We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

سائبر کرائم کا بڑھتا رحجان!


جدید ٹیکنالوجی نے جوں جوں ترقی کی منازل طے کی تودُنیا گلوبل ویلج بن چکی تو دوسری طرف اس کے منفی استعمال سے انسان کی انسانیت واخلاقیات ٗ محبت و الفت ٗ شرافت و دیانت داری ٗ عباد ت و ریاضت ٗ رحم و ہمدردی ٗ ادب و احترام ٗ اطعام و اکرام ٗ غریب پروری میں کمی ہو رہی ہے۔ انسانیت کی جگہ اب مادیت لے رہی ہیں ۔ باقی جرائم کے ساتھ ہی ڈیجیٹل بھتہ خوری کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے 2014میں ڈیجیٹل آلات پر 45گناحملوں میں اضافہ ہوا۔ سائبر بھتہ خوری کے لیے رانسم ویئر کا استعمال کیا گیا جس میں 2014میں 113گنا اضافہ ہوا۔ جب کہ کرپٹورینسم وائیر حملوں میں 4000گناء اضافہ ہوا ۔ ا حتیاطی تدابیر سے ہی بچاو ممکن ہو سکتا ہے لیکن آئی ٹی یو کی رپورٹ کے مطابق سائبر حملوں کے متعلق احتیاط تدابیر اختیار کرنے والے ممالک میں امریکہ پہلے ٗ کینیڈا دوسرے ٗملائیشیا ء اور آسٹریلیا تیسرے نمبر ٗ نیوزی لینڈ ٗ ناروے چوتھا نمبر ٗ بھارت ٗ برازیل ٗ ایسٹونیا ٗ جرمنی ٗ جاپان ٗکوریا ٗ اور برطانیہ پانچویں نمبر پر ٗ جب کہ چین 14نمبر ٗسری لنکا ٗ بنگلہ دیش 19واں نمبر ٗ جب کہ اس درجہ بندی میں پاکستان ٗ شام ٗ افغانستان ٗ قازقستان ٗ سینسیگال ٗ سلووینیاٗ سمالو ٗ ملاوی ٗ بوسینا وغیرہ کا نمبر 23ہے ۔ اور پھر سائبر سیکورٹی انڈیکس کے علاقائی تجزیے کے مطابق ایشیاء بحرالکاہل خطے میں آسٹریلیا اور ملائیشیاء پہلے نمبر پر ٗ نیوزی لینڈ دوسرے نمبر ٗ چین چھٹے نمبر ٗ سری لنکا ساتویں نمبر ٗ ایران اور بنگلہ دیش گیارہویں نمبر ٗ افغانستان بارہویں نمبر پر جب کہ پاکستان تیرہویں نمبر پر ہے ۔ پہلے سائبر کرائم کے لیے ای میلز کو استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا نیٹ ورک کو اس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اب موبائل فون پر بھی سائبر کرائم کا حملہ ہو سکتا ہے ۔ سائبر کرائم ہر ایسی سر گرمی ہے جس میں کمپیوٹر یا نیٹ ورکس کو مثبت انداز میں استعمال کے بجائے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مجرمانہ ٗ غیر قانونی سرگرمیاں کی جائیں۔ان سائبر کرائم میں لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ٗ ہیکنگ ٗ سوشل نیٹ ورکس میں استحصال ٗ سائبر حملے ٗ سائبر دہشتگردی ٗ مجرمانہ رسائی ٗ فحش پیغامات ٗ ای میلزٗ دھمکی آمیز پیغام ٗ ای میلز ٗغیر قانوی طور ڈیٹا تک رسائی وغیرہ شامل ہیں ۔ جب دُنیا کی معروف ترین کمپنیوں کے 580سینئر ایگزیکٹوز اور ECOsسے ایک سروے میں بین الاقوامی کاروباری خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان سرفہرست مسائل میں ایک مسئلہ سائبر کرائم کا تھا ، 2014جون میں جب جارج ٹاون یونیورسٹی کے سنیئر فاراسٹرٹیجک اینڈ اینٹرنیشنل سٹڈیز کی سامنء آنے والی تحقیق میں یہ تخمینہ لگایا گیا کہ سائبر کرائم سے دُنیا میں ہونے والا نقصان 375سے 575ارب ڈالر کے درمیان ہے ۔ اور پھر یہ کاروبار پندرہ سے 20فیصد انٹرنیٹ کے حصے کے برابر ہے ۔اسی حوالہ سے انٹرنیٹ سیکورٹی فرم میکانی نے جون 2014میں سالانہ نقصانات کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ سائبر کرائم کے نتیجے میں عالمی معیشت کو چار سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ۔ پھر گزشتہ سال ماہ ستمبر میں سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بُک پر سائبر حملہ ہوا جس میں 5کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے علاوہ 3کروڑ صارفین کے اکاونٹس ہیک کر لیے گئے تھے ۔اس حملہ میں 1.4کروڑ صارفین کے نام ٗ رابطہ نمبر اور نجی معلومات شامل تھی۔