.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com? Search Here

جوانی میں غفلت اور بڑھاپے میں تبلیغ ۔۔۔

 ابتداء ہے رب جلیل اور اس کے حبیب محمد صل اللہ علیہ و آل وسلم کے نام نامی سے۔

اسلام مکمل دین حیات ہے اور یہ قیامت تک کے لیئے دین حق قرار دیا گیا ہے۔ فرمان رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم ہے "اور پورے کے پورے {یعنی مکمل} دین میں داخل ہو جاو {مفہوم}۔ اس حدیث کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی شرعی حکم پہ عمل کرنا اور کسی پہ عمل نہ کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک دوسرے نقطہء نظرسے دیکھا جائے تو یہ بھی ایک غیر شرعی عمل ہے کہ انسان ساری زندگی خصوصی طور پہ جوانی کی عمر تک تو حد درجہ عیاشیاں کرے اور جب گناہ کی طاقت کم یا ختم ہوتی نظر آئے تو متقی اور پرہیزگار کا روپ دھار لے اور ہر کسی کو نصیحت اور تبلیغ کرتا نظر آئے۔ یہاں تک کے سختی سے اپنی اولاد، گھروالوں اور عوام میں تبلیغ کرتا پھرے۔

تو کیا پڑھاپے کی دین داری یا تبلیغ ایک نا مناسب عمل ہے؟ کیا انسان توبہ کر کے بھی اور {دیر سے ہی سہی} لیکن سدھر جانے کے بعد بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے؟

میرا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ پڑھاپے کی دینداری نا جائز عمل ہے اور ایسے لوگوں کا تبلیغ کرنا غلط ہے۔۔۔

 البتہ ایک بات ضرور ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔۔۔ "کیا جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" میرے ذہن میں اس آیت کے پیش نظر یہ سوال آتا ہے کہ کیا ایسے لوگ جو ابتدائی عمر سے دین سیکھتے ہیں اور حق کے ساتھ اس پہ عمل کرتے ہیں ایسے لوگوں کا موازنہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ہو سکتا ہے جس نے بڑھاپے کی عمر میں دین کو اہمیت دینی شروع کی ہو؟

احادیث کے مطابق جوانی کی عبادات اور بڑھاپے کی عبادات کے درجات میں بھی بے انتہاء فرق ہے۔ کسی نے اس سلسلہ میں کیا کمال شعر کہا ہے۔

گر جوانی توبہ کردن شیوائے پیغمبری۔۔

وقت پیری گرگ ظالم مے شود پرہیزگار۔۔۔

ترجمہ: اگر جوانی میں توبہ کر لیں تو یہ بیغمبروں والی صفت ہے، بڑھاپے میں تو بھیڑیا بھی اپنے آپ کو پرہیزگار سمجھتا ہے، کیونکہ اس میں شکار کرنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔

ایسے لوگ جنہوں نے ساری جوانی عیاشی اور بے دین زندگی گزاری ہو ، میں سمجھ نہیں پاتا کہ ایسے لوگ آخر ایسا اعتماد کہاں سے لے کر آتے ہیں کہ بڑھاپے میں وہ ہر وقت تبلیغ ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کے ان کی تبلیغ میں سختی کا عنصر بھی انتہائی سطح پہ پایا جاتا ہے۔ عام زندگی میں یا آن لائن دنیا میں  کوئی فرقہ واریت پہ مبنی بات ہو یا شرعی مسائل پہ کوئی اختلاف کی بات ہو تو ایسے لوگ اپنی باتوں سے ایسے عالم فاضل نظر آتے ہیں جیسے کہ ان کو موروثی علم و معرفت عطاء ہوئی ہو اور ان لوگوں نے اپنی محنت سے اپنی آباواجداد سے حاصل شدہ علم کو بھی چار چاند لگا دیئے ہیں۔

