Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
اب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا

ناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سا
مرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا

کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہے
گردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا

بدلی وہ ہوا گزرا وہ سماں وہ راہ نہیں وہ لوگ نہیں
تفریح کہاں اور سیر کجا گھر سے بھی نکلنا چھوڑ دیا

وہ سوز و گداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہوا
پروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا

ہر گام پہ چند آنکھیں نگراں ہر موڑ پہ اک لیسنس طلب
اس پارک میں آخر اے اکبرؔ میں نے تو ٹہلنا چھوڑ دیا

کیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیں
کیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا

اقبال مساعد جب نہ رہا رکھے یہ قدم جس منزل میں
اشجار سے سایہ دور ہوا چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا

اللہ کی راہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں
اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا

جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبز شجر امید کا تھا
جب صرصر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا

اس حور لقا کو گھر لائے ہو تم کو مبارک اے اکبرؔ
لیکن یہ قیامت کی تم نے گھر سے جو نکلنا چھوڑ دیا

Views: 116

Reply to This

Replies to This Discussion

Hor e laqa ghr ai gi tu akbar ka bahir nklny ka hal yhi huna tha 

So  jaaan sey ho jaongaa Raxi

MAin saxa par,

Pahly wo mujhy  apna guneh gaar tu krly !

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service