Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

الله پاک نے قرآن میں فرمایا ہے کہ

"اور تم مجھے ویسا ہی پاؤ گے جیسا میرا گمان کرو کے "

یہ ہم سب پڑھتے ہیں لیکن جھتے ہیں ۔

کیا تم جانتے ہو کہ جب حضرت موسی کے پیچھے فوج لگی ہوئی تھی تب اللہ نے کیوں سمندر کو دو حصوں میں بانٹ دیا ؟

کیا تم جانتے ہو کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں جانے کا حکم دیا گیا تو کیوں اس آگ کو ٹھنڈا کر دیا ؟

کیا تم جانتے ہو کہ اس نے یوسف کو کیوں کنویں میں بھی پالا ؟

کیا تم جانتے ہو کہ اس نے حضرت ہاجرہ کو صحرا کے درمیان میں زم زم کیوں دیا؟

کیوں اس نے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھا؟

کیوں اس نے زکریا کو عمر

کے آخری حصے میں پہلی اولاد سے نوازا؟

ان سب میں بس ایک چیز مشابہ تھی ۔ یقین 

- صرف اس لیے کہ ان میں سے کسی نے ہمت نہیں ہاری، انہوں نے یقین رکھا کہ دا راستہ نکالے گا اور دیکھو خدا نے راستہ نکالا۔ وہ سب اس پر یقین رکھ کر آکے بڑھتے رہے اور دیکھو اس رب نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا ۔

اور توکل تو یہی ہے کہ راستہ نہ ہو اور تم کہو الله راستہ بنانے والا ہے۔

جب تم اس کا اچھا گمان کرو گے تو تم یقینا سب اچھا ہی پاؤ کے۔

اور' پھر دیکھو راہیں وہاں سے نکلیں کی جہاں تمہارا وہم و گمان بھی '

نہیں جا سکتا

Views: 230

Reply to This

Replies to This Discussion

Yaqeen paida kar ay nadaan, yaqeen sy hath ati hay..

Wo Darwaishi k jis k samny jhukti hay faghfoori!!!

Jee. {^__^}

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service