We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

ازدواجی زند گی میں غیر ازدواجی تعلقات

یہ ایک نازک موضوع ہے جس پر آج ہم بات کرنے جا رہے ہیں لیکن ہمارے آج کے معاشرے میں یہ ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی  گھر گھر رسائی نے اچھے برے کی تمیز ختم کر دی ہے ہر چیز کو ایک طلسم کی طرح پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔سب سے پہلے اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک شادی شدہ مرد یا عورت کسی دوسری جانب متوجہ کیوں ہوتے ہین؟

کیا اس میں قصور مرد کی ہرجائی  فطرت کا ہوتا ہے؟

یا عورت کی عدم دلچسبی؟

کیا یہ ایک   جذباتی بیماری ہے یا ٹھرک پن؟

کیا مرد کا حکمران مزاج اس کا سبب بنتاہے؟ یا عورت کی شک کرنے کی عادت؟

کیا سوشل میڈیا کے ذریعے حسن کی کشش مرد کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے؟ یا عورت  کا گھر سے باہر سوشل ہونا؟

مرد کب گھر سے بھاگتا اور باہر کی دنیا میں سکون تلاش کرتا ہے؟

عورت کب اپنے دل کے احساسات دوسروں کے ساتھ شیئر کرتی ہے؟

دونوں کی زند گی میں یہ خلا کب پیدا ہوتا ہے؟

کسی ایک کے چیٹر ہونے کی صورت میں دوسرے ساتھی کا رویہ کیا ہوتا ہے؟

مرد ک کیس میں عورت کو کیا برتاؤ کرنا چاہیے؟

عورت قصور وار ہو تو مرد کو کیا سلوک کرنا چاہیے؟

 کسی ایک بھی ساتھی کے اس قسم کے تعلق میں  انوالو ہونے کی صورت میں گھر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

اس معاملے کو کیسے ہینڈل کرنا چاہیے؟

اگر آپ واقعی ایک دوسرے کے مخلص ساتھی ہیں تو آپ کا کیا فیصلہ ہونا چاہیے؟

ایسے بہت سے سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کے لیے آیئے اور اپنے خیالات شیئر کیجئے

انشا  ء اللہ اس کا کوئی شافی حل تلاش کرنے میں کامیابی ہو گی۔

یہاں بحث جذباتی انوالمنٹ کی ہو رہی ہے کیونکہ بطور ایک اسلامی معاشرے جنسی تعلق کی صورت حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ لہذا ان کو زیر بحث نا لایا جائے۔

آپ کی شرکت بحث میں نئے زوایوں کا در کھولے گی

منتظر آراء


+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 456

.

+ http://bit.ly/vucodes (Vu Study Groups By Subject Codes Wise)

Reply to This

Replies to This Discussion

آپ بطور بیماری اس کا علاج کیسے کریں گے؟

حل تجویز کریں

عورت ک کیس میں کیا عمل ہو گا مرد ک انوالو ہونے کی صورت کیا تدابیر ہوں گی؟

Well agr beemarii consider krna hai tou ye roohanii bemarii smjhi jaye.... Bcz ye madii beemari nai hoskti.. Iss ka relation spiritual disease se hai so we have to solve it spiritually!!! 

اوکے جی بات ہو رہی بیماری کی یہ روحانی سے زیادہ جذباتی بیماری ہے تو ہم اپنے مریض کا کیسے خیال رکھیں گے؟

کیا ہم کو اس سے قطع تعلق کر لینا چایئے؟

اس کو اخلاقی طور پر آبیوز کرنا چایئے؟گھر میں اس کا امیج خراب کر دینا چایئے؟

اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو کیا سب کچھ درست ہو جائے گا؟

I would suggest kay aap thora technology ka istamal shrou karain tu kafi sari cheazain ko track kia ja sakta. This is one such type of App (AirWatch)

Hamari tu company devices or data track karnay kay liye use kar rahi, but biwyain shohar ko track karnay kay liye use kar sakti

showwwwwwwwwwwwwwww shweet of uuuu 

برخوردار یہی تو نہیں کرنا

ایسی کوئی ٹریکنگ نہہیں کرنی جو ایک دوسرے کے اعتبار کو ٹھیس پہنچاتی ہو

بیویوں کو شوہروں کی جامہ تلاشی نہیں لینی چایئے

ایسے ہی شوہروں کو بھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے

یہ رشتہ اعتبار پر قائم ہوتا ہے اگر پہلے سے ہی ایک دوسرے پر قدغنیں لگایئی جائیں گی تو آگے جا کے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ہر انسان کی ایک پرایئوسی ہوتی ہے سو دوںوں کو ایک دوسرے کے لیے سپیس دینی چاہیے،

hayee mazyyy daddOo

عورت ہو یا مرد لاحاصل دونوں کو ہی متوجہ کرتا ہے۔  

 میں اس معاملہ میں دو طرح کےلوگ دیکھے ہیں۔

ایک وہ جنہیں عادت ہوتی ہے سوشئل ہونے کی۔ وہ عادتن بھی اپنا ٹھرک پورا کرتے ہیں۔ ان کے نفس کو وقتی سکون ملتا ہے۔ لیکن اس میں بعض صرف باتوں تک محدود ہوتے ہیں اور بعض نہیں۔ ان میں مرد حضرات کی تعداد عورتوں کی نسبت زیادہ ہے۔

