو نئی طاقت اور توانائی بہم پہنچانے سے عبارت ہے۔گناہ شیطان اور نفسانی خواہشات سے مغلوب ہونے کا نام ہے جبکہ توبہ شیطان سےحواس کی حفاظت کرکے اعتدال کو بحال کرنے اور روح کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے سے عبارت ہے۔

گناہ روح کو گھن لگا کر کھوکھلا کرتے ہیں،جبکہ توبہ اس کے برعکس عمدہ کلمات کے تعمیری اسلوب کے ذریعے گناہ کے راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔لہٰذا اس توبہ کا کیا کہنا جس کے ذریعے دلوں پر لرزہ طاری ہونے اور آنکھوں کے پتھرانے سے پہلے عمل کی تحریک پیدا ہو جاتی ہے۔کاش! ہم توبہ کی آہ و بکا کے ذریعے گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہر خلا کو پُر کرنے میں کامیاب ہوسکتے۔

دل کا رستہ  معرفت الہی کا رستہ  ہے لیکن اس راستے تک پوہنچننے کے  لیے پہلے بہت  سے راستوں کو سمجھنا پڑتا  ہے جو اس راستے کے  بہت قریب ہیں ہم اکثر ان راستوں کو دل کا راستہ سمجھ بیٹھتے ہیں ................معرفت الہی کا رستہ یقین کامل سے ملتا ہے...........

RSS

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.