We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

Allahumma Salle Ala'a Muhammadin Wa A'alay Muhammad (SAWW)

اکثر افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی تنہائی کے قیدی بن ہی جاتے ہیں۔کچھ اس حالت سے نکل آتے ہیں اور کچھ کبھی نکل نہیں پاتے۔ انسان فطری طورپہ آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنی ہی بنائی ہوئی جیل میں سزا کاٹ رہا ہو تو اُسے اس قید کی تکلیف کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔

 

قید تنہائی کے شکار لوگوں کی کچھ مشہور نشانیاں ہیں، تنہائی پسند ہونا، اندھیروں میں بیٹھنا،بہت بڑی بڑی اور آئیڈیل فلاسفیاں مارنا، لا محدود خواہشات کا اظہار کرنا، دکھی دکھی باتیں اور پوسٹیں کرنا، اکثر خاموش رہنا، ٹھنڈی آہیں بھرنا، شاعری سے خاص لگاو ہونا، اکثرمنہ بنائے رکھنا، سیڈ فیس کے اموجی استعمال کرنا، کم آواز میں بولنا، ناامیدی کا شکار رہنا، ویسے تو لڑائی سے دور رہنے کی کوشش کرنا لیکن اگر لڑئی ہو جائے تو ایسا غصہ کرنا کہ سارے پھٹّے چک کے رکھ دینا۔باالخصوص ایسے افراد جو ہر وقت انسانوں کی محفل میں ہونے ک باوجود اپنے موبائل میں مصروف نظر آتے ہیں، ایسے لوگ بھی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں لیکن ان کو اپنی تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔ 

گستاخی معاف کیجئے گا میں ایسے افراد کے لئے اکثر کہا کرتاہوں کہ یہ لوگ اپنی "پسندیدہ جہنم" میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ ڈائیلاگ میں ایسے افراد کے بارے میں بھی کہا کرتا ہوں جو ظلم تو سہ رہے ہوتے ہیں لیکن اسکو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے بھی کہتا ہوں جو اپنی خواہشات کےغلام ہوں۔


خیر بات ہو رہی تھی قید تنہائی کی جو کہ کچھ لوگوں کو قسمت دیتی ہے جبکہ اکثر لوگ خود اپنے آپ کو قید کرتے ہیں اور الزام کسی دوسرے شخص کو یاقسمت کو دے ڈالتے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ روزِ محشررسول اللہ  اور آل رسول{ص} و انبیاء{ع} و برگزید ہستیوں کے بعد مخلوق میں سب سے زیادہ "قسمت" کی قسمت کھلے گی۔یعنی ہمارے جیسے کمزور ایمان لوگوں کی وجہ سے قسمت توجہ کا مرکز رہے گی کیونکہ ہرکوئی اُس کو ہی الزام دے رہا ہوگا اور وہ بیچاری دربارِ الٰہی میں انسانوں سے یہی پوچھتی رہے گی کہ آپ لوگوں نے سب کچھ ہی میرے کھاتے میں ڈال دیا؟ جبکہ ربِ تعالٰی نے انسانوں کے حاصل اور لاحاصل کو اُن کی کوشش سے ہی مشروط کیا تھا۔

 

بس جناب اگر آپ بھی کسی قسم کی تنہائی کا شکار ہیں تو روز محشر دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:

 ۔۔۔اگر درحقیقت قسمت کا قصور ہے تو اللہ آپ کو اس تکلیف یا صبر کے بدلےمیں اجرِعظیم عطاء فرمائے گا۔

 ۔۔۔لیکن اگر قصور قسمت کا نہ ہوا، تو کیا آپ اللہ کی پیداء کردا آزاد مخلوق {آپکی اپنی ذات} کو قید رکھنے کے مجرم ثابت نہیں ہوتے؟

 

فرض کریں اگر آپ کی زندگی سے کچھ قیمتی نعمت چھن گئی ہے توکیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس نعمت پہ آپ ہی کا حق تھا؟ اور فرض کریں وہ آپکی ہی نعمت تھی تو پھر کیا آپکا ربّ یہ نعمت آپ کو دوبارہ نہیں دے سکتا؟ ویسے آپ کی  {کوتاہ} نظر میں جو نعمتیں بہت قیمتی ہوتی ہیں،عام طور پہ وہ دوبارہ نہیں ملتیں۔ لیکن یہ ربّ کا امتحان بھی تو ہو سکتاہے۔ کیامعلوم وہ آپ کی عقل و چاہت سے بڑھ کے کوئی نعمت دینا چاہتا ہو لیکن آپ کی عقل کےطاق، ضد، نا شکری یا قید تنہائی کی وجہ سے آپ اس بہتر متبادل نعمت سے محروم ہوں۔

 