اس کے بعد کمپیوٹرز پر وانا کرائی وائرس کا حملہ ہوا جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ۔ اس وائرس نے 150ممالک میں تقریباً 2لاکھ سے زاہد کمپیوٹرز کونشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ دبئی میں بین الاقوامی آن لائن ٹیکسی سروس کریم کا ڈیٹا سائبر حملے کی زد میں آیا جس میں ایک کروڑ 40لاکھ افراد کا ڈیٹا چرایا گیا ۔ اور اب پاکستانی بنکنگ سسٹم پر سائبر حملہ کیا گیا۔ پہلے لوگ گھروں ٗ دکانوں میں پیسوں کی چوری کے ڈر سے رقم ٗ زندگی کی جمع پونجی بنکوں میں بلا خوف و خطر رکھتے تھے اور اطمینان تھا کہ ان کے رقم محفوط ہے اور بوقت ضرورت کام آئے گی ۔لیکن پاکستان میں تاریخ میں بنکنگ سسٹم میں سائبر حملہ سے عمومی طور پر پورے وطن ٗ خصوصاً دیہائی علاقوں میں لوگ ذہنی کرب کا شکار ہیں ۔ جس کی بڑی وجہ دیہی علاقوں میں لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں اور انہیں کالیں بھی بے شمار آتی ہیں کبھی کمپنی کا نمائندہ تو کبھی بنک منیجر کے روپ میں ٗ اس جانسے میں کئی دھوکہ کھا چکے ۔ اندازے کے مطابق پاکستان کے بنکوں سے پانچ ہزار سے زائد بنک اکاونٹس ہیک کر لیے گئے جن میں سے تقریباً 85کروڑ رقم نکال لی گئی ۔اور پھر اے ٹی ایم کارڈ سے 60سے 75ڈالرز میں فروخت کے لیے لگائے گئے ۔بمطابق پاکستان کے ادارے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے تجزیے وطن ِ عزیز کے 22بنکوں کے 19ہزار 846صارفین کے کارڈ ز کی معلومات فروخت کی غرض سے ڈارک ویب پر ڈالی گئیں ۔سائبر حملے میں 19ہزار کارڈ کا ڈیٹا چرا لیا گیا ۔ پاکستانی بنکوں کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا چرایا گیا پاکستانی بنکوں کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کے معاملہ پر رپورٹ میں کہا گیا کہ 22پاکستانی بنیکوں کے مجموعی طور پر 19ہزار 864کارڈ کا ڈیٹا چوری ہوا ٗ 100سے 160ڈالر کی قیمت میں فروخت ہوئے ۔ 26اکتوبر کو پاکستانی صارفین کے ڈارک ویب پر 8ہزار 864کارڈ فروخت ہوئے جب کہ 31اکتوبر کو مزید 11ہزار کارڈ پاکستانی بنک صارفین کے ڈارک ویب پر فروخت ہوئے ۔ اور پھرجن غیر ملکیوں نے پاکستانی اے ٹی ایم استعمال کئے ان کا ڈیٹا بھی چوری کیا گیا ۔ ان میں کئی بزرگ لوگ ایسے بھی شامل ہیں جن کی پنشن کے پیسے جو کہ ان کی پوری زندگی کی محنت اور بڑھاپے کا سہارا اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔وطن عزیز میں پہلا سائبر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں نہ صرف 80کروڑ روپے چوری ہوئے بلکہ ہزاروں بنک صارفین کے کارڈ بھبی غیر محفوط ہو گے ۔ لیکن اس وقت کے حملہ کے بعد عوام میں اس طرح سے نہ تو معلومات تھی نہ ہی اتنا غیر محفوظ سمجھا جارہا تھا ۔اب جب کہ سائبر حملہ کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا چکا تو عوام مین شدید اضطراب پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ کئی پاکستان کے شہروں میں یا تو سائبر حملہ سے اکاونٹس سے پیسے غائب ہوتے ہیں اور پھر کئی سادہ عوام کو اے ٹی ایم کارڈ کے استعمال کا یا تو پتہ ہی نہیں یا پھر وہ ان حربوں سے واقفیت ہی نہیں رکھتے ۔اب اس سائبر کرائم کے حوالہ سے بنائے گے قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ اس کے علاوہ کمپیوٹرز میں ماہرین کے مطابق ’’ریڈ اونلی ‘‘کی فائل بنا دی جائے تو کم از کم وہ کمپیوٹر اس حملہ سے بچ سکتا ہے ۔ اور پھر ایسے افراد جنہیں ان معلومات تک رسائی نہیں ان کے لیے بذریعہ میڈیاآگاہی مہم کا انعقاد کیا جائے تاکہ وہ ایسے عناصر کو اپنا ریکارڈ فون کالز پر نہ فراہم کریں ۔ اے ٹی ایم احتیاط سے استعمال کریں تاکہ ملک و قوم کا نقصان نہ ہو ۔