 خاص طور پہ ایسے لوگوں کی دینی باتوں میں سختی کا عنصر دیکھ کے تو انتہاء کی حیرت  ہوتی ہے کہ یہ بندہء خدا آخر اپنے غیر دینی اور غیر شرعی اور بے عمل ماضی کو کیسے بھول سکتاہے۔  مجھے تو شرم آتی ہے کہ اگر میں کسی شخص کو کسی ایسی برائی سے "سختی" سے منع کروں جو میں خود ماضی میں کرتا رھا ہوں۔ ہاں دو شرائط لاگو ہیں،  اگر میں اس برائی سے توبہ کر چکا ہوں اور اگر وہ شخص میری "رعیت" میں آتا ہے{یعنی میں اُس شخص پہ اختیار رکھتا ہوں یا وہ میری نصیحت کو سننا پسند کرتا ہے} تو میں اس کو نرمی سے اس برائی سے منع کر سکتا ہوں لیکن اگر میری شفقت سے کہی بات بھی دوسرا شخص نہ سمجھے تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ شائد میری ہی ماضی کی   توبہ قبول نہیں ہوئی ورنہ شائد وہ شخص میری نصیحت مان جاتا۔ سو میں اپنی نصیحت کا دائرہ کار کم سے کم ہی رکھنا پہتر سمجھتا ہوں۔

دوسری بات کہ اگر میرا ماضی با علم و با عمل نہیں رہا تو میں "ہر وقت" اور "ہر کسی" کو تبلیغ کرنے سے گبھراتا ہوں۔ وجہ وہی ہے کہ مجھے بڑھاپے کی دینداری سے یہی بات سمجھ آئی ہے کہ کسی ظالم کو ظالم کہنے سے پہلے یہ سوچنا چا ہیے کہ میں خود ماضی میں کتنا ظالم رھا ہوں۔ کسی زناء کے مجرم کو رجم کا پتھر مارنے کا حق بھی مجھے تب ہی حاصل ہو گا کہ اگر میں خود ایسے گناہ سے ہمشہ پاک رہا ہوں۔ اگر میں خود ہر قسم کے زناء سے پاک ہوں صرف اسی صورت میں تبلیغ کو اپنی "باقی" زندگی میں اختیار کرنے کا حق رکھتا ہوں ورنہ یہی زیادہ مناسب ہے کہ اپنی باقی زندگی توبہ اور اپنی ذاتی بہتری پہ خرچ کروں، اور اپنی تبلیغ کا دائرہ بھی محدود رکھوں، اور میٹھی میٹھی دینی باتوں کا حق ایسے لوگوں کے پاس ہی رہنے دوں جو اس کام کے حقیقی حق دار ہیں۔ یہ نہ ہو کہ میں متقی ہونے کی خواہش، گمان اور دھوکے میں رھوں اور خود ہی یہ فیصلہ کر لوں کہ میری توبہ کیونکہ قبول ہو گئی ہے تو اس وجہ سے مجھے یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ اب دوسروں کی اصلاح کیلئے اپنی زندگی وقف کر دوں اور اپنے گناہوں کے کفارہ کے طور پہ اپنی باقی زندگی میں خود سے ہی اپنے آپ کو اللہ کے نیک بندوں کی صف میں شامل کر لوں۔ پھر خود ہی یہ یقین بنا لوں کے میں تو اب بہت متقی اور پرہیزگار ہو گیا ہوں اس لئے میں ہر کسی کو ہر وقت تبلیغ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔  یہ سب میرے نفس کا  دھوکا بھی تو ہو سکتا ہے۔

 

 بیشک اللہ نے توبہ کی قبولیت کی نشانیاں تو بتائی ہیں لیکن توبہ کی قبولیت کی رسید تو اللہ نے کسی کو نہیں دی نا؟ تو جناب اپنی بنائی ہوئی کسی جنت میں رھنے کا فیصلہ خود سے مت کر بیٹھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں شدّاد والی جنت ہی دے دی جائے ۔ کہیں شدّاد کی طرح ہم بھی اپنے آپ کو دھوکا تو نہیں دے رہے؟