اگر انسان غلطی پہ غلطی کرے، پھر اپنے آپ کو خود سے ہی مظلوم بھی سمجنے لگے تو انسانوں کی ناشکری کی وجہ سے ان کو حاصل ہونے والی نعمتیں ایک چین ری ایکشن کی صورت اس سے چھنتی جاتی ہیں۔ اور اللہ اپنے رحیم و کریم ہونےکی وجہ سے {وقتِ معلوم تک} اپنا کرم کرنا تو نہیں چھوڑتا لیکن آپکی قید تنہائی اورنا امیدی کی وجہ سے آپ کی سزاء کے طور پہ یا سمجھانے کی خاطر آپکی نعمتوں کو ڈاون گریڈ کرسکتا ہے۔اسی لئے ربّ نے مایوسی کو کفر قرار دیا ہے۔  

 

جانتے ہیں کہ اگر انسان ربّ سے ضد لگا ڈالے اور اپنے پیروں کی زنجیر کو اپنا زیور سمجھنا شروع کر دے تو خدا نہ خواستہ سزاء کے طور پہ اس کی روح پہ آخر کار ربّ کی طرف سے "سائٹو کائن سٹارم"بھی بھیجا جا سکتا ہے|جو کہ کرونا اور کینسر جیسے امراض کی وجہ ہوتا ہے۔ اور جہاں تک سائنس سمجتی ہے تو یہ موت کی طرف بد ترین سفر ہے۔ کینسر تو صرف لاعلاج مرض کوکہتے ہیں۔ روح کی تکلیف  کواس مرض سے بچ جانے والا مریض بھی بیان نہیں کر سکتا۔

ایسی تمام آتماوں سے گزارش ہے جنہوں نے اپنے بنائے ہوئےدکھ، غم، روگ اپنی زندگی کو لگا لئے ہیں، مہربانی فرمائیں اور اپنی ان زنجیروں کوآج ہی توڑ ڈالیں۔ اپنے ارد گرد دیکھیں کتنے ہی لوگ آپ کی توجہ سے ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ کہ جن کو آپکی وجہ سے جینے کی وجہ مل سکتی ہے۔ دوسروں کے لئے جیناسیکھیں جناب، جو آپ کے ساتھ بُرا ہوا سو  ہوا اب آگے کا اللہ مالک ہے۔ اللہ کے ولی لوگ کہتے ہیں "کال میں رہنا سیکھو، کل میں نہیں۔" کل ماضی اور مستقبل دونوں کے لئے استعمال ہونے والا لفظ ہےجبکہ کال، زمانہ حال کو بولتے ہیں۔ سو حال میں رہنا سیکھو۔ بہترین تو یہ ہے کہ ہرحال میں راضی رہنا سیکھو۔

 

کچھ نیک لوگ کہتے ہیں کہ دنیاء میں کوئی مسیحاء تلاش کرنے کے بجائے خود کو ہی کسی دوسرے شخص کے لئے مسیحاء بنا لو، چلو کم از کم کسی ایک شخص کی تلاش تو ختم ہو جائے گی۔ ممکن ہےآپ کی وجہ سے کوئی ایک شخص قید تنہائی سے آزاد ہو جائے۔

 

قید تنہائی عام طور پہ دو قسم کے لوگوں کو ملتی ہے۔ 

ا۔   پہلے وہ جو عشق مجازی کی چکا چوند کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 ب۔ دوسرے جو اپنے گناہوں کی کثرت سے اسیر ہو جاتے ہیں۔

 

گناہوں کی کثرت والے افراد ایک غلطی کرتے ہیں کہ سدھرنے کی بجائے اپنے آپ کو ضمیر کا قیدی ظاہر کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کو پاکیزہ سمجھیں۔ یہی لوگ دھوکے کا شکار ہیں۔ یہ لوگ ضمیر کے قیدی نہیں ہوتے یہ ضمیر کے مجرم ہوتے ہیں۔

 

لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے کہ عشق مجازی میں غرق ہونے کا دعویٰ کرنے والے اپنی محبت کے جزبے کو بانٹ کیوں نہیں سکتے؟ شائد کہ محبت کرنے والے اکثرلوگ محبت نہیں بلکہ اپنی انفیچویشن، اپنے لسٹ کو محبت سمجھ بیٹھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ گناہ گاری کی قید میں ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو محبت کا قیدی سمجھتے ہیں۔پھر وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں کے روگی سے زیادہ اٹینشن سِیکر نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں تو سچی محبت قید نہیں کرتی یہ تو انسان کو آزاد کرتی ہے۔ لیکن اس آزادی کی بھی شرعی حدوداسلام نے بیان کر دی ہیں۔

 

تو پھر کچھ کر سکو گے دوست؟ اپنی قید تنہائی سے نکل سکو گےکیا؟ یا پھر آپ کو غلامی کی عادت ہو چکی ہے؟ سوری یار غلامی کی سوچ ایک عادت، ایک چوائس ہے۔ہمارے گھر،سکول و کالج اور ماحول بھی ہمیں غلام بنانے کی فیکٹریاں ہیں۔لیکن بہرحال یہ آپ کی قسمت نہیں ہے۔ اپنے ربّ کو منصف نہیں مانتے کیا؟

