We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


اونٹنی اور عشق رسول---

ایک بار حضور اکرم ﷺ مومنین کو صدقہ کی تلقین فرمارہے تھے کہ، ایک اعرابی آپہنچا جس کے پاس ایک بڑی خوبصورت اونٹنی تھی۔ بڑی ہی خوش رفتار اور خوش خرام- اس اعرابی نے اسے ایک جگہ کھڑا کردیا۔ سحری کے وقت جب حضور اکرم ﷺ گھر سے نکلے تو یہ اونٹنی فصیح و بلیغ انداز میں پڑھ رہی تھی :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَازَیْنَ الْقِیَامۃِ‘
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ الْبَشَرِ‘
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَافَاتِحَ الْجَنَانِ‘
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَافِعَ الْاُمَمِ‘
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاقَائِدَ الْمُؤمِنِیْنَ فِی الْقِیَامَۃِ اِلَی الْجَنَّۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْک یَارَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

حضور اکرم ﷺ نے یہ کلمات سنتے ہی اونٹنی کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگی :
یا رسول اللہ ﷺ! میں اس اعرابی کے پاس تھی وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا۔ رات کے وقت جنگل کے جانور میرے اردگرد جمع ہو جاتے اور کہتے، "اسے نہ چھیڑنا یہ حضور ﷺ کی سواری ہے-" میں اس دن سے آپ ﷺ کے ہجر و فراق میں تھی۔ آج اللہ نے احسان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ تک پہنچی ہوں۔ آپ ﷺ اونٹنی کی یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوئے اور اس کی طرف زیادہ التفات فرمانے لگے اور اس کانام ’’اسبا‘‘ رکھا۔

ایک روز اسبا نے کہا، یارسول اللہ ﷺ مجھے آپﷺ سے ایک درخواست کرنی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا وہ کیا؟
عرض کیا! آپ اللہ سے میری یہ باتیں منظور کرادیجئے کہ جنت میں بھی میں آپ ﷺ کی سواری رہو- اور دوسری بات یہ کہ، مجھے آپ ﷺ کے وصال سے پہلے موت آجائے تاکہ میری پشت پر کوئی دوسرا سواری نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کرے گا-

جب حضور اکرم ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلا کر وصیت کی کہ، اسبا، پر میرے بعد کوئی سواری نہ کرے کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہے۔ بیٹی! تم خود اس کی دیکھ بھال کرنا۔ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اس اونٹی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے فراق میں گم سم رہنے لگی۔

ایک رات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس اونٹی کے نزدیک سے گزریں تو، وہ اونٹنی آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر یوں گویا ہوئی،
"اے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی! جب سے میرے رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کا وصال ہوا ہے، میں نے گھاس کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے۔ خدا کرے مجھے جلد موت آجائے، کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضور ﷺ کی غلامی زیادہ پسند ہے۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں جارہی ہوں‘ اگر آپ کا کوئی پیغام ہوتو میں حضورﷺ کی خدمت میں پہنچادو۔

حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اس اونٹنی کی باتیں سن کر بہت مغموم ہوئیں اور رونے لگیں اور پیار سے اپنے ہاتھ اونٹنی کے چہرے پر ملنے لگیں۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اس اونٹنی نے جان دے دی۔ علی الصبح حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کیلئے کفن تیار کرایا اور ایک گہرا سا گڑھا کھدوا کراسے دفن کردیا۔

[معارج النبوت‘ حصہ سوم‘ صفحہ 201]

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 125

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Reply to This

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service