We have been working very hard since 2009 to facilitate in learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

ایک دوست نے کسی پوسٹ کے ریفرنس سے کچھ سوالات پوچھے ہیں سو یہاں اپنی ریسرچ کی حد تک جوابات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کے مجھے ایسے اختلافی ٹاپک پہ عام عوام میں بات کرنا مناسب نہیں لگتا۔ لیکن یہاں کچھ باتیں کلئر کرنا ضروری ہے۔یہ باتیں کسی کو  پسند آئیں یا نا آئیں میں ان اختلافات کو ایک حد سے زیادہ تفصیل سے ڈسکس نہیں کروں گا۔

 

شب بارات کے منانے کے بدعتی، جائز اور نا جائز کا فیصلہ کسی پوسٹ کو کاپی پیسٹ کر دینے سے نہی ہو جایا کرتا۔  اور کسی علمی شخصیت کی زاتی رائے کو سکالرز ماسٹر پیس قرار دینے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اسے تھوڑا گہرائی سے سمجھنا پڑے گا۔ جس حد تک مجھے سمچھ آئی ہے گائیڈ کرنے کی حد تک آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔ میرے سمیت ہر کوئی اپنا زمہ دار ہے۔ ہم میں جو بھی کمی ہے اللہ پاک اپنے رسول اللہ {ص} کے صدقے ہماری ہدایت فرمائے۔۔۔۔آمین۔  

 

کیا شب بارات منانا بدعت ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ شب برات کے بارے میں ہر فرقہ کا اپنا اپنا عقیدہ ہے۔ جن حضرت نےشب برات کے خلاف تقریر لکھی تھی وہ دراصل ایک خاص فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اس دن کو اپنے مسلک کی منتق، عقل اور فہم کے مطابق بدعت قرار دیتے ہیں۔ دوسرے فرقوں کے مطابق شب برات منانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بلکہ اگر اس فرقہ کے علاوہ تمام مسمان فرقوں کے جمہور علماء کے رجہان کو اکٹھا کیا جائے تو اس دن کسی خصوصی عبادت کا اہتمام کرنا ہر گز ناجائز نہیں ہے۔ بلکہ اس رات کو عبادات کی خصوصی رات ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

  ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ توبہ کے لئےکسی خصوصی وقت کا انتظار کرنا انتہائی نا مناسب ہے اور نہ ہی یہ کہنا درست ہے کہ اگر کوئی اس دن خصوصی عبادات کا اہتمام نہیں کرتا تو اس کو کوئی سزاء دی جائے گی یا اسکو وہابی کہا جائے۔ویسے تو توبہ کو کسی خاص دن یا لمحہ کے چکر میں ٹالنا تو ہماری اپنی ذات کے لئے ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کی تقاریر جھاڑ کر اُمّت میں فروعی اختلافات کو ہوا دینا اور فاصلے پیداء کرنا بھی میری نظر میں کسی بدعت سے زیادہ بد ترین گناہ ہے۔

 

فرقہ واریت اُمّت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں اس ٹاپک کو صرف ایک حد تک ڈسکس کرنا چاہتا ہوں۔ ورنہ اگر گہرائی میں جاوں تو میں ہر فرقے میں شب بارات کے بارے میں جو بھی عقیدہ ہے اسے یہاں بیان کر سکتا ہوں۔لیکن اس دنیا میں اگر مسلمان ہر گلی کوچے میں تزلیل کا شکار ہو رہا ہے تو اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ ایسے کئی کی بورڈ وارئیر اور سو کالڈ سکالرز بدعت کے نام پہ امّت مسلمہ میں فساد برپا کر ڈالتے ہیں اور ان کو اس بد ترین گناہ کا احساس تک نہیں ہوتا۔ افسوس ہوتا ہے کہ ایسے اکثر علماء یہ معرفت نہیں رکھتے کہ بدعت زیادہ بڑا گناہ ہے یا مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینا ذیادہ بڑا گناہ ہے؟  اگر آپ اپنے آپ کو سارے مسمانوں کا عقیدہ درست کرنے کا ٹھیکیدار سمجھ ہی بیٹھے ہیں تو کم از کم کسی حد میں رہ کر اپنی بات کیا کریں۔

 

 رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم کی حدیث کامفہوم ہے کہ "مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم شرک میں پڑ جاو گے، بلکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔" شرک کے نام پہ تو میں نے صرف ایک فرقہ کومسلمانوں کی گردنیں مارتے سنا ہے۔ لیکن اختلاف رائے کی بنیاد پہ تو یہ ساری دنیا ہی ایک دوسرے کو قتل کر دے گی۔ ْقرآن پاک کے مطابق فساد قتل سے بڑا گناہ ہے۔یہ بات لکھ لیں کہ اس طرح کے اختلافی فن پارے عوام کے سامنے لانا فساد کا باعث بنے گا۔ بدعت کا فیصلہ تو اللہ کو کرنا ہے کوئی انسان تو بدعت کی "حد" تک جاری نہیں کر سکتا لیکن فساد تو پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ کچھ مُلّا اور سکالرز شرک اور بدعت کے معاملات کی مس انٹر پریٹیشن کرتے ہیں اور جانے انجانے میں اُمّت کے درمیان فساد کا بیج بو دیتے ہیں۔

 

میں کئی سال سے اس ٹاپک پہ ملّاوں کی بھیلائی کچھ غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ ایک انتہائی سینسیٹیو معاملا ہے، یہاں میرے آرٹیکل کو  پڑھنے والے ایسے بہت سےمُلّا مزاج لوگ موجود ہیں جو فورا میرے اوپر بدعتی، مشرک اور کافر کا فتویٰ جھاڑ ڈالیں گے اور اپنی طرف سے بولیں گے کی میں بدعت اور شرک کو دین کا حصّہ ہی نہیں مانتا{استغفراللہ}۔ بلا شبہ شرک اور بدعت ایمان کا اہم ترین حصّہ ہیں۔ لیکن اگر کوئی دوسرا مسلمان اپنے دینی فہم کی وجہ سے آپ کے فرقے کی بنائی ہوئی شرک اور بدعت کی تعریف سے اختلاف کرے تو اسلام آپ کو ہر گز یہ حق نہیں دیتا کہ آپ اس بات پہ دوسرے مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف کچھ بھی لکھتے رہیں۔

 

 رسول اللہ کے فرمان کو یاد رکھیں کے آپ ک ہاتھ اور زبان سے کسی کی دل آزاری نا ہو۔ جب آپ اپنے فرقے کے علماء کی سمجھ کے مطابق دوسرے فرقہ کے شب بارات منانے کو بدعت قرار دیں گے تو آپ ایسے پبلک فورم پر اُمّت میں اختلافی باتوں کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسالک کی دل آزاری بھی کر رھے ہیں۔ کیا آپ میں یہ ہمت ہے کہ اپنی پوسٹ کے نیچے یہ لکھ دیں کہ آپکی پوسٹ اسلام کے فلاں فرقہ سے تعلق رکھتی ہے؟ جیسا کے آپ حضرات کی مسجدوں کے باہر بھی بڑے فخر کے ساتھ آپ کا فرقہ لکھا ہوتا ہے۔ لیکن صد افسوس ہے کہ ایسی پوسٹ شیئر کرنے والے اسی فیصد لوگوں کو لائکس اور کمنٹس کے شوق میں یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس پوسٹ میں کس سکول آف تھاٹ کا عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے۔  

 

اسلام کی بات کرتے ہوئے آج مجھے فرقوں کی بنیاد پہ بات کرنے کا انتہائی افسوس ہے۔ لیکن اگر بد نصیبی سے مسلمان فرقہ فرقہ ہو ہی گئے ہیں تو کم از کم یہ کوشش تو کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بند کریں اور جتنا بھی ممکن ہو مل کر رہیں۔  اس طرح کی باتوں کو علمی بحث کے طور پہ علماء اور خواص، خصوصی محفلوں اور باالخصوص اپنی "رعیّت"  میں ڈسکس کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن عام عوام کے سامنے یہ باتیں رکھ دینا اور وہ بھی یہ بتائے بغیر کے یہ کس مسلک کا پوائنٹ آف ویو ہے۔ یہ دینی بد دیانتی ہے۔ ایسا کرنا امّت میں اختلاف پیداء کرنے کے برابر ہے۔

 