 مزید یہ کہ میری دینی دانست میں اگر کوئی انسان اپنی جوانی کا بڑا حصّہ غفلت میں گزاتا رہا ہے اور وہ اپنے جہل سے مکمل باہر نہیں نکل پایا {کیونکہ ہر کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ جہل سے نکلا ہے یا نہیں} پس جس شخص میں جہل باقی ہو ایسے شخص میں "شر" ضرور باقی رھتا ہے۔ اور بد ترین شر وہ ہے جو اس شخص کی اپنی ذات سے زیادہ دوسرے انسانوں کو نقصان دیتا ہے۔ یہ ایک خطرناک ترین لمحہ فکریہ ہے۔  ایسا شخص نفس کے دھوکے کا شکار ہو سکتا ہے، جو دین کے روپ میں دراصل اپنےہی کفن میں آخری کیل ٹھونک رہا ہوتا ہے۔ بربادی ایسے لوگوں کا مقدر ہو سکتی ہے جبکہ ظاہری طور پہ وہ بہت دینی نظر آتے ہیں۔ باطنی طور پہ وہ برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔ کسی برگزیدہ دینی ہستی کا فرمان پڑھنے کو ملا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگوں کا دین لبادے کی صورت ہو گا، جس کو جب ان کا دل چاہے گا پہن لیں گے اور جب دل چاہے گا اتار ڈالیں گے {مفہوم

 

شائد آپ میں سے کچھ لوگوں کو میری یہ باتیں انتہائی عجیب محسوس ہو رہی ہوں۔ لیکن میرے مشاہدہ میں ایسے لوگ آئے ہیں۔ جن کے ماضی سے میں واقف ہوں۔ بے حیائی کے فیشن اور حرکتیں کرنے والے ایسےخواتین و حضرات جب اپنے بڑھاپے میں با پردہ لبادوں میں نظر آتے ہیں، روزانہ شیو کرنے والےجب آج لمبی لمبی داڑھیوں کے ساتھ لمبی لمبی دینی تقاریر جھاڑتے نظر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کے مذہبی جذبات اور جنون پہ رشک آنے کے بجائے ان پہ افسوس ہوتا ہے۔ لیکن مخلوق خداء اور خاص طور پہ ان ک قریبی اور گھر والے ان لوگوں کے "شر" اور بد اخلاقی سے عاجز نظر آتے ہیں۔

اگر کسی مکمل دینی ماحول میں تربیت پانے والےافراد، ظاہری طور پہ بہت دین دار اور بیشک حافظ قرآن یا عالم دین ہی کیوں نہ ہوں لیکن ان کے "شر" سے دوسرے انسان محفوظ نہیں تو یقین جانیں ایسے لوگ کسی لا دین انسان سے بھی بد تر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دین کو اپنا لبادہ بنا رکھا ہے۔ جن کے لئے قرآن فرماتا ہے۔

"کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟"

اس فرمان کے مطابق ایسے لوگوں کا اپنے آپ کو دینی متقی اور پرہیزگار ظاہر کرنا انکی ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہے  لیکن در حقیقت ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مولا علی کرم اللہ وجہ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے: جب عقل مند بوڑھا جاتا ہے تو  اسکی عقل جوان ہو جاتی ہے اور جب جاہل بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہو جاتی ہے۔ میری دینی دانست میں دین دار لوگ ہی عقل مند ہیں اور بےدین لوگ ہی جہالت کا شکار ہیں۔ ہم نے جوانی دین داری میں گزاری ہے یا جہالت میں؟ اس فرمان کے مطابق ہم اپنا محاسبہ خود کر سکتے ہیں۔

پس میرا مشورہ ہے کہ جن افراد نے اپنی جوانی حقیقی دین داردی سے نہیں گزاری وہ بڑھاپے کی عمر میں {خاص طور پہ} سختی کے ساتھ اور اگر ہو سکے تو با قاعدہ یا بہت ذیادہ دین کی تبلیغ کرنے سےگریز ہی کیا کریں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو ہمیں معلوم ہی نہ ہو اور پڑھاپے میں دراصل ہماری جہالت جوان ہو چکی ہو۔ 

 اس پوسٹ کا مقصد کسی شخص، مسلک، گروہ یا تبلیغی جماعت کی دل آزاری  ہر گز نہیں۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معزرت چاہتا ہوں۔ اگر آپ میری اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے تو آپکو اختلاف کا حق ہے۔ جو اس ٹاپک پہ ڈسکشن کرنا چاہیں تو اپنے علم سے میری رہنمائی فرمائیں۔۔۔جزاک اللہ۔