 


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 113

Reply to This

Latest Activity

Profile Iconmahnoor omar, Maira Qurxam, Mr.Right and 24 more joined Virtual University of Pakistan
27 minutes ago
+M.Tariq Malik liked Virtual Educators Academy's discussion CS619 Final Projects (Python language) Discussions
1 hour ago
Hacker updated their profile
1 hour ago
Imtiaz Waqar added a discussion to the group STA630 Research Methods
3 hours ago
Imtiaz Waqar joined +M.Tariq Malik's group
3 hours ago
Muhammad Fawad Hassan joined +M.Tariq Malik's group
4 hours ago
Maria commented on +M.Tariq Malik's group EDU101 Foundations of Education
4 hours ago
+ Faisal + replied to shifa arshad's discussion CS605 Assignment No 02 Fall 2020 Solution / Discussion Due Date: 10-dec-2020 in the group CS605 Software Engineering-II
4 hours ago
Maria joined +M.Tariq Malik's group
4 hours ago
Maria and SafeerZaidi are now friends
4 hours ago
SafeerZaidi liked Maria's profile
4 hours ago
Tasha Malik posted a status
"Bio 201 Assignment # 2 Solution https://youtu.be/Gowjc67WZ4c"
5 hours ago
Maria liked +M.Tariq Malik's profile
6 hours ago
Maria left a comment for +M.Tariq Malik
6 hours ago
Blessings posted a status
"Kya khbr k ab wo khan rehta hai...........................Khush rhe yar jhan rehta hai"
6 hours ago
SafeerZaidi liked +M.Tariq Malik's group PAK301 Pakistan Studies
7 hours ago
Virtual Educators Academy posted a discussion
7 hours ago
Virtual Educators Academy updated their profile
7 hours ago
☆ Tina Solangi ☆ updated their profile
8 hours ago
Humaira Khadim replied to +M.Tariq Malik's discussion PSY404 Abnormal Psychology Assignment 01 Fall 2020 Solution / Discussion in the group PSY404 Abnormal Psychology
8 hours ago

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.