شب برات منانے والوں کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس رات میں عبادت کا احتمام بیشک کریں، یہ درست ہے کہ یہ رات متوتر احادیث کی وجہ سے فضائل والی رات مانی جاتی ہے لیکن فضائل کو فضائل ہی سمجھا کریں اس کو "حکم" کے درجے میں مت ڈال دیا کریں۔ یہ ایک مستحب عبادت کی رات ہے اس کے درجات کو شب قدر کے درجات سے جوڑنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ درجات کا فیصلہ اللہ کو ہی کرنا ہے۔ طارق جمیل صاحب نے کیا پیاری بات کی ہے کہ یہ راتیں اللہ کے خصوصی پیکیج والی راتیں ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔

 

جہاں تک مستحب عبادات کو ایک جماعت یا گروہ کی صورت میں اداء کرنے کا معاملا ہے{جیسا کے صلات تسبیج وغیرہ} تو ہر فرقہ کے علماء میں اس سلسلہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ما سوائے ایک فرقہ کہ جو کہ شرک اور بدعت پہ اپنی منتق، عقل و فہم پہ ضرورت سے ذیادہ قیاس کرتے ہیں۔ رسول اللہ {ص} نے اختلاف اُمّت کو دین کے لئے رحمت قرار دیا ہے لیکن اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ میری نظر میں ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رحمت العٰالمین ہر گز یہ نہیں جاہتے تھے کہ مستحب عبادات جیسے فروعی اختلاف پہ امّت ایک دوسرے سے سے دست و گریبان ہو جائے۔

 واللہ اعلم۔۔۔

 

واللہ اعلم ۔۔۔کا فقرہ ایسے بہت سے مُلّا اور سو کالڈ سکالرز کے لئے ہی ہے۔۔۔ شائد کے ان کو یہ سمجھانے کے لئے کہ علم اور معرفت کے معاملات میں صرف اپنی عقل کے گھوڑے ہی مت دوڑاتے رہا کرو بلکہ کچھ اللہ پہ بھی چھوڑ دیا کرو۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 256

Reply to This

Replies to This Discussion

Rightly said! Thanx.

pehly me b yahi socha krti thi k chalo sara saal na sahi kisi ik din k liye to koi musalman ban jata hy naiki kr leta hy lakin confuse ho jati hon ab :X

کفر کو اس کی فکر نہیں کہ آپ مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں ، نمازیں پڑھیں یا لمبے لمبےاذکار کریں ،ممبروں پر فضائل سنائیں یا دروس قرآن و حدیث میں مشغول ہو جائیں، رنگ رنگ کی پگڑیاں پہنیں، یا ماتموں، میلادوں کے جلوس نکالیں،جمعراتیں ،شبراتیں منائیں یا محافل حمد نعت کریں۔کفر چاہتا ہے آپ یہ سب شوق سےکریں مگر نظام کفر اور الحاد کے ماتحت رہ کرکریں اور اللہ کے نظام کے نفاذ کی بات نہ کریں۔آپ خانقاہیں بنائیں عرس منایں ، تبلیغی اجتماعات کریں مگر اللہ کے نظام کی بالا دستی کی بات نہ کریں ،کفر کو حکومت کا اختیار دیں۔اور اسلام کو محکوم رہنے دیں ۔ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ تو تب آتا ہے جب مسلمان بدر و حنین کی سنت پر عمل کرتا ہے۔ایسا کوئی اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں جو وقت کے فرعون اور ابو جہل سے نہ ٹکرائے - (سید مودودی رحمتہ)

in short yeh k hmen wohi amal krny chahya jo Quran e ahadees sy sabat hun...

es bary hmen research krni chahya r apny knowledge ka sahi manu mn estimal krna chahya..q k unparh r jahel braber nhe hoskty

right maho 

@Burried....

A miner piece of fear will give a gateway to Satanic Forces to control, shuffle and Mold any mind against of anyone( U know well who is that one). just recite AL QAHARU  between Sunnah and Faraz in Fajar Prayers 100 times consecutively . A light of this holy name will penetrate from your false thought to bottom and truth will appear as crystle clear in your mind intuitively.
for well understanding, Just close your eyes and swipe onward your finger and luk through my eyes. NOTE: Your eyesight can have effected so take preliminary measures.
 
This is the best place to intimating other officials via u, now ball in my court HOW, WHERE and WHEN play , i will decide but tumary zameer min hamesha khatakta rahon ga with silence.
just listen and dont reply me back.

RSS

Looking For Something? Search Below

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.