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 411

See Your Saved Posts Timeline

Reply to This

Replies to This Discussion

Me ati comment krny with some questions , 

N dailo shala welcome back mine shweeeeto cutooo BE Shil 

Achi discussion hay Burried Pai, waisay yeah point tu hay kay jawani ki toobah baraphay ki toobah say soo darajay fazailat wali hay, but aik baat hay kay ab hum kisi ki dili kafiyat ko kaisay jaan saktay hain. Agar aik shaks ko Allah nay zindagi kisi halat mein bhi apnay qareeb kar ilya hay tu yeah bhi khush naseebayi ki baat hay.

is say related aaj baat sunayi majid kay kateeb say kay aik jaisa aap nay kaha kay log barphay mein tableeq shoru kar daitay hain tu un ka kahna tha kay hum log Allah kay samnay apna haq jataty hian kay deikhao hum tumhari ibdat kartay hain, jab kay ult tu yeah hay kay un ko Allah ka shukar guzar hona chahiee kay Allah nay un ki rahnamyi faramayi warna woh hamesha bataktay rahtay 

پروگرامر بھائی آپ سے دوبارہ ملاقات پہ بہت خوشی ہوئی۔ سرمیں آپکی بات سے متفق ہوں اور یہی بات میں اپنی ڈسکشن میں کہ چکا ہوں لیکن شائد اکثر حضرات میرِی بات سمجھ نہیں پائے۔ اس ڈشکشن کا مقصد کسی کے دل میں گھس کے اس کے ایمان کی ریٹنگ کرنا ہر گز نہیں ہے۔ میرا مقصد صرف ایسے لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو بڑھاپے کی عمر میں دینی ہو جانے کے بعد اپنے بے دین ماضی کو بھول جاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو سختی کے ساتھ دین سکھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کے وہ اپنے ماضی کی شرمندگی کو کمپینسیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیایہ بہتر نہیں کہ وہ یہ تبلیغ انتہائی محدود سطح پہ صرف اپنے قریبی لوگوں میں کریں اور حقیقی تبلیغ کو ایسے لوگوں پہ ہی چھوڑ دیں جو با قاعدہ دینی تعلیم لے کر تبلیغ کرتے ہیں۔ میرے نقطہء نظر سے ایسے لوگ اگر احتیاط سے نہیں چلیں گے تو وہ اپنا بڑھاپا بھی برباد کر ڈالیں گے۔ مشہور ۔شاعر مومن خان مومن بھی کچھ ایسا ہی سوچتے تھے

عمر تو ساری کٹی عشق بُتاں میں مومن۔۔۔

آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

agr kui mazi min badkardar rha ho aur barhapy min tableegh ka lebadha orh ly byshak wo gunagar hi sahi kya us ki her achi baat ko be hamin reject kr dena chiye , mry khyal min tu koi achi baat dushmn sy be mely tu usy pick kr leni chiye. koi shak ni deen min sakti nai hy .

BTW, Your discussion is thought provoking....

بزرگان دین سے سنا ہے کہ یہ مت دیکھو کے کون کہ رھا ہے، یہ دیکھو کے کیا کہ رھا ہے۔ مطلب کہ پیغام اہم ہے نہ کہ پیغام پہچانے والا۔ میں اس بات کوکسی حد تک حق مانتا ہوں۔  لیکن یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ کبھی کبھی حق بات کرنے والا فرد بھی اہم ہوتا ہے۔ فرض کرو کہ  کوئی حدیث دو اصحاب {ر} بیان کررھے ہیں اور دونوں کے درمیاں معمولی سا فرق ہے۔ ایسے میں علماء راوی کے بیک گراونڈ کی بنیاد پہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسی حدیث کے راوی پہتر ہیں۔ اسی طرح عام زندگی میں اگرایک بات عمران خان کہ رھا ہے اور دوسری طرف نواز شریف کچھ کہ رھا ہے تو آپ کو ملک کی عوام میں بھی واضح تقسیم نظر آئے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدھی عوام کفرپہ ہے اور باقی حق پہ۔ بلکہ اسکا یہ مطلب ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک بات یا عمل دوسرے سے ذیادہ بہتر ہے۔ 