میری سمجھ میں تو اللہ کے نیک لوگ نہ ہی خوشی سےپاگل ہوتے ہیں اور نہ ہی غم سے نڈھال ہوتے ہیں۔ شائد کے خوشی اور غم دونوں ربّ کیطرف سے ان کے لئے ربّ کی رضا ہوتے ہیں اسی لئے وہ ان کو خوشی سے قبول کر لیتے ہیں۔ غم کو خوشی سے اس لئے قبول کرتے ہیں کہ شائد انہیں ربّ کی خاص توجہ حاصل ہے۔

 

تنہائی میں بہترین اور لا ثانی دوست صرف اور صرف ربّ کی ذات ہے۔ جن لوگوں کو ربّ سے گپ شب کی عادت ہو جائے وہ کبھی تنہاء نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ اولیاء کی تاریخ پڑھیں تو تنہائی نے ہی اُن کو ولی کے درجے تک پہنچایا تھا۔حضرت آدم{ع}کی دنیاء کی تنہائی، حضرت یونس{ع} کی مچھلی کے پیٹ میں تنہائی، رسول اللہ {ص}  کی غار حراء کی تنہائی یاد ہے نا؟

 

 اب یہ آپکی مرضی ہےکہ آپ کو اپنی تنہائی کا ساتھی کسی مجازی وجود کو بنانا ہے یا پھر اپنی تنہائی کارجوع ربّ کی طرف کرنا ہے۔ ربّ تو صاف کہ رہا ہے کہ " تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد رکھوں گا"۔ کیا جس کے لئے آپ قید تنہائی کا شکار ہیں وہ آپ کو ربّ کی طرح یاد رکھ سکتا ہے؟ 


ماہِ رمضان کی ِان مقدص راتوں میں دعا ہے کہ ربِّ پاک آپ کو دنیاء، قبر، برزق اور آخرت کی ہر قسم کی منفی اور تکلیف دہ تنہائی سے بچائے رکھے۔۔۔۔آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ آرٹیکل ایسے لوگوں کو ڈیڈیکیٹ کرتا ہوں جن کا کوئی بہن یا بھائی یا والدین نہیں ہیں، یا ایسے لوگ جو کسی شرعی رشتہ سے محروم ہیں جن کی وہ کمی محسوص کرتے ہوں یا جن کا کوئی "شرعی رشتہ" اُن سے جداء ہو گیا ہو۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 139

Reply to This

Replies to This Discussion

behtreeen.....! 

Zbrdssstt bhai...

boht acha likha hai ap ny. I'm completely agree with u..

zindagi kabi kabi hmein tanha kr hi daiti hai mgr hmein apni tanhai ka behtreen sathi Allah k zikr ko bnana chahiye. Agr kabi hm khud ko akaila feel karein to uska behtreen ilaj yeh hai k ap rat k kisi pehr sari duniya sy chup kr kuch dair apny Allah sy guftgu karein to yaqeen janiye kabi khud ko akaila feel na karein....

Great............!

ツβµŕɨeď€ʍʍÖツ  A miner piece of fear will give a gateway to Satanic Forces to control, shuffle and Mold any mind against of anyone( U know well who is that one). just recite
Al Qaharu between Sunnah and Faraz in Fajar Prayers 100 times consecutively . A light of this holy name will penetrate from your false thought to bottom and
truth will appear as crystle clear in your mind intuitively.
for well understanding, Just close your eyes and swipe onward your finger and luk through my eyes. NOTE: Your eyesight can have effected so take preliminary measures.
This is the best place to intimating other officials via u, now ball in my court HOW, WHERE and When play , i will decide but tumary zameer min hamesha khatakta rahon ga with silence.


just listen and dont reply me back. 

No words just truth . :/

"سائٹو کائن سٹارم" 

wo kia hota hy hun ??

and bht hi behtreeeeeeeeeeeeeeen post ki hy smjhny walo k liye bht kuch hy is main lakin in main sy kuch points to ap ny mery ko vekh k likhy hy :v lakin me qaid ni hon :P :D

Nope g mene apko vekh k koi points nahi likhay so you dont need to be defensive, kahin apka immune system zyda defensive na ho jaye. :P

Mene jo alamaat likhi hain wo meri observation hai, kuch psychology se related articles me bhi parha tha. Ab misal k tor pe jo log har waqt mobile me ghussay rehte hain, ird gird logo k hone k bawajood wo mobile ki dunya me rehte hain aise log bhi tanhaie ka shikar hote hain, unko maloom nahi hota aksar.

Cytokine Storm Corona, HIV, Ebola, French Flue, Spanish Flue, Pneumonia, Cancer type k patients ki body me ho sakta hai. Jab ye beemari jisam me ati hai to immune system jisam me defense cells ko emergency signal deta hai jo bodyguard ka kam kerte hain but baz oqad virus itna powerful hota hai k wo in signals ko hack ker leta hai or bodyguards ko apna sathi bana leta hai, ab jaise hi bodyguard compromise hota hai to virus se mutasir cells apne hi immune system pe hamla ker deta hai or majboran immune system zarorat se zyda defensive cells banana shuru ker deta hai. In cell ki intehai production body me storm peda ker deti hai, aise me aksar immune system break ho jata hai or insan ki death ho jati hai. 

Proper explanation is video me hai:

Thanx all for your appreciation. :)

RSS

Looking For Something? Search Here

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.