دوسرے قسم کے لوگ وہ جو اپنی قسمت سے ناخوش ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر تو مظلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتن وہ اپنی خواہشات کی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی بجائے، ایک دوسرے  میں اچھائیاں تلاش کرنے کی بجائے، ایک دوسرے کی عزت کرنے کی بجائے، نا شکری کی طرف رغبت ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔ ایسے میں بہت سے بہانوں کو وجوہات کا درجہ بھی دے دیا جاتا ہے۔ ان میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔

 

بڑی دیر کر دی مہربان آتے آتے ہاہا

مختلف لوگوں کے مختلف انداز لیکن اب گھر کو تباہی سے کیسے بچایا جائے

مثال کے طور پر گھر کا بچہ کوئی غلط کام کرتا ہے تو کیا گھر والے اسے گولی مار دیتے ہیں یا اس کے سد باب کی کوشش کرتے ہیں؟

یا اس کے لیے کس قسم کے اقدامات کرتے ہیں؟

ھمیشہ کی طرح منفرد ٹا پک 

آجکل یہ رجحان اتنا نارمل ہوگیا ہے کہ کیا شادی شدہ کیا غیر شادی شدہ سب ایک ہی ڈگر پہ ہیں۔اس کی ایک وجہ تو اس دور میں برایؑ کو برایؑ نہ سمجھنا ہے۔ہر چیز کو  حقوق کا نام دے دیا گیا ہے۔ٗ 

اسلام نے جو حقوق دیے ہیں اُن کو نا ماننا ہے ۔

پھر میاں بیوی کے درمیان جو خلا  پیدا ہوجاتا ہے اُس کو پھر باہر سے فل کیا٘ جاتا ہے۔ عورت ہو یا مرد اُس کی تربیت ایک فوری عمل نہں ہے۔ یہ بچپن سے دی گی تر بیت کے اصرات ہوتے ہیں۔

اس کا حل یہی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان دوستی کا تعلق ہونا چاہیے

عورت کو  مرد کی فطرت سمجھ کے چلنا چاہیے۔ اس لیے کہا جاتا  ہے کہ بیوی کو ایک ہی وقت میں طوایف بھی ہونا چاہیے اپنے شوہر کے لیے۔ وہ اس طرح میاں کا دل رجھاے کہ وہ باہر کی طرف نظر نہ اٹھاے۔

باقی کوہی بھی کام لے لیں اُس پہ اسر انداز ہونے کہ ہزار  پہلو ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑ  کر  میاں ہو ہا بیوی اُس کو دعا سے کام لینا چاہیے۔

معذرت سارہ مجھے آج تک یہ قول پسند نہیں آیا کہ بیوی کو طوائف کا رول پلے کرنا چایئے۔۔۔

اس چیز کو اچھے الفاظ میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ بیوی شوہر کی  خو شنودی  کو اپنی ترجیح رکھے اور یہ ازدواجی زند گی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہو ان کی خلوت سے لے کر جلوت تک

 تو جب دونوں ایک دوسرے کے ہم خیال تھے پھر بھی کسی ایک پارٹنر کی زندگی مین کوئی تیسرا آ گیا تو اس مسلئے کو کیسے حل کیا جائے گا؟؟

طعنے تشنعے دے کر یا اپنے پارٹنر  کی ذہنی جذباتی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے گا؟

بیوی طواعف ہو نہیں جاتی ۔بات یہ ہے کہ اۡس کو بھی ویسی کوشش کرنی پرتی ہے۔ ظاہری ٘مطلب نہیں لیا جاسکتا ۔ اس کے معنی زرا گہرے ہیں ۔ سننے میں پسندیدہ نہ ہوں گے۔ مگر عورت کو کس حد تک جانا پرتا ہے یہ دیکھنے کی با ت ہے۔ کبھی وہی مطلب نہی ہوا کرتے ۔اور بھی پہلو ہوا کرتے ہیں۔

مسلے کا حل طعنہ تشنیع نہی ہو سکتا وہ تو سیدھا دوسرے کو اپنے کام میں بڑھنے کا موقع دینا ہے۔ پارٹنر اپنے ساتھی کی رگ رگ سے واقف ہوتے ہیں۔ ساری صورتحال کا جایزہ لے کر حالات کو سمبھالا جا سکتا ہے۔ 

RSS

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service