سو میں بھی ایک اپنی ریسرچ کی بنیاد پہ ایک پہتر راستہ دکھانا چاہ رہا ہوں۔ ڈسکشن اسی لئے شروع کی گئی ہے کہ اگر میں غلط سمجھا ہوں تو میرے رہنمائی کی جائے۔ شکریہ۔

Me ko zyada samjh ni ai BE shil :x 

Kia ap yeh kehna chah rahy k jo log young age main gunah krty rahy , or phir burhapy main toba kr ly to unki toba qabool na hogi kia ?? 

and iski b ni samjh arahi k wo kio phir koi apny nasehato ka daira kam tar rakhy ??

i know k sb sy acha tareka yahi hota hy k ap apny amal sy dosro ko seedhi rah pe laye , 

par agr koi nasehat hi krna chahta to wo thek ni krta ?

i mean agr koi khud gunahgar hi sahi par dosro ki bhalai k liye agr unhy kisi gunah sy rokta hy to buri bat tori na BE shil ???

kia pta wo dosra us gunah sy khud ko rok ly kisi k nasehat sy :x 

menu ni smjh arahi bs thek sy :x 

sholi kuch bura laga ho to :x 

نہیں چندہ میرے سمیت کوئی انسان کیسے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کسی کی توبہ قبول ہوئی ہے یا نہیں؟ ہم کسی کے ایمان پہ ججمنٹ پاس کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ نا ہی کسی کے کافر مسلمان یا مومن ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں نے پروگرامر بھائی کو جو رپلائی کیا ہے وہ پڑھ لو اگر پھر بھی سمجھ نا آئے تو میں حاضر ہوں۔ جن لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ہو اُن کا نصیحت کرنا تو انتہائی غیر مناسب ہے بلکہ ایسی باتیں تو منافقت کے زمرے میں آتی ہیں۔  اس سلسلہ میں رسول پاک صل اللہ علیہ و آل وسلم کا ایک واقعہ بنان کرتا ہوں:

رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم کے پاس ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آل وسلم میرا یہ بچہ گُڑ بہت زیادہ کھاتا ہے آپ اس کو اس زرا سمجھا دیجئے کہ یہ اتنا گُڑ نہ کھایا کرے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم نے فرمایا کہ آپ اس بچے کو کل لے کر آنا۔ دوسرے دن وہ خاتوں بھر بچے کو لے کر آئیں تو رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم نے بچے کو سمجھا دیا کہ زیادہ گُڑ مت کھایا کرے۔ اب خاتون کو تجسس ہوا کہ یہی بات رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم پچھلے دن بھی تو کر سکتے تھے۔ ان کے پوچھنے پہ نبی پاک صل اللہ علیہ و آل وسلم نے خاتون کو بتایا کے کل جب آپ آئی تھیں تو میں نے خود گُڑ کھایا ہوا تھا۔ اسی لئے بچے کو منع نہیں فرمایا۔ یہ ہے سنت طریقہ۔ میرے مشورے کا معاخد اسی طرح کی دینی گائیڈنس ہے۔

 

ایک برگزیدہ دینی ہستی کا فرمان ہے کہ "پہتر تو یہی ہے کہ تمھیں تبلیغ / نصیحت کرنی ہی نا پڑے" اس فرما ن کا یہ مفہوم ہے کہ آپ کا ذاتی عمل، رہن سہن اورزند گی گزارنے کا طریقہ ہی اتنا پہترین ہونا چاہئے کہ لوگ آپ کی عملی ذندگی سے ہی متاثر ہو کر اپنے آپ کو سدھار لیں۔ سو نیکی کی نصیت کرنا برا، غلط یا نا جائیز نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ ماضی میں کسی برآئی کا شکار رہے ہیں تو خاص طور پہ سختی سے کسی کو نصیحت مت کریں، اورہر کسی کو اور پہت ذیادہ بھی نصیحتیں نا کریں تو مناسب ہے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ میرا مشورہ عوام کے لئے اتنا نہیں جتنا یہ خواص کے لئے ہے، صرف خاص اور تھوڑے لوگ ہی میری بات کو سمجھ سکیں گے۔ میرے سمجھانے کے باوجود دیں سکھانے والوں کی کون سا کمی ہو جائے گی۔ ہماری اکثریت کسی فیس بک کی دینی پوسٹ کو سمجھے نہ سمجھے، اس پہ عمل کرے نہ کرے اسکو شیئر کرنا ہی اکثر لوگوں کی جنت کا ٹکٹ ہے۔  

Pal BE shil :x wo na me confuse ho rahi yaha k agr koi bhaly kisi gunahgar ki waja sy hi sahi gunah sy bach jaye to acha nhi hy kia hun ??

:x sholi na agr me ulta seedha bol rai pr me ko ajeeb sa laga na :x

vekhy na BE shil agr ik example lety hy me yaha chat pe ati hon apna dail shala time waste krti hon , mujhy pta hy k thek nhi hy lakin adat ho chuki ya koi or waja , to jb koi new member aye or me usy bolo k ap na aya kry chat pe k achi chez nhi hy time waste hy this and that , or me yeh b bolo k me b ati to ghalat krti , to agr wo member ruk jaye meri waja sy chat pe any sy apna time waste krna chor dy to achi bat howi na BE shil :x 

aisy hi agr hum kisi ko kisi naiki ki bat smjhaty hy to bura hoga kia :x 

sholi :x bsh yahi nhi clear ho raha me ko :x 

چندہ اس ڈسکشن کو انتہائی باریکی سے سمجھنا بہت ضروری ہے ورنہ بہت ممکن ہے کہ کوئی میرے اوپر کفر کا فتویٰ بھی لگا ڈالے۔ میں بار بار یہی بول رھا ہوں کہ نصیحت کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کسی شخص کی جوانی دنیاوی امور میں گذری ہے تو ایسے شخص کو صرف اپنے دوست، احباب اور اقرباء میں ہی تبلیغ کرنی چائیے اور وہ بھی کم الفاظ میں۔ میری نظر میں ایسے لوگوں کا باقاعدہ تبلیغی بن جانا دین کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ جو دنیا میں دین کے نام پہ فساد کیا جا رھا ہے وہ ایسے ہی نیم ملا افراد کی وجہ سے ہے۔ جو کسی دینی حکم کی معرفت کو تو سمجھتے نہیں ہیں لیکن اپنے آپ کو اعلیٰ اور عرفہ دکھانے کئے جو دینی مبالغہ آرائیاں کرتے ہیں تو بجائے کے دین کی خدمت کے وہ دین کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

 

چندہ آپ نے جو چیٹ پہ آنے والی مثال دی، یہی تو مسئلہ ہے کہ ہم لوگ اکثریہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو کام ہم غلط سمجتے ہیں لیکن خود کر رہے ہیں تو کسی کو منع کرنے میں کوئی قباحت تو نہیں لیکن یہ ہمارا حق ہر گز نہیں بنتا کہ ہم کسی دوسرے کو منع کریں اور خصوصی طور پہ سختی سے منع کریں۔ اکثر لوگ یہی تو کر رھے ہیں اسی لئے ان کی نصیحت میں بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ مزید فرمایا کہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ کیسی عجیب بات ہو گی کہ میں خود تو چیٹ کرنا پسند  کروں لیکن دوسروں کو منع کروں۔ ہاں اگر میں خود کم ہی چیٹ کرتا ہوں تو  دوستوں کو بھی کم چیٹ کرنے کا مشورہ دینا بر حق ہو گا۔  

otty Mine BE shil :x 

JazakAllah khairan kaseera for your precious replies and time 

Be happy & smiley always chandoo :)

RSS

Donation

A quality education changes lives & start with you.

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Subject Study Groups

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. Nida arshad

Lahore, Pakistan

© 2018   Created by + M.TariK MaliC.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service